عالمی سامراج، امریکی چودھراہٹ اور نیٹو کا مخدوش مستقبل؟


عالمی سرمایہ داریت کئی بحرانوں سے دوچار ہے، جن میں سر فہرست نا ختم ہونے والی جنگیں ہیں۔ پوری دنیا گویا ان جنگوں کی گرفت میں ہے اور اقوام ِ متحدہ بیچارگی کی صورت لیے بے بس دکھائی دیتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دو برس قبل روس کے یوکرین پر حملے سے دنیا بہت تیزی سے بدل رہی ہے بلکہ بدل چکی ہے۔ بالخصوص ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور یورپ کئی مسائل سے دوچار ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ دنیا پھر کسی نئے عالمی تنازعہ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ روس۔ یوکرین جنگ، اسرائیل۔ حماس جنگ، ایران۔ امریکہ تنازعہ، امریکہ۔ شمالی کوریا تنازعہ، امریکی۔ چینی سرد جنگ اور امریکہ۔ روس تنازعہ الغرض دنیا ایسے کئی محاذوں میں الجھ چکی ہے۔

نیٹو، امریکہ اور برطانیہ کی قیادت میں روس اور چین کے مدِ مقابل آن کھڑا ہے جبکہ برطانوی وزیر دفاع کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ عالمی صورتحال ”ما بعد جنگ“ نہیں بلکہ ”ما قبل جنگ“ کے دوراہے پر آ چکی ہے، اسی لیے نیٹو اتحاد میں شامل تمام ممالک پر اس اصول کی پابندی لازم آتی ہے کہ وہ اپنے ملکی بجٹ میں دفاع پر 2 فیصد تک (یا زائد) خرچ کریں۔

برطانوی وزیر دفاع کے مذکورہ بالا عندیہ کے پیشِ نظر یہی صورتحال واضح ہوتی ہے کہ وہ نیٹو کو مستقبل میں کسی بھی قسم کے تنازعہ یا جنگ کی صورت میں متحرک، طاقتور اور بالآخر فتح یاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ موصوف کے نزدیک اگر اس اصول پر عمل نہ کیا گیا تو خدشہ یہ ہے کہ پھر جشن ماسکو، بیجنگ، تہران اور شمالی کوریا میں ہی منایا جائے گا۔ اور امریکی و یورپی جمہوریتیں نیست و نابود ہو جائیں گی۔ ایسا ہو گا یا نہیں؟ یا ایسا ہو سکتا ہے یا نہیں؟ یہ واقعی اہم سوالات ہیں جن پر غور کرنا ہی موضوعِ بحث ہے۔ البتہ اس سے پہلے ضروری ہے کہ اجمالاً نیٹو کی تاریخ رقم کردی جائے تاکہ موجودہ صورتحال کو سمجھنے میں آسانی ہو سکے۔

نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کا قیام 1949 ء میں سویت یونین اور امریکہ کے مابین سرد جنگ کے آغاز ہی میں عمل میں آیا تھا۔ نیٹو کے قیام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ”سویت یونین کے بالخصوص مشرقی یورپ اور بالعموم پوری دنیا میں بڑھتے اثر و رسوخ کو روکا جائے۔“ اسی مقصد کے تحت نیٹو کی تشکیل کی گئی تھی اور دنیا کو کمیونزم کے ”سرخ بھوت“ سے بچانے کی کوششیں ہر جگہ جاری تھیں۔ نیٹو کے جواب میں سویت کی جانب سے ”وارسا پیکٹ“ کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔ سرد جنگ کا باقاعدگی سے آغاز کر دیا گیا تھا اور بعد ازاں، یہ سرد جنگ 1991 ء میں سویت یونین کے انہدام اور وارسا پیکٹ کے خاتمے تک جاری رہی تھی۔ لیکن سویت یونین کے منہدم ہو جانے کے بعد نیٹو کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ یہ امریکی مفادات اور امریکہ کے سپر پاور اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لیے متحرک رہا اور اب بھی ہے۔

نیٹو تقریباً 32 ممالک کا عسکری اتحاد ہے۔ جس میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، پولینڈ، ترکی، اٹلی، کینیڈا، یونان، اور کئی یورپی ممالک شامل ہیں۔ حال ہی میں فن لینڈ اور سویڈن بھی اس اتحاد کا حصہ بنے ہیں۔ البتہ، نیٹو اپنی تاریخ کے آئینے میں اس وقت مضبوط، متحرک اور وسیع ترین ہے۔ لیکن پھر بھی نیٹو کے مستقبل کے حوالے سے کئی تحفظات اور خدشات یورپی اور امریکی دفاعی تجزیہ کاروں کے درمیان اہمیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

پہلے پہل سابق امریکی صدر کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ منصب صدارت پر دوبارہ براجمان ہوتے ہی امریکہ کو نیٹو سے الگ کر لیں گے لیکن اب وہ ایسی ”حماقت“ سے باز آ گئے ہیں البتہ، وہ اب یہ کھل کر کہتے ہیں کہ جو ممالک نیٹو کی عسکری ترقی میں معاون نہیں، روس ان پر بیشک حملہ کر دے۔ ٹیلیگراف میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی اس دھمکی سے نیٹو اتحاد میں شامل ممالک میں ایک بے چینی پیدا ہوئی ہے جو ان کو دفاع پر مزید خرچ کرنے کی جانب راغب کر سکتی ہے۔ اور یوں نیٹو کو مزید مستحکم کرنے اور چین و روس کے بڑھتے سیاسی و عسکری اثر و رسوخ کو سرد کیا جاسکتا ہے۔

موجودہ عالمی صورتحال کی روشنی میں یہ امر واضح ہے کہ امریکہ ایک بگڑتے عالمی توازن کا نمائندہ ہے اور چین کے بڑھتے اثر رو رسوخ اور معاشی ترقی سے امریکہ کے سپر پاور اسٹیٹس میں تبدیلی آ رہی ہے۔ امریکی سامراج زوال پذیری کے عمل میں ہے اور چین اپنے عروج کی جانب گامزن ہے۔ شاید یہی عظیم طاقتوں کے عروج و زوال کا قانون ہے کہ ہر سلطنت کے انہدام کے ساتھ ہی دوسری سلطنت اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ بہرحال امریکی عالمی آرڈر کے بگڑتے توازن کے پیشِ نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ نیٹو بھی مستقبل میں غیر مستحکم ہو سکتی ہے اور اپنا اثر و رسوخ گنوا سکتی ہے لیکن یہ دن ابھی بہت دور ہے۔ فی الوقت نیٹو کرۂ ارض پر بہت بڑے عسکری و سیاسی اتحاد کی حیثیت میں قائم و دائم ہے اور ایسا نہیں لگتا ہے کہ اس کے اقتدار اور طاقت میں کوئی کمی آئے گی۔ پھر بھی اگر موجودہ ورلڈ آرڈر میں کوئی انقلاب ِ حال دیکھنے میں آتا ہے تو بعید نہیں کہ یہ عظیم عسکری اتحاد تہہ و بالا ہو جائے گا اور ہو سکتا ہے جارج آرویل کی بغیر نیٹو کی دنیا کی تصویر سچ ثابت ہو جائے۔ البتہ اعداد و شمار اور آثار و قرائن ایسی کسی پیش گوئی کے حق میں نہیں ہیں۔

عالمی جنگ کی تیاریوں کے حوالے سے شور مچ رہا ہے اور برطانوی وزیر دفاع کا یہ کہنا بہت درست ہے کہ دنیا ”ما قبل جنگ“ کے دہانے پر آن پہنچی ہے۔ بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ جنگ جاری بھی ہے۔ اکیسویں صدی میں کم ازکم عالمی جنگیں روایتی ہتھیاروں سے نہیں لڑی جائیں گی بلکہ ان کے لیے غیر روایتی ہتھیاروں کا سہارا لیا جائے۔ جس میں بلا شبہ کمپیوٹر اور ہائبرڈ ورلڈ ہی کی بالادستی ہوگی۔ ہم ایسے وقت میں آ پہنچے ہیں جہاں سرمایہ داریت اپنے ہاتھوں سے خود کو ہلاک کرے گی اور آئندہ عالمی جنگ اسی تنازع کی نوید ہے۔ دنیا مزید الجھتی جا رہی ہے اور سرمایہ داریت اسے سلجھانا تو درکنار اسے مزید الجھانے میں مصروف ہے۔ بین الاقوامی کارپوریشنز، اقتصادی غارت گر اور عالمی بینکاری کے ادارے، تمام کے تمام اس جنگ میں شامل ہیں اور ان ہی کے مفادات کے تحفظ کے لیے یہ جنگ لڑی بھی جائے گی۔ بلاشبہ، مملکتیں تباہ ہوں گی ، سلطنتیں تخت و تاراج ہوں گی اور انسانیت کا غم گسار کوئی نہ ہو گا لیکن کیا انسانیت بھی کہیں ہوگی؟ اس کا جواب وقت کی رفتار کے ساتھ ہی پردہ ابہام سے نکل کر واضح ہو گا


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments