ایران کے اسرائیل پر حملے میں اب تک جیت ایران کی؟


جنگ اور سیاست کو دفاعی ماہرین صدیوں سے شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دیتے آئے ہیں۔

شطرنج کی بساط پر ہر شاطر کے پاس بادشاہ کو بچانے کے لئے سپہ سالار وزیر کی قیادت میں آٹھ پیدل سپاہی، دو رخ، دو گھوڑے اور دو ہاتھی ہوتے ہیں۔ اس کھیل میں بڑے کھلاڑیوں کے لئے وہ وقت لڈیاں ڈالنے کا ہوتا ہے اگر کسی چال کی صورت میں اپنے سپاہی کو شہید کروا کر دوسرے کا ہاتھی، گھوڑا یا رخ گرا لیا جائے۔ بڑے مقابلوں میں عام طور پر مقابل کا ایسی صورت سے واپس آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہ کھیل کو کھینچ تو سکتا ہے مگر جیت یا برابری اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے اگر جیتنے والا اسی طرح کی غلطی خود بھی کر بیٹھے اور حساب برابر ہو جائے۔

کسی جنگ کی صورت میں جیت کی کئی شکلیں ہوتی ہیں۔ ضروری نہیں یہ کسی زمینی قبضے کی شکل میں سامنے آئے۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اپنا بے قیمت سپاہی کھو کر دوسرے کے قیمتی گھوڑے یا ہاتھی کو مار گرائیں یعنی بھاری نقصان کر دیں۔ یا وہ جو ایک حکایت ہے کہ کسی متاثرہ شخص نے بادشاہ سے انعام میں اپنی ایک آنکھ پھوڑنے کی عجیب فرمائش کی کیوں کہ محل کے راشی دربان نے شرط رکھی تھی کہ بادشاہ سے تم جو انعام میں حصہ لو مجھے اس سے دگنا چاہیے۔

اول تو ایران نے اسرائیل پر حملہ کرنے سے تین دن پہلے ہی عراق اور خصوصاً اردن کو بتا دیا تھا کہ اسرائیل پر حملے کے لئے اس کے ڈرون اور میزائل ان ممالک کی فضائی حدود سے گزریں گے۔ اور یہ ممالک ان کو روکنے کی کوشش نہ کریں۔ ظاہر ہے اس کے نتیجے میں یہ تمام ممالک، ان کی فضائی افواج اور ائر ڈیفنس سسٹم تین دن سے مسلسل جاگ رہے یعنی تیار تھے۔ بالخصوص اسرائیل کے۔ کیوں کہ یہ بھی ممکن تھا کہ ایران سیدھے کی بجائے گھما کر حملہ لبنان، شام یا ممکن ہے یمن کی طرف سے کر بیٹھتا۔ اس لئے ایسے کسی حملے کے لئے جس کے لئے آپ تیار ہوں، اس طرح کے حملے کو ناکام بنانا کوئی بہت بڑا کارنامہ یقیناً نہیں۔ اصل حملہ تو چھ ماہ پہلے وہ تھا جو غزہ سے بے سرو ساماں فلسطینی حریت پسند فدائین نے کیا تھا۔ آئرن ڈوم اور غلیل داؤدی تو وہیں ناکام ہو گئے تھے۔

ایران کے ان بے لگام ”ایران ساختہ“ فدائین یا خود کش ڈرون ”جسے میں شہید کہتا ہوں“ کی مالیت عالمی مارکیٹ میں محض بیس ہزار ڈالر فی کس ہے۔ جس پر اگر کوئی ڈھنگ کا پچاس کلو بارودی بم بھی اگر نصب ہو تو شاید کل مالیت تیس ہزار ڈالر فی ڈرون تک چلی جائے گی۔ یعنی اگر کسی بھی بیلسٹک یا کروز میزائل کے بغیر یہ پورے تین سو ڈرون شہد کی مکھیوں کی طرح پل پڑے تھے تو ان سب کی مالیت ”نو ملین ڈالر“ سے زیادہ نہیں تھی (یہ بھی ممکن ہے کہ ایران نے ان میں سے پہلے جانے والے زیادہ تر ڈرون بغیر بم کے بھیجے ہوں ) ۔ جبکہ زیادہ تر ڈرون کو اسرائیلی ائر فورس کے طیاروں نے اور اردن کے پاس تعینات امریکی ائر ڈیفنس سسٹم نے تباہ کر دیا (پانچ سے دس اسرائیل میں گر کر پھٹے ) جبکہ ہر زمین سے فضا میں جانے والا اینٹی میزائل فائر اور فضا سے ہوائی جہاز سے فائر ہونے والا راکٹ کم از کم ایک سے تین ملین ڈالر کا پڑا۔ یعنی پانچ سے چھ سو ملین ڈالر تو وہ ہیں جنہوں نے ایرانی ڈرون کو تباہ کیا۔ اور جو اسلحہ یعنی اسرائیلی میزائل اپنے ہدف کو نہ چھو سکے ان کی تعداد بھی اگر سسٹم کی بہت اچھی پرفارمنس رہی تو اتنی ہی رہی ہوگی۔ یعنی دشمن کا کم از کم کل ایک ارب ڈالر کا خرچہ جب کہ ایران کا خسارہ محض آٹھ سے نو ملین ڈالر۔

