استاد: غلام سے نوکر تک
استاد کے سماجی مرتبے کے بارے جتنے اقوال، حکایات اور قصے مشہور ہیں یہ سب کے سب فرضی ہیں۔ اگر ان میں کچھ حقیقت ہے بھی تو جزوی اور وقتی نوعیت تک محدود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں استاد کا سماجی مرتبہ زیر التوا رہا ہے۔ ہم استاد کو پیغمبر، گرو، پروہت، پادری اور مذہبی علماء سے جوڑ کر ایک بہت بڑا مغالطہ پیدا کرتے ہیں۔ پیغمبروں کا تو معاملہ ہی الگ ہے۔ مذہبی علماء پادری، پروہت اور گرو یہ ایک خاص ایجنڈے کے سٹیک ہولڈر ہیں۔
سادہ الفاظ میں انھیں مذہبی سرمایہ کاری کا بروکر بھی کہا جاسکتا ہے۔ اب ایک استاد جو ورثے میں ملے علم کو اگلی نسل میں صرف منتقل ہی نہیں کرتا بلکہ فکر اور سوچ کے نئے دریچے بھی کھولتا ہے۔ ہمیں ان تمام کرداروں سے الگ نظر آئے گا۔ استاد کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو سب سے پہلے غلامی کے دور میں استاد کا وجود نظر آتا ہے۔ دور غلامی میں نوجوانوں کی ہدایت اور تربیت کا کام غلاموں کے سپرد تھا۔ اس میں شک نہیں کہ ان غلاموں کو جسمانی مشقت سے رہائی ملی ہو گی لیکن بطور شہری ان کا کوئی مرتبہ نہ بڑھ سکا۔ انھیں غلام ہی رکھا گیا، غلام ہی سمجھا گیا اور غلاموں کی طرح ہی رویے روا رکھے گئے۔
جاگیردارانہ سماج میں استاد کے سماجی مرتبے میں معمولی سی تبدیلی آئی جس کے نتیجہ میں استاد کے لیے محترم کا ہم معنی لفظ تخلیق کیا گیا۔ یہ لفظ فقط استاد کو مخاطب کرنے کے لیے تھا ورنہ کوئی خاص سماجی مرتبہ نہیں دیا گیا۔ اس دور میں استاد کے گھر کا چولہا متمول گھرانوں کی خیرات اور جاگیرداروں کی عنایات سے جلتا تھا۔ ہندوستان میں سکول اور کالجز تو تھے نہیں مدارس اور مکتب تھے جن کی سرپرستی جاگیردار کیا کرتے تھے۔ اسے راہ گزرتے جاگیردار کو ماتھے پر ہاتھ رکھ کر سلام بھی کرنا پڑتا جس کا جواب جاگیردار بڑی رعونت سے دیتا۔ ایک خاص قسم کی رسمی تعلیم ہوتی جو استاد کی ذمہ داری ہوتی۔ نئی سوچ فکر اور شخصی آزادی کے بارے اگر کوئی سر پھرا کچھ کہہ دیتا تو اس بے چارے کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی۔
انگریزوں کے آنے کے بعد سرکاری سطح پر سکول اور کالجز تعمیر ہوئے اور تعلیم کی سرپرستی سرکار کے زیر انتظام ہوئی۔ اس دور میں استاد کو سماجی رتبہ بھی ملا اور ایک باوقار شناخت بھی۔ استاد پہلی بار متمول گھرانوں کی خیرات اور عوامی عطیات سے آزاد ہوا۔ اس دور کے استاد نے ایسی نسل تیار کی جس نے جاگیرداروں کی زنجیروں کو توڑنے کا خواب دیکھا۔ جس نے یہ سوچا کہ غلامی کی سو سالہ زندگی سے آزادی کا ایک دن بہتر ہے۔ یہی سماجی تغیر سیاسی سطح پر بھی بلند ہوا تھا۔
اس دور میں نامور اساتذہ پیدا ہوئے۔ اب تعلیم جب سرمایہ دارانہ نظام کے زیر اثر آ گئی۔ پرائیویٹ ادارے تشکیل دیے گئے۔ ان اداروں نے استاد کا سماجی مرتبہ چھین لیا۔ پرائیویٹ ادارے قدیم عہد میں غلاموں کی خریداری کی طرح استاد خریدتے ہیں۔ استاد جس کا کام اذہان کی آبیاری کرنا، متعلقہ علوم کی مہارتیں سکھانا اور ذہن میں نئے دریچے کھولنا تھا، اس سے اپنے اداروں کی مارکیٹنگ کروائی گئی۔ اسے ایجنٹ کا روپ دیا گیا۔ بہت زیادہ مشقت کے عوض بہت قلیل تنخواہ دی جانے لگی۔
دوسری طرف انھیں سرمایہ داروں سے کمیشن لے کر خود سرکار نے سرکاری اداروں کا انفراسٹرکچر بالارادہ تباہ و برباد کیا۔ فرد کی تعلیم ریاست پر بوجھ محسوس ہونے لگی تو اس کی نجکاری کا منصوبہ بننے لگا۔ نجکاری کے نتیجے میں غریب عوام کے لیے تو مسائل ہوں گے۔ اس کے ساتھ استاد کا سماجی مرتبہ اور شخصی وقار مجروح ہو جائے گا۔ استاد جاگیر دارانہ دور کی طرح اب سرمایہ داروں کا محتاج بن کر رہ جائے گا۔ مقام صد افسوس ہے کہ دنیا نے علم استاد سے سیکھا اور سرمائے کی طاقت حاصل کر کے آسمانوں پر کمندیں ڈال لی۔ حقیر پیشے باعزت بن گئے۔ لیکن اس سارے ترقی کے سفر میں استاد کا سماجی مرتبہ ایک غلام سے نوکر تک کا سفر ہے۔


