درویش، چاند اور سورج


ایک شام درویش اپنی کٹیا سے نکلا اور دریا کے کنارے سیر کرنے چل دیا۔ چلتے چلتے وہ اپنے خیالوں میں کھویا بہت دور نکل گیا۔ اچانک اسے وقت کا احساس ہوا اور اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اسے چاروں طرف بادل بکھرے دکھائی دیے اور پھر اسے ایک ایسا منظر نظر آیا جو اس نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ آسمان کے ایک کونے میں طلوع ہوتا ہوا چاند اور دوسرے کونے میں غروب ہوتا ہوا سورج دکھائی دیا۔

درویش نے سن رکھا تھا کہ چاند اور سورج کی ہزاروں سالوں سے لڑائی چل رہی ہے۔ اگر چاند آسمان کی محفل میں آتا ہے تو سورج محفل سے چلا جاتا ہے اور اگر چاند کو پتہ ہو کہ سورج نے آنا ہے تو وہ خود ہی نہیں آتا۔ چونکہ درویش ایک امن پسند انسان تھا اس نے سوچا کیوں نہ وہ ایک ثالث بن جائے اور دونوں کی دوستی کرا دے۔ اس نے سوچا کیوں نہ ان دونوں سے درخواست کرے کہ وہ اس شام بغلگیر ہو جائیں۔ چنانچہ درویش نے چاند سے کہا کہ وہ پرانا غصہ تھوک دے اور سورج کو گلے لگا لے۔ چاند نے کہا وہ گلے تو نہیں مل سکتا مبادا وہ جل ہی جائے البتہ ہاتھ ملانے کے لیے تیار ہے۔ درویش کو خوشی ہوئی کہ اس نے ایک دوست کو تو راضی کر لیا ہے۔ درویش نے سورج سے وہی درخواست کی تو وہ سیخ پا ہو گیا۔ کہنے لگا ’اے درویش! تم بہت نادان ہو۔ تم جب ہمارے مسائل کی تاریخ سے واقف نہیں تو ہماری صلح کیسے کرا سکتے ہو۔ ہمارے مسائل بہت گمبھیر اور تضادات پیچیدہ ہیں۔ ‘

درویش کو اپنی سادہ لوحی کا اندازہ ہوا۔ لیکن وہ اتنی جلد ہمت ہارنے والا نہیں تھا۔ اس نے کہا ’آخر ایسے کون سے مسائل ہیں جو حل نہیں ہو سکتے۔ جہاں بھی دوستوں میں نیک نیتی ہو مسائل حل ہو ہی جاتے ہیں۔ آخر بتاؤ تمہیں چاند سے کیا شکایت ہے؟ ‘

سورج کہنے لگا ’چاند ایک چور ہے۔ وہ سارا دن کہیں چھپا رہتا ہے اور میری روشنی چراتا رہتا ہے اور رات کو جب میں چلا جاتا ہوں تو میری روشنی کو اپنی چاندنی بنا کر بانٹتا ہے اور سب اس کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ کسی کو نہیں بتاتا کہ اس کی روشنی چرائی ہوئی روشنی ہے۔ میں نے آسمانی عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہوا ہے۔ ‘

درویش کو ان کے ماضی کے تضادات کا بالکل اندازہ نہ تھا۔ اسے احساس ہونے لگا کہ سورج کا غصہ جائز ہے اور وہ انصاف کا متقاضی ہے۔

درویش دوبارہ چاند کے پاس گیا اور کہنے لگا ’تم پر چوری کا الزام ہے‘ ۔

چاند درویش کی بات سن کر ہنسا اور کہنے لگا ’روشنی کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی۔ اے درویش! کیا تم نہیں جانتے کہ یہ سورج جسے چاہتا ہے روشنی مفت دے دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم کر دیتا ہے۔ میں اس کی تھوڑی سی روشنی چھپا لیتا ہوں اور وہ سب جو رات کو روشنی سے محروم ہو جاتے ہیں ان میں اپنی روشنی تقسیم کر دیتا ہوں۔ سورج کو میری یہ عادت ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ اس لیے وہ مجھ سے ناراض رہتا ہے۔ اسے تو خوشی ہونی چاہیے کہ اس کی روشنی چاندنی بن کر محروموں تک پہنچتی ہے۔ ‘

اب درویش کو اندازہ ہو گیا کہ اس کی سادہ لوحی نے اسے ایک عجیب و غریب تضاد میں پھنسا دیا ہے۔ وہ تو مسئلہ حل کرنے نکلا تھا اب وہ خود مسئلے کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ لیکن وہ اتنی جلد ہمت ہارنے والا نہیں تھا۔ اسے پتہ تھا کہ اس کی اپنی نیت نیک ہے اور اس کا ان کی صلح میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔

اس نے سورج کو چاند کا موقف بتایا تو سورج نے اسے الزام دیا کہ وہ چاند کا طرفدار بن گیا ہے۔ چنانچہ سورج نے زمین کو بلایا اور بتایا کہ درویش اس پر خواہ مخواہ دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ نہ صرف چاند کو معاف کر دے بلکہ گلے لگا لے۔ سورج نے کہا کہ درویش سادہ لوح ہے وہ چاند کی شاطرانہ چالوں میں آ گیا ہے۔ سورج کی خواہش تھی کہ چاند کو اس کی چالاکی اور عیاری کی سزا ملنی چاہیے۔ ابھی درویش اس نئے مسئلے کو پوری طرح سمجھ بھی نہ پایا تھا کہ زمین سورج اور چاند کے بیچ آ کھڑی ہوئی اور چاند کو گرہن لگ گیا۔ چاند گرہن دیکھ کر سورج بہت خوش ہوا اور قہقہے لگانے لگا۔ اسے یوں لگا جیسے زمین نے اس کے صدیوں کے غصے کا بدلہ لیا ہو۔ چاند گرہن دیکھ کر درویش بہت دکھی ہوا۔ اسے یوں لگا اس کی سادہ لوحی سے چاند کو نقصان ہوا ہو۔

درویش نے چاند سے معذرت کی اور کہا کہ اس نے انجانے میں چاند کو نقصان پہنچایا ہے۔ چاند مسکرایا اور کہنے لگا ’اے درویش! تمہیں معذرت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تم تو نیک نیتی سے صلح کروا رہے تھے اور میں بھی ہاتھ ملانے کو تیار تھا لیکن سورج مغرور و متکبر ہو گیا ہے۔ اب وہ خدمتِ خلق کرنے کی بجائے اپنے آپ کو مطلق العنان سمجھتا ہے۔ اس میں آمرانہ خصلتیں پیدا ہو گئی ہیں۔ تم فکر نہ کرو۔ میں چھوٹا سہی لیکن میں صرف مجبوروں اور محروموں کی مدد ہی نہیں کرتا میں آمروں کو بھی سبق سکھاتا ہوں اور ان کے غرور کو نیچا کر دکھاتا ہوں۔ ‘

یہ کہنے کے بعد چاند سورج اور زمین کے درمیان جا کھڑا ہوا۔

تھوڑی ہی دیر میں درویش نے دیکھا کہ چاروں طرف تاریکی پھیل گئی اور اس نے زندگی میں پہلی دفعہ سورج کو گرہن لگتے دیکھا۔

درویش کو حیرت ہوئی کہ چاند نے کیسے اپنا بدلہ لیا۔ درویش کو اندازہ ہوتا جا رہا تھا کہ اسے واپس چلے جانا چاہیے اور ان مسائل میں نہیں الجھنا چاہیے۔ اس کی نیت نیک سہی لیکن اس کی نیک نیتی کافی نہیں۔ وہ نہ تو آسمانوں کے راز جانتا ہے اور نہ ہی اس میں اتنی دانائی ہے کہ وہ گمبھیر اور پیچیدہ مسائل حل کر سکے۔

درویش واپس اپنی کٹیا میں لوٹ آیا۔ اور اندھیرے میں بیٹھا خلاؤں میں گھرتا رہا۔ پھر اس نے اپنا دیا جلایا اور کافی دیر تک دیوانِ غالب پڑھتا رہا۔ آ خر وہ ایک مصرعے پر آ کر رک گیا

؎ صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

اس رات درویش کو غالب کے اس مصرعے سے معنی کی نئی شعاعیں ابھرتی دکھائی دیں اور اس نے سوچا اسے ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ ایک اور کوشش کرنی چاہیے اور ستاروں سے مشورہ کرنا چاہیے۔ وہ ستاروں کی دانائی کے بہت سے واقعات سن چکا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ستارے آسمانوں کے راز اس سے بہتر جانتے ہیں۔ عین ممکن ہے ان کے پاس چاند اور سورج کے تضاد کا ایسا حل موجود ہو جو پرامن بھی ہو ’مساوات کے اصولوں پر مبنی بھی ہو اور دونوں کے لیے قابلِ قبول بھی ہو۔ ایسا حل جس سے کوئی بھی حقدار روشنی سے محروم نہ رہے۔

اس فیصلے کے بعد درویش نے آسمانوں کی طرف دیکھا تو اسے صبح کا ستارا ٹمٹماتا دکھائی دیا اور اس کے چہرے پر امید بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔

 

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail