ابابیلوں کے منظر مجاہد


زندگی اچھی بھلی چل رہے تھی لوگ ایک دوسرے کے ہاں آ جا رہے تھے بہت سے لوگ تو اپنی روزی روٹی کے سلسلہ میں بھی سرحد پار جاتے اور شام کو واپس آ جاتے۔ ان سب باتوں کے باوجود کچھ شرپسند عناصر جو ہمارے لیے حریت پسندی کی جہدوجہد میں ہفتہ میں ایک دوبارہ مسجد اقصیٰ والے حصہ میں اپنی کارروائی ڈالتے اور بھاگ کر فلسطین والے حصہ میں آ جاتے۔ کبھی کبھار تو اسرائیلی سپاہیوں سے دوچار ہو بھی جاتے، اس سے سرحد پار بھی ہمارے مجاہدین کا ڈر رہتا اور اِدھر اپنے ہاں بھی عزت بنی رہتی۔ یہ ایک طرح کی ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ پچھلی چند دہائیوں سے جاری تھی۔

سات اکتوبر 2023 ؁ء کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کر دیا کوئی لگ بھگ پانچ ہزار راکٹ داغے اور بعد میں اسرائیل کی سرحد میں گھس کر اسرائیل کی ناک پر دندی بھی کاٹ دی اور اسرائیل میں گھس کر مر دوں کو مارا عورتوں کو ننگا کر کے گھمایا اور بچوں تک کو گولیاں ماری گئی اور بہت سوں کو باندی بھی بنا یا۔ بالکل اُسی طرح جیسے پچھلے کئی برسوں سے اسرائیلی سپاہی فلسطینیوں کے ساتھ کر رہے تھے۔ یعنی دو سانڈوں کی لڑائی میں گھاس پس رہی تھی معصوم شہری کسی نہ کسی طرح ظلم ستم کا نشانہ بن رہے تھے کبھی حماس کی گولی سے تو کبھی اسرائیلی سپاہی کے گولی سے۔

حماس کے اس ایکشن پر اسرائیل میں ایمرجنسی ڈیکلیئر کی گئی اور باقاعدہ سرکاری طور پر جنگ کا اعلان کر دیا گیا۔ پھر اسرائیل ایک بپھرے سانڈ کی طرح فلسطین کی آبادیوں پر چڑھ دوڑا اور فلسطین کی گنجان آبادیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ ایک دفعہ پھر اس جنگ کا آغاز کرنے والے نا جانے کہاں جا کر گھس گئے۔ کہا جاتا ہے یہ لوگ فلسطین کی طرف آبادیوں میں چھپ گئے جو دوسرے معصوم لوگوں کی ہلاکتوں کے سبب بھی بنے۔ حماس جس نے شاید منصوبہ بندی میں یہ نہیں سوچا ہو گا کہ ہمارے اس حملہ پر جو ری ایکشن آئے گا اس کا شکار سب سے پہلے ہمارے اپنے معصوم فلسطین شہری ہی ہوں گے۔

یہ لڑائی دراصل حماس نے پہلے چھڑی جس کو بالخصوص پاکستان میں کچھ حلقوں میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا اور پاکستان کے سوشل میڈیا پر فتح کے اعلانات تک ہونے لگے گا جو سوائے ہوا میں تلواریں مارنے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ حملے کے چند دن تک تو ہمارے کیبورڈ واریئرز نے اسرائیل کی نندیں تک حرام کر دیں اور جگہ جگہ فتح کے جشن منائے گے۔ جیسے ہی سرحد کے دوسری طرف سے ری ایکشن آیا وہ اس قدر سخت تھا جس کے بارے میں شاید بہت سے ممالک نے سوچا تک نہیں تھا یہ جنگ چونکہ نان سٹیٹ ایکٹر کی ایک سٹیٹ کے خلاف لڑی جا رہی تھی اس پر آفیشلی چند ممالک نے براہ راست مداخلت سے گریز کیا اور دھیمے لہجے سے فلسطین پر ہونے والے ظلم پر اپنی مذمت ریکارڈ بھی کر والی۔

بالکل پاکستان نے بھی ٹوٹ پھوٹی سی مذمت کی کہ کہیں بین الاقوامی برادری کو برا نہ لگے۔ پھر چند ہفتے بعد پوری دنیا میں فلسطین پر ہونے والے مظالم پر آوازیں اٹھنے لگیں جو کہ واقعی ایک ظلم تھا۔ اسرائیل فلسطین کی اینٹ سے اینٹ بجا رہا تھا اور ساتھ ساتھ ہمارے یوٹیوبرز جو پہلے اپنے وی لاگ پر اسرائیل کو ناکوں چنے چبا رہے تھے اب بے رحم اور ظالم پیش کر رہے تھے بلکہ اینٹر نیشنل کمیونٹی کی بے حسی کو بھی تھمب نیل لگا لگا کر بیان کر رہے تھے۔ اُدھر ہماری مساجد میں بھی فلسطین کے حق میں دعائیں اور یہودیوں کی تباہی کی بد دعا مانگی جار ہی تھی۔

پہلے جو یوٹیوبر مجاہدین اسرائیل کو ناکوں چنے چبانے کے لیے بے قرار نظر آرہے تھے انہیں یاد آ رہا تھا کہ اس کے ساتھ نہ تو ہماری کوئی سرحد ملتی ہے اور نہ ہمارے پاسپورٹ ہمیں وہاں جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اب بس اگر آسرا ہے تو صرف خدا کا کہ وہ کوئی ابابیل بھیجے تو ہمارے لوگوں کی جان کی خلاصی ہو کیونکہ نہ دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں میں اتنا دم خم تھا سوائے بد دعائیں اور گالیاں دینے کے اور نہ او آئی سی مسلم ممالک کی جماعت کچھ کر سکتی ہے۔

اگر انسان صرف سچ میں زندگی بسر کر لے تو سچائی انسان کو آزاد کرتی ہے ہمارا بس اتنا سا ہی مسئلہ ء ہے کہ ہم سچائی نہ سننے کے لیے تیار ہیں نہ سمجھنے کے لیے اور سچ یہ ہے کہ عقل کی لڑائی ہاتھوں سے نہیں لڑی جا سکتی۔ ہم گولی کا مقابلہ تلوار سے کرنا چاہتے ہیں۔ ڈائیلاگ کی بجائے بد دعا سے کام چلانا چاہتے ہیں۔ ایک غلطی نائن الیون کی ہوئی تھی جس سے ہمارا دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں تھا اور ہم نے فری میں اپنے ستر ہزار لوگ مروائے اور دوسری حماس نے کی جس پر بھی ہم نے لگ بھگ تین سے چار ہزار بچے بوڑھے اور عورتیں مروائیں اور بے گھر بھی کروائے۔ ہماری خالی بڑھکوں سے دشمن کا کچھ نہیں بگڑا اُلٹا فلسطین کا نقصان ہی ہوا ہے اور ہو رہا ہے۔

آج ایران نے ایک بار پھر اسرائیل پر میزائل داغے ہیں اسرائیل میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا سوائے ایک بچی کے مرنے کے۔ اس پر بھی ایک بار پھر ہمارے اندر کے اوریا مقبول جان نے انگڑائی لی ہے اور اپنی فتح اور اسرائیل کی شکست کے شادیانے بجا رہے ہیں حالانکہ یہ سب کچھ قبل از وقت ہے۔ پس ہم یہ فیصلہ کر لیں کہ ہم بہادر ہیں کہ مظلوم اگر بہادر ہیں تو آگے جا کر لڑیں، نہیں لڑ سکتے تو اُن معصوموں کو تو نہ مروائیں۔ یہ جنگ ہے اور جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔

دنیا فلسطین کے حق میں ان کے ساتھ کھڑی ہے حماس والے اگر مجاہدین ہیں تو ہمارے لیے ہو سکتے ہیں دنیا کے لیے وہ دہشت گرد ہیں اور اگر مجاہد ہیں تو اپنے لوگوں کو تباہی کے جہنم میں ڈال کر چھپتے نہ پھریں بلکہ سامنے آ کر لڑے ورنہ ٹیبل پر آئیں بات کریں۔ جنگ کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتی بلکہ جنگ تو خود ایک مسئلہ ہے۔ ہماری اس دنیا نے پہلے دو بڑی جنگیں دیکھ لی سوائے تباہی کے کچھ نہیں ملا۔ تیسری جنگ کے خواہش مند یہ بھول گئے ہیں کہ اگر اب کچھ ایسا ہوا تو کچھ باقی نہیں رہے گا۔ نہ ہم نہ آپ اور نہ وہ جو جنگ سے اپنی معیشت چلا رہے ہیں۔ لہذا امن کے بارے میں سوچیں۔ پوری دنیا کی خوشحالی امن سے مشروط ہے۔ یہاں تک ہمارے پیارے وطن پاکستان کو بھی امن کی ضرورت ہے تبھی خوشحالی آئے گئے۔ تبھی خوشحالی کے متلاشی جو پاکستان چھوڑ کر جا چکے ہیں واپس اپنے دیس لوٹ آئیں گے۔ پاکستان پائندہ باد۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments