کیا آپ اپنے خاندان کے لیے بہت قیمتی ہیں؟


چاند رات کی خوشیاں مناتے ہوئے بیری والا چوک گوجرانوالہ میں ایک عید اسٹال کے لیے جگہ کلیر کرواتے ہوئے ایک جھگڑے میں باپ بیٹا قتل ہو گئے۔ خبر کے مطابق اندرون شہر مشہور تجارتی مرکز میں عید اسٹال لگانے کے تنازعہ پر فائرنگ سے باپ بیٹا قتل اور ایک بیٹا گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہو گیا۔ یہ ناخوشگوار واقعہ اس وقت پیش آیا جب سب عید کی خوشیاں سجانے اور چاند رات منانے میں مصروف تھے۔ آپس میں راستہ بند کرنے کے معمولی سے جھگڑے نے مخالفین کی جانب سے فائرنگ سے ہنستے بستے گھروں کو آہوں اور سسکیوں میں بدل دیا اور مخالفین بھی جیل کے سلاخوں کے پیچھے جا پہنچے اور ان کے گھروں میں پل بھر میں صف ماتم بچھ گیا اور پورے شہر کی فضا بھی سوگوار ہو گئی۔

یہ خبر پڑھ کر میں سوچ رہا تھا کہ ہمارے معاشرے میں خوشی کے موقع پر انسانی جانوں سے کھیلنا کتنا آسان ہو گیا ہے؟ یہ عدم برداشت، جارحانہ پن، لاقانونیت اور غصہ ہماری قوم میں اس قدر بڑھتا چلا جا رہا ہے کہ آئے دن معمولی معمولی تنازعات پر انسانی خون بہنے لگتا ہے۔ کبھی گاڑیوں کے سڑک پر ٹکرانے یا حادثے کی وجہ سے ہم دست و گریباں ہونے میں دیر نہیں لگاتے تو کبھی بچوں کی معمولی لڑائی پر پورا پورا خاندان علاقے کو میدان جنگ بنا دیتا ہے۔

چند پیسوں کے لین دین پر جھگڑا جانیں لے لیتا ہے۔ کبھی کسی معاملے میں ہماری بڑا بننے کی خواہش مروا دیتی ہے تو کبھی ہم مذہبی اور سیاسی معاملات میں الجھ کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جاتے ہیں۔ کبھی بلا تحقیق غیرت کے نام پر جذباتی ہو کر خون سے ہاتھ رنگ لیتے ہیں آئے دن سوشل میڈیا پر ایسے بے شمار واقعات دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر کیوں اتنی معمولی معمولی باتوں پر ایک انسان کسی دوسرے انسان کی جان لینے کی کوشش کرتا ہے؟

آخر ہم قانون ہاتھ میں کیوں لے لیتے ہیں؟ باہمی اتفاق و محبت سے دوری کیوں بڑھتی جا رہی ہے؟ کہتے ہیں کہ کسی بھی معاشرے کی بنیاد جن اہم ستونوں پر کھڑی ہوتی ہے ان میں اخلاقیات، برداشت، رواداری اور محبت بنیادی طور پر شامل ہوتے ہیں جب یہ خصوصیات رفتہ رفتہ معاشرے سے ناپید ہونا شروع ہو جائیں تو پھر اس سماج میں منفی سوچ اور رجحانات بڑھنے شروع ہو جاتے ہیں۔ جو بعض اوقات بڑے المیوں کو جنم دیتے ہیں۔ اگر غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کے ننانوے فیصد واقعات کے پس پردہ ہمارے عدم برداشت کا رویہ ہی کارفرما ہوتا ہے۔

عدم برداشت کا مطلب ہے کسی بھی شے یا بات کو برداشت کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہو جانا۔ یہی وہ منفی انسانی رویہ ہے جس سے آج کا انسان دوچار نظر آتا ہے۔ اور یہی منفی رویہ درحقیقت ہماری رواداری، صبر، حوصلے، تحمل اور بردباری جیسی مثبت خوبیوں کو ہم سے دور کرتا چلا جا رہا ہے۔ یہی منفی عدم برداشت جب مزید فروغ پاتا ہے تو انتہا پسندی کی راہ ہموار کر دیتا ہے گویا عدم برداشت سے انتہا پسندی جیسی بڑی برائی جنم لیتی ہے۔

انتہا پسندی کی بنیادی وجہ طبقاتی اور ناقص نظام تعلیم کے ساتھ ساتھ حالات، واقعات اور مثبت تربیت کا فقدان بھی ہوتا ہے۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ برداشت کسی بڑی نعمت سے کم نہیں ہوتی اور یہ برداشت کرنے کی صلاحیت اللہ کسی کسی کو ہی دیتا ہے۔ ورنہ ماہرین عمرانیات کے مطابق معاشرے کے نوے فیصد مسائل کی جڑ عدم رواداری ہے۔ اکثر لوگ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کو اپنی شان سمجھتے ہیں۔

اس قدر بڑھ گئی عدم برداشت
خود کو بھی اب نہیں ہیں ہم برداشت

کہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ مختلف رویوں اور الگ الگ سوچ کے امتزاج سے تشکیل پاتا ہے یہ مختلف رنگوں سے بننے والی قوس و قزح کی مانند خوبصورت ہوتا ہے جسے ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں سے تعمیر کرتے ہیں۔ معاشرے کی بقا اور فروغ انسانی اتحاد اور اتفاق کے رویوں میں پوشیدہ ہوتا ہے جو قوموں کو مہذب بناتا ہے۔ جبکہ عدم برداشت بھی ہمارے انہیں رویوں میں سے ایک رویہ ہی ہوتا ہے مگر یہ معاشرے کا نہایت منفی پہلو سمجھا جاتا ہے۔

، معاشرے میں بڑھتے ہوئے عدم برداشت کی یوں تو بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔ لیکن ان میں سب سے پہلی اور بنیادی وجہ اپنے دین سے دوری ہے۔ نوجوان نسل دین کی بنیادی تعلیم سے بے بہرہ ہو تو اس میں خود پسندی، حسد، جلد بازی، اسراف اور دوسروں کی تحقیر سمیت لاتعداد روحانی امراض جنم لینے لگتے ہیں۔ یہ تمام امراض عدم برداشت کی اصل وجہ اور جڑ بنتے جا رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں عبادات، نیکی، اچھائی، اور بھلائی کرنے کی بات تو بہت کی جاتی ہے مگر برائی سے روکنے اور برائی سے باز آنے پر توجہ نہیں دی جاتی۔

آج ہمارے معاشرے میں عبادات اور نیکیوں کا پرچار تو کیا جاتا ہے لیکن آپس کے معاملات کی اہمیت اور تربیت اس طرح سے نہیں کی جاتی جو اس کا حق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انفرادی طور پر اپنی سوچ اور اپنے رویے کو دوسروں کی سوچ اور رویے سے بہتر سمجھا جاتا ہے اور اپنی ذات کو عقل کل تصور کیا جاتا ہے۔ دوسرے کے موقف کو سننا بھی گوارا نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اپنی سوچ کے خلاف بات برداشت کی جاتی ہے۔ جبکہ برداشت کی مثبت روایت ہمیشہ معاشرے کے امن و سلامتی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

یہ عدم برداشت کی بڑھتی کیفیت اب انفرادی طور پر ہی نہیں بلکہ اجتماعی طور پر بھی دیکھنے میں آ رہی ہے معاشرے میں پھیلا انتشار، بدعنوانی، معاشرتی استحصال، شدت پسندی اور لاقانونیت ہماری قوم میں سرایت کرتا چلا جا رہا ہے۔ انصاف کے حصول میں رکاوٹ اور اس سے بڑھتی نا امیدی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ دیکھا جائے تو ملکی سطح پر سیاسی عدم استحکام کی واحد وجہ بھی ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا ہے ہم نے لوگوں کے نظریات کا احترام کرنا چھوڑ دیا ہے اور دوسروں پر اپنی مرضی، سوچ، عقائد اور رویے مسلط کرنا چاہتے ہیں۔

عدم برداشت کا فوری حل نہ کیا گیا تو یہ نا جانے کتنی زندگیوں کی تباہی کا باعث بن جائے گا۔ اس کے حل سے قبل اس کی وجوہات جاننا بے حد ضروری ہے۔ تعلیم کی کمی اور مذہب سے دوری کے بعد ایک بڑی وجہ انسانوں کے درمیان مقابلہ بازی، حسد و جلن، حرص و ہوس کی بڑھتی ہوئی عادت، غربت، ناخواندگی، بے روزگاری، بدامنی، سفارش اور رشوت کی فراوانی، صحت کی سہولیات کا فقدان بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی ہوش رباء مہنگائی اور بے روزگاری کی جھنجھلاہٹ بھی عدم برداشت کی وجہ بن رہی ہے۔ مہنگائی سے بڑھتی گھریلو پریشانیاں اور مسائل عدم برداشت میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ ، بڑھتی ہوئی طبقاتی تقسیم نے اس عدم برداشت کو مزید ہوا دی ہے جبکہ قناعت پسندی کا فقدان بھی ایک بڑی وجہ کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم انفرادی طور پر اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کر لیں تو صورتحال میں بہتری ممکن ہو سکتی ہے انفرادی عمل ہمیشہ اجتماعی تبدیلی کا باعث بنتا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر بہتری کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہمارا معاشرہ امن و سلامتی کی راہ پر گامزن ہو سکے جس کے کے لیے ہمیں اعلیٰ اخلاقی اقدار کو فروغ دینے اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کے راستے کا انتخاب کرنا ہو گا۔

ایسے واقعات سے بچنے کے لیے ہمیں عام زندگی میں انفرادی طور پر کچھ اچھے طرز عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔ مثلاً روڈ یا سڑک کے حادثات کی صورت میں جذبات پر قابو رکھیں اگر قصور آپ کا نہ بھی ہو تو بڑا پن دکھاتے ہوئے معافی مانگیں اور گھر آجائیں۔ آپس میں غیر ضروری لین دین سے پرہیز کریں اور چند پیسوں کے لیے آپس میں جھگڑے سے بچیں۔ بچے تو بچے ہوتے ہیں سب کے سانجھے ہوتے ہیں ان کی لڑائیوں میں خود کو نہ گھسٹیں خود بچے نہ بنیں بلکہ بڑے ہونے کا ثبوت دیں۔

کسی کے بھی معاملے میں غیر ضروری دخل اندازی سے پرہیز کریں کسی کے معاملات میں بڑا بننے کی کوشش نہ کریں لوگوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیں۔ کسی سے مذہبی و سیاسی معاملات پر بحث نہ کریں اپنے عقائد اور نظریات اپنے تک محدود رکھیں اور کسی کے عقائد و نظریات پر بے جا تنقید سے پرہیز کریں۔ آپ کی ایک منٹ کی برداشت آپ کی عمر بھر کی خوشیوں کی ضامن ہو سکتی ہے۔ یاد رکھیں کہ آپ اپنی فیملی اور خاندان کے لیے بے اہم اور قیمتی ہیں۔

آپ کی کمی کسی صورت پوری نہیں کی جا سکتی اس لیے اپنی ذات کی حفاظت کرنا آپ پر فرض ہے۔ آپ اپنا یہ فرض صرف اپنی برداشت، تحمل اور بردباری کے ذریعے سے ہی ادا کر سکتے ہیں۔ یہ ہمارا اخلاقی، انسانی اور مذہبی فریضہ ہے۔ واصف علی واصف فرماتے ہیں ”آپ برداشت کرنا سیکھ جاؤ ٔ اور معاف کرنا سیکھ لو تو ڈپریشن ختم ہو جائے گا“ ذرا سوچیے کہ عدم برداشت کی آپ کی ایک ذرا سی غلطی آپ کے اور آپ کے خاندان کے لیے کتنے بڑے المیہ کا باعث بن سکتی ہے؟

Facebook Comments HS