الف لیلوی ماحول اور استقبالی دستہ


حسبِ معمول صبح سویرے اٹھنے کے بعد فجر کی نماز ادا کی جو گنگ کٹ پہنی اور واک کی غرض سے ہاسٹل سے نکل پڑے۔ جونہی ہوسٹل کے بیرونی دروازے پر پہنچا اور باہر کے ماحول پر نظر پڑی تو بری طرح ٹھٹھک کر رہ گیا ہوسٹل کا بیرونی علاقہ ہمہ وقت گرد و غبار سے اٹا رہتا۔ خداوندان یونیورسٹی کو کبھی بھی توفیق نہ ہوئی کہ وہ اس علاقے کی صفائی ستھرائی کے لیے کوئی باقاعدہ نظام ترتیب دیتے۔ یوں لگتا تھا جیسے کہ یہ علاقہ یونیورسٹی کا حصہ ہی نہ ہو۔

ہفتے عشرے کے بعد ایک منحنی سا خاکروب یہاں پر گرد و غبار اُڑانے کے لیے عموماً اس وقت بھیج دیا جاتا جب لوگ یونیورسٹی کو جا رہے ہوتے یا یونیورسٹی سے واپس ہوسٹل آرہے ہوتے۔ اسے اس طرح گرد و غبار اُڑاتے دیکھ کر کوئی نہ کوئی اس کو جھڑک دیتا کہ یہ کوئی وقت ہے صفائی کرنے کا صبح سویرے آیا کرو۔ اُسے شاید اسی فقرے کا انتظار رہتا تھا وہ خاموشی سے جھاڑو اپنی بغل میں دباتا اور ہفتے عشرے کے لئے ایک بار پھر غائب ہوجاتا۔

آج جب میں مین گیٹ پر کھڑے ہو کر باہر دیکھ رہا تھا تو پورا ماحول ہی بدلا ہوا تھا۔ ہاسٹل کے دروازے کے عین سامنے ایک روش بنی ہوئی تھی۔ جس کے اوپر سرخ بجری پھیلا کر اُسے پانی سے بہت اچھے طریقے سے تر کیا ہوا تھا۔ تاکہ گرد و غبار نہ اُڑنے پائے۔ روش کے دونوں طرف بڑے خوبصورت گراسی گراؤنڈ موجود تھے۔ ان گراؤنڈ کے چاروں طرف ایک نالی بنا کر اس نالی میں چھوٹے بڑے خوبصورت پودے لگائے تھے۔ ماحول میں اس قدر اصلیت تھی کہ پودوں کے ساتھ پھول بھی تازہ کھلے ہوئے تھے۔

یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے ایک جھٹکا سا لگا۔ میرے ذہن میں اُس وقت داستان الف لیلہ کے کردار ابوالحسن کی یاد آئی۔ وہ رات کو کسی جھونپڑے میں سوتا اور اگلی صبح جب اس کی آنکھ کھلتی تو وہ اپنے آپ کو ایک خوبصورت محل میں موجود پاتا اور کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ وہ رات کو اس محل میں ہوتا اور صبح جب اس کی آنکھ کھلتی تو اپنے ٹوٹے پھوٹے جھونپڑے میں موجود ہوتا۔ یا الہیٰ یہ ماجرا کیا ہے کیا مجھے بھی راتوں رات ابوالحسن کی طرح ہوسٹل کے جھونپڑے سے اس محل نما جگہ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

لیکن صورت حال کا بغور جائزہ لینے پر پتہ چلا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے یہ ہوسٹل کی عمارت بھی وہی ہے۔ بائیں ہاتھ پہ یونیورسٹی کا کیمپس بھی موجود ہے۔ فرق صرف یہی ہے کہ سارے کے سارے گرد آلود علاقے کو گراسی گراؤنڈ میں تبدیل کر کے انہیں پھل بوٹوں سے بھر دیا گیا ہے۔ بہر حال کمال کی کاری گری تھی۔ ایسی ہی کاری گری ایک بار میں اپنی سروس کے آغاز میں گورنمنٹ ہائی سکول رجحان میں بھی دیکھ چکا تھا۔ سالانہ معائنہ سر پر تھا او ر سکول کا اندرونی ماحول ہمارے ہوسٹل کے سابق بیرونی ماحول سے بھی دو ہاتھ بڑھ کر تھا۔

ہیڈ ماسٹر نے زراعت ٹیچر اکبر خان کو بلایا اور اُسے کہا تم کیسے زراعت ٹیچر ہو کہ پورے سکول میں ایک بھی سبز پتہ موجود نہیں ہے۔ بس تم تو اپنے آپ کو معطل ہی سمجھو۔ اس نے ہیڈماسٹر کو تسلی دی کہ آپ فکر نہ کریں۔ معائنہ کے دن پورا سکول باغ و بہار کی مائنڈ ہو گا اور واقعی اس دن پورے سکول میں جگہ جگہ سبز درخت لہلہا رہے تھے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا درختوں کی لہلہاہٹ بھی نیچے کی طرف لٹکتی جا رہی تھی۔ معائنہ افسر کو ڈیرہ غازی خان سے یہاں پہنچتے پہنچتے ڈیڑھ دو بجے کا وقت ہو چکا تھا۔

سورج ڈھلنے کے ساتھ ساتھ سارے کے سارے درختوں کے پتے نیچے کی طرف لٹک کر زمین پر گرنا بھی شروع ہو چکے تھے۔ موصوف جونہی مین گیٹ سے اندر داخل ہوئے انہوں نے صورت ِ حال کو تو بھانپ لیا لیکن اس پر لب کشائی کرنا مناسب نہ سمجھا۔ سکول ہیڈ ماسٹر فیض رسول شاہ صاحب بھی اُن کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ چلتے چلتے انہوں نے اچانک ایک پودے کو درمیان سے پکڑ کر اوپر کھینچا تو وہ باہر کھنچتا ہی چلا آیا۔ اسے بغور دیکھتے ہوئے بولے شاہ جی کمال کی کرامت ہے کہ آپ کے سکول میں پودوں کے پتے اور تنے پہلے بن جاتے ہیں اور جڑیں بعد میں بنتی ہیں۔

حالاں کہ عام تام جگہوں پر تو اس کے الٹ ہوتا ہے۔ بے چارے اکبر خان نے اپنی ابتر مالی حالت کے عین مطابق درختوں کے ٹہن کاٹ کر ہی زمین میں دبائے ہوئے تھے۔ لیکن یہاں صورت حال ایسی بالکل نہیں تھی یہاں پر کام ٹھوس بنیادوں پر کیا گیا تھا۔ اپنے چٹکی کاٹ کر اس بات کا یقین کیا کہ یہ سب کچھ محض خواب تو نہیں ہے۔ بلکہ حالت بیداری میں ان ہونی حقیقت کا سامنا ہے۔ اچانک یاد آیا کہ آج تو گورنر پنجاب جنرل خالد مقبول یونیورسٹی چانسلر کی حیثیت سے یہاں وزٹ کر رہے ہیں۔ ہفتے بھر سے اس وزٹ کو کامیاب بنانے کے لئے بڑی بھر پور تیاریاں ہو رہی تھیں۔

پروگرام یہ تھا کہ کم عمر اور خوش چہرہ شرکائے ریفریشر کورس خواتین کا ایک گروپ تشکیل دیا جائے گا۔ اُن کو ہفتہ بھر انگریزی بول چال کی مشق کے علاوہ پروٹوکول اور دوسرے ضروری مینرز بھی سکھائے جائیں گے اور یہ پری چہرہ گروپ نہ صرف گورنر صاحب کا استقبال کرے گا بلکہ اس طریقے سے گھیرے رکھے گا کہ اُسے کسی اور بات کا دھیان ہی نہ رہے۔ گو کہ ہمارے ریفریشر کورس میں اہالیان یونیورسٹی کی مطلوبہ اوصاف کی حامل جنس تقریباً نایاب ہی تھی۔

لیکن پھر بھی نسبتاً بہتر گروپ تشکیل دے کر دال دلیا کر لیا گیا۔ صفائی ستھرائی، رنگ و روغن، بورڈ، چارٹ، قلعی چونا غرض یہ کہ پورا ہفتہ ہی ریفریشر کورس کی بجائے جنرل صاحب کے وزٹ کی تیاریوں کا حصہ تھی۔ ہم اپنی روزمرہ کی مصروفیات کے بعد ناشتہ کر کے جب یونیورسٹی کیمپس میں داخل ہوئے تو برآمدے کے فرش کو صفائی کے بعد پالش کر کے کچھ اس طرح چمکایا ہوا تھا کہ اس میں چہرہ نظر آ رہا تھا۔ ایسا غیر معمولی ماحول ہم دیہاتی لوگوں کو ہمیشہ ہی امتحان میں ڈال دیتا ہے۔

