آفتاب اقبال اور سہیل احمد عرف ”عزیزی“ آمنے سامنے
احمد علی بٹ کی ایک پوڈ کاسٹ نظروں سے گزری، جس میں معروف کامیڈین اور اداکار سہیل احمد جسے ہم ”عزیزی“ کے نام سے جانتے ہیں کو آفتاب اقبال کے متعلق کچھ تلخ سے انکشافات کرتے ہوئے سنا۔
حسب حال اور آفتاب اقبال کے متعلق پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں شروع ہونے والی گفتگو خاصی طویل ہو گئی، ایک اچھے اور خوشگوار انداز سے شروع ہونے والی گفتگو پہلے تلخ ہوئی اور پھر ذاتیات تک جا پہنچی۔
سہیل احمد نے چند سیکنڈ میں آفتاب اقبال کو ننگا کر کے رکھ دیا۔
غصے کی کیفیت میں وہ آداب ”رکھ رکھاؤ“ بھی بھول گئے اور آفتاب اقبال کے خوب لتے لیے اور وہ سب بھی کہہ ڈالا جو سہیل احمد ایسے بڑے فنکار کو جچتا نہیں تھا۔
تعلقات کی کچھ حدود اور باتیں ایک دوسرے پر امانت ہوتی ہیں جنہیں تعلقات ٹوٹ جانے پر بھی عیاں نہیں کرنا چاہیے، کچھ بشری کمزوریوں پر پردہ ڈالنا ہی بہتر ہوتا ہے۔
آفتاب اقبال کے متعلق جو کچھ بھی انہوں نے کہا ہے اور جو بھی ان کا شخصی خاکہ پیش کیا ہے اس کے متعلق تو پہلے ہی بہت سارے جانکاری رکھتے ہیں اور معاشرے کا ایک سنجیدہ اور انتہائی پڑھا لکھا طبقہ اس بندے کی بناوٹی سی گفتگو کو کسی خاطر میں نہیں لاتا اور نا ہی اس کے انداز تخاطب کو کوئی اچھی نگاہ سے دیکھا یا پسند کیا جاتا ہے۔
جو بندہ ڈھنگ سے یا نارمل طریقے سے گفتگو کرنے کی بجائے بناوٹی سے لب و لہجے کا سہارا لیتا ہو وہ دراصل دانشور نہیں ہوتا بلکہ ایک دکاندار ہوتا ہے جسے ہر قیمت پر اپنا مال بیچنا ہوتا ہے۔
اس پوڈ کاسٹ کے دوران ایسا لگا کہ جیسے عزیزی کے دل و دماغ پر آفتاب اقبال کے متعلق ایک بوجھ سا تھا جو انہوں نے یک دم سے اتارنے میں ہی عافیت جانی یا ایک طویل عرصہ سے انہوں نے آفتاب کی ”ارسطو یانہ“ سی گفتگو کو برداشت کیے رکھا اور بات بوائلنگ پوائنٹ تک جا پہنچی اور وہ پھٹ پڑے۔
ظاہر ہے برداشت کی بھی تو ایک حد ہوتی ہے نا!
جب آپ حد پار کرتے ہیں تو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑتا ہے۔ سہیل احمد کی گفتگو سے یوں لگا کہ شاید ان کی روح اور دل و دماغ پر آفتاب کی تلخ نوائی یا رعونت و تکبر کے گہرے گھاؤ لگے ہوں اور اب بس ہو گئی۔ انہوں نے کھل کے بتایا کہ کیسے موصوف دوسروں کی گردنوں پر پاؤں رکھ کے خود کو ایک ”اوتاری“ شخصیت ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ شاید قدرت نے صرف انہیں صلاحیتوں کے ساتھ نواز رکھا ہے اور خصوصی بصیرت و دانائی کے ساتھ زمین پر اتارا ہے اور وہ درجنوں ہاتھوں اور اذہان کا مالک ہے اور وہ اکیلا ہر کام کو سلیقے سے انجام دینے کا ہنر جانتا ہے اور باقی سارے اس کے زر خرید غلام ہیں جن کا کام صرف اس کی ہاں میں ہاں ملانا ہے۔
اپنے متعلق اس قدر خوش فہمی یا فریب میں مبتلا ہونے سے بھلا کسی کو کون روک سکتا ہے؟ باقی ہمارے سماج کی ذہنیت ابھی خاصی پست ہے، یہاں فنکاروں کو آج بھی حقارت کے ساتھ ”میراثی، قوال، گویا یا بھانڈ“ کہا جاتا ہے جن کا کام چوہدریوں یا بڑے لوگوں کی خوشیوں کو پیسوں کے عوض دو بالا کرنا ہوتا ہے۔
مہدی حسن، نصرت فتح علی خان ایسے لیجنڈز کو جو پذیرائی یا عزت مہذب دنیا میں نصیب ہوئی ہمارے ہاں تو انہیں اس کا عشر عشیر بھی نصیب نہ ہوا، ظاہر ہے وہ فن شناس لوگ ہیں اور فن کی قدر کرنا جانتے ہیں اور ہم ٹھہرے دو نمبریوں میں نمبر ون۔
اسی لیے ہمارے ہاں دانشور بھی تو دو نمبر یا رانگ نمبر ہی پائے جاتے ہیں، جو اپنے گرد ہر وقت ”واہ واہ“ کرنے والوں کا حلقہ اثر پسند کرتے ہیں اور انہیں یہ گمان سا ہونے لگتا ہے کہ سماج کی ساری کی ساری ہریالی صرف انہی کے دم سے تو ہے۔ اسی کیفیت کو تو نرگسیت کہا جاتا ہے، اس بیماری کا شکار یہاں بہت سارے ہیں اور آفتاب اقبال بھی انہی نابغوں میں سے ایک ہے۔
سہیل احمد نے تو خیر پوری پوڈ کاسٹ میں چند منٹ ہی آفتاب پر صرف کیے ہوں گے لیکن موصوف نے تو سہیل احمد پر ایک پورا پروگرام ہی کر ڈالا۔ عین ممکن ہے کہ ابھی شکوہ اور جواب شکوہ کا یہ تسلسل مزید آگے چلے کون جانے؟
لیکن اگر دونوں کی گفتگو کا موازنہ کیا جائے تو سہیل احمد کی گفتگو خاصی محتاط، نیچرل اور نرم گوئی کے علاوہ عاجزانہ سی تھی، لیکن دوسری طرف جواب شکوہ حسب سابق ”میں میں“ کی گردان پر مشتمل تھا اور وہ سہیل احمد کو ایک اچھے ایکٹر سے زیادہ اہمیت نہیں دینا چاہتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر فیلڈ کا بڑا ٹیلنٹ اس خطہ سے رخصت ہو چکا ہے اور اگر لے دے کے کوئی بڑا ایکٹر ہمارے ہاں رہ گیا ہے تو غنیمت ہے اور دوسری ہی سانس میں یہ بھی کہہ ڈالا کہ امان اللہ سے بڑا کامیڈین یہاں کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔
یوں کہہ لیجیے کہ موصوف کا ہر جملہ ”میں“ سے شروع ہو کر ”میں“ پر ہی اختتام پذیر ہوتا تھا۔
مثلاً ”میں“ آپ کو ایک اچھا ایکٹر اور زیادہ سے زیادہ ایک کنورسیشنلسٹ یعنی گفتگو کرنے والا سمجھتا ہوں جس کے ساتھ گھنٹہ دو گھنٹہ گفتگو کی جا سکتی ہے۔
”میں“ چونکہ لیڈر یا رہنما ہوں اور میرا کام بطور اینکر، صحافی اور کالمنسٹ کے کئی طرح کا ہوتا ہے اور آپ ٹھہرے صرف ایکٹر جس کا کام صرف ایکٹنگ کرنا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
جو کام آپ نے ”میری“ قیادت میں کیا ہے ”میرے“ بغیر اس طرح کی پرفارمنس آپ کہیں اور دے ہی نہیں پائے۔
”میرا“ کام ایک مسودے میں سے ”بل شٹ“ یعنی بکواس اور بے تکی سی فضول باتوں کو نکالنا ہوتا ہے اور آپ صرف ایکٹر ہیں۔
حسب حال کا بنیادی ڈھانچہ ”میرا“ ہی تشکیل دیا ہوا ہے جسے آج تک تبدیل نہیں کیا جا سکا اور یہ پروگرام آج بھی میری بنیادوں کی وجہ سے چل رہا ہے۔
”میں“ امان اللہ کا بھی استاد ہوں اور آپ کا بھی فرق صرف یہ ہے کہ آپ مجھے استاد تسلیم نہیں کرتے۔
آپ کا علم کسی بھی پلے کی دوسری یا تیسری درجے کی بیکار سی لائنوں کی مانند ہے جس کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔
آپ کو عزیزی کا لفظ بھی ”میری“ عطا ہے ورنہ آپ کو کون جانتا تھا۔
کسی بھی ڈرامہ یا سکرپٹ کی ریڑھ کی ہڈی یا اصل ابا جان لکھاری ہوتے ہیں اسی لیے تو کہتے ہیں کہ وکیل اور لکھاری کبھی بوڑھے نہیں ہوتے جب کہ ایکٹر بھاگ دوڑ کر تھک جاتے ہیں۔
دونوں کی گفتگو اور انداز تخاطب و مخاطب آپ کے سامنے ہے اندازہ کر لیجیے کہ کس میں کتنا ظرف یا حوصلہ ہے؟
یاد رہے کہ موصوف نے بار بار ایکٹر کا جو لفظ استعمال کیا ہے اس میں بھی ڈھکی چھپی سی تضحیک کا واضح عنصر موجود تھا۔
باقی قارئین دونوں کی گفتگو سن کر اندازہ کر سکتے ہیں ہماری رائے دونوں کے متعلق جو بھی ہے وہ کوئی حرف آخر نہیں ہے۔
ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ کوئی خود کی ذات کو خود نمائی کے لحاف میں لپیٹ کر اس قدر بلندی تک لے جائے کہ اسے خود کے سوا کوئی دکھائی نہ دے تو اس قسم کی ذہنی کیفیت کو کیا نام دیا جا سکتا ہے؟
ہمارے خیال میں تو سہیل احمد نے موصوف کو تھوڑا سا چھیڑ کر اپنے متعلق ان کے ”ری بٹل یا جواب شکوہ“ کو مزید مزیدار بنا ڈالا ہے اور موصوف کا رہا سہا بھرم بھی جاتا رہا اور انٹیلیکچول سنوبری بھی خوب عیاں ہو گئی۔



درست فرمایا کہ ہمارے ہاں دانشور بھی تو دو نمبر یا رانگ نمبر ہی پائے جاتے ہیں، باتوں سے اپنے آپ کو بڑا نظریاتی باور کرواتے ھیں اور اوقات یہ ھے کہ کچھ لاکھ روپے ماہانہ پر سرکاری چاکری قبول کر لیتے ہیں…