خدارا تنخواہ لے لیجیے


شاعر نے شکوہ کیا تھا:
گلستاں کو لہو کی ضرورت پڑی
سب سے پہلے ہی گردن ہماری کٹی

صدر آصف علی زرداری نے اعلان کیا ہے کہ وہ بغیر تنخواہ لیے ہی گلستاں وغیرہ کی لہو کی ضروریات وغیرہ پوری کرتے رہیں گے۔ محسن نقوی صاحب نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بغیر تنخواہ کے ہی وطن عزیز کی بھینس کا دودھ دوہتے رہیں گے۔ فروری میں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اعلان کیا تھا کہ ملکی مسائل حل کرنے کے لیے وہ اور ان کی کابینہ بغیر تنخواہ کے ہی اپنا دماغ چلاتی رہے گی۔ ہم کتنے خوش نصیب لوگ ہیں، ایسے حکمران دوسرے ممالک کو کہاں نصیب جو حکمرانی کو جاب نہیں سمجھتے۔ (جاب تنخواہ ذمہ داری اور دیانت کا تقاضا کرتی ہے )

فرائیڈ نے کہا تھا ”مجھے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ عورت کیا چاہتی ہے“ اس پر بل کوسبی کہا تھا ”عورت یہ چاہتی ہے کہ مرد ایسے احمقانہ سوال پوچھنے بند کر دیں“ ۔ وہ بے تنخواہ کام کریں یا باتنخواہ، ہمارے حکمران بھی یہی چاہتے ہیں کہ ذمہ داری اور دیانت کا ان سے تقاضا نہ کیا جائے۔ ایک روسی اور امریکی کے درمیان جھوٹی کہانی سنانے کا مقابلہ ہو گیا۔ روسی نے اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا ”یہ کہانی ایک پاک دامن اور باوفا روسی دوشیزہ کی ہے“ ۔ امریکی بولا ”آپ مقابلہ جیت گئے۔“ حکمرانوں کے باب میں ہم بھی ایسا دعوی کریں تو جھوٹی کہانی سنانے کا مقابلہ با آسانی جیت سکتے ہیں چا ہے دنیا کے کسی بھی ملک سے مقابلہ ہو۔

صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی موجودہ حکومت ہماری زندگیوں میں اس طرح آئی ہے جیسے ایک لڑکے کی زندگی میں اس کی گرل فرینڈ آئی تھی، سگریٹ کی طرح۔ کسی نے لڑکے سے پوچھا ”آپ نے سگریٹ کیسے شروع کیے تھے؟“ بولا ”محلے کے ایک لڑکے نے زبردستی دو کش لگوا دیے تھے۔“ ہمیں بھی پی ڈی ایم کی صورت پہلے اس حکومت کے دو کش لگوائے گئے اور اب زبردستی پانچ سال کے لیے مسلط کردی گئی ہے۔ صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز سے لے کر تمام حکومتی وزیر وزراء بال بچے دار ہیں پھر بھی نہ جانے کیوں عوام میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ حکومت کچھ نہیں کرسکے گی۔

گاندھی جی نے کہا تھا ”ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے کیونکہ یہ زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں جب کہ ہندؤں کے ہاں کم بچے ہوتے ہیں“ اس پر مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا ”گاندھی جی مسلمان اس سلسلے میں آپ کے کس کام آسکتے ہیں۔“ پاکستان کے حکمران طبقے اور عوام کے درمیان بھی ایسا ہی فرق ہے مگر دولت کے معاملے میں۔ حکمران مال دار اور عوام غریب ہیں۔ پھر بھی یہ حکمران عوام کو مالدار بنانے میں کسی کام نہیں آسکتے کیونکہ عوام رزق حلال پر یقین رکھتے ہیں۔

صدر زرداری دولت مند بننے میں عوام کی بھی ایسی ہی مدد کر سکتے ہیں جیسی انھوں نے ملک ریاض کی، کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ زرداری صاحب نے سندھ کی 16 ہزار 896 ایکڑ زمین جو سندھ کے غریب لوگوں کی ہاؤسنگ کے لیے مختص تھی ملک ریاض کو ”مفت“ دے دی تھی۔ 2019 میں معاملہ اٹھا تو سپریم کورٹ میں اس زمین کے بدلے میں ملک ریاض نے 460 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اگر زرداری صاحب اپنے صدرمملکت ہونے کی تنخواہ مراعات وغیرہ شامل کر کے پندرہ لاکھ روپے لیں تو تین لاکھ چھ ہزار سات سو تنخواہیں بنتی ہیں، 25 ہزار 556 سال کی تنخواہ کے برابر۔ اگر یہ رقم بینک میں رکھ دی جائے تو پورے جنوبی ایشیا کے تمام صدور کی تنخواہیں ادا کی جا سکتی ہے۔ یہ صرف ایک ٹرانزیکشن کا حال ہے۔ اس ریل پیل میں صدر زرداری کا تنخواہ لینا! ان سے درخواست ہی کی جا سکتی ہے کہ حضور اس ملک کے عوام کو مزید غریب ہونے سے بچا لیجیے۔ خدارا تنخواہ لے لیجیے۔

محسن اسے سمجھاؤ کہ اب رحم کرے وہ
دکھ بانٹتا پھرتا ہے وہ سوغات کی مانند

تنخواہ نہ لینا بیویوں اور بادشاہوں کو ہی زیب دیتا ہے کہ پورے گھر اور سلطنت کے مالک ہوتے ہیں۔ ایک افسانہ نگار خاتون نے اپنی شادی کا اشتہار دیا تو یہ بھی لکھ دیا کہ وہ کھانا بھی پکا سکتی ہیں۔ اس پر انھیں جو پیشکشیں ہوئیں اس میں دس ملازمت کی اور دو شادی کی تھیں۔ اس نظام میں عہدے ملنا شادی نہیں بلکہ ملازمت کی بات ہے۔ تنخواہ نہ لینا ملازمت کو شادی کی کرپشن میں تبدیل کرنا اور پورا ہڑپ کرنے کے مترادف ہے۔ جس سے وہ مالی بے قاعدگیاں جنم لے سکتی ہیں کہ عوام ٹکے ٹکے کے لیے پریشان اور بے حال ہوجائیں اس حد تک کہ حکمرانوں پر ہی جھپٹ پڑیں۔ نپولین نے ایک قربان گاہ پر بارہ چاندی کے مجسمے دیکھے جو ان راہبوں کے تھے جو قربان گاہ کے انتظام چلاتے تھے۔ نپولین نے کہا ”ان مجسموں کو ڈھال کرسکے بنا دو تاکہ یہ دو دو ٹکے ہو کر عوام کے کام آ سکیں۔“

ہمارا حکمران اور مراعات یافتہ طبقہ عوام دوستی کے جس روپ میں بھی سامنے آئے اس کی حیثیت ناٹک اور بہروپ کے سوا کچھ نہیں۔ اپریل 2021 میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں مراعات یافتہ طبقے کو جو سہولیات حاصل ہیں وہ 17.4 بلین ڈالر سالانہ کے برابر ہیں۔ یعنی ایک ہزار چار سو تینتالیس ارب روپے کے مساوی یہ وہ سہولتیں جو ہماری حکمران اشرافیہ اپنے ہاتھ سے اپنے آپ کو دیتی ہے۔ پھر ان سخی داتاؤں کو تنخواہوں کی ضرورت اتنی ہو سکتی ہے جیسے خوراک کے لئے کسی اونٹ کو زیرے کی۔ ایسے میں عوام کہاں جائیں، کس طرف دیکھیں، کس سے امید رکھیں۔ ایک قصہ سن لیجیے :

مہلک بیماری میں مبتلا ایک بادشاہ کو شاہی طبیبوں نے صلاح مشورے کے بعد انسانی پتّہ تجویز کیا مگر وہ جس میں ان کی بتائی ہوئی خاص نشانیاں ہوں۔ بادشاہ کے حکم سے تلاش شروع ہوئی تو ایک غریب کسان کے لڑکے میں ساری نشانیاں مل گئیں۔ ڈھیر ساری دولت کے لالچ میں کسان اپنے بیٹے کو سپاہیوں کے سپرد کرنے پر راضی ہو گیا۔ قاضی نے بھی فتوی دے دیا کہ بادشاہ سلامت کی جان بچانے کے لیے ایک جان کو قربان کر دینا جائز ہے۔ جلاد تلوار لے کر لڑکے کا سر قلم کرنے آگے بڑھا تو اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرایا۔

بادشاہ نے دیکھا تو حیران ہوا کہ موت کے خوف سے تو سب کانپنے لگتے ہیں یہ مسکرا رہا ہے۔ لڑکے کو پاس بلایا اور مسکرانے کا سبب پوچھا۔ لڑکا بولا ”بادشاہ سلامت دنیا میں انسان کا سب سے بڑا سہارا اس کے ماں باپ ہوتے ہیں لیکن میرے ماں باپ نے دولت کے لالچ میں مجھے آپ کے سپرد کر دیا۔ دوسرا سہارا بادشاہ ہوتا ہے کہ رعایا کا محافظ ہوتا ہے وہ میرے قتل میں اپنی جان کی بقا دیکھ رہا ہے۔ تیسرا سہارا قاضی ہوتا ہے کہ اگر ظالم کسی غریب کو ستائے تو وہ ظالم کے خلاف فتوی دے اور اسے ظلم سے روکے لیکن میرے معاملے میں وہ بھی ظالم کے ساتھ مل گیا ہے۔ آخری سہارا خدا کی ذات ہوتا ہے۔ جلاد میرے سر پر آن پہنچا اس کا انصاف بھی ظاہر نہیں ہو رہا ہے۔ اس ستم ظریفی پر مسکرا رہا ہوں۔“ کچھ ایسا ہی حال پاکستانی عوام کا ہے۔ تنخواہ نہ لینے والی حکومت تک پہنچتے پہنچتے جو اس حال کو پہنچ گئے ہیں کہ آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

 

Facebook Comments HS