ملک نامہ، ( زندگی کی ڈائری)


زندگی کو خوبصورت بنانے کے لیے کچھ چیزیں قدرت کی طرف سے انسان کو وراثت میں ملے ہیں۔ اب شرط یہ ہے کہ ان چیزوں کو انسان کہاں اور کس پر ضائع کرتا ہے۔ انسان کے اندر خوبصورتی ہے وہ ان کے اندر کی اُنس یا محبت ہے جو کَشش کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

اصل مہر انسان کے اندر پایا جاتا ہے جو وہ خود سے کرتا چلا آ رہا ہے۔ لیکن سر زمین میں ان قدرت کی طرف سے جو تحائف ملے ہیں ان تحائف کو بہت چالاکی سے استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔

ورنہ ہماری طرح ہر رات تکیہ کو گیلا کرنے کے علاوہ اور کچھ کام کے نہیں رہو گے۔ انسان سے جب محبت ہوتی ہے تو وہ ہوجاتی ہے اس محبت کے لیے سند کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہے آپ کی زندگی میں داخل ہوتے ہی آپ کو اپنی سحر میں گیر لیتے ہیں جب آپ کو پتہ چلتا ہے تو پانی سر سے اوپر گزر چکا ہے تو اب آپ لاکھ سہی کریں تو اس اذیت سے آپ نکلتے نہیں۔

چونکہ ان کی یادیں آپ سے وابستہ ہیں، ان کی مسکراہٹ چہرے کی دلکشی ہر ساعت آپ کو چھیڑتی ہے تو ذہنی طور پر مفلوج ہو جاتے ہو۔ اس لیے چناؤ میں غلطی نہ کریں۔ یا کسی سے محبت نہ کریں، کریں تو ایمانداری سے کریں چونکہ آپ کو پتہ نہیں چلتا کہ جب آپ ان سے دور ہو جاتے ہو وہ کیا محسوس کر رہا ہو گا؟ اس لیے احمد فراز نے کہا تھا۔

تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فرازؔ
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

جب آپ اس سے دھوکہ کرتے ہو یہ یاد رکھیں کہ آپ کو بھی اسی طرح کوئی دھوکہ ضرورت دے گا۔ چونکہ یہ دنیا ظالموں کی جگہ ہے یہ لوگ کبھی نہیں چاہتے کہ دو دل ایک دنیا ہو جائے۔ یار کبھی کبھی وہ بے وفا کی یادیں ستاتے ہیں وہ جہنم کی آگ کی طرح جسم کے نازک رگوں میں پیوست ہو جاتے ہیں۔

کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیں
زندگی تو نے دھوکے پہ دیا ہے دھوکہ

جب جسم محبت کی آگ میں جھلس کر خاک ہو جائے تو روح پرواز کرتا ہے تو عرش اور پرش دونوں کے اندر ہل چل پیدا کرتا ہے۔ جب وہ محسن آپ سے جتا ہو جائے تو زندگی درد بھری آہ کے علاوہ کچھ نہیں بچتا۔ یہ درد بھری آہ آپ کی زندگی کے دامن کو چھوڑتا نہیں۔ اب ہمارے پاس کچھ نہیں بس یادیں اور ہمہ وقت یادوں کی چبھن محسوس ہوتی ہے۔ اور کچھ تجربات اور حوادث کی شکل میں بس درد ملا ہے۔ بقول ساحر لدھیانوی

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

Facebook Comments HS

ملک جان کے ڈی

ملک جان کے ڈی بلوچستان کے ساحلِ سمندر گوادر کے گیٹ وے پسنی مکران سے تعلق رکھتے ہیں۔ ادب کا مطالعہ، ادبی مباحث اور ادب کی تخلیق ملک جان کے ڈی کا اوڑھنا بچھونا ہیں، جامعہ کراچی میں اردو ادب کے طالب علم اور سوشل ایکٹیوسٹ ہیں

malik-jan-k-d has 19 posts and counting.See all posts by malik-jan-k-d