ملکہ کوہسار مری کی شان سلیم شوالوی کی خوشگوار یادیں


یہ نصف صدی کا قصہ ہے۔ دوچار برس کی بات نہیں زمانہ طالبعلمی میں عالم شباب میں میرا مری آنا جانا لگا رہتا تھا۔ بعض اوقات پورا سیزن ہی مری گزار دیتا تھا لیکن پیشہ صحافت نے نہ صرف مجھ سے سیر سپاٹا چھین لیا بلکہ اسلام آباد سے چند کلومیٹر کے فاصلے مری جانا بھی ممکن نہ رہا اور جب کبھی مری میں پیشہ ورانہ مصروفیات کے باعث جانا ہوا تو مال روڈ پر مٹر گشت کیے بغیر ہی اسلام آباد واپسی ہو جاتی مال روڈ ہر سیاح کے لئے پر کشش شاہراہ ہوتی ہے۔

پنڈی پوائنٹ سے کشمیر پوائنٹ ہی واک کا مرکزی علاقہ ہوتا تھا۔ کچھ عرصہ تک مری میں کرائے پر مکان لے کر بھی قیام کیا ہے۔ پیشہ صحافت سے تعلق رکھنے کی وجہ سے مری میں میرے تین چار دوست تھے۔ ان میں ایک احمد حسین غنی اور دوسرے سلیم شوالوی تھے جب کہ تیسرے دوست امتیاز الحق ہیں جو زمانہ طالبعلمی سے میرے دوست تھے۔ روزنامہ نوائے وقت کے مری میں نمائندہ خصوصی ہونے کی وجہ سے مری میں اہم سیاسی شخصیات سے ان کا قریبی تعلق تھا۔ مری کی ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت حاجی شفا الحق سے بھی عزت و احترام کا رشتہ قائم تھا۔

میاں نواز شریف جو مری کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں اور مری میں ان کی رہائش گاہیں موجود ہیں۔ امتیاز الحق ان کی مری آمد کے دوران اکثر ملاقاتیں کرتے تھے۔ سلیم شوالوی تھے تو اخبار نویس انگریزی زبان پر انہیں عبور تھا۔ وہ پاکستان ٹائمز میں کئی سال تک مری کی ڈائری لکھا کرتے تھے۔ پاکستان ٹائمز بند ہو جانے کے بعد وہ انگریزی کے دورے اخبارات کے لئے لکھا کرتے تھے۔ میں جب بھی مری جاتا ان کی شاپ سے یادگار کے طور کتاب ضرور خریدتا میری یہ عادت رہی ہے کہ ریلوے سٹیشن یا ائر پورٹ پر کوئی بک سٹال ہو وہاں سے کتاب ضرور خریدتا ہوں اس لحاظ سے سلیم شوالوی سے میری گہری دوستی تھی۔

مری میں قیام کے دوران ان سے شاپ پر ملاقات ہوتی اور چائے کی پیالی پر ان سے ملکی سیاست پر خوب گپ شپ ہوتی سلیم شوالوی صاحب علم صحافی تھے جن کا بیشتر وقت کتب بینی پر صرف ہوتا ہے۔ مشہور ادیبوں اور سیاست دانوں سے ان کے ذاتی تعلقات تھے۔ مری میں ادبی اور صحافتی محافل کے روح رواں تھے۔ سلیم شوالوی کا شمار مری کے سینئر صحافیوں میں ہوتا ہے۔ لہذا ان کے شاگردوں کی بھی بہت بڑی تعداد ہے۔ امتیاز الحق کا شمار بھی ان کے شاگردوں میں ہوتا ہے۔

وہ ممتاز ادیب، دانشور اور منجھے ہوئے صحافی تو تھے۔ ہی لیکن ”جلالی“ طبیعت کے مالک تھے۔ مری کے مسائل کو اجاگر کرنے میں کسی کی ناراضی کی پروا نہیں کرتے تھے۔ سلیم شوالوی کے دور کی ادبی شخصیات میں ملک کے ممتاز ڈرامہ نگار حمید کاشمیری جنہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی احمد حسین غنی، تاریخ مری کے خالق نور الہی عباسی، اقبال میونسپل لائبریری کے منتظم او ممتاز قلم کار مرحوم لطیف کاشمیری جو 6 سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔

سلیم شوالوی کے احباب میں شمار ہوتے تھے۔ روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد کے سابق ریذیڈنٹ جاوید صدیق، دستک کے ایڈیٹر مرزا آصف بیگ، مری کے ممتاز ادیب و دانشور مضطر عباسی اور عباسی بیکرز مری کے مالک انور عباسی بھی شامل ہیں۔ سلیم شوالوی اور اے ایم فاروقی کی کوششوں سے مقامی اسسٹنٹ کمشنر غالباً مرحوم نصر من اللہ نے سلیم شوالوی کی صدارت میں قائم ”مری یونین آف جرنلسٹس“ کے لئے ایمبیسیڈر ہال کے داخلی راستے کے عین ساتھ والے استقبالیہ کمرے کو مری پریس کلب کے لئے پہلے پریس کلب کی حیثیت سے مری یونین آف جرنلسٹس کے حوالے کیا۔

اس دور میں مری کی تقریباً تمام تقریبات اس ہال یا ”مری کلب کے ہال میں منعقد ہوتی تھیں اس دور میں مری کی خبروں کا گڑھ ڈاکخانہ چوک اور ملحقہ عدالتیں اور اہم دفاتر ہوا کرتے تھے۔ اس دور میں لوگ خبریں بذریعہ ڈاک یا انتہائی اہم خبر ٹیلی فون بذریعہ اپنے دفاتر کو دیتے تھے جب کہ کوئی بھی اہم خبر جب ہم آپس میں شیئر کرتے تو سلیم شوالوی اس کو معمول کی خبر کے انداز سے ہٹ کر اس پر نیوز لیٹر لکھا کرتے تھے جس میں اس واقع کی تفصیلات، عوامی رد عمل، پس پردہ حقائق اور متوقع نتائج بھی سامنے لاتے جس کے نتیجے میں مقامی اور ضلعی انتظامیہ فوری طور پر حرکت میں آ جاتی اور اسی وجہ سے حقائق پر مشتمل ایسے موثر“ مکتوبات کا انتظامیہ کو انتظار رہتا تھا جس سے ان کو عملی زندگی میں بھر پور مدد ملتی تھی جب کہ عوامی مسائل کے حل میں یہ مکتوبات انتہائی اہم کردار ادا کرتے تھے۔

اس طرح نہ صرف تحصیل بھر بلکہ ضلعی انتظامیہ بھی سلیم شوالوی کی ذہانت اور لیاقت کی قائل تھی اور اکثر افسران سلیم شوالوی سے ملاقات کو اپنے لئے باعث اعزاز سمجھتے تھے اور ہر نئے منصوبے کے لئے ان سے مشورہ او تجاویز لیتے تھے۔ سلیم شوالوی کی لیاقت اور اعلیٰ ذوق کے پیش نظر مقامی اور ضلعی انتظامیہ کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ مری میں آنے والی ہر اہم ملکی شخصیت کی ملاقات ان سے بطور خاص کروائی جائے جس کے لئے خاصہ اہتمام بھی کیا جاتا تھا۔ مقامی صحافیوں کی خبریں اور کالم اکثر و بیشتر مصلحتوں کا شکار ہوتے تھے۔ مگر سلیم شوالوی نے کبھی بھی خبر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور اپنے قلم کو آزادی سے استعمال کیا اور اسی وجہ سے انہیں پڑھے لکھے طبقے اور اعلی حکام میں خاصی عزت و احترام سے دیکھا جاتا تھا۔

سلیم شوالوی کی شخصیت پر قلم اٹھانے میں ان کے قریبی دوست امتیاز الحق کا تعاون حاصل رہا جس پر میں ان کا ذاتی طور پر شکر گزار ہوں اگر امتیاز الحق کا تعاون حاصل نہ ہوتا تو میں سلیم شوالوی کی شخصیت سے انصاف نہ کر سکتا۔ ایمبیسڈر ہال کے اس چھوٹے سے کمرے میں ”مری پریس کلب“ کا قیام سلیم شوالوی پسند نہ آیا بالآخر سلیم شوالوی اور آئے ایم فاروقی کی کوششوں سے اس وقت کے اے سی مری امتیاز عنایت الہی نے ہمیں ڈاکخانہ چوک سے ملحقہ محکمہ اوقاف کی مسجد کے نیچے اوقاف واقع ریسٹ ہاؤس میں پریس کلب قائم کروا دیا جبکہ اس کی تزئین و آرائش کے لئے اس وقت کے چیئر مین بلدیہ مرحوم محمد شبیر عباسی نے فرنیچر وغیرہ کا انتظام کروا دیا مگر کچھ ہی عرصہ کے بعد محکمہ اوقاف کی جانب سے ہمیں پریس کلب کو خالی کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔

ایسے میں میاں محمد نواز شریف جو اس وقت وزیر اعلی پنجاب تھے۔ ان کی جانب سے پنجاب کی کابینہ سمیت ہمیں چار افراد کو ریسٹ ہاؤس میں کھانے کی دعوت دی گئی تھی جس میں سابق وفاقی وزیر مرحوم خاقان عباسی بھی مہمان تھے۔ ایسے میں سلیم شوالوی، اے ایم فاروقی اور میں نے خاقان عباسی مرحوم سے پریس کلب کے لئے محکمہ اوقاف کے نوٹس کا ذکر کیا تو انہوں نے قریب ہی کھڑے صوبائی وزیر اوقاف خدا بخش بچہ سے کہا کہ یہ صحافی ہی نہیں ہمارے دوست اور خیرخواہ بھی ہیں۔ انہیں فوری طور پر متعلقہ پریس کلب مستقل طور پر الاٹ کر دیں جس کی روشنی میں خدابخش بچہ نے باضابطہ طور پر مری پریس کلب کے لئے وہاں دو کمرے الاٹ کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ یہ پریس کلب آج بھی قائم و دائم ہے جب کہ اس کلب کے انتظام و انصرام کے لئے سلیم شوالوی کی سربراہی میں پہلی بار پریس کلب کی تنظیم تشکیل دی گئی جس کے محرک حافظ محمد طاہر عباسی تھے جب کہ انہیں ہی اس کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف جب بھی مری میں آتے تو امتیاز الحق کو بھی بطور خاص ملاقات کا موقع دیتے اور جب بھی ان سے ملاقات ہوتی تو وہ آئندہ ملاقات میں سلیم شوالوی کو خصوصی طور پر اپنے ہمراہ لے کر آنے کو کہتے۔ اس طرح ان سے ہماری کشمیر پوائنٹ پر گورنمنٹ ہاؤس سمیت گھر پر بھی ملاقاتیں ہوتیں جس میں محمد نواز شریف سلیم شوالوی کی ذہانت اور لیاقت سے بہت متاثر ہوتے۔ ایسے میں ایک موقع پر انہوں نے مجھ سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ سلیم شوالوی مستقل طور پر ان کے ساتھ منسلک ہو جائیں۔

اس طرح جب میں نے سلیم شوالوی سے محمد نواز شریف کی پیشکش کا ذکر کیا تو انہوں نے انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے چہرے پر گہری معنی خیز مسکراہٹ کو سمیٹے ہوئے سگریٹ کا لمبا کش لینے کے بعد کچھ دیر خاموشی اختیار کی اور مجھ سے مخاطب ہوئے کہ ”یار میں تو اپنی آزاد اور اصولی طبیعت کے پیش نظر محکمہ تعلقات عامہ کی اعلیٰ ملازمت نہ کر سکا تو یہ پابندی والی زندگی میں کیسے اختیار کر سکوں گا“ ۔

ایک مرتبہ محمد نواز شریف نے ایک کشمیری ہونے کے ناتے انتہائی خلوص اور اپنائیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سلیم شوالوی سے بے تکلفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شرف میزبانی کے لئے کہا اور یہ شرط رکھی کہ اس دعوت میں کھانے کے تمام لوازمات روایتی کشمیری ہوں، جس پر سلیم شوالوی نے انتہائی خوشی اور خندہ پیشانی سے میزبانی کے شرف کو قبول کرتے ہوئے فوری طور پر کشمیر کے روایتی کھانے بنانے والے باورچیوں سے رابطہ قائم کرتے ہوئے مکمل طور پر ”مینیو“ بھی تیار کروا لیا جبکہ اس دوران مری سے آزار کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن فاروق شاہ مرحوم نے بھی کشمیر کے روایتی کھانوں کی تیاری کے لئے خاصی معاونت کی مگر تمام تر تیاریوں کے باوجود ضلعی اور انتظامیہ اور دیگر اداروں نے گنجان آباد علاقے میں ”حفاظتی انتظامات“ کے پیش نظر اس دعوت کے اہتمام کے لئے معذرت کا اظہار کیا جس پر سلیم شوالوی انتہائی دلبرداشتہ ہوئے۔

سلیم شوالوی سیر و سیاحت کے بہت شوقین تو تھے۔ مگر مری سے ایک رات باہر رہنا ان کے لئے قیامت سے کم نہ تھا۔ یوں وہ اپنی کاروباری مصروفیات کے تحت اکثر راولپنڈی اور اسلام آباد جایا کرتے تھے۔ انہوں نے کتب و جرائد کی خریداری کے بعد رات کو راولپنڈی میں ہی قیام کرنے کا ارادہ کیا اور یوں ایک ہوٹل میں کمرہ بک کروا لیا مگر جوں ہی رات ہوئی انہوں نے اپنے مستقل ٹیکسی ڈرائیور کو فون پر تلاش کر کے ہوٹل پر آنے کو کہا اور اس کے پہنچتے ہی سامان ٹیکسی میں رکھوا کر مری کی جانب چلنے کو کہا وہ راولپنڈی کی گھٹن زدہ ماحول میں کسی صورت بھی رات نہیں گزار سکتا تھے لیکن عارضہ قلب کے باعث انہوں اپنی زندگی کے آخری ایام راولپنڈی میں گزارے ان سب باتوں کے باوجود ملکہ کوہسار مری میں موسم سرماء کے خنک ترین ایام میں ایک بار اے ایم فاروقی، سردار اقبال اور میں نے انہیں مجبور کیا کہ ہم موسم سرما کے کچھ ایام کراچی کے دلفریب موسم میں گزاریں چنانچہ وہ تیار ہو گئے۔

اس طرح مری یونین آف جرنلسٹس کے فنڈز پر بذریعہ کرایہ کی ایک کار پر کراچی کے لئے روانہ ہوئے۔ اس طرح شاید سلیم شوالوی اور دو سے زائد ساتھیوں کی زندگی کا یہ پہلا طویل ترین سفر تھا جس میں ڈیرہ غازی خان اور صادق آباد میں ایک ایک رات قیام کے بعد کراچی پہنچے۔ خیال تھا کہ شاید سلیم شوالوی اپنی جلالی طبیعت کے پیش نظر کسی بھی پڑاؤ سے واپسی کا اعلان نہ کر دیں مگر حیران کن بات یہ ہے۔ وہ اس سفر سے خوب لطف اندوز ہوئے کراچی میں قیام کے دوران ممتاز ڈرامہ نگار، ادیب اور دانشور حمید کاشمیری سمیت دیگر متعدد اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں جنہوں نے سلیم شوالوی کی کراچی میں آمد کو ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا۔ اس دوران جہاں ہم نے ساحل سمندر سمیت لا تعداد مقامات کی سیر کی وہاں سلیم شوالوی نے ملک کے تمام بڑے بڑے پبلشرز سے ملاقاتیں کیں۔

ایک مرتبہ مری میں تعینات رہنے والے اسسٹنٹ کمشنر امجد نذیر جو انتہائی باذوق شخصیت کے مالک تھے۔ کوہاٹ میں ڈپٹی کمشنر اور آدم خیل کے پولیٹکل ایجنٹ تعینات ہوئے تو انہوں نے سلیم شوالوی اور امتیاز الحق کو بطور خاص وہاں آنے کی دعوت دی۔ چنانچہ ان کے پاس جانا ہوا تو سرکٹ ہاؤس میں ہی رہائش کا شاندار اہتمام کیا گیا۔ اس دوران ہمیں خصوصی طور پر ہنگو کے قریب چھ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع پہاڑی علاقہ سمانہ میں بھی رات کا قیام کروایا گیا رہا جہاں سلیم شوالوی نے اس بے آب و گیاہ علاقہ کو دیکھ کر مری کو بہت یاد کرتے ہوئے کہا کہ ”شاید مری جیسا علاقہ پوری دنیا میں نہیں۔

ایسے میں اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی رہنمائی میں درہ آدم خیل کے سرکاری دورے کے دوران قانونی اسلحہ بطور تحفہ پیش کیے جانے کی دعوت دی گئی مگر غصیلی، جلالی اور لڑاکا طبیعت کے باوجود سلیم شوالوی نے اس پیش کش سے شکریہ کے ساتھ انکار کر دیا سلیم شوالوی جو ملکہ کوہسار مری کو ایک لمحہ کے لئے بھی اپنی نظروں سے اوجھل رکھنا پسند نہیں کرتے تھے جب کہ اسلام آباد و راولپنڈی سے اپنے کام کو ختم کرتے ہوئے انتہائی تھکاوٹ اور نقاہت کے باوجود رات گئے بھی واپس مری پہنچ جایا کرتے تھے۔ انہوں نے راولپنڈی میں کمیٹی چوک سے ملحقہ علاقے میں مستقل سکونت اختیار کر رکھی تھی۔

 

Facebook Comments HS