ماریہ سے ماریہ تک کا سفر
کچھ موضوع ایسے ہوتے ہیں جن کے اوپر لکھنے سے پہلے آپ کو اس ذہنی تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے جس میں اس موضوع سے منسلک خبر آپ کو مبتلا کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ قارئین ایسے ہوں گے جو یہ بتانا فرض منصبی سمجھیں گے کہ یہ مسائل تو اب وجود ہی نہیں رکھتے اور آپ پچھلی صدی میں جی رہے ہیں اس لیے آپ ان مسائل کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور بدقسمتی سے خواتین اور بچوں کے اوپر کیے گئے تشدد اور جنسی زیادتی کو ہم نے اپنی اسی کٹھور سوچ کے باعث انہی رویوں کے حوالے کر دیا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ جب تک واقعہ انتہائی دل دہلا دینے والا نہ ہو تو ہمارے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔ لیکن ایک دن کی ہاہا کار کے بعد اسی دل دہلا دینے والے واقعے کی ایسی وضاحتیں سننے کو ملتی ہیں اور وہ زیادہ دلخراش ہوتا ہے کہ اچھا اتنی گھناؤنی حرکت کی بھی کوئی وضاحت ہو سکتی ہے۔
تیسری دنیا کی خواتین جس قسم کے ماحول میں زندگی بسر کرتی ہیں وہ انسانی حقوق کے کارکنوں سے شب و روز خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔ اس میں اہم جسمانی، ذہنی، جنسی تشدد، ریپ، کم عمری میں شادی، زبردستی بغیر مرضی کے شادی، کمسن بچیوں کی اپنے سے دگنی تگنی عمر کے مردوں سے شادی، زنانہ ختنے، ونی، کاری، جہیز نہ لانے پر مار دیے جانا، وٹہ سٹہ اور بچوں کی پیدائش اور ان میں وقفے کے اوپر کسی مرضی کا نہ ہونا ہے۔
یہ فہرست بہت طویل ہے اور پاکستان میں بھی خواتین کو ان ہی مظالم کا سامنا ہے۔ لیکن جیسے ہی ان موضوعات کے بارے میں بات کی جاتی ہے یا ان کے بارے میں آگاہی اجاگر کرنے کے لیے سیمنار منعقد کیے جاتے ہیں یا کوئی جلسے کا اہتمام ہوتا ہے تو فوراً گھڑے گھڑائے الزامات کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے غیر ملکی ایجنڈا ہے، بے راہ روی پھیلائی جا رہی ہے، اسلامی نظام کے خلاف سازش ہے، این جی او آنٹی امریکی امداد سے امریکی سازش کر رہی ہے پاکستان کے خلاف اور پاکستان کا نام بد نام کر رہی ہے، یا کہاں ہوتا ہے یہ سب کچھ ہم تو خواتین کی بہت عزت کرتے ہیں اور شریف خواتین کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوتی یہ سب ان کے ساتھ ہوتا ہے جو چھوٹے چھوٹے کپڑے پہن کر گھومتی ہیں۔
اس میں سب سے اعلیٰ ان نام نہاد روشن خیال انسانوں کے تبصرے ہوتے ہیں جن کے خیال میں یہ مسائل اب وجود نہیں رکھتے اور یہ خونی لبرلز کی ذہنی انتشار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس لیے خواتین کو درپیش مسائل اور خاص کر ان کے تحفظ کے احوال سے لاحق مسائل کے بارے میں مسلسل بات کرنا انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ ان کی خاموشی بھیانک نتائج کا باعث بن سکتی ہے جس کا ادراک عام انسان کو نہیں۔
جب ہم پاکستان میں خواتین کے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہیں تو اس میں سب سے بڑا درپیش مسئلہ ان کے تحفظ کا ہے کہ ان کی جان کو انتہائی ارزاں سمجھا جاتا ہے۔ بات بات پر ان کا قتل کر دیا جانا اور بعد میں قاتلوں کا چھوٹ جانا خود اس بات کی دلیل ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنے معاشرے کے کمزور طبقات چاہے وہ خواتین ہوں یا بچے یا اقلیتیں ہو ان کے تحفظ میں ناکام رہی ہیں۔ ایک خاتون لکھاری کی حیثیت سے یہ میرے لیے بہت اذیت ناک ہوتا ہے جب میں ان واقعات کو پڑھ کر اپنی تحریر کا حصہ بناتی ہوں۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اپنے بھائی اور باپ کے ہاتھوں قتل ہو جانے والی ماریہ جس کی قتل کی دل دہلا دینے والی ویڈیو دیکھ کر پیسنے آ جاتے ہیں کہ اتنا کولڈ بلڈڈ مرڈر اور قاتل ایسے جیسے قتل کرنا روز کا کام ہو، اس کو دیکھ کر مجھے 2016 میں قتل ہو جانے والی سترہ سالہ ماریہ صداقت یاد آ گئیں۔ پاکستان میں باقی دنیا کی طرح خواتین کے ساتھ تیزاب پھینک دیے جانے سے لے کر بھیانک طریقے سے قتل کر دیے جانے تک کے جرائم سامنے آتے رہتے ہیں لیکن ماریہ صداقت کی موت کی خبر کے ساتھ لگی ان کی معصوم تصویر نے نہ صرف میری توجہ اپنی طرف مبذول کی بلکہ ان کی عمر قتل کی سفاکی اور اس کے محرکات نے میرا دل مٹھی میں لے لیا۔
ماریہ صداقت صرف سترہ سال کی تھیں جب ان پر ان کے گھر میں حملہ کیا گیا اور ان کو آگ لگا دی گئی جس سے ان کا پچاسی فیصد جسم جھلس گیا اور تین دن وہ اس دہکتے ہوئے عذاب سے گزریں اور آخر دم توڑ گئیں۔ ان کا جرم صرف اتنا تھا کہ انہوں نے رشتے سے انکار کیا تھا، جس اسکول میں پڑھاتی تھیں اس کے مالک کے بیٹے کے ساتھ شادی کرنے سے انکار پر ان پر ان کے گھر پر دھاوا بول کر جلا دیا گیا اور وہ آدمی پہلے سے شادی شدہ اور ایک بچی کا باپ تھا۔
ماریہ صداقت کے گھر والوں پر ان کے قتل کے بعد با اثر افراد کی طرف سے دباؤ تھا کہ وہ قاتلوں سے راضی نامہ کر لیں اور معاف کر دیں۔ عاصمہ جہانگیر واحد با اثر شخصیت تھیں جو ان کے گھر گئیں اور ان کے والدین انصاف کا یقین دلایا۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کان پر جوں نہیں رینگتی اور وہی ہوا جو ہوتا ہے ان کا قتل آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کی مانند جیسے ہی خبروں سے باہر گیا ویسے ہی کیس ختم ہو گیا کوئی نہ پکڑا گیا نہ سزا ہوئی۔
اس واقعے میں اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے واقعہ میں آٹھ سال گزرے لیکن ان آگ سالوں کے بعد بھی ایک اور ماریہ اسی ظلم اور پدرسری کے عفریت کا شکاری ہوئی کہ ”تمھاری ہمت کیسے ہوئی ہمیں انکار کرنے کی، ہماری کھینچی ہوئی لکشمن ریکھا سے باہر قدم رکھنے کی“ ۔ ان آٹھ سالوں میں ہم اپنی بچیوں کو تحفظ دینے کی منزلیں تو طے نہیں کر سکے لیکن یہ ضرور طے ہوا کہ ماریہ صداقت کو آگ لگانے والے پرائے تھے اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ماریہ کا گلہ گھونٹنے والا اس کا اپنا بھائی اور ہلہ شیری دینے والا اپنا باپ تھا کہ ہمت کیسے ہوئی کہ بتاؤ کہ تم زیادتی کا شکار ہو وہ بھی اپنے گھر میں۔
ان آٹھ سالوں میں صرف یہ دو واقعات نہیں اس عرصے میں پاکستان نے ریپ کے، گھریلو تشدد کے، ونی، کاروکاری کے بے شمار واقعات دیکھے۔ پاکستان میں ایک ہزار خواتین ہر سال غیرت کے نام پر قتل ہوتی ہیں اور ریپ، جنسی ہراسانی اور دیگر متشدد کارروائیوں کا نشانہ بننے والی خواتین بھی خبروں میں آتی رہیں۔ لیکن اس میں افسوسناک پہلو ان جرائم کرنے والے ملزموں کو سزا نہ ملنا تھا۔ پاکستان میں عدالت نے ریپ کے ملزم کو اس لیے بری کر دیا کہ اس نے وکٹم خاتون سے شادی کے لیے اقرا کر لیا اور برداری نے صلح کرا دی، بار کھان کے دل دہلا دینے والے واقعہ میں کیا ہوا کس مجرم کو سزا ہوئی، سزا کے طور پر ریپ پرائیویٹ جیلوں پر حکومت نے کوئی کاروائی کی جوان ندارد، فاطمہ فاریو کیس میں کسی کو سزا ملی چھوٹی بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور مار پیٹ کے بعد بھی کوئی مجرم سزا نہیں پا سکا، ہر دوسرے دن چھوٹی ہندو بچیوں کو اغوا کر کے زبردستی مسلمان بنایا جاتا ہے اور دگنی تگنی عمر کے مردوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے کوئی حساب کتاب نہیں، ابھی بھی سندھ پریا کماری اور گلگت فلک نور کے لیے احتجاج کر رہا ہے کہ اتنی چھوٹی بچیاں شادی تو کیا اپنے فیصلے کرنے کے قابل نہیں ان کو ڈھونڈ کر ان کے ماں باپ کے حوالے کیا جائے۔
یہ سارے وہ واقعات ہیں جن کی کہیں کوئی شنوائی نہیں ہوئی بارکھان کے کنواں میں سترہ سالہ بچی کی ریپ مسخ شدہ لاش کسی امریکی امداد کا سبب نہیں بنی، نہ ہی سترہ سال کی ماریہ صداقت کو کسی نے انصاف دیا اور نہ ہی ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ماری کو کسی ملک کے ویزے کی امید تھی یہ سب بچیاں کوئی سترہ، بیس، بائیس سال کی تھیں ابھی ان کی زندگی شروع بھی نہیں ہوئی تھی جب ان کو انتہائی سفاکی کے ساتھ قتل کر دیا گیا۔ ان کا کوئی جرم نہیں تھا سوائے ”نہ“ کہنے کے۔
سردار کے سامنے انکار، رشتے سے انکار، باپ بھائی کی زیادتی چھپانے سے انکار اس سب کی سزا موت ہے۔ پاکستان میں ہم شاٹ ٹرم میموری لوس کے فضائل کی بدولت زندہ ہیں۔ ایک واقعہ ہوتا ہے شور مچاتے ہیں پھر بھول جاتے ہیں اور دوسرے واقعے کا انتظار کرتے ہیں۔ حکمران اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بیماری سے بخوبی آگاہ ہیں وہ جتنے دن شور اور ہا ہا کار ہوتی ہے اتنے دن کاسمیٹک کارروائیوں سے عوام کو مطمئن کر کے پھر اپنے کھانے پینے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور عوام واپس اپنے کھونٹے پہ آ جاتے ہیں۔
اس میں حکمران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بااعتماد ساتھی وہ مذہبی جماعتیں اور کنواں کے مینڈک ہوتے ہیں جو جائز مطالبوں کو بھی پاکستان کی بدنامی، اسلام کے خلاف سازش اور بے حیائی کے فروغ کی کوشش سے جوڑ دیتے ہیں اور دکھ اس وقت ہوتا ہے جب پڑھے لکھے لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں۔ پاکستان میں ساٹھ فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے اور پانی، بجلی، صحت، تعلیم کی سہولتوں سے محروم ہے۔ اس میں آدھی تعداد خواتین کی ہے جو ان بنیادی سہولتوں کے فقدان کے نتیجے میں پیدا ہونے تعفن زدہ ماحول میں اپنی زندگی گزارتی ہیں۔ ایک تو تعلیم کی کمی اوپر سے فرسودہ روایات اس دوہرے بوجھ تلے خواتین دبتی ہیں اور ہر طرح کے ظلم کا شکار ہوتی ہیں اور جب کوئی آواز اٹھاتا ہے تو برداری، حکومت، قانون نافذ کرنے والے ادارے سب اس کے خلاف سینہ سپر ہو جاتے ہیں۔
ان سب جرائم کی توجیحات دینے سے پہلے صرف اتنا سوچیے کہ یہ بچیاں انسان تھیں ان کا بھی زندگی پر اتنا ہی حق تھا جتنا ہم سب کا انہوں نے کچھ ایسا نہیں کیا تھا جس کی سزا موت تھی۔ جب انسانی حقوق کے کارکنوں اور فیمنسٹ خواتین کے تحفظ کی بات کرتے ہیں، عورت مارچ نکالتے ہیں، آگہی کی مہم چلاتے ہیں، بحث مباحثے کرتے ہیں، ان موضوعات کو زندہ رکھتے ہیں اور ایسے گمشدہ کیسوں کی پیروی کرتے ہیں تو وہ امراء کی خواتین یا اپر مڈل کلاس کی خواتین کی بات نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اس ساٹھ فیصد آبادی کی بات کر رہے ہوتے ہیں جو بنیادی سہولتوں کے فقدان، غربت اور روایات کے الاؤ میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں سے خبر آنے میں کی دن لگ جاتے ہیں پھر اس کی معلومات اور تصدیق مزید وقت لیتی ہے۔
گزرتے وقت کے ساتھ جس طرح کی سنگدلی کا مظاہرہ ان واقعات میں مجرموں نے کیا ہے چاہے وہ ماریہ صداقت کا کیس ہو، بارکھان کا واقعہ ہو، فاطمہ فاریو کا کیس ہو یا ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قتل کا کیس ہو پتہ چلتا ہے کہ مجرم پر اعتماد ہیں کہ قانون ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور یہ کسی بھی معاشرے کے لیے سب سے خطرناک بات ہے۔ ان سارے واقعات کو پڑھتے ہوئے، تحقیق کرتے ہوئے، لکھتے ہوئے کائی بار میرے ہاتھ اور دل دونوں کانپے ہیں۔
ان معصوم بچیوں کی تصویریں دیکھ کر ہر بار میں نے یہ سوچا کہ ان کی ساتھ کی بچیاں کالج پڑھ رہی ہوں گی اور اس عمر میں ہم خود کیسے تھے اور کتنے خواب میں سجائے ہوئے تھے۔ آٹھ سال کے بعد بھی ماریہ صداقت کی تصویر میری آنکھوں میں جمی ہے اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ماریہ تک کی خبر کا سفر اس اذیت کا سفر ہے جس میں چپ رہنا گناہ ہے۔
وہ آپ کو نہیں سمجھیں گے
آپ ایسی بات کر رہے ہیں
جس کے بارے میں سوچتے ہوئے
آپ نے ہزاروں میل کا سفر طے کیا
ہے اور جس میں انہوں نے ایک قدم بھی نہیں چلایا ہے
وہ آپ کو محسوس نہیں کریں گے
آپ ایک ایسے احساس کو بیان کر رہے ہیں
جو آپ کے دل میں ہر رات لاکھوں بار ہوتا ہے،
لیکن ان کے دل کو ایک رات بھی نہیں چھوا،
یہ ان کا قصور نہیں ہے،
بلکہ یہ تجربہ اور الفاظ کے درمیان بہت بڑا فاصلہ ہے (ڈاکٹر احمد خالد توفیق)

