آصفہ کی شکل میں شہید بینظیر بھٹو کی پارلیمنٹ میں واپسی
وہی پر اعتماد باوقار لہجہ، سر سفید دوپٹے سے ڈھکا ہوا، بازو پہ امام ضامن بندھا ہوا، چہرے پہ بکھرا صدیوں کا سکون، آواز میں گرج، ایک لمحے کو گمان ہوا کہ شہید رانی محترمہ بینظیر بھٹو 1997 کے بعد تقریباً ستائیس سال بعد پاکستانی پارلیمنٹ میں واپس آ گئی ہیں۔
شہید رانی کی اس بار واپسی ان کی سب سے چھوٹی صاحبزادی 31 سالہ آصفہ بھٹو زرداری کی صورت میں ہوئی جنہوں نے اپنے والد محترم آصف علی زرداری کے صدر مملکت منتخب ہونے کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کہ نشست این اے 207 نوابشاہ سے بلامقابلہ کامیابی کے بعد پہلی بار بحیثیت ممبر قومی اسمبلی پارلیمانی سیاست کا آغاز کیا۔
بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی حلف برادری کو جوں کا توں دیکھتے ہوئے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا جانثار ہونے اور ان سے والہانہ جذباتی اور نظریاتی عقیدت کی وجہ سے میری آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئیں، ایک لمحے کو ایسا لگا جیسے شہید رانی کی آواز ایک بار پھر سے ایوان میں گونج رہی ہے۔ وہی لب و لہجہ، وہی آواز میں گھن گرج، وہی من موہنا خوبصورت چمکتا دمکتا چہرہ، لگا جیسے بی بی رانی روپ بدل کر واپس آ گئی ہیں۔
بی بی آصفہ بھٹو کی حلف برداری پہ تحریک انصاف کے انتشاری ممبران شور مچاتے، طوفان بدتمیزی بپا کیے رہے یہاں تک کہ ایک شہید کی بیٹی کو گالیاں تک دی گئیں اور عمرانی شرپسند ٹولے نے دنیا کو دکھایا کہ وہ اپنی بیٹی بہن ماں کی عزت اسی طرح کرتے ہیں مگر مجال ہے کہ شہید رانی کی باہمت دلیر بیٹی کے اعتماد اس کے چہرے پر موجود اطمینان و سکون میں کوئی ہلکی سی لغزش آئی ہو، انہوں نے بڑی شان بے نیازی سے بد تہذیبی، بے حیائی اور بے غیرتی کے شور و غل کو نظر انداز کیا۔
کئی برس سے بی بی آصفہ بھٹو زرداری کو میدان سیاست میں دیکھتا ہوا آ رہا ہوں۔ ناز و نعم میں پلی انگلستان کے آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی سے سیاست اور عمرانیات میں بیچلرز اور یونیورسٹی کالج لندن سے عالمی صحت اور ترقی کے شعبوں میں ماسٹرز کرنے والی اس چھوٹی سی بچی میں بلا کا اعتماد اور ذہانت نظر آئی۔ وہ اکثر اپنے والد اور بھائی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سیاست میں معاونت کرتے نظر آتی تھیں، مگر فروری 2024 کے انتخابات سے پہلے سے ہی ایک بدلی ہوئی، قیادت و رہنمائی کی خصوصیات اور صلاحیتوں سے مالامال آصفہ میدان سیاست میں بڑی متحرک نظر آئیں۔
آصفہ بھٹو زرداری نے انتخابات سے بہت پہلے سے ہی عوامی ریلیوں، عوامی اجتماعات، اور عوامی و فلاحی پروگراموں میں باقاعدہ شرکت کرنا شروع کر دیا تھا۔ جولائی 2022 کو آصفہ بھٹو پہلی بار حیدرآباد میں ریلی کی قیادت کرنے آئیں، شہید بینظیر بھٹو کا عوامی انداز اپنائے عوام میں گھل مل جانا، کارکنان و چاہنے والوں کے والہانہ استقبال کا اسی وارفتگی اور والہانہ طریقے سے جواب دینا مانو پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو بینظیر بھٹو دوبارہ واپس مل گئیں۔
ان کی ریلی کے روٹ پہ ان کے ساتھ چلتے ان کے مختصر مگر پر اعتماد خطابات کو سنتے اور ان کے خوبصورت و معصوم چہرے پہ پہ پھیلی شہید رانی محترمہ بینظیر بھٹو کی شباہت نے دل موہ لیا تھا۔ میں نے اس ریلی میں اکثر کارکنان کو آنسوؤں سے روتے دیکھا۔ روڈ سائیڈ پہ کھڑے ایک ٹھیلے والے سے جب بی بی آصفہ نے اتر کر فروٹ خریدا اور اپنے ہاتھوں سے کارکنان میں بانٹا تو نگاہوں میں وہ منظر گھوم گیا جب اٹھارہ اکتوبر کو وطن واپسی کے بعد شہید رانی پہلی بار لاڑکانہ گئیں تو بالکل اسی طرح لاڑکانہ شہر کے ایک چوک میں گاڑی روک کر انہوں نے ایک فورٹ والے سے فروٹ لیا تو وہ رو پڑا اور بی بی شہید سے پیسے لینے سے انکار کر دیا تب انہوں نے بڑی شفقت و محبت سے اس غریب فروٹ فروش کے سر پر ہاتھ رکھ کر نہ صرف اسے پیسے دیے بلکہ اس کے خلوص و محبت پہ اس کا شکریہ ادا کیا، آصفہ نے بھی وہی اپنی شہید والدہ والا طرز عمل دوہرایا تھا۔
فروری کے انتخابات میں بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے اپنی پارٹی اور اپنے بھائی کے لیے بڑی جاندار اور دھواں دھار انتخابی مہم چلائی گو کہ سیاسی تجربہ کم تھا مگر اس کے باوجود پرجوش، انتھک مہم کے دوران آصفہ بھٹو زرداری کے قدم قدم سے، ان کے باڈی لینگویج سے شہید رانی کی تربیت اور خاندانی وقار واضح نظر آ رہا تھا۔ پوری انتخابی مہم کے دوران کئی کئی گھنٹے گاڑی میں کھڑے ہو کر ریلیوں کی قیادت کر کے انہوں نے اپنے روشن سیاسی مستقبل کی ایک جھلک دکھائی۔
اپنے والد محترم آصف علی زرداری کے صدر مملکت بننے کے بعد انہیں سرکاری طور پر ملک کی خاتون اول قرار دیا گیا لیکن اس کے باوجود صدر آصف زرداری اور پارٹی قیادت نے یہ ضروری سمجھا کہ شہید رانی کی بیٹی کے لیے جن میں پارٹی کارکنان کو شہید رانی کا عکس نظر آتا ہے یہ صحیح وقت ہے پارلیمانی سیاست کا اور اس طرح بھٹو شہید کی تیسری جنریشن کا ایک اور فرد ملک اور قوم کی خدمت کے لیے کارزار سیاست میں داخل ہو گیا۔ حالانکہ میں ذاتی طور پہ سمجھتا ہوں کہ شہید رانی کی بیٹی کو اس ملک کی آلودہ، بداخلاق، سیاست میں داخل ہی نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ عمران خان اور ان کی انتشاری جماعت نے پاکستان کی سیاست اور معاشرے کو بہنوں بیٹیوں اور ماؤں کے لیے تقریباً نو گو ایریا بنا دیا ہے۔
وہ ہر سیاسی مخالف کو زن دختر گالیاں دے کر مدینہ کی ریاست بنانے کا دعویٰ کرتے ہیں، ایک دن کسی کی عزتیں اچھالتے ہیں تو اگلے ہی دن اسی کے تلوے چاٹنے اور مدح سرائی میں زمین آسمان ایک کر دیتے ہیں جس طرح آج کل اس محمود خان اچکزئی کی شان میں آسمانی قلابے ملائے ہوئے ہیں جن کے خاندان کی بزرگ خواتین و مرد تک ان کی مغلظات سے نہیں بچ سکے تھے۔
بی بی آصفہ بھٹو زرداری کی سیاسی میدان میں اینٹری ایک مثبت قدم ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کی ملک و قوم سے اٹوٹ سیاسی وابستگی اور خدمت کے عزم کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ آصفہ بھٹو زرداری ایک انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ باصلاحیت، باہمت، قابل تعظیم اور با اخلاق نوجوان خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور محترم آصف علی زرداری کی کی سب سے لاڈلی بیٹی بھی ہیں وہ یقیناً پاکستانی سیاست میں ایک خوشگوار اضافہ ثابت ہوں گی اور ملک بھر میں پیپلز پارٹی کے کارکن جو ان میں اپنی شہید قائد محترمہ بینظیر بھٹو کا عکس دیکھتے ہیں ان کی وجہ سے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے پرچم تلے جمع ہو کر پارٹی کی مضبوطی میں کردار ادا کریں گے۔


