تباہی کے دہانے سے بھی آگے: پاکستان کی آبادی میں اضافہ


(Original article: The Express Tribune; Beyond the brink: Pakistan ’s population explosion)

ترجمہ و تخلیص: حبیب شیخ

آبادی میں اضافے کا ٹائم بم پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور وہ دنیا کے پانچ سب سے زیادہ آبادی والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ پاکستان کی آبادی 245 ملین یعنی 24 اعشاریہ 5 کروڑ ہو گئی ہے۔ اس کے شدید منفی اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔ آبادی میں اضافے نے معیشت کو مفلوج کر دیا ہے، اہم وسائل اور سماجی انفراسٹرکچر تیزی سے ناکافی ہو چکے ہیں، اور غریب اور غیر تعلیم یافتہ افراد کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔

پاکستان میں آبادی میں اضافہ

گزشتہ چند دہائیوں کے دوران پاکستان کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ بہت سے عوامل اس اضافے میں کردار ادا کرتے ہیں جیسے : زیادہ شرح پیدائش، خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات تک محدود رسائی، ثقافتی اقدار، اور مذہبی عقائد۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگر موجودہ شرح پیدائش کو برقرار رکھا گیا تو 2050 تک پاکستان کی آبادی 40 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔

بنگلہ دیش کا آبادی پر قابو پانا

بنگلہ دیش، جو پاکستان کے ساتھ ایک جیسے ثقافتی اور تاریخی پس منظر کا اشتراک رکھتا ہے، اپنی آبادی میں اضافے کو نمایاں طور پر روکنے میں کامیاب رہا ہے۔

بنگلہ دیش کو 1970 ء کی دہائی میں بڑھتی ہوئی آبادی کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ حکومت نے فوری کارروائی کی ضرورت کو تسلیم کیا اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے مختلف پالیسیوں اور پروگراموں کو نافذ کیا۔ 1976 ء میں شروع کیے گئے تاریخی اقدامات میں سے ایک قومی خاندانی منصوبہ بندی پروگرام تھا۔ اس پروگرام کا مقصد ملک بھر میں جوڑوں کو قابل رسائی اور سستی خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات فراہم کرنا تھا۔

ان اقدامات کے ذریعے بنگلہ دیش نے خاندانی منصوبہ بندی کی اہمیت پر زور دیا، لوگوں کو مانع حمل کے طریقوں کے بارے میں تعلیم دی، اور مانع حمل کی ادویات کی رسائی کو آسان کیا۔ مزید برآں، حکومت نے غیر سرکاری تنظیموں اور کمیونٹی پر مبنی گروپوں کے ساتھ شراکت داری کی تاکہ اس بارے آگاہی پیدا کی جا سکے اور خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات کو موثر طریقے سے فراہم کیا جا سکے۔

پاکستان کے لئے کامیابی کا سبق

آبادی پر قابو پانے میں بنگلہ دیش کی کوششوں سے قابل ذکر نتائج برآمد ہوئے۔ 2023 ء کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 1970 ء میں شرح پیدائش (ایک عورت سے پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد کا اوسط) تقریباً 6 اعشاریہ 3 ( 6.3 ) تھی، لیکن ملک نے کامیابی کے ساتھ اسے 1 اعشاریہ 94 ( 1.94 ) تک کم کر دیا ہے۔ اس کامیابی کو ایک اہم سنگ میل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ 2 اعشاریہ 1 ( 2.1 ) کی شرح پیدائش کو متبادل سطح سمجھا جاتا ہے، جہاں آبادی کا سائز مستحکم ہو جاتا ہے۔ بنگلہ دیش کی آبادی میں اضافے کی شرح ایک فیصد ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں شرح پیدائش 2023 ء کے اعداد و شمار کے مطابق 3 اعشاریہ 35 ( 3.35 ) تھی اور آبادی میں اضافے کی شرح تقریباً 2 فیصد تھی۔

اس طرح کی مثالی کامیابی حاصل کرنے کے لئے بنگلہ دیش نے خواتین کو با اختیار بنانے اور تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال تک ان کی رسائی کو بڑھانے پر توجہ مرکوز کی، جس کے نتیجے میں کام کی افرادی قوت میں خواتین کی شرکت میں اضافہ ہوا۔ تعلیم یافتہ اور با اختیار خواتین خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں باخبر فیصلے کرنے کا زیادہ امکان رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے شرح پیدائش میں کمی واقع ہوتی ہے۔

