بلوچستان کی اقتصادی حالت: اصل معاملہ کیا ہے


گزشتہ مہینہ ہم سب کے ویب سائٹ پر وسعت اللہ خان کا کالم پڑھ رہا تھا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ انکٹاڈ ( تجارت و ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کا مستقل کانفرنس) کے ایک سروے کے مطابق مشرقی بحیرہ روم میں ایک سو بائیس ٹریلین کیوبک فٹ گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ ان ذخائر تک جو رسائی حاصل کرے گا مستقبل قریب میں وہی اس خطے کا حکمران ہو گا ۔ ڈاکٹر مبارک علی کی ایک کتاب ہے ”تاریخ اور سیاست“ ، اس کتاب کے تیسرے حصے میں ڈاکٹر مبارک علی نے سامراجیت اور اس کے موجودہ شکل کو مدلل انداز میں بیان کیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دیگر سکالرز کے آرٹیکلز بھی اس کتاب میں شامل کیے ہیں جو سامراجیت سے متعلق ہیں۔

اس کتاب میں ڈاکٹر مبارک علی کہتا ہے کہ موجودہ دنیا میں جہاں ہر چیز بدل چکی ہے وہیں حکمرانی کی شکل بھی بدل گئی ہے۔ اب حکمران طبقہ حکمرانی پرانے انداز میں نہیں کرتی جس میں ظلم، جبر اور استبداد شامل تھا بلکہ اب نئے طریقے سے حکمرانی کرتی ہے کہ جس میں عوام کو اندازہ نہیں ہوتا کہ اصل حاکم کون ہے۔ اس نئے طرز حکمرانی کو نو سامراجیت بھی کہتے ہیں۔

دنیا کے جس خطے میں بھی قدرتی ذخائر موجود ہیں وہاں تک پہنچنے کے لیے نو سامراجیوں کے پاس کئی نوعیت کے حربے ہوتی ہیں جس سے وہ با آسانی ان علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں جہاں یہ ذخائر موجود ہیں۔ بلوچستان بھی ان خطوں میں سے ہے جہاں قدرتی وسائل اور ذخائر بھاری تعداد میں موجود ہیں مگر یہاں نو سامراجیوں کا آنا اور قبضہ کرنا کافی مشکل ہے کیونکہ اس خطے میں مستقل طور پر سیاسی بحران اور غیر یقینی کی حالت پائی جاتی ہے اور یہاں پر دہشتگردی کے واقعات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔

کئی رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ صورتحال پچھلے حالات سے زیادہ گمبھیر ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ یہاں طاقتوروں کا اتفاق رائے نہیں ہو رہا، اور نو سامراجی قوتیں چونکہ نو آبادیات ہی کی موجودہ شکل ہے اس لیے قبضہ گیری کے لیے کئی قسم کے حربے استعمال کیے اور اس خطے میں چن چن کر اپنی مرضی کے لوگوں کو سرکار دلائی مگر مرضی کے لوگ اس چیز کی اہلیت رکھتے ہیں یا نہیں اس سے دنیا بخوبی واقف ہے۔

جن ذرائع سے نو سامراج اپنی پالیسیاں مرتب کر رہی ہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ مسائل کا جڑ دراصل یہی لوگ ہیں اور خاص کر پاکستان میں موجود لبرل طبقہ کی آواز تو یہی ہے کہ ان لوگوں کو کمزور کیا جائے تب کسی حد تک یہ ملک صحیح سمت پر چل سکتی ہے وہ بھی صرف اصلاحات سے، مگر ایسا ممکن نہیں اور لبرل طبقہ کا یہ موقف میرے خیال میں ایک آئیڈیل موقف ہے۔ اس خطے میں موجود جو لوگ نو سامراجیت کی تشکیل کے لیے پالیسیاں نافذ کرنے کی ذمہ داری سر انجام دے رہے ہیں وہ اس نظام کی ایک چھوٹی سی شکل ہے جس کو شکست صرف اس وقت ہو سکتی ہے جب لوگ اصل معاملے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

معاملہ بھی اسی وقت ختم ہو سکتی ہے جب لوگ معاملے کی اصل نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ بات سب پر آشکار ہے کہ بلوچستان کی معاملے کا واحد حل آج بھی صرف ڈی کولونائزیشن ہے مگر نو سامراجیت اس قدر چالاک نظام ہے کہ اس نے لوگوں کو رخ دوسری جانب موڑ دیا ہے یعنی کہ عوام اب نیو لبرل ڈیموکریسی کی طرف جا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کا یہی ایک ہی راستہ ہے۔ مگر میرا خیال ہے کہ یہ درست نہیں ہے کیونکہ نیو لبرل ڈیموکریسی کے تحت لوگوں کو مارکیٹ کی آزادی دے کر اصل معاملات آج بھی انہی طاقتور لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کا کنٹرول ذرائع پیداوار پر ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ اس نظام کو سمجھنے کے لیے سنجیدگی پر کوئی آمادہ نہیں ہوتا بلکہ تمام تر جدوجہد اس نظام میں اپنے لیے پناہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ممکن ہے کہ کچھ وقت تک ان کو پناہ مل بھی جائے مگر یہ مستقل نہیں ہے۔

ہمارے ہاں لوگ جب تک نیو کولونائزیشن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے تب تک اس سے نجات پانا ممکن نہیں ہے، جب تک لوگ ڈی کولونائزیشن کے خلاف اکٹھے نہیں ہوتے اور جب تک لوگ طبقاتی فرق کو مٹانے کی بات نہیں کرتے یہ معاملہ ختم ہونے والا نہیں ہے۔ اس نظام میں رہتے ہوئے جن لوگوں کو پناہ مل جاتی ہے پھر ڈی کولونائزیشن کے خاتمے کے لیے رکاوٹ بھی یہی لوگ بن جاتے ہیں کیونکہ یہی وہ طبقہ ہے جو پس پردہ چالاکیوں سے ناواقف ہے اور سامنے دکھائی دینے والے چالاکیوں سے متاثرہ ہے اور بعض کیسز میں ایسا وہ صرف اپنے مفادات کے لیے کرتے ہیں۔ ہمارے لوگوں کو دراصل صرف پناہ کی نہیں بلکہ مستقل ٹھکانے کی ضرورت ہے جس کے لیے ڈی کولونائزیشن کے پراسس کو سمجھنا اور ان کے خلاف لڑنا ضروری ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “بلوچستان کی اقتصادی حالت: اصل معاملہ کیا ہے

  • 08/04/2024 at 4:31 صبح
    Permalink

    Aimal Jana dear Shaista Leek dii karai dai…

Comments are closed.