اب میں یہاں کھڑا سوچ رہا تھا کہ میں نے جوتے کو پاؤں میں پہنے ہی آگے بڑھنا ہے یا بغل میں دبا کر۔ وہ تو شکر ہے خدا کا کہ مجھے چند شہری بابو جوتوں سمیت اندر گھستے ہوئے نظر آئے۔ اُن کی دیکھا دیکھی میں بھی آگے بڑھتا چلا گیا۔ آج تو یونیورسٹی میں کمال کا ماحول بنایا ہوا تھا۔ نہ صرف یونیورسٹی کے در و بام رنگ و روغن کر کے چمکائے گئے تھے بلکہ یونیورسٹی کے سٹاف کو دیکھ کر بھی یوں محسوس ہو رہا تھا کہ بیوٹی پارلر سے نکل کر سیدھے ادھر ہی آرہے ہیں۔ ہمارے کورس کو آرڈینیٹر یونس صاحب جن کے بارے میں ہمارا یہ گمان تھا کہ انہیں پتلون پہننا شاید ہی آتا ہو کیوں کہ وہ ہمہ وقت شلوار قمیض اور پھٹ پھٹ کرتی ہوئی سافٹی پہنے ہی نظر آتے تھے۔ آج وہ بھی بڑی مہارت کے ساتھ ٹائی سمیت تھری پیس سوٹ کے اندر گھسے ہوئے تھے۔

روز مرہ کے مقابلے میں اُن کا گنج بھی کافی حد تک کم معلوم ہو رہا تھا۔ جب یونس صاحب کی تیاریوں کا یہ حال ہو گا تو یونیورسٹی کے بقیہ سٹاف کی تیاریوں کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ استقبالیہ بریگیڈ ہاتھوں میں پھولوں کے ہار لیے اور چہروں پر خوش آمدید کی مسکراہٹ سجائے دیدہ و دل فرش راہ کیے کھڑا تھا۔ عام دنوں میں ٹھیٹھ پنجابی زبان میں بات چیت کرنے والے سٹاف ممبرز بھی آج ایک دوسرے کے ساتھ انگریزی میں گٹ پٹ گٹ پٹ کرتے ہوئے نظر آرہے تھے۔

غرض یہ کہ پوری یونیورسٹی کو بڑی کامیابی سے ایک مصنوعی ماحول میں مزین کیا ہوا تھا۔ گورنر عین وقت پر تشریف لائے۔ حسب ِ پروگرام اُن کا استقبال کیا گیا اور استقبالیہ گروپ کے جلو میں انہیں ساتھ لاکر سٹیج پر بٹھا دیا گیا۔ درآمد شدہ سٹیج سیکرٹری نے پروگرام کا آغاز نہایت ہی گاڑھی انگریزی سے کیا۔ پینڈو ہونے کے ناتے انگریزی زبان سے ہماری دیرینہ مخاصمت چلی آ رہی ہے۔ کسی بھی شخص کی انگریزی کے معیار کا اندازہ ہم اس کی لفاظی اور تلفظ سے ہرگز نہیں لگاتے بلکہ انگریزی بولتے وقت اس کے چہرے پر نظر آنے اُتار چڑھاؤ، تکلیف اور بگاڑ کے اثرات سے لگاتے ہیں۔

سیدھے سبھاؤ رواں انداز میں بولی جانے والی انگریزی میں وہ بات کہاں ہے۔ جو منہ بگاڑ کر بولی جانے والی انگلش میں پائی جاتی ہے۔ بہرحال سیکرٹری نے پروگرام کا آغاز تلاوت کلامِ پاک سے کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی ایک صاحب کو تلاوت کے لئے سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اب تلاوت کلامِ پاک کو کس طریقے سے انگلشیایا جائے گا۔ لیکن واہ بھلی کہ تلاوت عربی زبان میں ہی ہو رہی تھی۔ مختصر سی تلاوت کے بعد انگریزی میں اس کا ترجمہ اور تفسیر پیش کی گئی۔ اس کے بعد باقاعدہ جلسے کا آغاز ہو گیا۔

