بیماری پرانی ہے یا وجاہت صاحب کا چورن؟


آج سے چند روز قبل “ہم سب” پر محترمی وجاہت مسعود صاحب کا ایک کالم ’مولانا مودودی نے قیام پاکستان کے بعد بھی قائد اعظم کی مخالفت کی‘ شائع ہوا۔ اس کالم کی خوبصورتی یہ تھی کہ کسی لمبی چوڑی تمہید یا تشریح کے بغیر محض ٹھوس حوالوں سے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ ابوالاعلیٰ مودودی صاحب محض پاکستان بننے سے قبل ہی نہیں بعد میں بھی قائد اعظم کی مخالفت کرتے رہے تھے۔ ہر کسی کی طرح مودودی صاحب کو بھی اس بات کا حق حاصل تھا کہ وہ کس سیاستدان یا سیاسی نظریہ کی حمایت کریں اور کس سیاستدان یا سیاسی نظریہ کی مخالفت کریں۔ لیکن مجھ جیسے تاریخ کے ادنیٰ طالب علموں کو مسئلہ اس وقت پیش آتا ہے جب ایک طبقہ یہ ثابت کرنے کے لئے زور لگانا شروع کرتا ہے کہ اصل میں مودودی صاحب تو قائد اعظم کے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے کوشاں تھے۔ اور جب اس طرح کے مختلف نظریات آمنے سامنے ہوں تو اس قسم کی دلچسپ علمی بحثیں تو ہوتی رہتی ہیں۔ اس کالم کے نیچے درج تبصروں میں سے ایک تبصرے پر اس عاجز کی نظر رک گئی۔ وہ تبصرہ یہ تھا ’وجاہت مسعود۔ یہ۔ ”چورن“ بہت پرانا ہو گیا ہے۔ ‘ ۔ اس سے آگے ایک اور تبصرہ اس سے بھی زیادہ تلخ تھا۔

خاکسار کو علم طب سے ادنیٰ سی واقفیت ہے۔ ملیریا کی دوائی کلوروکوئین 1934 میں دریافت ہوئی تھی۔ لیکن آج بھی استعمال کی جاتی ہے کیونکہ ملیریا کا مرض ابھی موجود ہے۔ پینسیلین 1928 میں دریافت ہوئی تھی۔ لیکن نئی ادویات کے آنے کے باوجود یہ دوائی آج بھی استعمال ہوتی ہے کیونکہ انسانوں پر جراثیم آج بھی حملہ کر رہے ہیں اور ان کی جان لے رہے ہیں۔

تو بندہ پرور یہ غور فرمائیں کہ جس قسم کی نظریاتی بد ہضمی اور تنگ نظری کی تبخیر کے علاج کے لئے اس قسم کی قلمی کاوشوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا، کیا وہ بیماریاں اب پاکستان سے رخصت ہو گئی ہیں؟ اگر یہ امراض آج بھی ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں تو ان کی دوائی بھی تو استعمال کرنی پڑے گی۔ اگر معترضین کرام کے علم میں اس سے بہتر کوئی معجون یا ٹیکہ ہے جو ہمیں ان مسائل سے نجات دلائے تو براہ مہربانی اس بیمار پر رحم فرما کر وہ علاج تجویز فرما دیں۔ پوری قوم دیدہ و دل کے علاوہ اپنی عقل اور شعور کو بھی فرش راہ کیے بیٹھی ہے۔ اس چورن کی ڈبیا کو بند کرے گی اور ان کے نسخہ پر عمل کرنا شروع کر دے گی۔

اس کالم میں اس طویل بحث کے صرف ایک پہلو پر مختصر تبصرہ پیش کیا جائے گا۔ جیسا کہ اس کالم کے شروع میں عرض کی گئی تھی کہ ہر کسی کا حق ہے کہ اپنی پسند کے سیاسی نظریہ کو اپنائے۔ اور یہ نظریہ معاشرے کے اکثریتی نظریہ سے مختلف بھی ہو سکتا ہے۔ تو پھر مسئلہ کیسے پیدا ہوتا ہے؟ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی گروہ خواہ وہ کتنا ہی قلیل کیوں نہ ہو اپنے نظریات ملک بھر پر زبردستی مسلط کرنا چاہتا ہے۔ اور یہ سمجھتا ہے کہ اسے یہ آسمانی حق حاصل ہے کہ وہ حکومت حاصل کر کے طاقت کے بل بوتے پر دوسروں کو اپنی رائے کا پابند بنائے۔

مکرمی وجاہت مسعود صاحب نے اپنے کالم میں مودودی صاحب کی کتاب ’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم‘ کا ذکر فرمایا تھا۔ میں اس معین پہلو سے میں اس کتاب کا حوالہ پیش کرتا ہوں۔ مودودی صاحب لکھتے ہیں :

”جو جماعتیں کسی طاقتور نظریہ اور جان دار اجتماعی فلسفہ کو لے کر اٹھتی ہیں وہ ہمیشہ قلیل التعداد ہی ہوتی ہیں اور قلت تعداد کے باوجود بڑی بڑی اکثریتوں پر حکومت کرتی ہیں۔“ (مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم ص 45 )

یعنی حکومت حاصل کرنے کے لئے اکثریت کی رضامندی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ ’گروہ صالحین‘ ملک کی اکثریت کی مرضی کے بغیر بھی حکومت حاصل کر کے اپنا پروگرام مسلط کر سکتا ہے۔ یہ کتاب 1939 میں لکھی گئی تھی۔ اس وقت بھی یہ سوال اٹھتا تھا کہ اس طرز پر قوم کی ’اصلاح‘ کہاں کی جا رہی ہے؟ یعنی اس قسم کا کے پروگرام کا کوئی نمونہ بھی موجود ہے کہ نہیں۔ اس ضمن میں مودودی صاحب نے اس دور کی یہ مثالیں پیش فرمائیں۔

”روسی کمیونسٹ پارٹی کے ارکان کی تعداد اس وقت صرف 32 لاکھ ہے اور انقلاب کے وقت اس سے بہت کم تھی مگر اس نے 17 کروڑ انسانوں کو مسخر کر لیا۔ مسولینی کی فاشسٹ پارٹی صرف 4 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور روم پر مارچ کرتے وقت تین لاکھ تھی مگر یہ قلیل تعداد ساڑھے چار کروڑ اطالویوں پر چھا گئی یہی حال جرمنی کی نازی پارٹی کا ہے اگر قدیم زمانے کی مثالیں خود اسلامی تاریخ سے دی جائیں تو ان یہ کہہ کر ٹالا جا سکتا ہے کہ وہ زمانہ بدل گیا اور وہ حالات بدل گئے لیکن یہ تازہ مثالیں آپ کے اسی زمانے کی موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قلت آج بھی حکمران بن سکتی ہے۔“

(مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوم ص 45 )

گویا اگر اپنا پروگرام ملک پر مسلط کرنا ہے تو اس طرح بھی کیا جا سکتا ہے جیسے سٹالن سوویت یونین پر اپنے نظریات مسلط کر رہا ہے۔ مسولینی کی فاشسٹ جماعت اٹلی میں کتابیں جلا رہی ہے اور اپنے سیاسی مخالفین کی مار پیٹ کر کے اور انہیں جیل کی ہوا کھلا کر حکمران بنی ہوئی ہے۔ یا جس طرح ہٹلر کی نازی پارٹی جرمنی کو ہنکا رہی ہے۔ اگر ایک لمحہ کو ہم یہ بھول جائیں کہ ان تین گروہوں نے کروڑوں انسانوں کا خون بہایا تھا تو بھی مجھے کوئی یہ سمجھائے کہ آج سٹالن اور سوویت یونین کہاں ہیں؟ آج اٹلی کی فاشسٹ پارٹی کس گنتی شمار میں ہے؟ آج جرمنی کی نازی پارٹی کو کتنی کامیابیاں نصیب ہو رہی ہیں؟ اس دور کی کمزور جمہوریتیں آج بھی زندہ موجود ہیں۔

ایک اور سوال جو کہ وجاہت صاحب نے اٹھایا تھا وہ یہ تھا کہ کیا قیام پاکستان کے بعد بھی مودودی صاحب کے یہی نظریات رہے تھے۔ اس ضمن میں مودودی صاحب کا یہ حوالہ ملاحظہ فرمائیں۔ یہ تحریر ان دنوں کی ہے جب قائد اعظم زیارت میں اپنی زندگی کے آخری دن گزار رہے تھے۔

” ایک یہ کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں اس وقت زمام کار ہے وہ اسلام کے معاملہ میں اتنے مخلص اور اپنے وعدوں کے بارے میں جو انہوں نے اپنی قوم سے کیے تھے اتنے صادق ہوں کہ اسلامی حکومت قائم کرنے کی جو اہلیت ان کے اندر مفقود ہے اسے خود محسوس کر لیں اور ایمانداری کے ساتھ یہ مان لیں کہ پاکستان بننے کے ساتھ ان کا کام ختم ہو گیا ہے اور یہ کہ اب یہاں اسلامی نظام کی تعمیر کرنا ان لوگوں کا کام ہے جو اس کے اہل ہوں۔“

(رسائل و مسائل حصہ اول مصنفہ ابو الاعلیٰ مودودی، اسلامک پبلیکیشنز، اگست 1998، ص 334۔ 335 )

اس وقت جماعت اسلامی کے پاس پارلیمنٹ میں ایک بھی سیٹ نہیں تھی۔ اور اس کے بعد پنجاب میں ہونے والے انتخابات میں بھی جماعت اسلامی ایک بھی نشست حاصل نہیں کر سکی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اصرار یہ تھا کہ جس گروہ کو اکثریت حاصل ہے وہ اقتدار سے رخصت ہو اور ایک ایسا گروہ جسے عوام کا اعتماد حاصل نہیں پاکستان کے نظام کی تعمیر کرے۔ شاید اسی سوچ کے تحت جماعت اسلامی نے جنرل ضیاء سے کہ عہد پر آشوب میں وزارتیں قبول کی تھیں۔ یہ سوچ ختم نہیں ہوئی۔ داعش، طالبان، لشکری جھنگوی جیسی تمام دہشت گرد تنظیمیں اسی نظریہ کی علمبردار ہیں کہ ہم ’گروہ صالحین‘ ہیں اور ہمیں یہ آسمانی اجازت حاصل ہے کہ زبردستی اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کریں اور انہیں اپنی پسند کی طرز زندگی کا پابند بنائیں۔ اگر اس کام کے لئے ہزاروں بے گناہوں کا خون کرنا پڑے تو کیا فرق پڑتا ہے؟

اس پر ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس طرز میں پاکستان میں نظام قائم کیا جائے تو اس کا ان ممالک پر کیا اثر پڑے گا جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ جب 1954 میں فسادات پنجاب پر بننے والی تحقیقاتی عدالت میں ابوالاعلیٰ مودودی صاحب سے یہ سوال کیا گیا کہ اگر آپ کے نظریات کے مطابق پاکستان میں اسلامی حکومت قائم کر دی جائے اور غیر مسلم شہریوں سے امتیازی سلوک کیا جائے اور اس کے رد عمل میں ہندو بھارت میں ایک ہندو ریاست قائم کر لیں اور وہاں کے مسلمانوں سے ملیچھ اور شودروں جیسا سلوک کریں تو کیا آپ کو اس پر کوئی اعتراض ہو گا؟ تو اس کے جواب میں مودودی صاحب نے فرمایا:

”یقیناً مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا کہ حکومت کے اس نظام میں مسلمانوں سے ملیچھ اور شودروں کا سا سلوک کیا جائے۔“ (رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953 ص 245۔ 247 )

آج جس طرح مودی صاحب کی سرکار اور بی جے پی ہندوستان میں مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں، ان حقائق کو پیش نظر رکھ کر اس ارشاد کا جائزہ لیں تو تاریخی المیوں کا ایک اور رخ سامنے آئے گا۔ غور فرمانے کی درخواست ہے۔

(محترم الم نگار، آپ سے تعلق خاطر کا تقاضا تو یہی ہے کہ میں بھی “جگر سوختہ” کا قلمی نام اختیار کر لوں۔ اس میں مشکل یہ ہے کہ جن عزیزان ملت نے گالی دشنام کے لئے میرا نام برسوں کی مشق سے نوک زبان کیا ہے، انہیں اپنا آموختہ تبدیل کرنا پڑے گا۔ میں نے بلا وجہ کی تلخ کامی سے بچنے کا یہ نسخہ دریافت کیا ہے کہ عام طور پر تبصرے دیکھتا ہی نہیں۔ جو خیر خواہ ہیں، سلامت رہیں۔ انہیں ہماری تائید کی کچھ ایسی ضرورت نہیں اور جو خامہ بگوش بوجوہ اپنا کان ملاحظہ کرنے کی بجائے ملاحیاں لکھنے کے نیک کام پر مامور ہیں، ان کے اشغال میں مداخلت سے کچھ حاصل نہیں ہونے کا۔ بہتر یہی ہے کہ ہم اپنا کام کریں اور انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ “اوپر نیچے درمیان” کے معاملات سے تو مجھے غرض نہیں البتہ یہ معلوم ہے کہ تاریخ سب دیکھ رہی ہے اور وقفے وقفے سے اپنا فیصلہ بھی سناتی ہے۔ اسی یقین کے سہارے عمر کٹ گئی ہے۔ خدا آپ کا اور ہمارا انجام بخیر کرے۔ و-مسعود)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments