مشال خان: ترقی پسندی کی روشنی میں
پاؤلو کویلہو کا ایک ناول ہے ’جاسوس‘ اور اس ناول کا مرکزی کردار ایک خاتون ہے۔ اس ناول میں وہ کہتی ہے کہ میرا مسئلہ میرے والدین نہیں ہے جیسا کہ اکثر لوگوں کو اپنے والدین سے شکایت ہوتی ہے بلکہ میرے والدین نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اور میری اچھی پرورش کی مگر میرا مسئلہ کچھ اور ہے۔ وہ کہتی ہے میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک غلط جگہ پر پیدا ہوئی اور اس میں میرے والدین کا قصور نہیں بلکہ یہ میری بدقسمتی ہے۔ میرے خیال میں اسی طرح میرے ساتھ ساتھ شاید ہزاروں نوجوانوں کے ذہن میں یہی سوال ہے کہ ہمارے مسائل کا سبب ہماری غلط جگہ پر پیدائش ہے۔
لیکن کچھ نوجوان مسائل کے بارے میں نہیں سوچتے اور وہ ہمیشہ مستقبل کے لیے پر امید ہوتے ہیں جیسا کہ مشال خان پر امید تھا۔ مشال خان وہ شمع تھا جنہوں نے سماج کو توہمات سے نکالنے کے لیے خود کو جلا دیا۔ تیرہ اپریل کو جب مشال خان کو پرتشدد ہجوم نے قتل کیا تو یہ تمام ترقی پسندوں کے لیے ایک سخت حیران کن و پریشان کن واقعہ تھا۔ اور اس واقعہ کا سب سے دردناک پہلو یہ تھا کہ ایک تو مشال خان کو یونیورسٹی کے احاطے میں قتل کیا دوسرا یہ کہ قتل کرنے والے یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے آئے تھے۔ فکر کرنے والی بات یہ تھی کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں نے ایک ترقی پسند شخصیت کا قتل کیا اور وہ بھی ہجوم کے سامنے ایک عبرت کے طور پر۔
ایک سماج جو مختلف توہمات میں جکڑا ہوا ہے اس کی تبدیلی کے لیے سب سے اہم چیز سوال ہے، کیونکہ سوال سے ہی جمود کو توڑا جاسکتا ہے۔ مگر سوال کرنے کے لیے بھی علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارا سماج بھی مختلف توہمات میں ہی جکڑا ہوا ہے اور یہاں پر اکثریت کے ذہنوں میں سوال ہے ہی نہیں۔ یہاں پر تعلیم کی یہ حالت ہے کہ یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے طلباء اپنی ذہنوں کو گھروں پر چھوڑ کر خالی دماغ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اسی لیے مبشر زیدی نے کہا تھا کہ اگر آپ نے سوال کرنا نہیں سیکھا تو سمجھو آپ کی تعلیم ضائع ہو گئی۔ ظاہر ہے خالی ذہن جہالت کو ہی جذب کر لیتی ہے تو پھر سوال کیسا جنم لے گا۔
مختلف توہمات میں جکڑے ہوئے سماج میں جہاں اکثریت جہالت کا مظاہرہ کرتی ہے وہاں اقلیت بھی سوال کرنے سے خوفزدہ ہوتی ہے۔ مگر پھر بھی اس اقلیت میں کچھ لوگ ہوتے ہیں جو سوال کرنے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے اس کی ایک واضح مثال مشال خان تھا۔ ایک پسماندہ سماج کو ترقی کی جانب لے جانے کے لیے سب سے پہلا راستہ پسماندہ روایات کو بدلنا ہوتا ہے۔ انہی اقلیت میں سے کچھ ترقی پسند لوگ یہی کام کرتے ہیں اور مشال خان بھی ایک ترقی یافتہ سماج کا ہی خواب دیکھ رہا تھا اور اس کے لیے قربانی بھی دی۔
مشال خان میرے لیے مشعل راہ اس لیے ہے کہ انہوں نے مجھے انسپائر کیا کہ کسی بھی سماج کو بدلنے کے لیے اس سماج سے فرار کی راہ ڈھونڈنے میں نہیں ہے بلکہ اس میں رہتے ہوئے ہی اس کو بدلنا ہے اور اس تبدیلی کے لیے سب سے پہلا راستہ کتاب اور روشن خیالی ہے۔ یورپ میں روشن خیالی کی تحریک اٹھی اور اس تحریک نے سماج کو بدل ڈالا۔ امید ہے ہمارے سماج میں بھی روشن خیالی کی تحریک اٹھے گی اور اس کے لیے نوجوانوں کو جدوجہد کرنا ہوگی۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ یہاں پر اکثریت جہالت پرستی کا شکار ہے اور ایسی اکثریت کے سامنے چپ رہنا چاہیے اور لیوٹالسٹائی کا یہ قول بھی دہراتے ہیں کہ جہاں بیوقوفوں کا راج ہو وہاں عقل والوں کو خاموش رہنا چاہیے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ہمیں جدوجہد چھوڑ دینی چاہیے اور خاموشی جاری رکھنا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آج ہم جس حالت میں ہے اس حال میں تو گلہ شکوہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے بلکہ جہد مسلسل کی طرف بڑھنا چاہیے۔ بقول احمد فراز
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