مزید برآں، صحت کی دیکھ بھال کو بہتر بنانے اور بچوں کی اموات کو کم کرنے میں بنگلہ دیش کی پالیسیوں نے بھی آبادی پر قابو پانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب خاندانوں کو اپنے بچوں کی بقا پر اعتماد ہوتا ہے تو ان کے ہاں بچے کم پیدا ہوتے ہیں۔

پاکستان میں آبادی میں اضافے کی وجوہات

خاندانی منصوبہ بندی اور برتھ کنٹرول کے ذرائع تک رسائی کا فقدان: مناسب خاندانی منصوبہ بندی اور پیدائش پر قابو پانے کے اقدامات کی کمی ملک کی تیزی سے آبادی میں اضافے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات: تاریخی طور پر پاکستان میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات زیادہ رہی ہے جس کی بنیادی وجہ صحت کی مناسب سہولیات اور صفائی ستھرائی کی سہولیات تک محدود رسائی ہے۔ اس افسوسناک حقیقت نے خاندانوں کو بڑی تعداد میں بچے پیدا کرنے پر مجبور کیا ہوا ہے، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ کچھ بچے بالغ ہونے تک زندہ نہیں رہیں گے۔

کم شرح خواندگی اور تعلیم: مسلسل کم شرح خواندگی، خاص طور پر خواتین میں، آبادی میں اضافے کو اور آگے بڑھانے میں اہم منفی کردار ادا کر رہی ہے۔

سماجی اور ثقافتی اقدار: سماجی اور ثقافتی اقدار تولیدی رویؤں کی تشکیل پر گہرا اثر ڈالتی ہیں، خاص طور پر کچھ برادریوں میں جہاں بہت سے بچے پیدا کرنا وقار اور خاندانی عزت کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

مذہبی عقائد اور طرز عمل: پاکستان میں مذہبی عقائد اور طرز عمل آبادی میں اضافے پر اثر انداز ہونے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں مذہب لوگوں کی زندگیوں میں بہت اہمیت رکھتا ہے، مذہبی تعلیمات کی اکثر تشریحات بچوں کی پیدائش کی حوصلہ افزائی کے لئے کی جاتی ہیں۔

آبادی میں اضافے کے اثرات

آبادی میں تیزی سے اضافے کی وجہ سے پاکستان پہ نتائج:

بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی، خوراک، اور توانائی جیسے ضروری وسائل کی طلب غیر معمولی سطح پر پہنچ گئی ہے، جس نے ملک کے پہلے سے محدود قدرتی ذخائر پر بہت زیادہ دباؤ ڈالا ہوا ہے۔

آبادی میں اضافے کا چیلنج بے روزگاری اور غربت کے اہم مسائل کو بڑھاتا ہے۔ یہ براہ راست غربت کے تسلسل میں کردار ادا کرتا ہے، اور کئی متوسط طبقے کے خاندانوں کو معاشی مشکلات میں دھکیل دیتا ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی صحت کی دیکھ بھال کے نظام اور تعلیم کے بنیادی ڈھانچے پر کافی دباؤ ڈالتی ہے، جس سے تمام شہریوں کو ضروری خدمات کی فراہمی میں اہم چیلنجز پیدا ہوتے ہیں۔

بڑھتی ہوئی آبادی کے اہم ماحولیاتی مضمرات ہیں۔ اس سے کوڑا، فضلے کی مقدار، استعمال شدہ گندا پانی، فیکٹریوں سے زہریلے مواد کا اخراج، اور آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے اور نتیجتاً ماحولیاتی انحطاط میں تیزی آتی ہے۔

شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی کھلی اور قدرتی جگہوں پر مزید تجاوزات کرتی ہے اور جنگلات کی کٹائی کو بڑھاتی ہے، جس سے حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی توازن کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ صنعتوں، نقل و حمل، اور توانائی کی کھپت سے بڑھتے ہوئے اخراج آب و ہوا کی تبدیلی میں تباہ کن کردار ادا کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں شدید موسمی واقعات جیسے بارش یا خشک سالی کے بے ترتیب رجحانات، اور درجہ حرارت میں اضافہ شامل ہیں۔

بڑھتی ہوئی آبادی کی بنیادی وجوہات کا مقابلہ کرنے کے لئے پالیسیاں

خاندانی منصوبہ بندی اور آگاہی پروگرام: آبادی میں اضافے کو موثر طریقے سے کنٹرول کرنے کے لئے، پاکستان کو خاندانی منصوبہ بندی کو ترجیح دینی ہوگی اور اس کے فوائد کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہوگی۔ خاندانی منصوبہ بندی، مانع حمل اور تولیدی صحت کے بارے میں تعلیمی مہمات کو مختلف میڈیا پلیٹ فارمز اور کمیونٹی پہنچ پروگراموں کے ذریعے فروغ دیا جانا چاہیے۔ ان مہمات میں مذہبی رہنماؤں اور اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کو شامل کرنے سے خاندانی منصوبہ بندی کے طریقوں کے بارے میں غلط فہمیوں اور خرافات کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

خواتین کو با اختیار بنانا اور تولیدی حقوق: جب خواتین تعلیم یافتہ، مالی طور پر خود مختار، اور تولیدی صحت کی دیکھ بھال تک رسائی رکھتی ہیں تو وہ اپنے تولیدی انتخاب کے بارے میں باخبر فیصلے کر سکتی ہیں۔ خواتین کی تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال میں سرمایہ کاری ملک کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔

صحت کی دیکھ بھال اور بچوں کی اموات: پاکستان کو صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے، تمام شہریوں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں معیاری صحت کی دیکھ بھال کی خدمات تک رسائی کو یقینی بنانے میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ بچوں کی شرح اموات میں کمی کا براہ راست تعلق آبادی پر قابو پانے سے ہے۔ جب خاندانوں کو اپنے بچوں کی بقا کی امید بڑھ جاتی ہے تو ان کے کم بچے پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

آبادی میں اضافے کے معاشی مضمرات: آبادی میں اضافہ پاکستان کے لیے گمبھیر معاشی مسائل پیدا کر رہا ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی معاشی ترقی کے لئے دشواریاں پیدا کرتی ہے، کیونکہ ملازمتوں اور وسائل کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے۔ بے روزگاری کم کرنے کے لئے تعلیم، ہنر مندی، اور کاروبار کے مواقع پیدا کرنے میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔

شہرکاری اور دیہی ترقی: آبادی میں اضافے کو کنٹرول کرنے کے لئے شہری اور دیہی ترقی میں توازن ضروری ہے۔ دیہی علاقوں میں مناسب مواقع اور سہولیات کی فراہمی شہری مراکز کی طرف بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔

پھر کیا کیا جائے؟

پاکستان کی آبادی کے اضافے کی شرح کو کم کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ:
1آبادی کے اضافے کی شدت کو ملک کے سب سے بڑے مسئلے کے طور پہ تسلیم کیا جائے۔
2آبادی کے اضافے کی شرح کے بارے میں بلا خوف و خطر معاشرے میں مکالمہ کیا جائے۔
3عوام کو ہر سطح پہ آبادی کے اضافے کی وجہ سے پیدا ہونے مسائل سے آگاہ کیا جائے۔

4پیدائش کی شرح کو کم کرنے کے لئے عورتوں کو روزگار، تعلیم، صحت کے بارے میں تربیت، اور برتھ کنٹرول کے ذرائع تک رسائی فراہم کی جائے۔

5بچوں کی شرح اموات کو کم کرنے کے لئے حفظان صحت کے ڈھانچے کو موثؔر اور معیاری بنایا جائے۔
6آبادی کی شرح کی کمی کے لئے حتمی ٹارگٹ بنائے جائیں۔

سنگاپور اور چین کی جانب سے دو بچوں اور ایک بچے کی پالیسیوں کو کامیابی سے اپنانے سے قابل قدر اسباق ملتے ہیں۔ غربت، عدم مساوات اور دیگر اہم مسائل سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ابتدائی اقدام کے طور پر آبادی کے ضابطے کو بنانے اور اس پہ عمل کرنے کو ترجیح دینی چاہیے۔ خاندانی منصوبہ بندی پر بامعنی بحث ضروری ہے۔ ہمارے وسائل کم ہو رہے ہیں، شہروں میں بھیڑ بھاڑ اور آلودگی ہے، اور ماحولیاتی انحطاط بڑھ رہا ہے۔ غربت سے لے کر آب و ہوا کی تبدیلی تک پاکستان کے متعدد مسائل آبادی میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے مزید بڑھ گئے ہیں۔ ہمیں عوام کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور آنے والے سماجی اور معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ابھی سے کام کرنا ہو گا۔

حوالہ جات :

1.The Express Tribune ; Beyond the brink: Pakistan ’s population explosion ; 23 July 2023; https://tribune.com.pk/story/2427592/beyond-the-brink-pakistans-population-explosion

2.https://www.worldometers.info/world-population/bangladesh-population/
3.https://www.worldometers.info/world-population/pakistan-population/

Facebook Comments HS