آخر جلدی کیا ہے؟
کہتے ہیں کہ ایک انگریز پاکستان کی سیر کرنے آیا۔ وہ ایک پاکستانی گائیڈ کے ہمراہ لاہور کی سیر کر رہا تھا۔ اس دوران جہاں ایک ریلوے پھاٹک بند تھا۔ انگریز نے گاڑی کھڑی کی اور ٹھہر گیا لیکن کیا دیکھتا ہے کہ ایک سائیکل سوار شخص کندھے پر سائیکل اٹھائے ریلوے پھاٹک کراس کر رہا ہے۔ انگریز نے گائیڈ سے پوچھا یہ شخص کیا کر رہا ہے؟ تو اس کے پاکستانی گائیڈ نے انگریز کو بتایا دراصل پاکستانی قوم کے پاس وقت نہیں ہے۔
وہ گاڑی آنے کا انتظار نہیں کر سکتی اس لیے یہ شخص کندھے پر سائیکل اٹھائے پھاٹک کراس کر رہا ہے۔ وہ پھاٹک کھلنے کے انتظار میں اپنے دس منٹ ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ انگریز یہ بات سن کر بڑا متاثر ہوا۔ دس منٹ بعد جب گاڑی گزر گئی تو انگریز نے پھاٹک کراس کر کے دیکھا تو وہی شخص دوسری طرف آرام سے بیٹھا بندر کا تماشا دیکھنے میں مشغول تھا۔ اس کا سائیکل ایک جانب کھڑا تھا۔ تقریباً ہر جگہ اسی طرح شارٹ کٹ اور جلد بازی کے مناظر نظر آتے ہیں۔
پتہ نہیں جان پر کھیل کر اور اتنا ٹائم بچا کر عوام کرتی کیا ہے؟ وہ کون سی ایسی مجبوری ہے جو انہیں اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے پر مجبور کر دیتی ہے؟ ریلوے کا ٹکٹ خریدنے کے لیے لائن میں کھڑے نہیں ہوتے ہیں لیکن پلیٹ فارم پر چائے پیتے یا ایک گھنٹہ ٹہل کر گزار دیتے ہیں۔ چلتی ٹرین اور بسوں سے اُترنے کی کوشش کرتے ہیں اور رکنے کا انتظار نہیں کرتے۔ ائر پورٹ سے نکلنے کی جلدی ہوتی ہے لیکن باہر ٹیکسی یا سواری کے انتظار میں گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں۔
جہاز کے چلنے کا وقت مقرر ہوتا ہے لیکن ہم سوار ہونے کی بھی جلدی کرتے ہیں۔ جہاز ابھی پوری طرح رکتا نہیں ہم اُترنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ آخر ہمیں جلدی کیا ہے؟ کہتے ہیں جب انسان کوئی کام یا کوئی ارادہ کرتا ہے تو چاہتا ہے کہ وہ اس میں جلد کامیاب ہو جائے۔ جس کے لیے وہ اپنے راستے اور طریقے خود اختیار کرتا ہے۔ اب یہ اس پر منحصر ہے کہ وہ کچھوے کی طرح طویل مدتی اور جہد مسلسل کا درست راستہ اختیار کرے یا پھر خرگوش کی طرح جلد بازی کا دوسرا راستہ اپنائے جو عام طور پر جلدی اور شارٹ کٹ کا راستہ ہوتا ہے۔
جس میں وہ راتوں رات منزل تک پہنچنا چاہتا ہے۔ وہ جدوجہد اور محنت سے قطع نظر غلط اور مختصر مدت کے راستے کو اختیار کرتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ منزل کے قریب اس کے قدم جلد بازی میں کہیں لڑکھڑا جائیں اور وہ منزل سے دور ہو جائے۔ حضرت علیٰ کرم اللہ وجہ کا قول ہے ”جو آدمی صبر کرتا ہے وہ کامیابی پاتا ہے جو جلد بازی کرتا ہے وہ ٹھوکر کھاتا ہے“ ۔ مشہور اسکالر اور ماہنامہ انذار کے بانی ابو یحیی ٰ اپنے مضموں ”شخصی رویے اور جلد بازی“ میں کہتے ہیں انسان جسمانی ساخت کے اعتبار سے دوسرے حیوانات سے کمزور ہوتی ہے۔
وہ نہ تو پرندوں کی طرح اُڑ ہی سکتا ہے اور نہ مچھلی کی طرح تیر ہی سکتا ہے۔ نہ درندوں کی طرح دوڑ اور چھلانگ لگا سکتا ہے۔ اس کا اصلی شرف اور طاقت اس کی عقل ہوتی ہے جو اسے سب سے افضل بنا دیتی ہے۔ اور اسے دیگر مخلوق سے برتر کر دیتی ہے۔ انسانی وجود کا یہ ضعف انسانی نفسیات میں عجلت اور جلد بازی پیدا کرتا ہے۔ یہ عجلت نفسیات انسانی کمزوری نہیں اس کے عجز کا تقاضا ہوتا ہے۔ جو اسے ابھارتا ہے کہ وہ مشکل میں اپنے تحفظ کا اور بھوک میں اپنی خوراک اور وسائل کی بروقت فراہمی کو یقینی بنائے۔
اسی چیز نے انسان کو ایک کامیاب شکاری، کاشتکار، اور ہنرمند بننے میں مدد دی ہے۔ جلد بازی کی نفسیات جب تک ضرورت کی حدود اور عقل کے دائرے میں رہتی ہے یہ انسان کی مددگار و معاون ہوتی ہے۔ لیکن جب یہ ان حدود اور دائرے سے نکل کر عادت ثانیہ بن جائے تو دنیا میں باعث نقصان ہوتی ہے۔ جو حادثات کے علاوہ ہماری روزمرہ زندگی میں اسٹریس پیدا کرتی ہے اور انسان کو بلا وجہ دباوُ کا شکار کر دیتی ہے۔
