اچھے دنوں کی آہٹ


گلاس آدھا بھرا ہے یا آدھا خالی ہے، یہ بحث امید پرستوں اور مایوس لوگوں کے درمیان عہد قدیم سے جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔ زیادہ تر لوگ اپنی طبیعت، اپنی سوچ اور

اپنے تجربات کی روشنی میں چیزوں کو دیکھتے اور ان کے بارے میں ایک رائے قائم کر لیتے ہیں۔ اگر انھیں پے در پے صدمات سہنے پڑے ہوں اور مایوسیوں نے انھیں گھیر رکھا ہو، تو وہ پکار اٹھیں گے کہ گلاس آدھا خالی ہے اور مزید خالی ہو جائے گا۔ اس کے برعکس جو بندگان خدا قناعت پسند ہوں اور کامیابیاں ان کے قدم چومتی ہوں، تو وہ بلا تامل کہیں گے کہ گلاس آدھا بھرا ہے اور باقی بھی بھر جائے گا۔ انسان کے اندر آس اور یاس کے مابین کشمکش کسی نہ کسی صورت جاری رہتی ہے، مگر زندگی میں کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے دامن خوش امیدی سے بھرے رہتے ہیں۔ یہی حال امید سے وابستہ رہنے والی قوموں کا بھی ہے جو مشکلات کا سامنا کرتے رہنے کے باوجود کبھی مایوس نہیں ہوتیں اور اپنے نصب العین کی تکمیل میں لگی رہتی ہیں۔

اس وقت پاکستان کا حال اور مستقبل ہمارے پیش نظر ہے۔ یہ ملک سخت آزمائشوں کے بعد وجود میں آیا، کیونکہ انگریز اور ہندو اس کے قیام کی ہر مرحلے پر مخالفت کرتے آئے تھے، مگر برصغیر کے مسلمان، جنہوں نے اس خطے پر ہزار سال سے زائد حکومت کرنے کے علاوہ اعلیٰ ظرفی اور تہذیب و شائستگی کی اعلیٰ روایات قائم کی تھیں، ان کے مفکروں، سیاست دانوں اور مجاہدوں نے غلامی سے نجات پانے کا عزم زندہ رکھا اور قائداعظم کی زبردست قیادت میں آخرکار ایک آزاد وطن حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

پاکستان آزاد ہوا، تو اس نے مسلمان محکوم آبادیوں اور خطوں کی آزادی میں تاریخی کردار ادا کیا۔ آزادی کی مسلم تحریکوں کے قائدین کو پاسپورٹ جاری کیے اور ان کی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں سفارتی محاذ پر پامردی سے سرگرم رہا۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پاکستان کے قیام سے دنیا بھر میں استعمار کے شکنجے میں جکڑے ہوئے مسلم خطوں پر آزادی کے دروازے کھلتے چلے گئے۔

جنوبی ایشیا میں قائم ہونے والی اس مملکت خداداد کو آغاز ہی سے بڑے بڑے چیلنج درپیش رہے۔ اس کے پڑوسیوں میں بھارت، سوویت یونین، افغانستان اور ایران شامل تھے۔ ان میں سے تین ملک پاکستان کی آزادی اور خودمختاری کو ختم کر دینے کے درپے رہے۔ بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے پاکستان کے یوم آزادی پر ایک خونخوار پیغام بھیجا کہ وہ صرف چھ ماہ زندہ رہے گا اور اس کے بعد ہندوستان میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے ہماری منت سماجت کرے گا۔

یہ بیان بدترین سفاکی اور ہر اعتبار سے سفارتی آداب کے منافی تھا۔ سوویت یونین نے پاکستان کو سامراج کی پیداوار قرار دیا اور اس کے خاتمے کو اپنا نصب العین بنا لیا تھا۔ اسی کی شہ پر افغانستان نے آزاد پختونستان کا فتنہ کھڑا کر رکھا تھا اور جب اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کا مرحلہ آیا، تو اس نے بھرپور مخالفت کی۔ یہ فقط ایران تھا جس نے سب سے پہلے پاکستان کے وجود کو تسلیم کیا اور اس کی مضبوطی میں پورا حصہ لیا۔ اللہ کے فضل و کرم سے وہی رشتہ مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے آج بھی کمال وسعتوں کے ساتھ قائم ہے۔

ان تین پڑوسیوں کی انتہائی منفی اور تخریبی سرگرمیوں کے باعث پاکستان اپنا وجود قائم رکھنے کی آزمائش ہی سے دوچار رہا اور سیاسی قیادت کو پوری یکسوئی سے حکمرانی کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ایسے حالات پیدا ہوتے گئے کہ پاکستان دنیائے اسلام کی سب سے بڑی فوجی طاقت بن گیا۔ اس نے مغربی حکومتوں کی سخت مزاحمت کے باوجود ایٹمی طاقت حاصل کر لی اور اس کی افواج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہونے لگا۔

اس نے دو بڑے ڈیم بھی تعمیر کیے اور سبز انقلاب لانے میں بھی کامیاب رہا، مگر دستور اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں کسی قدر ناکامی کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا اور معاشی عدم استحکام بھی بڑھتا گیا۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ انسانی ترقی کی درجہ بندی میں پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے پیچھے رہ گیا ہے۔ البتہ ان اندھیروں میں امید کی کرن یہ ہے کہ اعلیٰ سطح پر حالات کو بہتر بنانے کی کوشش واضح طور پر نظر آ رہی ہیں۔

ہم صاف طور پر شاندار امکانات کی کلیاں چٹکتے دیکھ رہے ہیں اور نئے مواقع کے پھول کھلنے لگے ہیں۔ آئی ایم ایف نے اطلاع دی ہے کہ افراط زر کی شرح 39 فی صد سے کم ہو کر 20 فی صد رہ گئی ہے اور اگر بروقت اقتصادی اصلاحات کر لی جاتی ہیں، تو گرانی میں تیزی سے کمی واقع ہو گی اور معاشی نمو کو فروغ ملے گا۔ سب سے زیادہ حوصلہ مند بات یہ ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادتوں نے سر جوڑ کر بین الاقوامی سرمایہ کاری کونسل قائم کی ہے جس نے کم وقت میں حیرت انگیز کارنامے سرانجام دیے ہیں۔

ان قیادتوں کی کوششوں سے 35 سال بعد سعودی عرب سے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی سربراہی میں ایک طاقت ور وفد پاکستان آیا جس میں تین وزرا شامل تھے۔ انہوں نے پانچ سال کے دوران 25 ؍ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا واضح عندیہ دیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ سعودی ولی عہد عزت مآب جناب محمد بن سلمان مئی میں پاکستان کا دورہ کریں گے اور معاہدات پر دستخط فرمائیں گے۔

ان منصوبوں میں ریکوڈیک کا منصوبہ غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ پوری دنیا میں موٹرسائیکلوں، کاروں، ہوائی جہازوں اور ٹریکٹروں کو بجلی پر چلانے کا رجحان تقویت پا رہا ہے۔ اس جدید عمل میں تانبا بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ صرف تانبے کی پیداوار کو استعمال میں لانے سے پاکستان کے تمام دلدر دور ہو جائیں گے اور پوری دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کریں گے۔ پھولوں سے لدا پھندا ایک نیا عہد طلوع ہونے والا ہے اور بقول شاعر ؎

پھول کھلتے ہیں، تو ہم سوچتے ہیں
تیرے ملنے کے زمانے آئے

Facebook Comments HS