تاریخی انصاف یا تاریخ سے انصاف؟


ہم لمحۂ موجود سے چراتے ہوئے نظریں، تاریخ کو سدھارنے چل پڑے ہیں، ایک کے بعد ایک تصحیح! حال تک پہنچتے پہنچتے حال بھی ماضی بن چکا ہو گا یوں ہمارے انصاف کے ادارے تاریخ میں سرگرداں، تاریخ ہی رقم کرتے رہیں گے۔ مستقبل کی فکر کے تو کہیں دور دور تک آثار بھی معلوم نہیں ہو رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ زمانے کی تینوں حالتیں اب ایک ہی حالت میں ضم ہو گئی ہیں!

صدارتی ریفرنس نمبر 1، مجریہ و مدخولہ 2011 کے جواب میں یہ قرار دیا گیا کہ بھٹو کیس ( 1979 ) کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں تھا۔ آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق، خصوصاً شفّاف کارروائی اور قانونی عمل (Fair Trial & Due Process) کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ اس اعتبار سے مذکورہ عدالتی فیصلے میں سقم ہے البتہ، وہ فیصلہ حتمی ہو جانے کی بنا پر اب نہ تو کالعدم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی قانون میں ایسا کوئی حل موجود ہے۔

دوسرے فیصلے میں جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی ( 2018 ) بھی غیر قانونی قرار دی گئی لیکن منصب جلیل پر بحالی کا عمل بوجہ زائد المیعاد (طویل العمری) ممکن نہیں تھا اس لیے ’ریلیف‘ عزت و وقار کی بحالی تک ہی محدود رہا۔ تاریخی نا انصافی کے ان دونوں کیسز میں تاریخ کے ساتھ انصاف کرنے کی جسارت کی گئی ہے قطع نظر اس کے کہ دیر سے انصاف کرنا نا انصافی گردانا جاتا ہے!

تاریخی غلطیوں کی اصلاح؛ تاریخ کی درستگی اور مُلک و قوم کے لیے نیک شگون ہے البتہ، لمحۂ فکریہ اور اندیشہ یہ ہے کہ اس مشق آہن میں موجودہ اور آمدہ مسائل سے چشم پوشی کہیں عدالتی نظیر ہی نہ بن جائے!

یہ دیکھتے ہوئے کہ عدالت عظمیٰ شہید اور سبکدوش افراد کو دادرسی فراہم کر رہی ہے، عدالت عالیہ اسلام آباد کے 6 زندہ و حاضر سروس معزز ججوں نے بھی شکایتوں پر مبنی ایک خط بنام عزت مآب جناب چیف جسٹس لکھ بھیجا تا کہ لگے ہاتھوں اُن کے ساتھ بھی انصاف ہو جائے اور عدلیہ کی آزادی پر منڈلاتے گرجتے بادل، قبل اس کے کہ چھما چھم برسیں، چھٹ ہی جائیں!

آخری خبریں آنے تک معاملے کی تفتیش کے لیے بنائے جانے والے یک رکنی جوڈیشل انکوائری کمیشن کی سربراہی جس ریٹائرڈ جج کو سونپی گئی تھی اس نے ’تعظیماً‘ اور ’حفظ ما تقدم‘ کے طور پر معذرت کر لی ہے۔ اب کے معاملے کا از خود نوٹس بھی لے لیا گیا ہے اور 7 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کا باقاعدہ آغاز بھی کر دیا ہے۔

اس مسئلے میں اب عدالت عظمیٰ کا اپنا ٹرائل شروع ہو چکا ہے جو بھارتی سپریم کے ایک سابقہ جج کے قول کا مصداق معلوم ہوتا ہے جس نے کہا تھا:

”Both the parties know the truth; it ’s the judge who is on trial“

یعنی کہ فریقین مقدمہ حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں، یہ جج ہوتا ہے جس کی آزمائش و امتحان کے لیے عدالت لگتی ہے۔

مذکورہ ریفرنس میں ممکنہ فیصلہ اگر مبنی بر انصاف ہوا تو تاریخی بھی ہو سکتا ہے، تاریخ سے انصاف کی جھلک بھی دکھا سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر اعلیٰ عدلیہ کے حفاظتی حصار کا ضامن بھی ٹھہر سکتا ہے۔

یہ کیس اہم ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ بھی ہے کیوں کہ یہاں ادارے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو مدعی خود ہی اپنا وکیل بھی ہے اور منصف بھی۔ اب بھی اگر انصاف کا ترازو ڈگمگا جائے تو بے چارے عوام انصاف کے لیے کاہے کو روئیں!

تاریخ شاہد ہے اور تاریخی شواہد اظہر من الشمس ہیں کہ انتظامیہ و مقننہ کے معاملات میں صرف مداخلت ہی نہیں کی گئی بلکہ کئی بار شب خون مارا گیا۔ ہر بار المیہ یہ رہا ہے کہ عدلیہ ایسی ہر یلغار کو سند جواز بخشتی چلی آئی ہے۔ اب کی بار عدلیہ آزمائش کی گھڑی سے دوچار ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ و مقننہ تاریخ کی کس سمت میں کھڑی ہوتی ہیں، شکار کے ساتھ یا شکاریوں کے ساتھ؟ تاریخی انصاف اور تاریخ سے انصاف کا سنہری موقع ہاتھ آ گیا ہے اسے گنوانے نہ دیجئے گا!

Facebook Comments HS