تین دن سے اسرائیلی عوام جس اضطراب میں تھے اور اب مزید جس اضطراب سے گزریں گے اور فضا میں تین دن سے ایک بہت بڑی تعداد میں اسرائیلی ائر فورس کا فضا میں رہنا خود ایک بہت بڑی قیمت الگ سے رکھتا ہے۔

اسرائیلی عوام کو بھی یہ پیغام پہنچ گیا ہے کہ اگلی بار اول تو حملہ بتا کر نہیں ہو گا۔ دوئم یہ حملہ ضروری نہیں ایران کی حدود سے ہو۔ بحر روم میں موجود کسی بھی بحری جہاز، شام، لبنان یا بحر احمر میں یمن یا کسی آخری سانسیں لیتے خود کش بحری جہاز یا آب دوز سے بھی ممکن ہے۔ اور صرف یہ خیال ہی فی الوقت اسرائیلی عوام کی نیندیں اڑانے کے لئے کافی ہے۔

دوسری طرف ایران نے اپنے لئے ایک کامیاب منڈی بھی مستحکم کرلی ہے۔

دہشت گرد تنظیمیں، قدرے غریب ممالک کے لئے ایک سیدھا سادہ پیغام گیا ہے کہ پانچ چھ ملین ڈالر ہی نہیں۔ محض ایک دو لاکھ ڈالر سے ہی، پانچ چھ اکٹھے یا الگ الگ خود کش ڈرون کے ذریعے، آپ ہدف سے ہزار کلومیٹر دور بیٹھ کر بھی، اپنے دشمن کی ایسی تیسی کر سکتے ہیں۔ اولمپکس، آئی پی ایل کا فائنل، فٹ بال کا اہم میچ یا دنیا کے کسی اہم لیڈر کی تقریر (جس کے دوران پہلے ہی متعدد کواڈ کاپٹر ہوا میں اڑ رہے ہوتے ہیں ) ، کسی اہم ہدف پر رات کے اندھیرے میں اور یا کسی بھی اہم لیڈر کا جہاز ٹیک آف، لینڈ یا جب زمین پر رینگ رہا ہو گا۔ ان پر پانچ چھ ڈرون کا یک دم حملہ کیسے ناکام بنایا جا سکے گا؟ اور تو اور، کسی بحری جہاز چاہے وہ مال بردار ہو یا فوجی ائر کرافٹ کیریئر وہ کیسے خود کو ایسے کسی یکایک حملے سے بچا سکیں گے۔ اور اگر وہ ڈرون کنٹرول کیا جا رہا ہو تو ممکن ہے خراماں خراماں اڑتا ہوا جہاز کے سوتے کپتان یا کسی ملک کے صدر کے سر پر جاکر پھٹ جائے۔

اسرائیل ایک کم رقبے والا ملک ہے اس لئے وہ اور اس کے اتحادی تو آئرن ڈوم اور غلیل داؤدی جیسے ائر ڈیفنس سسٹم کو افورڈ کر سکتے ہیں۔

کیا بھارت جیسا ملک، کشمیری یا نکسالی حریت پسندوں سے کسی ایسے حملے کو روک سکے گا۔

کیا پاکستان میں ہندوستان کے پالے دہشت گرد کسی اہم شخص، تنصیبات یا تقریب میں ایسی دہشت پھیلائیں تو کیا پاکستان کا اس سے بچنا ممکن ہو گا۔

کسی ملک میں مہمان صدر یا وزیراعظم اگر ایسے کسی حملے کا سبب بنتا ہے تو اس کے کیا نتائج نکلیں گے۔

بہرحال جہاں ایران نے تین دن پہلے بتا کر یہ حملہ کیا اس سے ایران نے نا صرف اپنے آپ کو ناکامی کی کسی خفت سے بچا لیا بلکہ اسرائیل کے اتحادی ممالک اور عرب ممالک کے علاوہ پاکستان میں موجود ایرانی دہشت گردوں کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ایران مخالف ممالک میں اس حملے کے بعد سب سے عقل مندانہ بیانات امریکہ کی طرف سے آئے ہیں کیوں کہ وہ یہ جانتا ہے کہ اس کے متعدد اہم فوجی ٹھکانے اور سفارت خانے ایران کے قریبی ممالک میں موجود ہیں اور اسرائیل نے جو حرکت شام میں موجود ایران کے سفارت خانے سے متصل عمارت پر حملہ کر کے کی۔ وہ حرکت اب ایران بھی کسی بھی ملک میں موجود امریکی، برطانوی یا جرمن سفارت خانے یا فوجی اڈے پر گمنام ڈرون کے ذریعے کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ ایران کے بالکل سامنے، خلیج فارس کے پار قطر میں امریکہ کا بہت بڑا فوجی مرکز ہے۔ عمان اور امارات میں اسرائیلی سفارت خانے۔ سعودیہ، کویت میں امریکی فوجی اڈے کیا مستقبل میں ایسے کسی حملے سے بچ سکیں گے؟ لگ بھگ ناممکن۔

اور اگر ایران اپنے پہلے سے موجود اسمگلنگ کے مستحکم نیٹ ورک کے ذریعے یہ خودکش ڈرون بڑی تعداد میں عراق یا ترکی کے راستے شام تک پہچانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو شام یا اس کے بغل میں موجود حماس، اگر لبنان سے اسی طرح کا حملہ یوم کپور یا انتخابات والے دن یا بقرعید پر تل ابیب اور یروشلم پر ایک ساتھ کرتے ہیں تو اسرائیل کے پاس اس بار پانچ چھ گھنٹے نہیں اپنے بچاؤ کے لئے بمشکل آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہو گا اور اگر یہ حملہ متعدد سمتوں سے ہوتا ہے تو اس کے اثرات اسرائیل یا اس کے اتحادی ہی نہیں پوری دنیا بھگتے گی۔ کیوں کہ غلیل داؤدی ہو یا آئرن ڈوم ایسے کسی بھی حملے سے اگلی بار شاید اتنی کامیابی سے نہ بچ سکیں۔ ایران نے یقیناً اس حملے کے دوران بہت کچھ نتائج اخذ کیے ہوں گے۔ اور وہ ان کی روشنی میں سامنے آنے والی غلطیوں یا خامیوں کو یقیناً نہیں دہرائے گا۔

وہ لوگ جو حب علی میں بغض معاویہ کا شکار ہیں یعنی ایران سے پرخاش رکھتے ہیں وہ اس حملے کو ٹوپی ڈرامہ گردان رہے ہیں جب کہ ایران نے اس حملہ سے جو کچھ حاصل کیا ہے وہ ایک شان دار نتیجہ ہے۔ شطرنج کی بساط پر بھی اور کاروباری حساب سے بھی۔

سعودی عرب، کویت اور امارات ممکن ہے مزید امریکی یا روسی ائر ڈیفنس سسٹم خریدنے کا سوچیں لیکن بہرحال ایک بہت بڑی منڈی خودکش ڈرون اور اس کا سستا توڑ کرنے کے لئے یقیناً وجود میں آ چکی ہے۔

ریاست پاکستان کو بھی یقیناً ہر ایک زاویہ سے ہر معاملے پر نظر رکھنی ہوگی۔ ہم پاکستانیوں میں اچھی بات یہ ضرور ہے کہ ہم موت سے بچنے کی کوشش کم کرتے ہیں اور معاملہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں وہی کرونا اسٹریٹجی۔ اس لئے ہم نہ تو روسی ایس 400 ائر ڈیفنس پر انحصار کرتے ہیں اور نہ اس کے چینی متبادل پر ۔ ہاں ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ اگر ہمارا ایک اسلام آباد تباہ ہوا تو انڈیا میں ممبئی سے لے کر دہلی تک اور کلکتہ سے لے کر ”وائی زیگ“ یقیناً کچھ نہیں بچے گا۔ بس ہمیں افسوس اس بات کا رہتا ہے کہ گیہوں کے ساتھ بہت سارا گھن خوامخواہ پس جائے گا۔

بعض لوگوں کو خدشہ ہے کہ یہ سارا ڈرامہ اسرائیل کو غزہ سے نکالنے کے لئے رچایا گیا ہے تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ شام میں ہونے والے اسرائیلی حملے کا جواب تھا جس میں متعدد ایرانی اور اس کے دوست ممالک کے لوگ مارے گئے تھے۔ اتنا جواب تو ایران کا حق بنتا ہے۔ پاکستان نے تو بالاکوٹ کے پاس محض ایک پاکستانی کوے کی موت کا بدلہ لینے کے لئے اگلے دن انڈیا کے دو جہاز، ایک ہیلی کاپٹر تباہ کروا دیے تھے، سات آٹھ انڈین کو ہلاک اور ایک ابھی نندن کو گائے کے کباب اور چائے پلانے کے لئے مہمان بنالیا تھا۔ تو ایرانیوں کا بھی اتنا تو حق بنتا ہے۔

جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ اب ایران کے ساتھ اسرائیل کیا کرے گا تو جواب یہ ہے کہ ایرانی بھی ہماری طرح مسلمان ہی ہیں اور مسلمان کرتا پہلے ہے سوچتا بعد میں ہے۔ ایران بھی اس وقت اسی حالت میں ہے۔ جو ہو گا دیکھا جائے گا

Facebook Comments HS