ایک دو پروفیسر صاحبان نے اپنے اپنے اور یونیورسٹی کے کارہائے نمایاں پر روشنی ڈالی۔ یہ روشنی انگلش کی ٹارچ سے ڈالی جا رہی تھی۔ اس کے بعد اس نوزائیدہ یونیورسٹی کے نومولود وی سی صاحب تشریف لائے۔ انہوں نے مہمان گرامی کی تشریف آوری پر اپنے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے اُن کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی یونیورسٹی کے مسائل اور مالی مشکلات کی ایک طویل لسٹ نہ صرف اُن کے گوش گزار کی گئی۔ بلکہ تحریر شدہ ایک کاپی بھی اُن کے ہاتھ میں تھما دی گئی۔

تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ سب سے آخر میں گورنر خالد مقبول ڈائس پر تشریف لائے انہوں نے نہ صرف خداوندان یونیورسٹی کے انتظامات کی دل کھول کر تعریف و توصیف کی بلکہ اُن کی مالی مشکلات کے سلسلہ میں بھی انہیں خطیر گرانٹ سے نوازا گیا۔ جن کا اہالیان یونیورسٹی کو شاید اندازہ بھی نہیں تھا۔ اس اعلان پر اُن کی خوشی دیدنی تھی۔ اس کے بعد سیکرٹری صاحب نے پروگرام کے اختتام کے اعلان کے ساتھ ہی شرکاء کو چائے کی دعوت بھی دے ڈالی۔ چائے کے ساتھ چھوٹی چھوٹی سموسیاں رکھی گئی تھیں۔ ہمیں ان پر بڑا اعتراض تھا وصول کردہ گرانٹ کی نسبت سے دیوہیکل سموسے بنتے تھے۔ بہر حال چائے کے بعد انہیں احساس ِ ممنونیت سے سجی ہوئی مسکراہٹوں کے ساتھ الوداع کہہ کر رخصت کر دیا گیا۔

خاندان یونیورسٹی اپنی اس کامیابی پر پھولا نہیں سما رہے تھے۔ اگلے ہی دن تمام خداوندان یونیورسٹی اپمیوریم کے سٹیج پر اونچی اونچی کرسیوں پر تشریف فرما تھے اور اپنے سامنے ہم جیسے فدویان یعنی شرکائے کورس کو بٹھا کر اس ضمن میں اپنی اپنی کوششوں کا بڑھ چڑھ کر تذکرہ کر رہے تھے۔ جب سب لوگ اپنے اپنے کارہائے نمایاں بیان کر چکے تو اس کے بعد خاک نشینانِ ایمپوریم کی باری آئی۔ ریفریشر کورس کے لئے چار گروپ تشکیل دیے گئے تھے۔

سب سے پہلے گروپ اول کو دعوت دی گئی کہ وہ سٹیج پر آ کر کل والی تقریب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ ایک معتبر سے ہیڈماسٹر سٹیج پر تشریف لائے اور اہالیان یونیورسٹی کی کاوشوں کو سراہنے میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے رہے۔ اس کے بعد یہی وتیرہ دوسرے اور تیسرے گروپ کے نمائندگان کا رہا۔ آخر میں ہمارے گروپ کی باری تھی جب سٹیج سیکرٹری کے بار بار پکارنے پر بھی کوئی فرد نمائندگی کے لیے سٹیج پر نہ پہنچا تو سیکرٹری طنز کے تیر برساتے ہوئے بولا کہ پچاس ہیڈماسٹر کے گروپ میں کوئی ایک فرد بھی نہیں ہے۔

جو سٹیج پر آ کر چند فقرے بول سکے۔ جب پھر بھی کسی کو توفیق نہ ہوئی تو ایک دم میرے اندر کا پینڈو انگڑائی لے کر جاگا اور میں جو سب سے آخری قطار میں بیٹھا ہوا تھا اپنی نشست سے اٹھا او ر سیکرٹری کو اشارے سے بتایا کہ میں اپنے گروپ کی نمائندگی کے لئے سٹیج پر آ رہا ہوں۔ جب میں آخری قطار سے اٹھ کر سٹیج کی طرف جا رہا تھا تو سارے ہاؤس میں مکمل خاموشی تھی اور مجھے لگ رہا تھا کہ اڑھائی تین سو لوگوں کی نظریں میرے جسم میں چھید کرتے ہوئے اس کے آر پار ہو رہی ہیں۔

