سیاحوں کی گہما گہمی اچھی لیکن کاشغر کا حسن اور رومانویت محفوظ رہنی چاہیے
کاشغر، چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے انتہائی مغرب میں واقع سب سے بڑا شہر ہے۔ ویغور زبان میں کاشغر کا مطلب ہے ”شاندار جیڈ جیسا مقام“ ۔ 2 ہزار سال سے بھی قدیم یہ تاریخی شہر اپنے اندر کئی کہانیاں کئی رنگ سموئے ہوئے ہے۔ ہزاروں سالوں سے، قدیم شاہراہ ریشم پر مشرق اور مغرب کو ملانے والا کاشغر، پامیر سطح مرتفع کے شمال اور صحرائے تکلمکان کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔ کاشغر کی 888 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی سرحد تاجکستان، افغانستان اور پاکستان سے متصل ہے ان کے علاوہ کرغزستان، ازبکستان اور بھارت بھی یہاں سے زیادہ دور نہیں ہیں۔
وسطی، جنوبی اور مغربی ایشیا کے ساتھ ساتھ یورپ سے منسلک ایک طویل تجارتی تاریخ کے حامل اس بین الاقوامی تجارتی مرکز کو ”اورینٹل قاہرہ“ بھی کہا جاتا تھا۔ آج بھی یہ چین کو وسطی، جنوبی اور مغربی ایشیا کے ساتھ ساتھ یورپ سے منسلک کرنے والی سب سے با سہولت بین الاقوامی شاہراہ ہے۔ آج یہ نہ صرف جنوبی سنکیانگ کی سیاست، معیشت اور ثقافت کا مرکز ہے بلکہ اس علاقے میں زراعت اور چراگاہوں سے متعلقہ پراڈکٹ ڈسٹری بیوشن کا سب سے بڑا مرکز بھی ہے۔
31 قومیتوں کا گھر کاشغر، ویغور ثقافت کا گہوارہ ہے۔ یہ سنکیانگ میں ویغور قومیت کی منفرد ثقافت اور اس کے مثالی طرزِ تعمیر کا نمائندہ شہر ہونے کے ساتھ ساتھ ”گیتوں اور رقص“ کا شہر بھی کہلاتا ہے۔ کاشغر کو طرزِ تعمیر کے اعتبار سے بھی ایک منفرد مقام حاصل ہے اور مٹی سے بنی عمارات کا دنیا کا سب سے بڑا ذخیرہ بھی یہیں ہے۔ ویغور گھروں کے طرزِ تعمیر میں زیادہ تر دوسری منزل ایک کھلی چھت ہوتی ہے جہاں لوگ مل بیٹھتے اور فرصت کا وقت گزارتے ہیں۔
پرانے کاشغر شہر کے شمال مشرقی کنارے پر، اب بھی ایسے روایتی گھر موجود ہیں۔ ویغور مضبوط خاندانی نظام پر یقین رکھتے ہیں، جوں جوں خاندان میں اضافہ ہوتا ہے، گھر میں بھی ایک نئی منزل کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک بڑے رہائشی احاطے میں، مختلف منزلوں پر 20 کمرے بھی ہوسکتے ہیں جو مرکزی عمارت سے جڑے ہوتے ہیں۔ بے ترتیب انداز میں تعمیر شدہ ان خوبصورت گھروں کے درمیان سے 50 کے قریب گلیاں گزرتی ہیں یہ کاشغر میں ”چھت والے گھروں“ کا سب سے منفرد علاقہ ہے جہاں آ کر ویغور ثقافت اور اس کی تاریخی خوبصورتی کا احساس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو ایک مرتبہ یہاں آتا ہے وہ اس سادہ، بے ترتیب مگر خوبصورت شہر کے رومان میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
چین میں گزشتہ کچھ دہائیوں کے دوران سیاحت کی صنعت ایک بے حد مضبوط اور منافع بخش صنعت کے طور پر ابھری ہے۔ سنکیانگ کے تاریخی و ثقافتی تنوع کے باعث یہاں بھی اس صنعت نے خوب فروغ پایا اور گزشتہ چند سالوں میں سنکیانگ، خاص طور پر کاشغر میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ کاشغر کا قدیم شہر سیاحت کا ”ہاٹ سپاٹ“ ہے۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز اور تصاویر نے تو اس کی مقبولیت اور یہاں آنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ کیا ہے۔
اس شہر کی خوبصورتی، یہاں کی روایتی قدیم عمارات کو مضبوط بنانے اور یہاں کی اصل روح کو محفوظ رکھتے ہوئے یہاں آنے والے سیاحوں کی خاطر اسے زیادہ پرکشش اور با سہولت بنانے کے لیے 2009 میں کاشغر میونسپل گورنمنٹ نے 7 ارب یوآن سے زائد رقم مختص کرتے ہوئے تزئین و آرائش کے منصوبے کی داغ بیل ڈالی۔ 2010 میں اس شہر کی تزئین و آرائش کا آغاز کیا گیا اور سات سال میں، خستہ حال گھروں کو ان کے قدیم طرزِ تعمیر کی خصوصیات یا روایتی ویغور طرز زندگی کو تبدیل کیے بغیر دوبارہ تعمیر کیا گیا۔
