فرانس کے بارے میں چند دلچسپ حقائق
1: فرانس زمینی رقبے کے اعتبار سے یورپین یونین کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس کا حدود اربعہ بہت متنوع ہے اور یہاں فرینچ ریوئیرا کے ساحلوں سے لے کر ایلپس کی برف پوش چوٹیاں اور بورڈو کے طویل ونیارڈ (انگور کے باغات) پائے جاتے ہیں۔
2: فرانس کی قومی زبان فرانسیسی ہے جسے ”سفارت کاری کی زبان“ بھی کہا جاتا ہے۔ دلچسپ امر تو یہ ہے کہ برطانیہ اور فرانس کے درمیان رقابت اور جنگوں کی تاریخ کے باوجود یہ 1066 ء سے قریباً 300 سال تک برطانیہ کی بھی قومی زبان رہی اور آج بھی برطانیہ میں بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہے۔ حتٰی کہ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم بھی روانی سے فرانسیسی بولتی تھیں۔
3:فرانس دنیا بھر کے سیاحوں کا پسندیدہ ترین ملک ہے، 2019 ء میں یہاں 8 کروڑ 90 لاکھ سیاح آئے۔ صرف آئفل ٹاور کو دیکھنے ہی ہر سال ساٹھ لاکھ سے زائد سیاح پیرس آتے ہیں۔
4:فرانسیسی کھانے دنیا بھر میں مشہور و مقبول ہیں۔ ان میں پنیر، انگور کی شراب (وائن) اور پیسٹری مصنوعات کے استعمال پر زور دیا جاتا ہے۔
5: 1900 ء میں شائع ہونے والے سیاحتی گائیڈ بک جو مشہور زمانہ ”مچلن ٹائر کمپنی“ نے شائع کی، نے دنیا بھر میں بہترین ریستورانوں کو ایک سے تین ستاروں کی درجہ بندی دی۔ پھر اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا اور مشہور ریستوران یہ درجہ حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگ گئے۔ آج دنیا بھر کے ریستوران یہ درجہ حاصل کرنے کو بے چین رہتے ہیں۔ مچلن بھی فرانسیسی ادارہ ہے۔ اس کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ بہترین ریستوران، فرانس میں پائے جاتے ہیں۔
6:نشاط ثانیہ کے دور سے ہی فرانس فلسفے اور فنون لطیفہ کا مرکز رہا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا آرٹ میوزیم، لوور، بھی یہیں واقع ہے جو دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہے۔
7: فرانس کو دنیا کا ”فیشن دارالحکومت“ بھی کہا جاتا ہے جہاں پیرس فیشن ویک جیسی اہم تقریبات سال میں دو دفعہ منعقد ہوتی ہیں۔
8: فرانس وائن بنانے والے ممالک میں اہم مقام رکھتا ہے۔ یہاں پورے کے پورے علاقے، انگوروں کے باغات کے لیے مختص ہیں، ان میں سے اکثر شرابیں اپنے کاشت کے علاقے کے نام سے جانی جاتی ہیں جیسے کہ بورڈوو، شیمپین اور برگنڈی۔
9: آئفل ٹاور اور لوور میوزیم کے علاوہ بھی فرانس میں کئی تاریخی عمارتیں ہیں جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں جیسے کہ مونٹ سینٹ مائیکل کا سیاحتی جزیرہ، نوٹرے ڈیم، ورسیلیز کا محل اور لوئرو وادی کا شیٹو۔
10 : بہت سی اشیاء اور نظریات جو آج کل عام مستعمل ہیں، کا آغاز فرانس میں ہوا جیسے کہ، گرم ہوا کا غبارہ، پیراشوٹ، میٹرک سسٹم، پیسچرائزیشن (خوراک کو محفوظ کرنے کا عمل)
11 :فرانس کا نظام تعلیم مرکز کے زیر انتظام چلتا ہے اور اس میں دنیا کی بہترین جامعات شامل ہیں جو اپنی تحقیق کے لیے دنیا بھر میں مشہور و معروف ہیں۔
12 : ادب کی تاریخ میں فرانس اہم مقام رکھتا ہے جس نے کئی مشہور زمانہ ادیب پیدا کیے جیسے کہ; وکٹر ہیوگو، مارسیل پروسٹ اور سیمون ڈی بے وآر
13 : فرانس کے نظام صحت کا شمار دنیا کے چند بہترین نظام صحت میں ہوتا ہے جو حکومت کے ”نیشنل ہیلتھ انشورنس پروگرام“ کے تحت چلتا ہے۔ ہر شہری کو بلا امتیاز صحت کی یکساں سہولیات حاصل ہیں۔
14 : فرانسیسی لوگ فٹبال سے والہانہ محبت کرتے ہیں، فرانس نے 1998 ء کے عالمی کپ کی میزبانی کی اور عالمی فاتح بھی بنا، 2018 ء میں اس نے ایک بار پھر فاتح عالم ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔
اس کے علاوہ فرانس سائیکلوں کی مشہور دوڑ ”ٹور ڈی فرانس“ کے لیے بھی مشہور ہے۔
15 : فرانس کا نظام حکومت صدارتی اور پارلیمانی طرز حکومت کا ملاپ ہے جہاں صدر کو زیادہ اختیارات حاصل ہیں بشمول وزیراعظم کی تعیناتی کے۔
16 : فرانس کی قومی زبان تو فرانسیسی ہے لیکن یہاں کئی دیگر زبانیں بھی بولی جاتی ہیں اور انہیں قانونی تحفظ حاصل ہے جیسے کہ; السیشین، اوکیشین، بریٹن، اور کورسیشین۔
17 : فرانس میں عوامی ذرائع آمدورفت کا نظام بہت مضبوط ہے اور اس کا ریلوے نظام یورپ میں بہترین مانا جاتا ہے۔
18 : کیفے فرانس کی سماجی زندگی کا اہم جزو ہیں۔ فرانسیسیوں کا دعویٰ ہے کہ جدید ریسٹورنٹ کا تصور انہوں نے ہی سب سے پہلے اٹھارہویں صدی عیسوی میں پیش کیا۔
19 : فرانس ہر سال کینز فلمی میلے کی میزبانی کرتا ہے جو دنیائے فلم کے اہم اور معتبر فلمی میلوں میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی سینما دنیا بھر میں اپنے تخلیقی تنوع کی بنا پر بے حد سراہا جاتا ہے۔
20 :فرانس کے نظام انصاف کی بنیاد دیوانی (شہری) قوانین پر ہے اور یہ دنیا بھر کے کئی ممالک کے نظام انصاف کی بنیاد بھی ہے۔
21 :فرانس نے اپنے قدرتی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے ملک بھر میں کئی نیشنل پارک اور جانوروں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں تعمیر کی ہیں۔
22 : فرانس کے بحیرہ احمر کے ساتھ ساحل کو ”کوٹے ڈی ایزور“ بھی کہا جاتا ہے اور یہ کروز بحری جہازوں اور ذاتی تفریحی کشتیوں (یاٹ) کے ساتھ ساتھ کینز اور نیس جیسے شہروں کے لیے مشہور ہے جبکہ دنیا کی مختصر ترین خودمختار ریاست ”مناکو“ بھی یہیں واقع ہے۔