ایک لمحے کے لیے تو دل میں خیال آیا کہ بھلے چنگے آرام سے بیٹھے ہوئے تھے خواہ مخواہ کا پنگا لے لیا۔ لیکن اب تو کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ اب تو یہ ذمہ داری نبھانا ہی پڑے گی۔ بہر حال میں سیدھا ڈائس پر گیا اور رسمی جملوں کی ادائیگی کے بغیر سیدھے سبھاؤ ہی اپنی کل کی لکھی ہوئی ڈائری حاضرین کو سنانا شروع کر دی۔ یہاں تو صبح سے ہی سرچہار اطراف سے تعریف و توصیف کے طومار باندھے جا رہے تھے۔ کسی کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔

حاضرین کو گویا سانپ سونگھ چکا تھا۔ لیکن شرکائے کورس آہستہ آہستہ حواس میں آرہے تھے۔ اب اُن کے چہروں پر ہلکی ہلکی مسکراہٹیں پھیلتی جا رہی تھیں او رجب میں نے الف لیلوی کردار ابوالحسن کا ذکر کیا تو ایک کونے سے تالی کی آواز سنائی دی۔ بس اسی ایک تالی نے یک دم ہی پورے ماحول کو اپنی گرفت میں لے لیا اور سٹیج کے سامنے بیٹھے ہوئے تمام سامعین نے کھڑے ہو کر پورے زور شور کے ساتھ تالیاں بجانا شروع کر دیں۔ بعض اہل ِ دل کی سیٹیاں بھی اسی شورو غوغا کا حصہ بن گئیں۔

بہرحال کافی دیر کے بعد یہ شور کچھ تھما تو میں نے آگے پڑھنا شروع کر دیا۔ لیکن اب ان لوگوں کی جھجک دور ہو چکی تھی۔ تالیوں کے اسی شور شرابے میں میں اپنی رپورٹ پڑھتا چلا گیا اور جب سموسیوں کے ذکر پر پہنچا تو ایک بار پھر شور ِ قیامت برپا ہو گیا۔ جب میں رپورٹ ختم کر کے نیچے اترنے لگا تو نچلی نشستوں سے کچھ لوگ سٹیج پر چڑھ آئے اور مجھے کہنے لگے کہ آپ اپنا تعارف کرائے بغیر نیچے نہیں اُتر سکتے۔ چار و ناچار مجھے دوبارہ ڈائس پر جانا پڑا اور میں نے انہیں بتایا کہ بندہ نا چیز، حقیر، پر تقصیر گورنمنٹ ہائی سکول 495 /EB کا ایک مسکین سا ہیڈماسٹر ہے اور یہ رپورٹ میں نے یہاں پر پڑھنے کے لئے ہر گز نہیں لکھی تھی۔

یہ تو محض میں نے اپنی یاد داشتوں کے طور پر لکھ کر اپنے پاس رکھی ہوئی تھی۔ اگر ہمارے گروپ کا کوئی فرد یہاں آ کر دو چار فقرے بول دیتا تو یہ رپورٹ میری ڈائری میں ہی محفوظ رہتی۔ جب سٹیج سے نیچے اترا تو خواتین کے ایک گروپ نے میرا گھیراؤ کر لیا۔ اُن میں سے ایک خاتون میرے شہر بورے والا سے تھیں اور سیالکوٹ میں بیاہی ہوئی تھیں اور وہیں پر کسی سکول میں ہیڈ مسٹر یس تھیں انہیں جب معلوم ہوا کہ میں بورے والا سے ہوں تو جھٹ سے بولیں مجھے فخر ہے کہ میں آپ کے شہر بورے والا سے تعلق رکھتی ہوں۔

میرے گروپ میں بھی زیادہ تر خواتین ہی تھیں۔ اُن میں سے ایک نے ریمارکس پاس کیے۔ کلاس میں تو آپ ہمیشہ گونگے بنے بیٹھے رہتے ہیں میں دیر تک راجہ اندر کی طرح جان ِ محفل بنا رہا۔ اتنی دیر میں یونیورسٹی کے ایک پروفیسر صاحب میرے پاس آئے۔ جن کا رویہ خاصا مخاصمانہ سا لگ رہا تھا۔ بولے یہ رپورٹ کورس کو آرڈینیٹر صاحب منگوا رہے ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ اُسے فوٹو کاپی کروا کر اپنے پاس رکھیں گے میں نے اپنی ڈائری سے وہ صفحات نکال کر اُن کے حوالے کر دیے جو بار بار مانگنے کے باوجود مجھے واپس نہیں ملے اور آج بیس سال بعد محض اپنی یادداشت پر بھروسا کرتے ہوئے اس رپورٹ کو دوبارہ مرتب کیا گیا ہے۔

 

Facebook Comments HS