‎خدا کی تلاش


‎میری تلاش خدا کی تلاش ہے، خدا جس کی کوئی شکل نہیں ہے، وہ مادی تصور سے ماورا ہے۔ میں کائنات کے رازوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں، جہاں مجھے ستاروں اور سیاروں کی زبان میں خدا کی باتیں سنائی دیتی ہیں۔

‎میں ایسے خدا کو تلاش کر رہا ہوں جس کی میرے دل میں گواہی تو ہے لیکن جس کی کوئی تصویر نہیں ہے، نہ کوئی فارمولا، نہ کوئی سائنسی ثبوت۔ بس میری روح میں خدا کی حقیقت کا سوتا جاگتا سا احساس ہے، احساس جو مجھے چھوڑتا نہیں ہے۔

‎میں آزاد ہوں کہ میں خدا کی موجودگی کو تسلیم کروں یا نہ کروں، لیکن کائنات کی زبان میں خدا کی حکمت کا احساس مجھ سے اس کی خدائی کو قبول کرواتا ہے۔

‎یہ جستجو مجھ اکیلے کی نہیں ہے، بلکہ ساری انسانیت اس جستجو میں شامل ہے۔ کائنات اور اس کی فطرت خدا کی حکمت سے الگ نہیں ہے، لیکن ہماری خود کی انا اور اہمیت ہمیں بھٹکا دیتی ہے، بحث، ہنگامہ اور تصادم پیدا کرتی ہے۔

آج کوانٹم ڈائنامکس ایک طاقتور گواہ کی طرف اشارہ کرتی ہے، کائنات جس کے تصور کا مظہر ہے، جس کے کن سے ہستی فیکون ہوتی ہے۔

ملٹی ورس کا تصور اس شہادت کو گہرا کرتا ہے، جو ایک اعلی معمار کا پتہ دیتا ہے۔ اگرچہ تصویریں اور مساواتیں ٹھوس چیزوں کو اخذ کر سکتی ہیں، لیکن وہ خدا کے گہرے جوہر یا کائنات کے جسمانی وجود کے پیچھے موجود ماورائی کائناتی قوتوں کو نہیں سمیٹ سکتیں۔

خدا کی غیر معمولی قدرت زمان و مکان سے بالاتر ہے۔ خدا محدود اور فانی نہیں ہے، خدا منطق اور فلسفہ کی حدود سے تجاوز کرتا ہے۔ اس کا جوہر عقلی حدود سے ماورا ہے، جو فکری استدلال کے ذریعے فہم میں نہیں سما سکتا ہے۔

‎میں چاہتا ہوں کہ سائنس، فلسفہ اور روحانیت مخاصمت چھوڑ کر آپس میں دوست بن جائیں اور تلاش کا کام مل جل کر کام کریں، نہ کہ ایک دوسرے سے متصادم ہی رہیں۔

ہمیں ایک ساتھ کائنات اور اس کے رازوں کی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ہم اس کائنات اور اس کے خالق کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔

‎پیغمبر اپنے شعور کے گہرائیوں میں اترتے ہیں، وہ اپنے آپ کو غور و فکر کے کشٹ میں ڈالتے رہے ہیں تاکہ موجود اور لا موجود کے رازوں کو حل کر سکیں۔ انہوں نے خدا کی عظیم حکمت حاصل کی ہے، فلسفے اور عقل سے بلند ہو کر خدا سے ایک گہرا تعلق قائم کیا ہے۔

‎میں بھی اپنی تمام کمی اور کوتاہی کے باوجود چند درویشوں اور پیغمبر اسلام کی رہنمائی میں اپنی سی جستجو جاری رکھے ہوئے ہوں، تاکہ میں کائنات کے رازوں کو سمجھ سکوں، اور خدا کی حقیقت کو اپنے اندر اتار سکوں۔

Facebook Comments HS