2 ہزار سال سے بھی پرانے شہر کے اس حصے میں رہنے والے گھرانے جو نسل در نسل یہاں آباد ہیں، تزئین و آرائش اور مرمت کے کام کے بعد اب بہتر انفرا سٹرکچر کے ساتھ، محفوظ اور زیادہ آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں اور یہ علاقہ سیاحت کے مزید فروغ کے لیے بھی زیادہ موزوں پوزیشن میں ہے۔ تاہم کاشغر کے ان قدیم رہائشیوں اور یہاں کاروبار کرنے والوں کو تیزی سے بڑھتی ہوئی ثقافتی سرگرمیوں کے باعث کچھ تشویش بھی تھی۔ انہوں نے انتظامیہ سے اس کا ذکر کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ قدیم کاشغر کے تحفظ کے بارے میں قوانین و ضوابط بنا کر اس روایتی محلے کو اس کے منفرد ویغور فن تعمیر کے ساتھ بہتر طور پر تحفظ فراہم کیا جائے گا اور اسے حد سے زیادہ تجارتی علاقہ بننے سے روکا جا سکے گا۔
سنکیانگ ریجنل پیپلز کانگریس یعنی مقامی مقننہ کی قانون ساز کمیٹی کی جانب سے ان تحفظات پر توجہ دی گئی۔ قانون ساز کمیٹی کے تجزیے کے مطابق قدیم تاریخی شہر میں سیاحت کی تیز رفتار ترقی سے جہاں لوگوں کو فائدہ ہوا ہے وہیں کچھ مسائل بھی سامنے آئے ہیں۔ چونکہ قدیم شہر کے تحفظ کی ذمہ داریاں واضح طور پر متعین نہیں تھیں، لہذا اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ لوگوں نے حکام سے منظوری حاصل کیے بغیر قدیم گھروں کی اصل شکل کو تبدیل کیا، اس لیے بہت ضروری ہو گیا کہ قدیم کاشغر کی حفاظت کے لیے فوری طور پر ایک ضابطہ کار متعارف کروایا جائے۔
اس پر کام شروع ہوا اور رواں ہفتے سنکیانگ ریجنل پیپلز کانگریس کی قانون ساز کمیٹی یعنی مقامی مقننہ کی جانب سے منعقدہ نیوز کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ یکم مئی 2024 سے روایتی ثقافت کے تحفظ، روایتی دستکاری کے فروغ اور حد سے زیادہ کمرشلائزیشن کی روک تھام کے لیے پرانے شہر کی ترقی سے متعلق ایک ضابطہ نافذ العمل کیا جا رہا ہے جس کے تحت قدیم اور تاریخی عمارتوں کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرنے یا اسے کسی بھی قسم کا نقصان پہنچانے کی ممانعت ہوگی اور مرکزی سڑکوں کے ساتھ گھروں پر کسی بھی طرح کی تزئین و آرائش کے کام کے لیے شہری حکومت سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگی۔ اس سے قدیم شہر کے تحفظ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور مقامی ثقافت کی نمائش کے لیے یہاں کے رہائشیوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔
قدیم شہر میں کئی نسلوں سے آباد گھرانوں کی جانب سے ریگولیٹری ضوابط نافذ کرنے کے اس اقدام پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ ان لوگوں نے ایک منفرد رنگ روپ کے کاشغر میں آنکھ کھولی تھی ایک ایسا کاشغر جو قدرتی اور منفرد حسن کا حامل ہے، جس کو مصنوعی غازے سرخی کی ضرورت ہی نہیں تھی ہاں بس اس خوبصورتی کا خیال رکھنے کی ضرورت تھی پھر اسے سراہنے والوں کی محبت سے اس کا روپ اور نکھرتا تھا۔ اسے اتنی تیزی سے حد سے زیادہ کمرشلائز ہوتے دیکھنا ان لوگوں کے لیے کوئی اچھا احساس نہیں تھا۔
یہاں بہت سے ایسے کاروبار آ گئے جن کا مزاج اور انداز اس پرانے شہر سے میل ہی نہیں کھاتا کیونکہ انہوں نے مقامی ثقافت کے تحفظ کی اہمیت کو بھی نظر انداز کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگوں اور انتظامیہ نے فیصلہ کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پرانے شہر میں آ کر بسنے یا کاروبار کرنے والوں کو ایک ضابطے میں لایا جائے تاکہ وہ پرانے شہر کی منفرد خصوصیات کے تحفظ کو ترجیح دیں اور اس کے بارے میں محتاط رہیں۔ یکم مئی سے نافذ ہونے والا یہ ضابطہ کار علامت ہے کہ قدرتی ماحول اور ثقافت کی قیمت پر خوشحالی کا حصول چین کا مطمعِ نظر نہیں ہے۔ کاروبار اور تعمیرات کے امور کو ریگولیٹ کرنے سے مقامی رہائشیوں، کاروبار کرنے والوں اور سیاحوں سب کو فائدہ ہو گا۔ بلاشبہ سیاحوں کی آمد بڑھنے سے مقامی لوگوں کی آمدن بڑھے گی اور یہ خوشحالی ان کی زندگیوں کو بدلے گی لیکن کاشغر کا حسن اور اس حسن سے وابستہ رومانویت پر آنچ نہیں آئے گی۔


