وہ گردہ نکالنا چاہتے ہیں
تمتماتا سورج اور آنکھوں کو چندھیا دینے والی کرنیں۔ آتش مہتاب سے دہکتی زمیں پر ایک ادھیڑ عمر کی خاتون، مرکزی شاہراہ کے کنارے کسی سوچ میں مبہوت آگ پر چلتے ہوئے اچانک چیخ اٹھی ڈاکٹر، ڈاکٹر! جیسے کہیں پیاسے کو کنواں نظر آ گیا ہو۔
میں ساٹھ میل فی گھنٹہ کی اوسط رفتار سے آگے بڑھ رہا تھا۔ درد بھری آواز کانوں میں گونجنے لگی۔ مجھے مجبوراً وہاں رکنا پڑا۔ موٹر اس آواز سے چند قدم آگے جا رکی۔ واپس مڑنے کی نوبت ہی نا آئی۔ وہ پلک جھپکتے ہی میری آنکھوں کے سامنے! بال بکھرے ہوئے، چہرے پر جھریاں، آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بتا رہے تھے جیسے کئی روز سے نیند سے سخت بیر ہو۔
ایک درد بھری آواز سنائی دی ڈاکٹر! میں نے آپ کا گھنٹوں انتظار کیا۔ جب آپ گھر واپس نا لوٹے تو میں تھک ہار کر اپنی راہ چل دی۔ اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی۔ وہ اپنا درد بیان کرنا چاہتی مگر ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کی زباں کنگ ہو۔ شاید الفاظ کو جمع کرنے سے قاصر تھی۔ اس کے ہاتھوں میں کاغذوں کا ایک پلندا تھا۔ جیسے کوئی پٹوار خانے کا منشی ریکارڈ لیے پھر رہا ہو۔ اس بوجھ کو اٹھانے کے لیے اسے سہارے کی اشد ضرورت تھی۔ پریشانی کے باعث چہرے کا رنگ فق تھا۔ آنکھوں سے آنسووں کا سیلاب امڈ آیا جیسے بحر بیکراں میں کوئی غوطہ زن ہو۔
ہانپتے کانپتے اس نے ریکارڈ کا پلندا میرے ہاتھوں میں تھما دیا۔ سب سے اوپر ایک الٹرا ساؤنڈ رپورٹ تھی اور اس کے نیچے میکس سکین۔ مزید ایک پلندا سا تھا جس میں مختلف ڈاکٹروں کے مشورے اور رپورٹیں موجود تھیں۔ صبر کا دامن تھامے، ایک لمبی آہ بھر کر بولی ”اوہ گردا کڈھنا چاہندے ہن“ (وہ گردہ نکالنا چاہتے ہیں ) ۔ اوہ سے مراد ہمارے پنجاب کے مشہور و معروف نیفرالوجسٹ ڈاکٹر محمد خان بلوچ صاحب تھے۔ لیکن شاید اپنے علاقے کی وجہ سے انہیں مجھ پر زیادہ اعتماد تھا اور اس فیصلے کے لئے وہ میری رائے لینا چاہتی تھیں۔
اب اس اللہ کی بندی کو کون سمجھائے کہ جس نے یہ مشورہ دیا وہ ہمارے استادوں کے بھی استاد۔ جبکہ ہم تو اس جنس کی کچی فصل ٹھہرے، جسے ابھی پکنا باقی ہے۔ ہماری کیا مجال کہ ہم ان کے فیصلے کو غلط کہیں۔
ہمارے ہاں عموماً دو قسم کے ڈاکٹر ہوتے ہیں، چھوٹے یا پھر بڑے، مگر اس کا معیار ذرا سادہ سا ہے۔ دیہات میں جو نیم حکیم ہوں، انہیں چھوٹا، جبکہ ایم بی بی ایس کو بڑا ڈاکٹر مانا جاتا ہے۔ حالانکہ ایم بی بی ایس اس ترقی یافتہ میڈیسن کے شعبے کا پہلا زینہ ہے اور اس لیے یہ سب سے جونیئر گردانے جاتے ہیں۔ ایم بی بی ایس کے بعد ماہر امراض یعنی سپیشلسٹ اور سب سپیشلسٹ ہوتے ہیں۔ لیکن دیہاتی سادہ آدمی اس الجھن سے پرہیز کرتے ہیں اور چھوٹے اور بڑے ڈاکٹر پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ چونکہ میری ایم بی بی ایس کی ڈگری مکمل ہونے کو ہے، لہذا ان کی نظر میں ہم ایک بڑے ڈاکٹر ٹھہرے۔ ہمارا گاؤں بھی ایک، تو انہوں نے اپنا فرض عین سمجھا کہ کیوں نا اپنے چراغ سے ہی روشنی حاصل کی جائے۔
الٹرا ساؤنڈ کے مطابق بایاں گردہ پھولا ہوا اور اس پر سوزش کافی زیادہ تھی۔ ہائڈرو نیفروسز کی تشخیص رپوٹ پر جلی حروف میں درج تھی۔ گردے کی پتھری، وراثتی اور پیدائشی بیماریاں اور دیگر کئی وجوہات اس کا باعث ہو سکتیں ہیں۔ ذرا بات چیت سے معلوم ہوا کہ اس بے کس اور لاچار ماں کا ایک اور بیٹا بھی اس مرض کی تاب نا لاتے ہوئے اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا۔ پہلے بیٹے کا غم اپنی جگہ، اب کی بار دوسرا بیٹا بھی اس راہ پر چل نکلا۔ کوئی وراثتی بیماری ہی ہو سکتی ہے۔ بہرحال وجہ جو بھی تھی معاملہ کافی گمبھیر تھا۔
میکس سکین کی رپورٹ دیکھ کر آنکھیں پھٹ سی گئیں اور میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ اس صورت حال میں گردہ نکالنے کے علاوہ حل کیا ہو سکتا تھا! جب بایاں گردہ محض 18 فیصد کام کر رہا ہو تو اس صورت میں اس گردے کا نکالنا ہی بہتر حل ہوتا ہے۔ مزید معالج کی ذمہ داری بنتی ہے کہ مریض کو دیکھ اور جانچ کر مرض کی جڑ تلاش کرے اور اس کی تلافی کے لیے حتی المقدور کوشش کرے۔
زخموں سے چور اور پریشان حال ماں کو دلاسا دینے کی بھر پور کوشش کی۔ اس دنیا میں ہزاروں انسان ہیں جو صرف ایک گردے کی بنا پر زندہ ہیں۔ کئی تو اپنی رضا مندی سے، صحت مند ہونے کے باوجود اپنے کسی عزیز یا رشتہ دار کی جان بچانے کی خاطر اسے ڈونیٹ کر دیتے ہیں۔ کئی دونوں گردوں کے ناکام ہونے کی صورت میں ٹرانسپلانٹ کروا کر ایک گردے سے ہی نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔
یہ رب ذو الجلال والاکرام کا امتحان ہے۔ وہ دنیا میں اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ ایک جوان بیٹے کی موت کا صدمہ لیے دوسرے بیٹے کو اس حالت زار میں دیکھنا یقیناً آسان نہیں۔ ساتھ ہی واضح کیا کہ ہم اس میدان میں گھٹنوں کے بل چلنے والے طفل ٹھہرے جبکہ ڈاکٹر خان بلوچ صاحب اس میدان کے تجربہ کار شہسوار ہیں۔ بہرحال شفا من جانب اللہ ہے۔ وہ یقیناً کسی بندے پر اس کی حیثیت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔
اسی دوران اس کا دیور ٹریکٹر لیے پاس سے گزرا اور سوالیہ انداز میں آواز لگائی گھر کو آنا ہے؟ میں نے حوصلہ دیتے ہوئے الوداع کیا اور وہ اپنے گھر کی طرف چل دی۔


