حاجی بیرام ولی
حاجی بیرام ولی قرونِ وسطیٰ میں خطہ اناطولیہ یعنی ترکیہ کے مشہور صوفی بزرگ تھے۔ انہوں نے اس خطے میں اسلام کی تبلیغ و ترویج کے سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ انھیں خاص طور پر تصوف کو اس خطے میں روشناس کروانے والے اولین بزرگوں اور بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ سلسلہ بیرامیہ کے بانی بھی تصور کیے جاتے ہیں۔ آپ ایک صوفی شاعر بھی تھے جن کی حمد و ثناء اور کلام و افکار آج بھی مقبول ہیں۔
وہ 1352 ء میں انقرہ کے علاقے سولفاسول میں پیدا ہوئے اور 77 سال کی عمر میں 1429 ء کو وصال فرما گئے۔ آپ کا مزار انقرہ، ترکیہ میں موجود ہے۔
آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے وقت کے نامور علماء اور بزرگوں سے حاصل کی۔ حصول علم کے لیے آپ نے مختلف شہروں کا سفر کیا۔ حج کی ادائیگی کے لیے حجاز کا بھی سفر اختیار کیا۔
وہ صمونجو بابا جو اپنے وقت کے معروف بزرگ اور ولی اللہ تھے، ان سے بہت متاثر تھے۔ انہوں نے ہی آپ کا نام بیرام رکھا جب کہ آپ کا اصل نام نعمان تھا۔ اپنی وفات سے قبل صمونجو بابا نے انہیں 1412 ء میں اپنا جانشین مقرر کیا۔
وقت کے ساتھ ساتھ حاجی بیرام ولی کی شہرت اور کرامات اناطولیہ کے گرد و نواح میں پھیلتی گئیں۔ آپ کی شہرت سلطنت عثمانیہ کے دربار میں بھی پہنچ گئی۔ یہ سلطان مراد دوم کا دور تھا۔ انہوں نے آپ کو اپنے دربار میں بلایا، خوب آؤ بھگت کی اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ سلطان مراد نے ان سے استنبول کی فتح کے بارے میں مشورہ کیا۔
آپ نے فرمایا:
” یہ نہ آپ کے اور نہ میرے دور میں فتح ہو گا بلکہ یہ میرے جانشین اور شاگرد اق شمش الدین اور آپ کے بیٹے اور جانشین محمد کے دور میں فتح ہو گا“ ۔ اق شمش الدین عثمان جیک مدرسہ میں مدرس تھے۔ وہ آپ کے انتہائی عزیز شاگرد تھے اور بعد میں آپ کے جانشین بنے۔
باہمی مشاورت سے حاجی بیرام ولی اور سلطان مراد نے اق شمش الدین کو سلطان کے فرزند محمد جو بعد میں سلطان محمد فاتح کے نام سے مشہور ہوئے، ان کا اتالیق اور استاد مقرر کیا گیا۔
حاجی بیرام ولی کی استنبول فتح کی خوشخبری سچ ثابت ہوئی اور 1453 ء میں سلطان محمد فاتح نے استنبول فتح کر لیا۔
استنبول کی فتح کے وقت آپ کے جانشین اور سلطان محمد فاتح کے روحانی پیشوا اور استاد اق شمش الدین موجود تھے اور شہر میں اکٹھے داخل ہوئے۔
مشہور اقوال
* اپنے دوستوں اور ہمسائیوں کے عیبوں اور گناہوں کے رازوں کو افشاں مت کرو کیونکہ یہ تمہارے پاس امانت ہیں اور امانت میں خیانت ایک بہت بری خصلت ہے۔
* اگر تم دنیا کے غموں اور اپنے نفس کے بوجھ سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہو تو اکثر و بیشتر قبرستان جایا کرو۔
* حلال رزق کماؤ اور اس سے ضرورت مندوں کی فیاضی سے مدد کرو۔
* امانت کی حفاظت کرو۔ یہ دین اور یہ جسم بھی تمہارے پاس خدا کی امانت ہے۔ ان کی حفاظت کرو۔
* کسی بھی گناہ کو ہلکا مت سمجھو۔ سخت محنت کرو۔ آوارہ پھرنے والے چاہے جتنے ہی امیر کیوں نہ ہوں وہ شیطان کا دوست بن جاتے ہیں۔ ان کا دل شیطان کی جائے پناہ بن جاتا ہے۔
* اگر انسانوں کے فتنے اور برائی سے بچنا چاہتے ہو تو بازاروں اور مارکیٹوں میں زیادہ آوارہ مت پھرو۔
* تکبر تمہاری کمر سے بندھا ایک وزنی پتھر ہے۔ یہ نہ تو تمہیں تیرنے دے گا اور نہ ہی اڑنے دے گا۔


