گئے وقت کی یادیں


کبھی کبھی خاموشی اور تنہائی کے لمحوں میں دل یادوں کے محلے میں کھو جاتا ہے اور پھر کچھ پل ٹھہرنے کو بضد رہتا ہے۔ مٹی کی کچی دیواروں اور گھروں کو بھلا کیسے کوئی بھول سکتا ہے؟ ان گھروں میں بسنے والوں کی آنکھوں میں پنپتے ہوئے معصوم سے سپنوں کو کئی بار میں نے اپنی نظروں سے جھانک کر دیکھا۔ ایک جہان آباد تھا، نہ رہا۔ بچپن میں یوں ہی کبھی آبادیوں سے دور ایسی جگہوں پہ چلے جانے کو جی چاہا جہاں ویران کچے گھر ہوں۔ میر کہتے ہیں

ملا ہے خاک میں کس کس طرح کا عالم یاں
نکل کے شہر سے ٹک سیر کر مزاروں کا

مگر شومئی قسمت کہ جن کھوئے ہوئے گھروں کی تلاش ہم کو لاحق ہے اب وہ مکمل طور پر ہی ہمارے سماج سے معدوم ہو رہے ہیں۔ مگر ہمارے ذہن و خیال میں وہ تا دیر آباد رہیں گے۔

جب ہم ابھی کمسن تھے تب چوڑاگرنی (چوڑیاں بیچنے والی) دیہاتوں میں اکثر نظر آجاتی۔ اسی طرح کے ایک کردار سے میں بھی واقف ہوں۔ ہم اس کو بچپن میں مائی بندی کہہ کر بلاتے تھے۔ وہ مہینوں بعد گاؤں گاؤں، نگر نگر گھومتی ہمارے گاؤں پہنچتی۔

بندی مائی آ گئی، بندی مائی آ گئی، سب بچے خوشی سے شور کرنے لگ جاتے۔ سفید بالوں والی مائی جس کے گلے میں انواع و اقسام کے موتی اور منکے لٹکے ہوئے ہوتے تھے اپنی چوڑیاں بیچنے گھر گھر جاتی۔ جیسے ہی ہمارے گھر پہنچتی میری خالہ زاد ہنستی مسکراتی باہر گھر کے آنگن میں آ جاتیں۔ بندی مائی کسی صوفی بزرگ بابے کے مانند گھر کے صحن میں چوکڑی مار کے ہم بچوں کے جھرمٹ کے بیچوں  بیچ بیٹھ جاتی۔ پھر وہ اپنے سر سے کھجور کے رنگے ہوئے پتوں سے بنا ایک بڑا سا ٹوکرا اتارتی جس میں ہر رنگ کی چوڑیوں کے سیٹ بڑی ترتیب سے لگے ہوتے تھے۔

ونگاں چڑھا لؤ کڑیو میرے مرشد دے دربار دیاں (لڑکیو! میرے مرشد کے دربار سے آئی ہوئی چوڑیوں پہن لو)

نیچے زمین پر بیٹھے ہوئے مائی یہ گیت کسی مذہبی بھجن کی طرح مسلسل گاتی رہتی۔ میری خالہ زاد بہنوں کے ہاتھوں میں چوڑیاں پہناتے ہوئے کئی ایک ٹوٹ بھی جاتی تھیں۔ ایس کڑی دا بک بہوں سوہنا اے۔ (اس لڑکی کی کلائی بہت خوب صورت ہے )

مائی ایسا تب کہتی جب کبھی تمام چوڑیاں صحیح سلامت کلائی کی زینت بن جاتیں اور ٹوٹنے سے محفوظ رہتیں۔
ہم چھوٹے بچے بچیاں بھی رنگ برنگے گجروں کی آس میں وہاں تا دیر بیٹھے رہتے۔

کئی بار میرے اندر سے کہیں جگنوؤں کے پیچھے بھاگتے ہوئے ایک ننھے سے بچے نے آواز دی۔ تب بچے ماؤں کے ساتھ تانگوں پہ سفر کرتے۔ اور شام واپسی پر کھیتوں کے پاس سے گزرتے ہوئے جگنو (ٹٹانہ) کبھی ان کے شریک سفر ٹھہرتے تو کبھی سالار کارواں۔ بچے جگنوؤں کو اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں بند کر کے پکڑنے کی جستجو میں پیچھے بھاگتے تو مائیں گناہ کا خوف دلا کر سرزنش کرتیں۔ جگنو اڑتے اڑتے کہیں دور نظروں سے اوجھل ہو جاتے۔ اب کہ نئے دور کی روشنی پھیلی تو جگنو بھی انسانوں سے ناراض ہو کر کہیں دور کے دیس کو چل دیے جہاں سے واپسی کا سفر تک ممکن نہیں ہے۔ بھلا ایسے بھی کوئی روٹھ کر جاتا ہے؟

اس زمانے میں بڑے بوڑھوں کی محفل میں بیٹھنا اور ان کی کہی ہر ایک بات کو بڑے غور سے سننا ہی دانشمندی کی علامت ٹھہرتا تھا۔ بچے صرف کہانیاں سنتے تھے۔ جنوں پریوں کی اور لیلی مجنوں کی ایسی کتنی ہی کہانیاں میں نے بھی اپنی ان ماؤں سے سن رکھی تھیں جو جب گفتگو کرنے لگتیں تو سب یکلخت خاموش ہو جاتے۔ سننے میں کیسی معرفت پنہاں تھیں۔ اور پھر رات کو کھلی فضا میں سونے سے پہلے آسمان کو تا دیر تکتے رہنا اور پھر ہر ایک تارے کو سنی ہوئی کہانی کے اپنے پسندیدہ کردار سے تشبیہ دینا۔ تاروں کا ایک دوسرے کے پیچھے سفر کرنا اور ان کی حرکیات کو دیکھنا اور ایک تنہا تارے کا تاروں کے ایک بڑے سے جھرمٹ میں مل جانا کس قدر مسرت بخش منظر ہوتا تھا۔ کہانی کے ایسے کتنے ہی کرداروں کو میں نے اپنے خوابوں اور خیالوں میں جیا تھا، مگر وہ سب خواب!

تندور کبھی ہماری ثقافت کا لازمی حصہ ہوا کرتے تھے۔ جہاں پورے محلے کا خبر نامہ چلتا تھا۔ دکھ سکھ بانٹے جاتے تھے اور ساری راز کی باتیں سرگوشی کی زبان میں اور کنکھیوں کے ساتھ ایک ہی سانس میں سنا دی جاتی تھیں۔

بڑے بوڑھوں سے سن رکھا ہے کہ پنجابی گھرانوں میں عورتیں ترنجن میں بیٹھ کر چرخہ کاتتیں۔ ترنجوں میں کچھ ادھیڑ عمر اور کچھ نوجوان لڑکیاں بیٹھ کر آپس میں گفتگو کرتیں تو تصویر کائنات میں وجود زن کے سبھی رنگ ایک ساتھ دکھائی دیتے۔ اب یہ محافل ہماری اجتماعی ثقافت کی باقیات کا حصہ بن کر رہ گئی ہیں۔ نا ہی اب نوجوان لڑکیاں بزرگ خواتین کی محافل میں بیٹھتی ہیں۔ کہ شاید بڑوں کی باتیں مجذوبوں کی بڑھکیں شمار ہوتی ہیں۔

ن م راشد نے شاید ایسی ہی ویرانی کو ’گیاہ و سبزہ و گل سے جہاں خالی، ہوائیں تشنہ باراں‘ سے تشبیہ دی ہے۔

گاؤں کے مرکز میں موجود بڑا برگد کا درخت سانجھ کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ گرمیوں کے دنوں میں وہاں رونق کا ماحول ہوتا۔ انسان صدیوں سے ہی کڑی دھوپ میں درختوں کو پاسباں مانتے آئے ہیں۔ کئی بار ان درختوں کو گلے لگا کر رونے کو بھی جی چاہا۔

موچی درخت کے نیچے عین وسط میں اس جگہ اپنی دکان لگاتا جہاں ہمہ وقت لوگوں کا مجمع لگا رہتا۔ بوڑھے چمار کے چہرے کی جھریاں زندگی کی طویل مگر تھکا دینے والی مسافت کا پتہ دیتی تھیں۔ اپنی مانوس سی مسکراہٹ سے وہ ہمیشہ فقط اتنا ہی پوچھتا، ”کس کے بیٹے ہو؟“

وقت کا دھارا بدلہ اور احساس کی جگہ سرمائے نے انسانوں کو سدھانے کی ٹھانی۔

گاؤں کے مرکز میں موجود بڑا درخت نہیں رہا۔ نہ ہی موچی آ کر اب وہاں بیٹھتا ہے۔ لوگ اب ویسے جوتے بھی نہیں پہنتے۔ شاید اب پرانی چیزوں سے ویسا لگاؤ نہیں رہا۔ لوگ نئے جوتے پہننے لگ گئے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب گاؤں ہی ویسے نہیں رہے جیسے کہ کبھی ہوا کرتے تھے۔

میری وسعتوں کی ہوس کا خانہ خراب ہو
میرا گاؤں شہر کے پاس تھا سو نہیں رہا

وہ ننھا سا بچہ گھر کے صحن میں کھڑا بندی مائی کا منتظر ہے۔ بندی مائی آئے گی تو اب کی بار نئے رنگوں کے گجرے لائے گی، اور اس کی بہنوں کے منع کرنے کے باوجود بھی مفت کے طور پر اس بچے کی کلائی میں پہنا دیں گی!

مگر میں حسن کوزہ گر شہر اوہام کے ان
خرابوں کا مجذوب تھا جن
میں کوئی صدا کوئی جنبش
کسی مرغ پراں کا سایہ
کسی زندگی کا نشاں تک نہیں تھا!

Facebook Comments HS