وجاہت مسعود سے ملاقات (ادھوری چاہت کی تکمیل)


اچھے طالب علم کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ جن لوگوں کی تحریروں کے ساتھ شامیں گزارتا ہو، جن کی لکھت سے صبح کا آغاز کرتا ہو، ان لوگوں سے ملنے کے لیے ہمیشہ بے تاب رہتا ہے۔

میں خود کو اچھا طالب علم تسلیم تو نہیں کرتا مگر اس کے باوجود ان لوگوں سے ملنے کی چاہت ہمیشہ رہتی ہے جن کی نثر اور شاعری سے گاہے بگاہے مستفید ہوتا ہوں۔

میری عادت ہے کہ صبح اٹھتے ہی اخبارات اور ویب سائٹس پر سے چند مخصوص لکھاریوں کے کالم پڑھتا ہوں۔ وجاہت مسعود صاحب بھی انہیں چند کالم نگاروں میں سے ایک ہیں۔ ان سے میری شناسائی تین سال پر محیط ہے جو ظاہر ہے کالم تک محدود تھی۔ دوسرا حوالہ یہ کہ میں ان کو ہم سب ویب سائٹ کے مدیر اعلی کے طور پر جانتا تھا۔ اور جب خود ہم سب ویب سائٹ پر لکھنا شروع کیا تو ان سے ملنے کی چاہت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ مگر ملاقات کا موقع میسر نہ آ سکا۔

چند مہینے پہلے کی بات ہے کہ میرا ایک کالم بعنوان ”اردو شاعری میں رنگوں کا استعمال“ ہم سب ویب سائٹ پر شائع ہوا۔ اس میں کوئی خاص بات نہ تھی۔ یہ بھی پہلے کالموں کی طرح طالب علمانہ رائے پر مشتمل ایک مختصر تحریر تھی۔

مگر میرے لیے حیرت، خوشی اور اچنبھے کی بات یہ تھی کہ اس کالم کو وجاہت مسعود صاحب نے فیس بک پر بذات خود شیئر کیا۔

مجھے وہ وقت اب تک یاد ہے کہ میں گاڑی میں بیٹھا لاہور سے گھر کی جانب روانہ تھا۔ اچانک، میری اپنی تحریر وجاہت مسعود صاحب کی وال پر، نظر سے گزری۔ اس کے بعد کا لمحہ بیان سے باہر ہے۔ اندازے کے لیے یوں سمجھیے کہ جیسے گاؤں کے کسی کمسن بچے کو اچانک اس کے پسندیدہ کھلونے مل گئے ہوں اور وہ خوابوں میں کھو سا گیا ہو۔

اس کے بعد ہم سب ویب سائٹ پر لکھتا رہا اور لگاتار لکھتا رہا۔

ایک دن یوں ہوا کہ شاہد صدیقی صاحب کی کتاب ”ٹورنٹو، دبئی اور مانچسٹر“ کی تقریبِ پذیرائی کے لیے وجاہت مسعود صاحب کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں مدعو کیا گیا۔ شعبہ اردو اس تقریب کی میزبانی کر رہا تھا اور انتظامی امور کی ذمہ داریاں مجلسِ اقبال کے سپرد تھیں۔

میرے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہو سکتی تھی کہ مجلسِ اقبال (لکھاری مجلسِ اقبال میں نائب صدر کے عہدے پر فائز ہے ) کے توسط سے وجاہت مسعود صاحب سے ملاقات کا موقع میسر آ جائے۔

ایسا ہی ہوا اور تقریب کے بعد جب تمام شرکا مہمان خانہ تشریف لے گئے تو ہم بھی پیچھے پیچھے چل دیے۔

ڈاکٹر الماس خانم صاحبہ سے زیر لب کہا کہ ہم وجاہت مسعود صاحب سے ملنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں نے وجاہت مسعود صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”سر یہ بچے آپ سے ملنا چاہتے“ ۔ اتنی دیر تھی کہ ہم اس کرسی کے قریب چلے گئے جہاں وجاہت مسعود صاحب تشریف رکھتے تھے اور سلام کیا۔ ساتھ ہی ڈاکٹر صائمہ ارم صاحبہ (صدرِ شعبہ اردو، جی سی یونیورسٹی لاہور) تشریف رکھتی تھیں، انہوں نے وجاہت مسعود صاحب سے کہا کہ یہ بچہ آپ کی ویب سائٹ پر لکھتا بھی ہے۔ موقع ملنے کی دیر تھی کہ ہم نے اپنے کالم والا سارا واقعہ کہہ سنایا۔

وجاہت مسعود صاحب اپنی نشست سے اٹھے اور میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے ایک کونے میں جا کھڑے ہوئے۔

ابتدائی گفتگو کے بعد کہتے ہیں ”بیٹا لکھتے رہنا۔ لفظ سے رشتہ مضبوط کرو، آپ جیسا رویہ لفظ کے لیے اختیار کرتے ہیں لفظ بھی آپ سے ویسا ہی برتاؤ کرتے ہیں۔“ پھر مجھ سے پوچھا کہ کس کس لکھاری کو پڑھا ہے تو میں نے اپنے پسندیدہ لکھاریوں، جن میں ملکی و غیر ملکی سبھی شامل تھے، کا نام لیا۔ ایک پاکستانی لکھاری کے نام پر وجاہت مسعود صاحب مسکرائے اور کہا کہ ان کی نثر میں ایک خاص طرح کا نظریہ ہے اور لکھتے وقت وہ سمجھتے ہیں کہ نظریہ ہی نثر کو مضبوط بناتا ہے جس کی بدولت ان کی نثر میں وہ چاشنی موجود نہیں اور لفظوں سے بھی ان کا رشتہ گہرائی نہیں رکھتا۔ میرے لیے یہ رائے یوں بھی اہم تھی کہ میں خود یہی خیال کرتا ہوں۔

اس کے بعد انہوں نے مجھے نیر مسعود، اسد محمد خاں اور محمد حسن معراج کو پڑھنے اور ان کی نثر کو باریکی سے جانچنے کا کہا۔ کیوں کہ اسد محمد خاں کی بعض تحریریں نظر سے گزر چکی تھیں اور نیر مسعود کی نثر کا تو میں مداح ہوں۔ جب میں نے نیر مسعود کی نثر پر بات کی تو انہوں نے کہا ”وہ کیا ہی نثر لکھتا ہے۔“

اتنے میں میرے ہم مکتب ساتھی حسنین تھہیم بھی وہاں آ گئے۔ انہوں نے وجاہت مسعود صاحب سے فقہ اور پاکستانی قانون کے حوالے سے بات کی اور وجاہت صاحب نے ان کے موقف کو سراہتے ہوئے اپنا موقف بھی پیش کیا مگر آغاز یوں تھا کہ ”میری طالب علمانہ رائے یہ ہے کہ ۔ ۔ ۔“

اس کے بعد میرا ہاتھ پکڑے واپس کرسی پر جا بیٹھے اور مجھے ساتھ والی نشست پر بیٹھنے کو کہا۔ دوسری طرف ڈاکٹر سعادت سعید صاحب تشریف رکھتے تھے۔ کچھ دیر بعد میرا تعارف کرواتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”یہ بچہ بہت عمدہ لکھتا ہے۔“

یہ بات سننا تھا کہ میں پھولے نہ سما رہا تھا۔ آخر ان کے جانے کا وقت ہوا، مگر ان کے ساتھ گزارا وہ لمحہ ٹھہر گیا۔

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais