پاکستان میں کیریئر کاؤنسلنگ کا فقدان


پاکستان اپنے قیام سے ہی برے حالوں کا شکار ہے۔ ہم پھر بھی پر امید ہیں کہ کبھی ہمارے ملک کے حالات بھی بہتر ہوں گے اور وہ حالات ملک کے نوجوان بہتر کریں گے۔

تاہم، ملک کے نوجوانوں کا اپنا حال بے حال ہے۔ کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ کیا کرنا ہے۔ جن کے ماں باپ پڑھے لکھے ہوں یا تھوڑی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں ان کے لیے ان کے بچے کا مستقبل میڈیسن یا انجینئیرنگ میں ہے۔ وہ اپنے بچوں کو اسی لائن میں لگا دیتے ہیں۔ حالانکہ اخبارات میں روزانہ ڈاکٹروں اور انجنیئروں کی ہڑتالوں کی خبریں آ رہی ہوتی ہیں۔ میٹرک اور انٹر میں بہترین نمبر لینے کے بعد میڈیکل اور انجینئیرنگ میں داخلے کا انٹری ٹیسٹ پاس کرنا پھر ڈگری کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا اور اس کے بعد نوکریوں کے لیے ذلیل ہونا۔ جس کی جتنی ہمت ہو اتنی ذلالت برداشت کرتا ہے پھر باہر جانے کے لیے پر تولنے لگتا ہے۔

ان کے بعد وہ آ جاتے ہیں جن کے ماں باپ ان کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ باپ کو صبح سے شام تک کام کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ ان کے اخراجات پورے کر سکے۔ ماں کو گھر بھی سنبھالنا ہے، میکے اور سسرال کی ذمہ داریاں بھی سنبھالنی ہے، وہ کہاں سے وقت نکال کر اپنے بچوں کے بہترین مستقبل کے لیے معلومات حاصل کریں، جو اکا دکا کریئر کونسلنگ کے ادارے موجود ہیں ان کی فیس بھرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں پھر ان کی اہلیت کیا ہے، اس بارے تحقیق ہونا بھی ضروری ہے۔

یہ بچے ادھر سے ادھر دھکے کھاتے ہوئے کسی کونے سے لگ جاتے ہیں پھر اپنی پوری زندگی اسی کونے میں گزار دیتے ہیں۔

میں بھی کچھ کرنا چاہتی تھی پر کیا، یہ معلوم نہیں تھا۔ ایک کزن گرافک ڈیزائننگ کا کام کرتی تھی، میں اکثر ان کے گھر جایا کرتی تھی اور ان کو مختلف لوگو اور ڈیزائنز بناتے دیکھا کرتی تھی۔ یہ ایک ایسی مہارت ہے جس کا استعمال زندگی کی ہر چیز میں ہوتا تھا۔ اس کام نے مجھے اپنی طرف اتنا متوجہ کیا کہ میں نے بھی گرافک ڈیزائننگ کرنے کا ارادہ بنا لیا۔ اس کے بارے میں اپنے والدین سے بات کی پر میرے ساتھ ساتھ ان کو بھی اس فیلڈ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔ نہ ہی تب ہمیں کریئر کونسلنگ کے بارے میں پتہ تھا۔ لہاذا جو کچھ ارد گرد کے لوگوں سے اور اداروں سے معلوم ہوا اس سے ہی کام چلایا اور انٹر کے بعد ٹیسٹ کی تیاری کی۔ حالات نے ساتھ نہ دیا اور ٹیسٹ چھوٹ گیا۔ ایک ہی یونیورسٹی میں درخواست دی تھی۔ سوائے اس کے کہ میں ایک اور سال انتظار کرتی کوئی اور آپشن نہیں تھا۔ ایک سال ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی گرافک ڈیزائننگ کے کورس میں داخلہ لے لیا۔ کورس کی مدت تین مہینے تھی۔

کورس کے ختم ہونے کے بعد مجھے گرافک ڈیزائننگ کے بارے میں بہت کچھ پتہ چل گیا تھا۔ سافٹ ویئر چلانے آ گئے تھے۔ دیکھ کر چھوٹے موٹے لوگو بھی بنا لیتی تھی۔ دوبارہ امتحان دینے کی تیاری کی۔ اپنی خاکہ نگاری کو اور بہتر کرنے کے لیے میں نے ایک آرٹ سٹوڈیو میں شمولیت کی۔ پھر سے انٹری ٹیسٹ دیا۔ خوشی کے ساتھ ساتھ دل میں ایک خوف بھی تھا۔ ٹیسٹ بہت اچھا ہوا اور پھر میں نتیجے کا انتظار کرنے لگی۔ لیکن داخلہ نہ ہو سکا۔

میری ایک دوست جو ماس کمیونیکیشن میں بی۔ اس (آنرز) کر رہی تھی میرے علم میں لائے بغیر اس نے میرے لئے ادھر کے بی ایس کے پروگرام ڈویلپمنٹ کمیونیکیشن میں درخواست دے دی ہوئی تھی۔ اور میرا نام بھی ادھر آ چکا تھا۔ ڈویلپمنٹ کمیونیکیشن میں داخلہ لینے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کے اس میں بھی میں کافی آگے جا سکتی ہوں۔ لیکن ساتھ ساتھ اس بات کا افسوس رہا کہ گرافک ڈیزائننگ کی ڈگری نہیں لے سکی۔ پر اب جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے مجھے احساس ہو رہا کہ میری گرافک ڈیزائننگ کی مہارت اس شعبے میں بھی کام آ سکتی ہے۔ گرافک ڈیزائننگ ایسی مہارت ہے جو کمیونیکیشن میں بہت زیادہ کام آ سکتی ہے۔ اگر مجھے صحیح رہنمائی ملی ہوتی تو شاید میں بہت پہلے اس چیز کو سمجھ لیتی اور اپنا ایک سال ضائع نہ کرتی۔

صحافت پڑھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں بہت طرح سے لوگوں کی مدد کر سکتی ہوں اور اپنی گرافک ڈیزائننگ کی مہارت کو ڈویلپمنٹ کمیونیکیشن میں استعمال کر کے لوگوں کو مختلف مسائل میں آگاہی دے سکتی ہوں۔

ان سب باتوں کا مجھے بہت دیر سے اندازہ ہوا اگر پاکستان میں کریئر کونسلنگ کا فقدان نہ ہوتا اور مجھے صحیح وقت پر اس چیز کے بارے میں رہنمائی ملی ہوتی تو شاید میں اس کو ایک ہی طریقے سے کنٹینیو کر سکتی اور میرا اتنا زیادہ وقت ضائع نہ ہوا ہوتا ان سب چیزوں کو سمجھنے میں مجھے اتنا وقت نہ لگا ہوتا۔ اب جیسے جیسے صحافت پڑھ رہی ہوں پتہ چل رہا ہے کہ رپورٹنگ ایڈیٹنگ گرافک ڈیزائننگ ان سب کا اپس میں گہرا تعلق ہے اگر یہ بات مجھے پہلے پتہ چلی ہوتی تو میں ان سب چیزوں کو ایک ہی طریقے سے لے کر چل سکتی تھی۔

پاکستان میں کیریئر کونسلنگ کی فقدان کا نتیجہ یہ ہے کہ میری طرح بہت سے لوگ اپنے صحیح راہِ راست کیریئر چننے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل تعلیمی اداروں اور حکومتی انتظامات میں اضافہ کر کے، طالب علم اور پیشہ ورانہ افراد کو صحیح راستہ دکھا کر ممکن ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہر شخص کو اپنے ہنر اور مقصد کے مطابق صحیح کیریئر کا انتخاب کرنے میں مدد ملے، تاکہ ملک کے ٹیلنٹ کا بہترین استعمال ہو سکے۔

Facebook Comments HS