نصاب میں جھوٹ کس طرح داخل ہوتا ہے؟


یونیورسٹی میں بچوں کو تاریخ پڑھانا تو شاید مشکل کام نہیں لیکن تاریخ کا دفاع کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ بچے یونیورسٹی سے قبل ریاست کی جانب سے جاری کردہ ٹیکسٹ بکس تک محدود علم کے ساتھ اپنے علمی سفر کو جاری رکھے ہوتے ہیں۔ جس میں ریاست اپنے وسیع تر قومی مفاد کے پیش نظر ایسی تاریخ مرتب کرتی ہے جس سے ہم آہنگی، مفاہمت، حب الوطنی اور ریاستی اکائیوں کے مابین مضبوط تعلق پیدا ہو۔ اس مقصد کے لیے ایک فلٹر شدہ تاریخ سامنے آتی ہے جو بچوں کو مسلسل سکول اور کالج کے دوران پڑھائی جاتی ہے جس کے بعد بچے اس تاریخ کو عقیدے کی جگہ دینے لگتے۔

اگر کلاس میں کبھی گزشتہ مبینہ تاریخ کا کوئی متبادل زاویہ بچوں کے سامنے رکھا جائے تو بچے حیران ہونے کے ساتھ ساتھ اسے سراسر جھوٹ بھی شمار کرنے لگتے ہیں۔ اس رویے کی کھوج لگانے پہ ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ بچے کہتے کہ ”ہم نے تو آج تک یہ نہیں پڑھا“ بچے اپنی جگہ درست ہیں انہوں نے واقعی نہیں پڑھا ہوتا مگر اس میں غلط یہ ہے جو انہوں نے پڑھا ہے اسے حتمی اور قطعی سمجھ لیتے۔

نصاب میں تبدیلی کیسے کی جاتی ہے اس کا ایک حالیہ مظاہرہ انڈین ٹیکسٹ بکس میں کی جانے والی تبدیلیاں ہیں۔ کہ کیسے غیر محسوس طریقے سے آنے والی نئی نسل ماضی قریب کے واقعات کے بارے اپنا نقطۂ نظر تبدیل کریں گے۔ نیشنل کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ (NCERT) نے گیارہویں اور بارہویں کلاس کی پولیٹیکل تھیوری کی نصابی کتاب میں، تبدیلیاں کی ہیں۔

گیارہویں جماعت کی پولیٹیکل سائنس کی کتاب کے باب نمبر 8 سیکولرازم صفحہ 112 پہ پرانی کتاب پہ 2002 کے گجرات میں ہونے والے فسادات کے بارے اس طرح لکھا ہوا تھا۔ ”2002 میں گجرات میں ہونے والے گودھرا فسادات کے دوران ایک ہزار سے زیادہ افراد، جن میں زیادہ تر مسلمان تھے، کا قتل عام کیا گیا تھا۔“ لیکن نئی کتاب میں اس دلیل کی بنیاد پہ کہ کسی فساد میں سبھی برادریوں کا نقصان ہوتا ہے نا کہ صرف ایک کمیونٹی کا، عبارت کچھ اس طرح سے ہے۔ ”2002 میں گودھرا کے بعد ہونے والے فسادات کے دوران ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔“

اسی کتاب کے پرانے ورژن کے باب نمبر 8 سیکیولرازم کے صفحہ 117 پہ پہلے بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کے بارے لکھا تھا کہ نہرو اکثریتی طبقے کی فرقہ پرستی پہ اپنی تنقید میں بہت سخت تھے جس سے قومی اتحاد کو سخت خطرہ تھا۔ اسی اکثریتی طبقے جس کی طرف نہرو کا اشارہ تھا اس نے اپنی طرف اٹھنے والی انگلی کو یہ کہہ کر حذف کر دیا کہ یہ غیر متعلقہ ہے۔ اور اب نئی کتاب میں صرف یہ ہی درج ہے کہ نہرو اکثریتی طبقے کی فرقہ پرستی پہ اپنی تنقید میں بہت سخت تھے۔ اس سختی کی وجوہات کو نکال دیا۔

بارہویں کلاس کی پولیٹیکل سائنس کی نصابی کتاب: آزادی کے بعد کے ہندوستان میں سیاست کے باب نمبر 1 : نیشن بلڈنگ کے چیلنج کے صفحہ 10 پہ تقسیم ہندوستان کے بعد ہونے والے فسادات پہ پرانی کتاب قدرے معتدل نقطۂ نظر بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ سرحد کے دونوں طرف سے ہزاروں خواتین کو اغوا کیا گیا۔ انہیں اغوا کرنے والے کے مذہب پر مجبور کیا گیا اور زبردستی شادی کرائی گئی۔ بہت سے معاملات میں خواتین کو ان کے اپنے خاندان کے افراد نے ’خاندانی عزت‘ کو بچانے کے لیے قتل کر دیا تھا۔

لیکن نئی چھپنے والی کتاب میں جو تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے اس سے وہی نتیجہ نکلے گا جو ہمارے ہاں نصاب سے نکالا گیا ہے کہ تقسیم ہندوستان کے وقت ظلم صرف مسلمانوں پہ ہوا تھا۔ اسی تاثر کو پروان چڑھانے کے لیے اب عبارت ان الفاظ سے کہ ہزاروں خواتین کو اغوا کیا گیا۔ انہیں اغوا کرنے والے کے مذہب پر مجبور کیا گیا اور زبردستی شادی کرائی گئی۔ بہت سے معاملات میں خواتین کو ان کے اپنے خاندان کے افراد نے ’خاندانی عزت‘ کو بچانے کے لیے قتل کر دیا تھا۔ یعنی بیان کو مخصوص شکل دینے کی بجائے عمومی طور پہ بیان کرنے کے لیے سرحد کے دونوں طرف سے حذف کر دیا گیا۔

اسی کتاب کے باب 3 : منصوبہ بند ترقی کی سیاست کے صفحہ 46 پہ بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے افراد کی تعریف کرتے ہوئے بیان کیا گیا تھا کہ بائیں بازو سے اکثر مراد وہ لوگ ہوتے ہیں جو غریب، پسے ہوئے طبقوں کے حق میں ہیں اور ان طبقات کے فائدے کے لیے حکومتی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ بائیں بازو کی جماعت برسر اقتدار ہے تو بائیں اور دائیں دونوں کو تصوراتی آپریشنل سطح پر بیان کرنے کے لیے اس نے اس کی تعریف یوں کی ہے بائیں بازو سے اکثر مراد وہ لوگ ہیں جو معیشت پر ریاستی کنٹرول کے حق میں ہیں اور آزاد مسابقت پر ریاستی ضابطے کو ترجیح دیتے ہیں۔

اسی کتاب کے باب 7 : علاقائی خواہش کے صفحہ 119 کشمیر کے متنازعہ علاقے جو پاکستان کے زیر انتظام ہیں ان کے بارے لکھا تھا کہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقہ غیر قانونی قبضے میں ہے۔ پاکستان اس علاقے کو ’آزاد کشمیر‘ کہتا ہے۔ اس عبارت کو اب ان الفاظ میں تبدیل کر دیا گیا ہے تاہم، یہ ہندوستانی علاقہ ہے جو پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں ہے جسے پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر (POJK) کہا جاتا ہے۔ اس تبدیلی کی وضاحت صرف یہ ہی بیان کی گئی ہے کہ یہ تبدیلی جو متعارف کرائی گئی ہے جموں و کشمیر کے حوالے سے حکومت ہند کے تازہ ترین موقف سے مکمل ہم آہنگ ہے۔

باب 8 : ہندوستانی سیاست میں حالیہ پیش رفت کے صفحہ 136 بابری مسجد کو گرائے جانے کے لیے چلائی جانے والی رام جنم بھومی تحریک کے بارے ایک سوال درج تھا کہ سیاسی متحرک ہونے کی نوعیت کے لیے رام جنم بھومی تحریک اور ایودھیا کے انہدام کی میراث کیا ہے؟ لیکن اس سوال کو رام جنم بھومی تحریک کی میراث کیا ہے؟ میں تبدیلی کر کے مسجد کے انہدام اور اس کے نتیجے میں پھوٹنے والے فسادات سے توجہ صرف رام مندر کی تعمیر کی جانب موڑ دی گئی ہے۔

اسی باب صفحہ 139 پہ پرانی کتاب پہ رام جنم تحریک کے اثرات بیان کرتے ہوئے لکھا تھا کہ کئی واقعات دسمبر 1992 میں ایودھیا (جسے بابری مسجد کے نام سے جانا جاتا ہے ) کے متنازعہ ڈھانچے کے انہدام پر منتج ہوا۔ یہ پیش رفت بی جے پی کے عروج اور ہندوتوا کی سیاست سے جڑی ہوئی ہے۔ لیکن اس عبارت کو ان الفاظ کے ساتھ تبدیل کر دیا گیا ہے کہ ایودھیا میں رام جنم بھومی مندر پر صدیوں پرانا قانونی اور سیاسی تنازعہ ہندوستان کی سیاست پر اثر انداز ہونے لگا جس نے مختلف سیاسی تبدیلیوں کو جنم دیا۔

رام جنم بھومی مندر تحریک نے مرکزی مسئلہ بنتے ہوئے سیکولرازم اور جمہوریت پر گفتگو کی سمت بدل دی۔ اس کی وجہ محض بیان کی گئی ہے کہ یہ تبدیلیاں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے فیصلے کے بعد ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر پر منتج ہوئیں (جس کا اعلان 9 نومبر 2019 کو کیا گیا تھا) ۔ سیاست میں تازہ ترین پیشرفت کے مطابق مواد کو اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔

اسی باب کے صفحہ نمبر 157 رام جنم بھومی تحریک کے نتائج بیان کرتے ہوئے جو پوائنٹس بنائے گئے ان میں پہلے اور تیسرے پوائنٹ کی عبارت کو تبدیل کیا گیا۔ پہلا نقطۂ تھا منڈل کمیشن کی سفارشات اور ریزرویشن مخالف ہلچل اسے منڈل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے ساتھ جبکہ تیسرے نقطے بابری مسجد کا انہدام کو رام جنم بھومی پر سپریم کورٹ کا فیصلہ سے بدل دیا گیا ہے

ہندوستان نصاب سازی میں اسی ڈگر پہ چل نکلا ہے جس پہ ہم چھ دہائیاں پہلے چلے تھے۔ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب ہندوستان میں حقائق سے یکسر غافل نسل وجود میں آئے گی جو ماضی کے واقعات کو یہ کہتے ہوئے جھٹلا دے گی کہ ہم نے تو ایسا کچھ بھی نہیں پڑھا۔ یہاں پہ جب بھی میں مختلف فورم پہ نصاب کو حقائق پہ مبنی ہونے پہ دلائل دیتا ہوں تو مجھے جو بات سننے کو ملتی ہے کہ جب ساری دنیا میں نصاب کو قومی یک جہتی کے نقطۂ نظر سے ترتیب دیا جاتا ہے تو اگر ہم نے بھی نصاب میں جھوٹ درج کر دیا تو اس میں کیا حرج ہے؟

جی حرج ہے۔ اگر نصاب سچ نہ بتائے تو امریکی سفید فارم بچہ معاشرے میں بلیک امریکیوں کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا؟ وہ دیکھے گا کہ یہ زیادہ تر سست ہوتے ہیں، جرائم پیشہ ہیں، معاشرے میں کوئی تعمیری کردار ادا کرنے والے نہیں ہیں۔ اس لیے وہ انہیں معاشرے پہ بوجھ سمجھتے ہوئے ان سے نفرت کرنے لگے گا۔ یہ نصاب کا فرض ہے کہ وہ سچ بتائے کہ امریکی سیاہ فارم لوگوں کی ذمہ داری ماضی کی سفید فارم کمیونٹی پہ عائد ہوتے ہے۔ انہوں نے ایک لمبا عرصہ غلامی میں گزارہ ہے۔ غلامی ختم ہونے کے بعد بھی انہیں معاشرے میں مکمل انسان ہونے کا حق حاصل کرنے کے لیے ایک لمبا سفر کرنا پڑا ہے۔

اسی لیے نصاب کو محض قومی یک جہتی کی بنیاد پہ جھوٹ کا پلندا بنانے سے حاصل ہونے والی یک جہتی عارضی ہوتی ہے کیوں کہ وہ کمیونٹیز کے مابین پیدا ہونے والی نفرت کے نتیجے میں زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ نصاب میں بیان کی جانے والی تاریخ کو حقائق پہ مبنی ہونا چاہیے کیوں کہ تاریخ کا کوئی مذہب اور عقیدہ نہیں ہوتا۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments