سرکاری محکمہ جات کا طرز عمل


زندگی معمول کے مطابق گزر رہی تھی۔ بلال ایف ایس سی کر چکا تھا۔ اسے میڈیکل کالج میں داخلہ نہ مل سکا۔ جو میری بہت بڑی خواہش تھی۔ اب وہ دوبارہ ایڈیشنل میتھ کا پرچہ دینے کی تیاری کر رہا تھا اور ساتھ ہی دوبارہ انٹری ٹیسٹ کے لیے بھی متعلقہ سلیبس وغیرہ دیکھ رہا تھا۔ ایف ایس سی کے امتحان شروع ہونے سے تقریباً ایک ماہ پہلے ہمیں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ایڈمیشن بورڈ کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے۔ جس میں ہمیں اطلاع دے دی گئی کہ اس کا داخلہ سیلف فنانس بنیادوں پر شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یارخان میں ہو گیا ہے۔

اُن دنوں ہر گورنمنٹ میڈیکل کالج میں سیلف فنانس بنیادوں پر دس سیٹیں ہوا کرتی تھیں۔ جس کی سالانہ فیس اڑھائی لاکھ روپے ہوتی تھی۔ ڈاکٹر ارشد اس کو ساتھ لے کر وہاں گیا اور اسے داخل کروا دیا۔ اس کالج میں اس کا ایک دوست احمد اس سے دو تین ماہ پہلے سیلف فنانس بنیادوں پر داخل ہوا تھا۔ جب بلال کو داخلے کا لیٹر ملا تو اس نے احمد سے رابطہ کیا کہ وہاں پر داخلے کے لیے کون کون سے ڈاکومنٹس کی ضرورت ہو گی۔ تو اس نے جواب دیا کہ بس روپوں کی ایک بھاری گٹھڑی باندھ کر لے آؤ۔ اس کے علاوہ باقی ساری چیزیں غیر ضروری ہیں۔ بلال کا ایڈمیشن 30 جون کو ہوا تھا اور دو ماہ بعد ہی اس کا فرسٹ ایر کا امتحان تھا۔ اتنے کم عرصے میں سال بھر کے سلیبس کی تیاری ممکن نہیں تھا۔ اس لیے اس سال اس نے امتحان نہ دینے کا فیصلہ کر لیا۔

2005 میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں بہت بڑا زلزلہ آیا تھا اور بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی۔ متاثرین زلزلہ کی طبی امداد کے لیے پاکستان پہنچنے والی سب سے پہلی غیر ملکی ٹیم کیوبا سے پہنچی تھی اور شاید سب سے آخر میں واپس جانے والی ٹیم کا اعزاز بھی اسے ہی حاصل تھا۔ 2006 میں متاثرین زلزلہ کے لیے ڈونیشنز اکٹھا کرنے کے لیے حکومت پاکستان نے حسبِ معمول دوسرے ممالک سے اپیل کی تو حکومت کیوبا کے نمائندے نے اس کانفرنس میں اعلان کیا کہ آپ ہمیں ایک ہزار سٹوڈنٹس دے دیں۔ ہم انہیں اپنے خرچے پر کیوبا میں پڑھائیں گے۔ ڈاکٹر بنائیں گے اور یہ ڈاکٹرز ہمارے نمائندوں کے طور پر پاکستان میں اپنی خدمات سر انجام دیں گے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ساتھ حکومت کیوبا نے یہ جائنٹ ونچر سائن کیا۔ متعلقہ طلباء کو دو ریٹرن ٹکٹس ہائر ایجوکیشن کمیشن نے دینا تھے اور کیوبا میں پڑھائی، رہائش اور کھانے پینے کے تمام اخراجات حکومت کیوبا کے ذمہ تھے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اس سکالر شپ کے لیے درخواستیں مانگیں تو بلال نے بھی درخواست گزار دی اور میرٹ لسٹ میں اس کا نام بھی آ گیا۔ اب ہمارے لیے فیصلہ کرنا بہت ہی مشکل تھا کہ سترہ اٹھارہ سال کے بیٹے کو سات سمندر پار کیسے بھیجا جائے۔

یہاں پر بھی اس کا پچھلا سال تو داخلہ میں تاخیر کی وجہ سے ضائع ہو چکا تھا اور اس سال نئے سرے سے ہی فرسٹ ایر کلاس شروع کرنا تھی اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اس کی سالانہ فیس ہماری مالی حیثیت سے کہیں بڑھ کر تھی۔ اتنی تو شاید میری پورے سال کی تنخواہ بھی نہیں بنتی تھی۔ لیکن یہ بھی تھا کہ اگر وہ یہاں رہتا تو فیس کی ادائیگی پھر بھی ہو ہی جانی تھی۔ لیکن بلال نے کیوبا جا کر وہاں سے ایم بی بی ایس کرنے کا فیصلہ کیا۔

اب میں آپ سے شیئر کروں گا کہ ہمارا کرپٹ نظام مفاد عامہ کے کاموں میں کس طرح رکاوٹ ڈالتا ہے۔ ان دنوں ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان مشہور زمانہ ڈاکٹر عطاء الرحمن کے تحت آتا تھا۔ اس لیے میرٹ لسٹ کی تیاری کے معاملہ میں سارا کام صاف اور شفاف انداز میں کیا گیا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے ہمیں ایک خط موصول ہوا جس میں انہوں نے کچھ ڈاکومنٹس مانگے تھے۔ تعلیمی اسناد کے علاوہ دو ڈاکومنٹس ایسے تھے جن کی تیاری کے سلسلے میں ہمیں مقامی سرکاری دفاتر سے رابطہ مطلوب تھا۔

ان میں سے ایک تو تیس لاکھ کی گارنٹی حکومت پاکستان کو میری طرف سے درکار تھی کہ سکالر شپ ہولڈر اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس پاکستان آ جائے گا۔ میرے پاس ایک خالی پلاٹ پڑا ہوا تھا جس کی سرکاری قیمت تیس لاکھ سے زائد تھی۔ میں نے پٹواری سے اس کی فرد ملکیت بنوا کر اسی سے ہی اس کی سرکاری قیمت کا تخمینہ بھی لگوا لیا۔ اب اس دستاویز کو سب رجسٹرار نے تصدیق کرنا تھا۔ ان دنوں یہ کام اسسٹنٹ کمشنر رجسٹری کیا کرتے تھے۔

میں نے یہ دستاویز اٹھالی اور صاحب کے دفتر جا حاضر ہوا۔ صاحب اس وقت ایک دوسرے سائل سے کچھ معاملات طے کر رہے تھے۔ میں آرام سے وہاں پر پڑی ہوئی ایک کرسی پر صاحب کے عین سامنے جا بیٹھا۔ صاحب نے اتنی اہم مصروفیت کے باوجود میری اس گستاخی پر اپنی خفگی کا اظہار مجھے گھور کر کیا۔ میں اس کے اس رویے کو نظر انداز کرتے ہوئے لا پرواہی کے ساتھ اپنی جگہ بدستور براجمان ہی رہا۔ اپنے گاہک سے فارغ ہو کر وہ میری طرف متوجہ ہوا۔

تو میں نے بصد ادب و احترام اس کے گوش گزار کیا۔ بیٹے نے پڑھنے کے لیے سکالرشپ پر کیوبا جانا ہے اس کے لیے حکومت وقت کو تیس لاکھ کی گارنٹی درکار ہے۔ کاغذات میں نے تیار کروا لیے ہیں بس آپ کی تصدیق چاہیے۔ صاحب غرائے میں نہیں کرتا۔ اس نے کاغذ دیکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ میں نے پھر بڑے ہی فدویانہ انداز میں عرض کی کہ حضور یہ کام آپ نے ہی کرنا ہے۔ یہ آپ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا لیٹر دیکھ لیں اس میں آپ سے تصدیق کروانے کا باقاعدہ ذکر موجود ہے۔

میں نہیں دیکھتا۔ میں نہیں کروں گا۔ بس یہی رٹ تھی۔ میرا فدویانہ اصرار اور اس کا نخوت اور رعونت سے بھر پور انکار کچھ دیر جاری رہا۔ بالآخر میرا صبر جواب دے گیا اور شاید اس کی صورتحال بھی ایسی ہی رہی ہو گی۔ اب میں نے اپنے اندازِ گفتگو میں فدویانہ انداز نکال دیا اور آپ سے بات تم پر آ گئی۔ میں نے کہا۔ دیکھو تم ایک پبلک سرونٹ ہو اور میں پبلک ہوں اور تم میرے سرونٹ ہو اور میرا کام کرنے کے لیے یہاں بٹھائے گئے ہو۔

اگر تو میرا کام کرتے ہو تو پھر ٹھیک ہے لیکن اگر میرا جائز کام بھی نہیں کرتے تو میں ایسے سرونٹ کو یہاں بیٹھنے نہیں دوں گا۔ میں ایسے سرونٹ کو نکال کر ایسا سرونٹ یہاں بٹھاؤں گا جو پبلک کے کام کرے۔ اب تم سوچ لو کہ تم نے یہ کام کرنا ہے یا تمہیں اس دفتر سے نکال باہر کروں۔ یہ اندازِ گفتگو اس کے لیے بالکل نیا اور غیر متوقع تھا۔ اس نے اپنا افسرانہ رعب برقرار رکھنے کے لیے انگریزی زبان کا سہارا لینے کی کوشش کی۔

تو میں اردو سے پنجابی میں آ گیا۔ پنجابی زبان میں تو معمول کی بات چیت بھی دو چار گالیوں کے بغیر پھیکی پھکی سی رہتی ہے۔ یہ تو باقاعدہ لڑائی ہو رہی تھی۔ چنانچہ میں نے اس سہولت کو اپنی گفتگو میں خوب سلیقے سے استعمال کیا۔ مجھے یاد ہے جو آخری فقرہ میری طرف سے استعمال ہوا کچھ ایسے تھا۔ ایہہ تیرے پیو دا گھر اے۔ توں کم نہیں کردا۔ سرکار دا دفتر اے۔ کم نے تیرے وڈکے وی کرن گے او تیری۔ ۔ ۔ (یہ تیرے باپ کا گھر ہے، تو کام ہیں کرتا، سرکار کا دفتر ہے، کام تو تیرے بڑے بھی کریں گے) اور اس کے بعد مسجع و مقفیٰ پنجابی۔

ہمارے شور کی آواز سن کر باہر سے ایک وکیل صاحب دوڑے دوڑے آئے اور آتے ہی مجھے پکڑ لیا۔ وہ ہمارے سابق ہیڈ ماسٹر حنیف صاحب کے بھائی تھے اور میرے واقف کار تھے اور بولے۔ خالد صاحب کیا کر رہے ہیں آپ۔ میرے ساتھ آئیں۔ میں نے جاتے جاتے اسے کچھ اور سنا دیں۔ دفتر کے قریب ہی وکیل صاحب کا اپنا دفتر بھی تھا۔ وہ مجھے وہاں لے آئے اور اپنے ملازم سے کہا۔ خالد صاحب کو پہلے ٹھنڈا پانی پلاؤ۔ اس کے بعد ہمیں چائے پلاؤ اور ہم ابھی چائے پی ہی رہے تھے کہ کاغذات تصدیق ہو کر ہمارے پاس آ گئے۔

دوسری سرکاری دستاویز میں نے مقامی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او سے بلال کا کریکٹر سرٹیفیکیٹ بنوانا تھا۔ صورتحال وہاں بھی اس سے ملتی جلتی ہی تھی۔ اس نے بھی آغاز صاف انکار سے کیا۔ لیکن اس کے ہاتھ میں ڈنڈا اور دفتر کے ساتھ بنی ہوئی حوالات اور اس میں موجود حوالاتیوں کو میں دیکھ چکا تھا۔ اوپر سے سردی بھی شدت کی تھی۔ اس لیے اس کے مقابلے میں میرا رویہ انتہائی ٹھنڈا اور فدویانہ ہی رہا۔ میں اس کے سامنے ایک کرسی پر بیٹھ گیا اور اسے کہا کہ میں سرٹیفیکیٹ لے کر ہی یہاں سے اٹھوں گا۔ اس نے کہا۔ ٹھیک ہے بیٹھے رہو۔ میں بڑے تحمل اور صبر سے وہاں بیٹھا رہا۔ آخرکار آدھے پونے گھنٹے بعد اس نے متعلقہ سرٹیفیکیٹ پر دستخط کر کے اور مہر لگا کر مجھے چلتا کیا۔

Facebook Comments HS