کراچی کا صحافی کیا ایک افطار کی مار ہے؟


کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا انحصار اُس کے مختلف اداروں کی مضبوطی پر ہوتا ہے۔ ریاستی ادارے جتنے مضبوط، فعال اور قابل اعتماد ہوں ریاست بھی اتنی ہی طاقتور اور باوقار گردانی جاتی ہے۔

کوئی بھی ریاست عمومی طور پر چار ستونوں پر کھڑی ہوتی ان میں مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور صحافت نمایاں ہیں۔ بد قسمتی سے دور حاضر میں پاکستان کا ایک بھی ادارہ مضبوط اور قابلِ اعتماد نظر نہیں آتا۔ آج بات صحافت کی ہو رہی ہے جو کہ پوزیشن کے اعتبار سے ریاست کا چوتھا ستون ہے۔ تو آئیے دیکھتے ہیں کہ ریاست کا یہ ستون کتنا مضبوط اور فعال ہے یا فعال ہے بھی کہ نہیں۔ لکھنے سے پہلے پورے پاکستان کے صحافی دوستوں سے دس بستہ گزارش عرض ہے کہ اس کاوش کو صحافی برادری پر وار نہیں سمجھیے گا بلکہ اس تحریر میں پیوست مثبت باتوں کو سمجھنے کی کوشش کیجیئے کیونکہ یہ ایک معاشرتی پہلو ہے اور دانستہ نادانستہ معاشرے کی بربادی کا باعث بن رہا ہے اس برائی پر لکھنا اسے اجاگر کرنا مجھ سمیت آپ کی بھی ذمہ داری ہے۔ امید کرتا ہوں صبر اور حوصلے سے پڑھیں گے۔

کسی بھی صحافی کا کردار اس کے عمل سے جھلکتا ہے کیونکہ اس کا عمل اس کے کردار کا آئینہ ہوتا ہے اس کا قلم سیاہی کا حق ادا کرتا ہے جس کی کے آج کی صحافت میں نمایاں کمی ہے۔ آئیں ہم سب خود اپنا محاسبہ کریں ہمیں نظر آئے گا کہ نا قلم میں وہ تیزی نظر آتی ہے نا خبر میں وہ کاٹ نظر آتی ہے جس کا کہ یہ پیشہ متقاضی ہے۔ میرا تعلق چونکہ کراچی سے ہے اور صحافت کی ابتدا بھی بیس برس قبل کراچی سے ہی کی اس لیے کراچی میں صحافت کے جو اسرار و رموز میں نے دیکھے ہیں آج لکھنے کا ارادہ ہے صرف بہتری کی جستجو میں۔

میں کافی دنوں سے اس موضوع پر لکھنے کا سوچ رہا تھا پھر ٹھہر جاتا تھا کہ یار لوگ ناراض ہوجائیں گے لہذا کسی روز موقع محل کی مناسبت سے لکھوں گا۔ موقع آخر کب تک نا ملتا کراچی میں مواقع ہی مواقع ہیں یہ الفاظ جو کبھی روزگار کے حوالے سے کہے جاتے تھے آج کسی اور پیرائے میں لکھ رہا ہوں۔

آج چند تصاویر مجھے موصول ہوئیں جو کہ چند صحافی دوستوں کی تھیں جنہیں کراچی شہر کے ایک بڑے عہدیدار نے افطار کی دعوت پر مدعو کیا تھا۔

آپ جائیں دعوت پر اگر کوئی آپ کو دعوت دیتا ہے کھانے پر بلاتا ہے تو آپ ضرور جائیں کوئی آپ کو نہیں روکتا یہ آپ کا حق ہے لیکن۔ ایک صحافی بن کر جائیں کیونکہ آپ کو دعوت آپ کے رتبے کی وجہ سے ہے آپ کی ذاتی حیثیت میں نہیں ہے، کیونکہ آپ جب ان لوگوں کے ساتھ گھل مل جاتے جن سے آپ کو سوالات کرنے کا حق ہو تو پھر آپ اپنی طاقت کھو بیٹھتے ہیں آپ اپنے قلم کی نوک خود اپنے ہاتھوں سے توڑ دیتے ہیں جبکہ آپ پر شہر کی ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے لیکن جب آپ ایسی بڑی شخصیات کو سلیبریٹی سمجھ کر سیلفیاں بنانے لگ جاتے ہیں تو دور کہیں وہ سلیبریٹی نما اعلیٰ عہدیدار اپنے دوستوں میں بیٹھ کر آپ پر ہنس رہا ہوتا ہے درحقیقت وہ ریاست کے اس چوتھے اور اہم ترین ستون پر ہنس رہا ہوتا ہے جس ستون کا کہ میں بھی حصہ ہوں اور دیگر اپنے کام سے سروکار رکھنے والے صحافی دوست بھی۔

لکھتے ہوئے کئی بار خیال آ رہا ہے کہ آج اس تحریر کے بعد نا جانے کتنے دوست ناراض ہوجائیں گے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ کسی کا نام لیے بغیر کسی شعبے کے بارے میں لکھنا کوئی معیوب بات ہے خواہ وہ آپ کا اپنا شعبہ ہی کیوں نا ہو اور بات تو تب ہی ہے کہ جب آپ اپنے گھر میں ہونے والی برائی کو ہدف بناؤ۔ اور بات صرف سحر و افطار تک محدود نہیں ہے دعوت افطار تو بس ازراہِ تفنن اور حسبِ حال لکھ دیا درحقیقت جب آپ کسی سرکاری عہدیدار سے کوئی بھی ذاتی مفاد لیں گے صحافت اس کے گھر کی لونڈی بنی رہے گی ذرا خود سوچیے اور فیصلہ کیجیئے جس سے آپ تحفے لیں گے ”سب نہیں“ ، جس سے آپ پیسے پکڑیں گے ”سب نہیں“ ، جس سے آپ پیٹرول کی پرچی پکڑیں گے ”سب نہیں“ کبھی سوچا ہے کہ اس کے خلاف آپ کیسے اور کیونکر لکھ سکتے ہیں اس سے آپ تلخ مگر جواب طلب سوال کیونکر کر سکتے ہیں۔ نہیں کر سکتے کبھی بھی آپ ایسے افسر یا اعلیٰ عہدیدار کے خلاف نا کچھ لکھ سکتے ہیں نا چھاپ سکتے ہیں۔

مجھے علم ہے کہ میں بہت حساس موضوع پر لکھ رہا ہوں مگر یقیناً کچھ سوچ سمجھ کر لکھ رہا ہوں جو اردگرد دیکھا ہے وہی لکھ رہا ہوں۔

میری دانست میں کراچی کی بربادی میں میری اپنی برادری کا بہت بڑا ہاتھ ہے، غیر قانونی بلڈنگز ہوں، پانی کے ٹینکر ہوں، غیر قانونی پتھارے ہوں ان سب سے تعلق داری رہتی ہے ان سب سے کنکشنز ثابت ہوسکتے ہیں بالخصوص جب سے الیکٹرانک میڈیا وجود میں آیا ہے تب سے اس سلسلے میں پھیلاؤ آیا ہے کمی نہیں۔ یہاں خبر چھاپنے کے کچھ ریٹ ہیں اور خبر چھپانے کے کچھ، جبکہ خبر ہوتی ہی چھاپنے کے لیے ہے چھپانے کے لیے نہیں لیکن چھاپنے سے زیادہ خبر چھپائی جاتی ہے۔ یہی حال اوپری سطح چینل کے کرتا دھرتاؤں تک ہے مخصوص قسم کی خبروں کے ٹکر محدود وقت تک چلانا اور پھر ٹکر ہٹا کر بات چیت طے کرنا افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ سب یہاں صحافت کے نام پر ہو رہا ہوتا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔

جس طرح برادری سسٹم ہوتا ہے ٹھیک اسی طرح صحافت میں گروہی سسٹم چلتا ہے، چند صحافی مختلف گروپ کی صورت میں کام کرتے ہیں اور ناجائز کام میں ایک دوسرے کی سپورٹ کرتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح ایک بار خواجہ اظہار الحسن نے سندھ اسمبلی میں ایک نظم پڑھتے ہوئے ایک بڑا مشہور جملہ کہا تھا (آؤ مل کر کھاتے ہیں ) ۔

کہتا ہوں سچ کہ داغی نہیں ہوں میں