تعلیمی نصاب اور ریاستی بیانیہ


تعلیم کسی بھی معاشرے میں تبدیلی کا سب سے بڑا عنصر ہے۔ پسماندہ ممالک میں تعلیم کے شعبے پر سرمایہ کاری کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ریاستی نگرانی کے تحت تشکیل دیا جانے والا نظامِ تعلیم اور ریاستی سرپرستی میں ترتیب دیا جانے والا نصاب تعلیم ریاستی بیانیے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

ریاستی بیانیہ ہمیشہ سے ریاست کے نظام الامور ہی مرتب کرتے چلے آرہے ہیں۔ جہاں ریاست کی باگ ڈور اُسکی عوام کے ہاتھوں میں ہوتی ہے وہاں ریاستی بیانیہ ہی قومی بیانیہ ہوتا ہے اور جہاں غیر جمہوری قوتیں راج کرتی ہیں وہاں کا سرکاری بیانیہ اُن قوتوں کے اقتدار کو دوام دینے کے لیے بنایا جاتا ہے جس میں جھوٹ کی آمیزش ناگزیر ہوتی ہے اور حقائق کے بر خلاف روایتیں، حکایتیں، کہانیاں اور افسانے شامل کیے جاتے ہیں۔ قصیدے لکھے، پڑھے اور پڑھائے جانے کا رواج عام ہوتا ہے۔

تعلیمی نصاب جو کہ سرکاری سرپرستی میں مرتب کیا جاتا ہے، اس پر سرکاری بیانیے کا غلاف چڑھایا جاتا ہے۔ وطنِ عزیز کی تاریخ اس روایت کی زندہ و تابندہ مثال ہے جہاں، جب جب اور جس جس کو ضرورت پڑی وہیں تعلیم سے کھلواڑ کیا۔

نصاب، نظامِ تعلیم کا ایک اہم جزو ہے اور مرکزی کردار کا حامل ہے۔ نظام کے دیگر اجزائے ترکیبی جن میں اساتذہ، طلباء اور تعلیمی ادارے شامل ہیں، ان کا کردار بھی اصلاً نصاب ہی مرتب کرتا ہے۔ ہماری ریاستی پالیسی کے رہنما اصول آئین میں درج ہیں جن سے ہر حکومت ’حسب ضرورت‘ ہی اکتسابِ فیض کرتی چلی آ رہی ہے۔

ریاست کی تعلیمی پالیسی، نظام کے اہداف اور اس کے لیے مطلوبہ نصاب کے خد و خال وضع کرتی ہے۔ تدریسی طریقہ کار، تدریسی مواد، تدریسی سرگرمیاں اور تدریسی مقاصد کا تعین تعلیمی نصاب کرتا ہے۔ قومی اُمنگوں کا ترجمان تعلیمی نظام اپنے نصاب میں قومی ضرورتوں، وقت کے تقاضوں اور حالات کی نزاکت کو شامل حال رکھتا ہے۔

نصاب سازی میں بالادست طبقات کی بالادستی کو برقرار رکھنا، تعلیم کی غرض و غایت کو موت کے گھاٹ اتار دینے کے مترادف ہے۔ تعلیم کا سب سے بنیادی مقصد طالب علم کے ذہن کو کام میں لانا اور اس کی ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا ہوتا ہے۔ تعلیم ذہن کی تربیت سازی کا نام ہے، اس عمل میں اگر عصبیت کو داخل کر دیا جائے تو پھر انسان تو نہیں بنائے جا سکتے البتہ، اچھی قسم کے روبوٹ تیار کیے جا سکتے ہیں!

آفاقی اور عالمگیر اخلاقیات ہر کہیں تعلیمی نصاب کا لازمی حصہ ہوتے ہیں۔ ہر قوم اپنی معاشرتی اقدار کو تعلیم کے ذریعے ہی اگلی نسلوں کو منتقل کرتی ہے۔ مذہبی، سیاسی و معاشی اقدار بھی تعلیم کے توسط سے ہی عام کی جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا تعلیمی نصاب کو قومی ضروریات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے یا طبقاتی تقاضوں کا ترجمان؟

جو سماج طبقات میں منقسم ہو وہاں نظامِ تعلیم بھی بالا دست طبقے تشکیل دیتے ہیں جو اُن کی کبھی جزو وقتی تو کبھی کل وقتی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ایک منظم اور مستحکم بندو بست ہوتا ہے۔

سائنسی بنیادوں پر استوار تعلیمی نظام ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں سائنسی مضامین بھی غیر سائنسی انداز میں پڑھائے جاتے ہیں۔ ایسے میں عمرانی علوم تو سیاسی و سماجی نظام کے عکاس ہونے یقینی ہوتے ہیں۔

اساتذہ کے کرنے کا جو اصل کام ہے وہ طلباء کی تخلیقی، تنقیدی اور تجزیاتی صلاحیتوں کو دریافت کرنا اور اُنہیں استعمال کے قابل بنانا ہے۔ نتائج اخذ کرنا طلباء کے اپنے ذمے ہوتا ہے۔ تدریس اور تبلیغ میں فرق ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اگر تعلیم و تعلم کا اہتمام کیا جائے تو نتائج غیر منطقی کبھی نہیں ہو سکتے۔

ہم اگر طلباء کو رنگوں کی پہچان بتا دیں گے تو پھر اُنہیں کالے رنگ کی کوئی بھی گاڑی سفید نظر نہیں آئے گی اور ہاں پھر بھی اگر کوئی اُسے سفید کہنے پر مصر ہو تو ہوتا رہے، میں اور آپ کون ہوتے ہیں جو سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید کر دکھائیں؟ ہم زیادہ سے زیادہ ایک اُستاد ہی تو ہیں!

نظامِ تعلیم کو ہدایتکاری کی طرز پر استوار کرنا اور اداکاری کی طرز پر چلانا طبقاتی معاشروں میں غالب طبقات کا طریق ہے۔ نصابی، ہم نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کا محور و مرکز سیاسی، معاشی و معاشرتی نظام ہے جو کہیں بدلاؤ کا متقاضی ہے تو کہیں اصلاح کا۔ ہر دو محاذوں پر بیک وقت راست اقدام ہی مسئلے کا حتمی حل ہے، بصورت دیگر، ”سٹیٹس کو“ برقرار رہنے کے قوی امکانات موجود رہیں گے۔

ریاستی بیانیہ اگر قومی بیانیہ نہیں بنتا تو وہاں قومی یک جہتی، بہتر اُسلوب حکمرانی اور خوشگوار طرز زندگی جیسے مثالی مقاصد کا حصول مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ہے۔

ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ آیا ہمارا تعلیمی نصاب اور ریاستی بیانیہ کس حد تک قومی مفاد میں ہیں، ان میں کتنی ہم آہنگی ہے، کہاں کہاں تفاوت پائی جاتی ہے اور کیسے ہم اپنے تعلیمی نظام میں بہتری لا سکتے ہیں؟ مسئلے کے پائیدار حل کے لیے پیشقدمی سے قبل، مسئلے کا حقیقی ادراک ضروری ہے۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments