کیا سائنس مذہب کی مخالف ہے؟


اسی سے ملتا جلتا سوال یہ ہے کہ کیا سائنسی سوچ الحاد کی طرف لے جاتی ہے؟

یہ کسی بھی سوسائٹی کے لیے بے حد اہم سوال ہیں۔ دنیا میں قائم بیشتر معاشروں کی اقدار مذاہب پر قائم رہی ہیں اور آج بھی ایسا ہی ہے۔

ان سوالات میں یہ سوچ پوشیدہ ہے کہ کسی معاشرے میں سائنس اور مذہب یکجا نہیں رہ سکتے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایک ایسا معاشرہ جہاں سائنسی سوچ نمایاں ہو وہاں مذہب کی گنجائش نہیں۔ اسی طرح ایک مذہبی معاشرے میں سائنسی سوچ پروان چڑھنا ناممکن ہے۔

میرے نزدیک یہ دو نوں باتیں درست نہیں۔ سائنس مذہب کی مخالف نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سائنس اور مذہب کے بالکل مختلف دائرے ہیں۔ جس طرح سائنس کا تعلق انسانی جذبات سے نہیں، اسی طرح اس کا تعلق انسانی عقائد سے بھی بالکل نہیں۔ اس سائنسی دور میں بھی بہت سی ایسی اقوام ہیں جہاں لوگوں کی اکثریت اپنی ذاتی زندگی میں مذہب کی پیروکار ہے، لیکن سائنسی علوم میں ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہیں۔

بہت سے عظیم سائنسدان مذہبی عقائد پر یقین رکھتے رہے ہیں۔ لیکن انھوں نے مذہبی عقائد کو اپنی سائنسی تحقیق سے علیحدہ رکھا ہے۔ جدید سائنس کے بانی کوپرنیکس اور گلیلیو کو اپنے افکار کی ترویج میں چرچ کی طرف سے بہت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ گلیلیو کو تو سزائے موت کا سامنا تھا، اور انہیں معافی مانگ کر اپنی جان بچانی پڑی۔ لیکن ان کو اپنے عقائد کی قربانی نہیں دینی پڑی۔ ان دونوں نے ملحد ہونے کا دعوی نہیں کیا اس کے باوجود کہ وہ سائنسی سوچ پر یقین رکھتے تھے۔

انسانی تاریخ کے عظیم ترین سائنسدان، آئزک نیوٹن، نے کشش ثقل اور حرکت کے قوانین وضع کیے، لیکن ان کا خدا پر یقین تھا۔ ان کے مطابق

”سورج، سیاروں اور کومٹس (دم دار ستاروں) کا یہ خوبصورت نظام صرف ایک ذہین ہستی کے مشورے اور تسلط سے ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ [۔ ] یہ ہستی تمام چیزوں پر حکمرانی کرتی ہے، دنیا کی روح کے طور پر نہیں، بلکہ سب پر رب کے طور پر؛ اور اس کے اقتدار کی وجہ سے اسے“ خدا ”کہا جائے گا۔ [۔ ] سپریم خدا ابدی، لامحدود، [اور] بالکل کامل ہے“ ۔

مجھے خود بیسویں اور اکیسویں صدی کے کئی عظیم سائنسدانوں کو بہت قریب سے دیکھنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا موقعہ ملا، اور ان میں سے اکثر کا خدا پر یقین رہا ہے۔ لیکن ان سب میں ایک قدر مشترک تھی: وہ سائنسی سوچ کے مالک تھے جس کے مطابق وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس کائنات میں ہونے والے ہر واقع کی توجیہہ سائنسی قوانین کے ذریعے ہونی چاہیے۔

یہ سمجھنے کے لیے کہ کیا سائنس اور مذہب کسی معاشرے کے اندر ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، سائنس اور مذہب کی نوعیت کو پوری طرح سمجھنا ہو گا۔ اگر یہ توقع کی جاتی ہے کہ سائنس مذہبی عقائد کی وضاحت اور جواز پیش کرے گی، تو تنازعات کا پیدا ہونا فطری ہے۔ اسی طرح مسائل تب بھی پیدا ہوتے ہیں جب یہ تصور کیا جائے کہ مذاہب فطرت کے قوانین کو دریافت کرنے اور ان کی وضاحت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فطرت کے قوانین کی دریافت سائنس کے دائرہ کار میں آتی ہے اور اس کا مذاہب سے کوئی تعلق نہیں۔

سائنس اور سائنسی سوچ کیا ہے، یہ تو پچھلے مضامین کا موضوع رہا ہے۔ سائنس کے بارے میں مسلم معاشروں میں بہت غلط تاثرات قائم ہیں جن کو درست کرنا بہت ضروری ہے۔

سائنسی سوچ کی بنیاد اس بات پر ہے کہ یہ کائنات چند آفاقی قوانین کے تحت چل رہی ہے، اور سائنس کا رول مشاہدات کی روشنی میں ان قوانین کو سمجھنا اور دریافت کرنا ہے۔ یہ قوانین ایسے ہیں جن کی بنیاد پر ہر واقع کی توجیہہ دینا ممکن ہے۔

اب ذرا مذہب اور ساٗنس کے تعلق کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

انسان شروع سے اس تحیر میں مبتلا ہے کہ اس کے گرد موجود اس کائنات کی حقیقت کیا ہے اور اس کائنات میں اس کا مقام کیا ہے؟ وہ کون ہے اور اس زمین پر کیوں موجود ہے؟ کیا اس کی زندگی کا انجام موت ہے یا اس سے بھی آگے ایک اور زندگی ہے؟ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اور اہم ترین سوال یہ ہے کہ یہ سب کس کے اشارے پر ہو رہا ہے؟

جیسا کہ میں نے پچھلے مضامین میں ذکر کیا، تقریباً تمام مذاہب کی بنیاد خدا کے تصور پر ہے۔ ان مذاہب کے نزدیک یہ خدا ہی ہے جس نے اس کائنات اور اس کائنات میں موجود ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔ وہ ہی ہے جس نے انسان کو نہ صرف زندگی دی ہے بلکہ اپنے اعمال کا ذمہ دار بھی بنایا ہے۔ لیکن اس خدا کی نوعیت مختلف مذاہب میں مختلف ہے۔ یہاں تک کہ کسی ایک مذہب کے مختلف فرقوں اور فلسفیوں کے مطابق خدا کا تصور ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔ مثال کے طور پر اسلامی روایات میں

کہیں تو وہ ساتویں آسمان کے اوپر عرش پر بیٹھا ہے اور کہیں وہ انسان کی شاہ رگ سے نزدیک تر ہے۔

کہیں تو انسان کے معاملات میں خدا کا کوئی رول نہیں، اور کہیں وہ دنیا میں ہونے والے ہر عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔

کہیں تو انسان خدا کی مخلوق ہے جس کی ایک آزادانہ حیثیت ہے اور کہیں خدا کے وجود کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔

کون صحیح ہے؟ اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ ان انتہائی اہم سوالات، جن پر مذہب کی عمارت قائم ہے، کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ خدا سے وابستہ کسی سوال کا حتمی جواب کسی کے پاس نہیں۔ یہ سوال مابعدالطبیعات کے زمرے میں آتے ہیں۔ ان اور ان پر بنی مذہب کی عمارت کا سائنس سے کوئی سروکار نہیں۔

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مذہب کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔ اس صورت حال میں مذہب کا رول ذاتی عقائد تک محدود ہو جاتا ہے۔ یہ عقائد مصائب سے بھری اس دنیا میں موجود معاشروں کو نہ صرف زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں بلکہ دوسرے انسانوں اور معاشروں سے میل جول کے آداب سے بھی آگاہی دیتے ہیں۔ مذہب کو انسان کا ذاتی مسئلہ سمجھ کر شخصی سطح پر ہی رہنے دیا جائے اور مذہب میں جو تعمیری سوچ کی دانائی ہے اس کو اپنایا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ مثلاً مذہب ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے جس کی بنیاد برابری پر ہو، جہاں کمزور طبقے کا خیال رکھا جائے، عدل و انصاف قائم کیا جائے اور شخصی آزادی سمیت انسانی حقوق کی پاسداری ہو۔

لیکن جیسے ہی مذہبی عقائد اجتماعی زندگی میں داخل ہونے لگتے ہیں، مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں۔ تعلیمی، سیاسی اور اقتصادی نظام میں مذہب کا رول تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ میں یہاں صرف سائنس اور سائنسی تعلیم پر مذہب کے اثرات پر بات کرتا ہوں۔

اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ سائنس مذہب کے تابع ہے اور مذہبی عقائد کو ان قوانین پر برتری حاصل ہے جو سائنسدانوں نے سائنسی سوچ کے تحت دریافت کیے ہیں، تو یہ جہالت کی نشانی تصور ہو گی۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، مذہبی عقائد کی بنیاد ایمان پر ہے اور کوئی ایسا ذریعہ نہیں جس سے ان عقائد میں تبدیلی لائی جا سکے۔ جبکہ سائنس کی بنیاد صرف اور صرف عقلی دلائل پر قائم ہے اور اس کا مقصد مشاہدات کو چند آفاقی قوانین میں پرونا ہے۔ اس کو میں ایک مثال سے واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

چند مذاہب میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس دنیا کی عمر دس ہزار سال سے کہیں کم ہے اور اس کو خدا نے سات دن میں تشکیل کیا۔ اب ایسے فوسل ملے ہیں جو اربوں سال پرانے ہیں اور ایسے انسانی ڈھانچے ملے ہیں جو لاکھوں سال پرانے ہیں۔ لیکن یہ شواہد اور ان سے وابستہ عقلی دلائل مذہبی بنیادوں میں ذرا سی بھی دراڑ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ہوا یہ ہے کہ مذہبی رہنماؤں نے جو عام طور پر سائنسی سوچ سے نابلد ہیں، کھینچ تان کر کے اپنے عقائد کو ان شواہد سے ہم آہنگ کرنے کی مضحکہ خیز کوششیں کی ہیں۔

دوسری طرف، جیسا کہ میں نے پچھلے مضمون میں ذکر کیا، جب آئن سٹائن کے نظریات نے ان مشاہدات کی توجیہہ کی جن کی وضاحت نیوٹن کے دریافت کردہ قوانین کرنے میں ناکام رہے تھے، تو سائنسدانوں نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر آئن سٹائن کے نظریات کو اپنا لیا اور نیوٹن کے وضع کردہ دو سو سال پرانے قوانین کو رد کر دیا۔ اس بات کا کچھ کچھ امکان ہے کہ آئندہ سالوں میں تاریک مادہ اور تاریک توانائی کی کامیاب توجیہہ کے لیے آئن سٹائن کے نظریات کو رد کرنا پڑے۔ اگر ایسا ہوا تو سائنسدانوں کی طرف سے نئے نظریات قبول کرنے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں ہو گا۔ یہ سائنسی سوچ کا حسن ہے۔

اس ساری بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سائنس اور مذہب کے بالکل مختلف دائرے ہیں۔ اگر مذہب کو صرف ذاتی زندگی تک محدود رکھا جائے جو مذاہب کی اصل روح تھی تو کوئی مسئلہ نہیں۔ مذہب اور ان کے بانیوں نے یہ دعوی کبھی نہیں کیا کہ مذہبی صحیفے کائنات میں ہونے والے ہر واقع کی سائنسی توجیہہ دے سکتے ہیں لیکن اکیسویں صدی میں اسلامی معاشروں میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ مذہبی صحیفے تو تمام علم بشمول سائنس کی وضاحت کرنے کے قابل ہیں۔

یہ ایک جاہلانہ اور خطرناک سوچ ہے جس نے اسلامی معاشروں کو رجعت پسندی اور بے توقیری کی علامت بنا دیا ہے۔

اب ہم دوسرے سوال کی طرف آتے ہیں کہ کیا سائنسی سوچ الحاد کی طرف لے جاتی ہے؟

اس سوال کا تعلق اس بات سے ہے کہ کیا اس کائنات کی تخلیق اور ارتقاء کے پیچھے کوئی ہے۔ سائنس کے مطابق ہم اس سوال کا جواب اس وقت دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ حتمی ہاں یا نہیں میں جواب دینا ممکن نہیں۔

دراصل اتنا کچھ نا معلوم ہے کہ کوئی سرا ہاتھ نہیں آتا، جہاں سے تحقیق کا آغاز ہو سکے۔ ہم تو بہت بنیادی سوالوں کے جواب تک نہیں جانتے۔

زندگی کی حقیقت کیا ہے؟
روح کیا ہے؟ کیا پیدائش سے پہلے ہماری روح کا کوئی وجود تھا؟

موت کی حقیقت کیا ہے؟ کیا موت کے بعد کوئی ابدی زندگی ہے جس کا پرچار ہر مذہب کرتا ہے۔ یا ہم بھی کسی پھول کی طرح کچھ وقت گزار کر ختم ہو جائیں گے، ہمیشہ کے لیے۔

ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کہ خواب کی حقیقت کیا ہے۔

ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ زندگی کی ابتداء کیسے ہوئی؟ ایک وقت ہو گا جب زندگی کا وجود نہیں تھا، اور پھر ایسا کیسے ہوا کہ یک دم زندگی وجود میں آ گئی۔

اگر سوچا جائے تو یہ ایک بہت بڑا معمہ ہے کہ ہم اور ہر جاندار اسی قسم کے ایٹم اور مالیکیولز سے بنے ہیں جن سے کرسی، میز، اور دیگر غیر جاندار اشیاء بنی ہیں، لیکن ہم میں زندگی کی رمق موجود ہے۔ ہم سوچ سکتے ہیں اور اپنے لیے فیصلے کر سکتے ہیں۔

میرے نزدیک مذہب اور الحاد ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ایک ملحد بھی اپنے عقیدے پر اسی طرح قائم ہوتا ہے جس طرح ایک مذہبی شخص۔ ملحد کو یقین ہے کہ یہ کائنات خود بخود وجود میں آ گئی، لیکن اس کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں، بالکل اسی طرح جیسے ایک مذہبی شخص یہ ثابت کرنے سے قاصر ہے کہ کائنات کو وجود میں لانے والا خدا ہے۔

ہم زمان و مکاں کے انتہائی جدید علوم سے لیس ہونے کے باوجود اصل حقیقت کی منزل سے بہت دور ہیں۔ ہمارا زمان و مکاں کا تصور بہت محدود ہے۔ خدا کو انسان کی محدود سوچ میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ ہم خدا کے ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں جب کہ ہمیں یہ تک نہیں معلوم کہ ہم کہاں سے آئے اور کہاں چلے جائیں گے۔ ہمارا آغاز کہاں سے ہوا اور آگے کیا ہونے جا رہا ہے۔

مختصر یہ کہ، خدا اور اس کی ہیئت سے متعلق سوالات ہماری اپنی سوچ کی پرواز اور حد بندی پر آ کر ختم ہو جاتے ہیں۔ ہم کتنے بھی عالم فاضل کیوں نہ ہو جائیں، یہاں لاجواب ہو جاتے ہیں۔ اور اس معاملے میں دیا گیا ہر جواب، بہت سے لایعنی جوابات کے سمندر میں ایک اور قطرے کے سوا کچھ نہ ہو گا۔

ان حقائق کی روشنی میں خدا موجود ہے یا نہیں، ایک بے معنی سوال بن جاتا ہے۔ کوئی ایسا پیمانہ موجود نہیں جس کی بنیاد پر خدا کی موجودگی یا غیر موجودگی ثابت کی جا سکتی ہے۔

اگر الحاد کا مطلب خدا کا انکار ہے، تو یہ واضح ہے کہ اس کا تعلق عقیدے سے ہے، بالکل اسی طرح جیسے یہ دعویٰ کہ خدا موجود ہے۔ ان دعووں کا سائنس اور سائنسی سوچ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ سائنس الحاد کی طرف لے جاتی ہے، درست معلوم نہیں ہوتا۔

لیکن اگر الحاد ایک مخصوص مذہب کے انکار سے وابستہ کیا جائے، تو ملحد کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے کیونکہ ایسا کوئی معروضی پیمانہ نہیں ہے جس سے کسی بھی مذہب کی صداقت قائم کی جا سکے۔ اس طور کسی خاص مذہب کی سچائی ثابت کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ ہر مذہب ایسے عقائد پر قائم ہے جن کی بنیاد ہزاروں سال پرانی روایات، شخصیات اور کتب پر قائم ہوتی ہیں اور جن کی صداقت مشکوک ہے۔ کسی مذہب کو کسی دوسرے مذہب پر برتری حاصل نہیں۔ اسی طرح کسی عقیدے کو کسی دوسرے کے عقیدے پر برتری حاصل نہیں۔ مذاہب ذاتی عقائد پر مشتمل ہوتے ہیں جن کی کوئی عقلی توجیہہ نہیں۔

 

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy