ٹیم کیسے تیار ہوتی ہے؟
کسی بھی چھوٹے بڑے کام کو پایہ تکمیل تک پہچانا ہو تو اُس کے لئے ایک ٹیم درکار ہوتی ہے۔ ٹیم کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کیونکہ کوئی بھی اپنی ذات میں انجمن نہیں ہوتا۔ سب کی مہارتیں ملتی ہیں تو کوئی شے یا خدمت اپنی حتمی صورت اختیار کرتی ہے۔
مسلم ممالک میں ٹیم کا بننا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے کیونکہ ان ممالک میں ٹیم نہیں بلکہ صرف شمع کے پروانے ہوتے ہیں۔ کوئی ایک شخصیت زندگی سے بڑی بن جاتی ہے یا بنا دی جاتی ہے اور پھر لوگوں کو اس کے ارد گرد جمع کیا جاتا ہے اور اُس قدآور شخصیت کی ٹیم کا اِعلان کر دیا جاتا ہے۔ اُس جادوئی شخصیت کے نزدیک اُس کی ٹیم کے تمام ارکان کی حیثیت استعمال کر کے پھینک دینے والے ٹشوز سے زیادہ نہیں ہوتی۔ سورج جیسی خصوصیت رکھنے والی یہ شخصیت تو سب کو روشنی دیتی ہے تو وہ خود کسی کے نور کی محتاج کیسے ہو سکتی ہے۔ یہ سوچ کسی بھی ٹیم کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہوتی ہے کیونکہ کوئی بھی ہر فن مولا نہیں ہوتا اور جو اس کا دعویٰ کرتا ہے اُس کی جگہ فاونٹین ہاؤس میں پائی جاتی ہے۔
موثر ٹیم اُس وقت بنتی ہے جب ٹیم کے ہر رکن کو اپنے فرائض اور حقوق کا عِلم ہوتا ہے۔ ہمارے وطنِ عزیز پاکستان میں ٹیم کے ہر رُکن کو اپنے حقوق کا تو بخوبی عِلم ہوتا ہے لیکن اپنے فرائض کے متعلق جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس لیے ہمارے پبلک سیکٹر اداروں میں نا اہلیت اور رسمی کارروائیوں کی دُھول اُڑتی ہے۔ جس کے ہاتھ میں کام کی گیند آتی ہے وہ اُسے دوسرے کی جانب منتقل کر دیتا ہے۔ ہمارے پبلک سیکٹر ادارے الحمدللہ پنگ پانگ کھیل کا عملی ثبوت پیش کرتے ہیں۔
ہمارے پبلک سیکٹر اداروں اور اکثر و بیشتر نجی اداروں میں ٹاپ کی لیڈرشپ یہ سوچ کر تبدیل کی جاتی ہے کہ ادارے کی کارکردگی بہتر ہو جائے گی۔ انقلابی لیڈر جونہی کایا کلپ کرنے والے اقدامات اُٹھاتے ہیں تو ردِ انقلاب کی قوتیں متحرک ہوجاتی ہیں۔ جن کے مذموم مفادات موجودہ صورتحال کو جوں کا توں قائم رکھنے کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں وہ اِنقلابی لیڈر کے نیچے سے قالین کھینچنے کے لیے اپنا پورا زور لگاتے ہیں۔
ہمارے ہاں کے انقلابی لیڈر بھی لنڈے کے مال کی طرح دو نمبر ہوتے ہیں۔ اِن کی اِنقلاب پسندی چند نعروں تک محدود ہوتی ہے اور اپنی ذات کی تشہیر اُن کا مقصدِ حیات بن جاتا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ سارا میدان اُن کے مخالفین سے خالی ہو جائے اور وہ اس میں اپنے چمچے کڑچھوں کے ساتھ دمادم مست قلندر کرتے پھریں۔
کوئی بھی ٹیم اُس وقت پروان چڑھتی ہے جب اُس کے ہر ٹیم ممبر کے پرسنل اور پروفیشنل گروتھ کے لیے تدابیر کی جائیں لیکن جب ٹیم کے تمام ارکان کی حیثیت ”جھولی چُک“ کی ہو تو وہ سب زمین پر رینگنے والے کیڑے بن جاتے ہیں اور اندھوں کا راجا کانا بن جاتا ہے۔ اقتدار ملنے کے بعد اس کانے کی دونوں آنکھیں اُن تمام راستوں پر لگ جاتی ہے جہاں سے اُسے اپنی جاہ و حشمت کے بڑھنے کی اُمید ہو۔
جن اِنسانی معاشروں میں شخصیت پرستی اپنے عروج پر ہو وہاں پر ٹیم ورک نہیں پنپ سکتا۔ وہاں پر سر اٹھا کر اور سینہ پھُلا کر شمس العلماء تو پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن سائنسدانوں کی ریسرچ کرنے والی ٹیم کا وجود ناپید اور نایاب رہتا ہے۔
اداروں کا یہ رواج بھی سمجھ سے بالا تر ہے کہ سُپر سٹار کو ٹیم کا کپتان بنا دیتے ہیں اور پھر وہ بیچارا سُپر سٹار بھی ٹکا ٹوکری ہوجاتا ہے۔ کپتانی مِلنے کے بعد اُس سُپر سٹار کی اپنی پرفارمنس بھی گراوٹ کا شکار ہو جاتی ہے اور کپتانی کا منہ زور بچہ اُس سے سنبھل نہیں پاتا۔ مینیجر بننا کسی سُپر سٹار کے بس کا روگ نہیں ہے کیونکہ سُپر سٹار تو اپنی زلف کا اسیر ہوتا ہے اور مینجمنٹ آئینہ کی جگہ کھڑکی سے باہر دیکھنے کا تقاضا کرتی ہے۔ مینیجر کو تو بسا اوقات اپنی ذات کی نفی کرنا پڑتی ہے جبکہ سُپر سٹار تو نرگس کا پھول ہوتا ہے جو پانی میں اپنا عکس دیکھ خود پر فریفتہ ہوجاتا ہے۔
جب تک ہمارے پاک وطن کے ہر شعبے میں ہیرو پیدا کرنے کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں یہاں پر کارآمد اور نتیجہ خیز ٹیموں کی تشکیل خواب و خیال ہی رہے گی۔ یہاں پر شیخ الاسلام علامہ پروفیسر تو خوب پیدا ہوں گے لیکن ایسے لوگوں کا جنم ناممکن رہے گا جن کا کام اُن کے نام سے بڑا ہو۔