دیکھا جائے تو جلد بازی اور شارٹ کٹ پاکستانی قوم کا مزاج بن چکا ہے۔ حالانکہ عموماً منفی جلد بازی ندامت، نقصان اور پشیمانی کا موجب بنتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر پاکستانی قوم کو اتنی جلدی کیوں ہوتی ہے؟ کہ وہ اپنی جان کی پرواہ بھی نہیں کرتے۔ جبکہ حدیث نبوی ہے کہ ”جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے“ ۔ اس لیے کسی بھی کام میں جلد بازی کا انجام ہمیشہ ہی اچھا نہیں ہوتا۔ ارشاد ربانی ہے ”اور انسان کبھی کبھی اپنے حق میں بھلائی کی طرح برائی کی دعا مانگنے لگتا ہے کہ انسان بہت جلد باز واقع ہوا ہے“ (سورۃالا اسراء ) ۔
ہمارے ملک میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی نظر آتی ہے۔ جو دینی اور دنیاوی دونوں طرح کے کاموں میں نامطلوب اور بلاوجہ جلد بازی سے کام لیتی نظر آتی ہے۔ راتوں رات امیر بننے کی خواہش جلد ترقی کرنے کی کوشش ہر جانب عام ہو چکی ہے۔ ہم لوگوں سے آگے نکلنے کے چکر میں کیا کچھ نہیں کرتے؟ اگر دینی معاملات دیکھیں تو آپ کو وضو کرتے، نماز پڑھتے، ارکان حج کی ادائیگی، تلاوت، روزہ، قربانی، دعا کی قبولیت، بددعا کرنے، کسی کو گناہگار قرار دینے، کسی کے خلاف بدگمانی کرنے، رائے ُ قائم کرنے، دنیا طلب کرنے اور نہ ملنے پر شکوہ کرنے کے ساتھ ساتھ دنیاوی طور پر کسی سے جھگڑا کرنے، کسی پر غصہ کرنے، کسی کے خلاف یا کسی سے متعلق فیصلہ کرنے، گاڑی چلانے، گاڑی سے اُترنے یا چڑھنے اور سڑک پار کرنے جیسے بے شمار کاموں میں بلا وجہ جلدی کرتے ہیں۔
جس سے بلاوجہ اپنی عبادات تک ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ دنیاوی معاملات میں جلدبازی بھی بسا اوقات ہمیں شدید نقصان سے دوچار کر دیتی ہے۔ یقیناً جلد بازی کا انجام ہمیشہ ندامت اور پچھتاوے ُ کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ہماری موٹر وے پر جگہ جگہ بورڈ آویزاں ہیں مثلاً ”تیز رفتاری انجام موت“ یا دیر سے پہنچنا نہ پہنچنے سے بہتر ہے ”یا پھر“ آہستہ چلیں آپ کے بچے گھر آپ کے منتظر ہیں ”۔ ہم یہ سب پڑھتے ہیں۔ مقررہ حد رفتار بھی ہمارے لیے ہی لکھی جاتی ہے۔
ٹریفک کے تمام اشارے اور ہدایات ہماری حفاظت کے لیے ہی لگائے جاتے ہیں۔ لیکن ہم ان کی پرواہ نہیں کرتے اور جلد بازی سے حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بیشتر ٹریفک حادثات ہماری ہی عجلت اور جلد بازی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ شاید ہماری یہ جلد بازی اور عجلت ہماری عقل پر کچھ دیر کے لیے پردہ ڈال دیتی ہے اور ہم نتیجے کی پرواہ کیے بغیر اپنی قیمتی جان اور زندگی کو بھی داوُ پر لگا دیتے ہیں۔ حسد و حرص اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش ہمارے پورے معاشرے کا ایک ایسا مزاج بن چکا ہے۔ جو انفرادی اور اجتماعی طور پر انسانی زندگی کے لیے زہر قاتل ہے۔
ہمیں بحیثیت ایک مسلم قوم مجموعی طور پر اس قسم کی جلد بازی اور شارٹ کٹ راستوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اپنے جذبات اور خواہشات کو عقل پر مسلط نہ ہونے دیں۔ کیونکہ جلد بازی کسی منزل کا حصول قطعی نہیں ہوتی۔ اکثر جو لوگ ناکام ہیں ان کی ناکامی کا راز بھی جلد بازی اور شارٹ کٹ کی عادت ہی ہوتا ہے۔ دراصل ہماری کامیابی کا راز صبر، تحمل، جدوجہد مسلسل میں ہی پوشیدہ ہے۔ ہمارے ملک میں بھی آج کل جذبات اور اناوُں کا ایک طوفان برپا ہے جو ہمیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے محروم کرتا جا رہا ہے۔ آج کسی کو اقتدار بچانے کی جلدی ہے تو کوئی اقتدار کے حصول کے لیے عجلت میں ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس عجلت اور جلدی بازی میں اپنی تباہی خود کر بیٹھیں؟ اور پھر صرف اس پچھتاوے کا دکھ ہماری زندگی اور قومی تاریخ کا حصہ بن جائے۔ آخر ہمیں جلدی کیا ہے؟
دل مضطر وفا کے باب میں یہ جلد بازی کیا
ذرا رک جائیں اور دیکھیں نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

