محترم جاوید احمد غامدی کو سالگرہ کی مبارکباد


غامدی اسکول آف تھاٹ کی بنیاد رکھنے والے جاوید احمد غامدی کا آ ج جنم دن ہے، ان کو ہماری طرف سے جنم دن کی نیک شبھ کامنائیں۔
 نظریاتی وفکری اختلافات اپنی جگہ لیکن جو ظرف اور وسعت قلبی انہوں نے پائی ہے وہ واقعی قابل تعریف ہے اور ہمارے ہاں اس کا بہت زیادہ فقدان ہے بلکہ ناپید کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
 روایتی فکر کو اندر سے ضرب لگانے اور بوسیدہ و من گھڑت روایات کو چیلنج کرنے کی پاداش میں انہیں اپنی جنم بھومی کو چھوڑ کر دیار غیر جانا پڑا، جدائی کا درد سہ کر بھی وہ اپنے تئیں تحقیق و جستجو میں مگن رہے اور ان کی فکری خوبصورتی یہی ہے کہ وہ اپنی رائے یا تحقیق کو کبھی بھی دوسروں پر زبردستی ٹھونسنے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ اپنی گفتگو کے اختتام پر اکثر یہی کہتے ہیں کہ یہ ان کی طالب علمانہ رائے یا تحقیق ہے کوئی بھی اختلاف کر سکتا ہے اور اگر یہی ظرف اور حوصلہ ہمارے روایتی علماء کرام میں بھی پیدا ہو جائے تو وارے نیارے نا ہو جائیں۔
 لیکن ہمارے علماء بھلا ایسا کیوں چاہیں گے؟
ان کے “بریڈ اینڈ بٹر” کا یہ تقاضا ہی نہیں ہے،ان کی بقا تو ڈیوائیڈ اینڈ رول میں ہے بھائی۔
 مذہب تو یہاں انڈسٹری کا درجہ حاصل کر چکا ہے اور مختلف فرقوں کے علماء کا یہ ایک طرح سے منافع بخش بزنس ہے اور وہ اپنے اپنے فرقے کے ہجوم کو اپنے قواعد و ضوابط کے حساب سے ہانکتے رہتے ہیں اور اسی بنیاد پر ان کا راشن پانی چلتا رہتا ہے۔ ان کی بقا ہی جھگڑے یا تنازعاتی معاملات کو سلگائے رکھنے میں ہے۔
 ان کے آپس کے تنازعات سے ان کو تو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا البتہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد مذہب بیزار ہونے لگی ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کے پاس آج کے پڑھے لکھے اور سنجیدہ طبقے کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کا کوئی منطقی یا عقلی جواب نہیں ہے، سوائے عاشقانہ آوارگی یا جذباتی گفتگو کے۔
 لاتعداد فرقوں اور ہر سال لاکھوں کی بنیاد پر فارغ التحصیل ہونے والے علماء و فقہاء اور مفتیان کی فوج کے باوجود بھی ان کے درمیان مذہب خطرے میں ہی رہتا ہے۔ اتنے سارے آزادانہ اور بلاروک ٹوک والے بندوبست کے باوجود بھی اگر یہ مذہب کو خطرے سے باہر نہیں نکال پائے تو پھر یہ مذہب کو آج کے جدید تقاضوں کے مطابق کیسے ہم آہنگ کر پائیں گے؟
جاوید احمد غامدی کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے اور روایتی علماء کو بھی انہیں کھلے دل سے کریڈٹ دینا چاہیے کہ انہوں نے اپنے تئیں مخلصانہ بنیادوں پر مذہب کی عقلی توجیہات پیش کرنے کی کوشش کی اور مذہب کی گھمبیرتاؤں اور گھتیوں کو عقلی بنیادوں پر سلجھانے کی کاوش کی ہے۔  اب وہ اپنی ان کاوشوں میں کس حد تک کامیاب ہو پائے یا زندگی کی آخری سانسوں تک کامیاب ہو بھی پائیں گے یا نہیں اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا۔ البتہ غامدی فکر کا یہ ثمر ضرور ہے کہ غور و فکر کرنے والے طبقے میں تشکیکی رویے فروغ پانے لگے ہیں۔
عام طور پر غامدی فکر پر یہ اعتراض بھی اٹھایا جاتا ہے کہ جو لوگ اگناسٹک یا ملحد ہو جاتے ہیں وہ پہلے جاوید احمد غامدی سے متاثر ہوئے ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیجئے کہ جو مذہب سے دوری اختیار کرتے ہیں یا مذہب کے متعلق ان کا نقطہ نظر یکسر تبدیل ہو جاتا ہے وہ غامدی کی فکری راہوں سے گزرے ہوتے ہیں۔ پہلے یہی تاثر پرویزی فکر کے متعلق بھی پایا جاتا تھا اب ان مفروضوں میں کتنی صداقت ہے اس کا تو کوئی حتمی پیمانہ موجود نہیں ہے البتہ اس حقیقت کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا بھر میں ملحدین یا آزادانہ فکر کی شرح ماضی کی نسبت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ مذہب کے متعلق لوگوں کے فکری زاویے تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر ایسے اذہان موجود ہیں جن کے سوالوں کا سامنا آج کے علما کرنے سے قاصر ہیں اور وقت کے بدلتے تقاضوں اور چیلنجز کے سامنے روایتی فکر بے بس ہوتی جا رہی ہے۔
 روایتی فکر آج اس قدر بے بس ہو چکی ہے کہ ان کے پاس تاویلات کے انبار تو ہیں لیکن لوجیکل بنیادوں پر کوئی ٹھوس جواب نہیں ہے۔
 ان کے جوابات سے اہل ایمان تو ضرور مطمئن ہو جاتے ہیں لیکن جو مذہب کو منطقی و عقلی بنیادوں پر پرکھنا یا جانچنا چاہتے ہیں وہ تشکیک اور ایمان کے بیچ جھولتے رہتے ہیں اور ساری زندگی کوئی فیصلہ نہیں کر پاتے۔
 اب رہا یہ سوال کہ کیا غامدی اسکول آف تھاٹ مذہب کی حقیقت کو دریافت کر پائے گا یا نہیں؟
 اس کا جواب بس اتنا سا ہے کہ غامدی بھی ایک روایتی عالم ہی ہیں۔ بس فرق صرف اتنا سا ہے کہ وہ مذہب کے ساتھ ساتھ ادب، موسیقی اور فنون لطیفہ سے بھی خاصا شغف رکھتے ہیں اور وہ مذہب کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے روایتی فکر پر جدیدیت کا لحاف اڑا کر پیش کرتے ہیں۔  دراصل پیش تو وہ روایات ہی کر رہے ہوتے ہیں لیکن فلسفہ، ادب اور جدید سائنسی اصطلاحات کا کندھا استعمال کرتے ہوئے۔
 اس میں ان کا بھی کوئی خاص قصور نہیں ہے بلکہ مذہبی فکر کا تقاضا یہی ہے۔
 چونکہ مذہب صفت ایمان مفصل و مجمل کی بنیادوں پر کھڑا ہے اور مذہب کی بنیاد اور فلسفہ اس بات کا تقاضا کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جس کی ایمان و یقین کی گرہ جتنی مضبوطی سے لگی ہوگی وہی کامل و اکمل کہلائے گا۔  نا صرف غامدی بلکہ ان کے پیشرو بھی جنہوں نے مذہب کو اپنے تئیں عقلی بنیادوں پر جانچنے کی سعی کی ہے ان سب کا بھی اپنی فکر کے متعلق یہی دعویٰ تھا اور ہے کہ ہماری تشریح اور مذہب شناسی بالکل درست ہے یا مذہب کے حقیقی مفہوم کے قریب تر ہے۔ لیکن اہل نظر و فکر خوب جانتے ہیں کہ اب تک کی ہونے والی تشریحات میں کس قدر سقم ہیں۔
 موجودہ روایتی فکر کے تو کیا کہنے وہ تو خیر آج بھی قرون وسطیٰ میں ہی جی رہے ہیں اور بدبختی کا عالم یہ ہے کہ وہ آج بھی اسی تسلسل سے ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھ پائے۔
 البتہ غامدی فکر کو اتنا کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ ان کا اپنی تحقیق کے متعلق کوئی ایسا دعویٰ نہیں بلکہ وہ اپنی کاوشوں کو طالب علمانہ نظروں سے دیکھتے ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ بہت ساری جگہوں پر جاوید احمد غامدی بھی ہمیں ایک روایتی عالم کے طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
 مشہور واقعہ ہے کہ جب ڈاکٹرز نے ایک شخص کو سور کا دل لگا کر اسے زندگی دینے کی کوشش کی تھی تو غامدی صاحب کا روایتی چہرہ اچھل کر باہر آ گیا تھا اور انہوں نے اس وقت وہی باتیں کی تھیں جو ایک روایتی عالم فرط جذبات میں کرتا ہے۔ انہوں نے تمام عقلی تقاضوں اور پیمانوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے سور کی خامیاں اور اس کی فطرت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ میں اپنے لیے کبھی بھی اس قسم کے بندوبست کو برداشت نہیں کروں گا۔
 ہاں مذہبی معاملات اور دنیاوی معاملات پر ان کی گہری نظر ہے اسی لیے وہ کبھی بھی مناظرانہ راہوں پر نہیں چلے۔ اس لیے کہ وہ آج کے سوالات کو بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں اسی لیے وہ اپنی عاجزانہ سی رائے تو ضرور دے دیتے ہیں لیکن  دعویٰ کی زبان بولنے سے گریز کرتے ہیں۔
 چونکہ وہ اس حقیقت کو بخوبی جان چکے ہیں کہ اہل ایمان و یقین کی تو وہ تشفی کروا سکتے ہیں تشکیکی راہوں پر چلنے والوں کی نہیں۔  اسی لیے جاوید احمد غامدی ایسے لوگوں سے کبھی نہیں الجھتے۔
 بہرحال فکری اختلافات کے باوجود ہم جاوید احمد غامدی کو ان کے جنم دن کے موقع پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments