میرا ديس سٹے بازوں اور جواریوں کے نرغہ میں


آج کل پاکستان کے اسٹاک ایکسچینج کا اشاریہ ( انڈیکس) بے انتہا تیزی کے اشارے دے رہا ہے اور 71 ہزار کی انتہائی حد کو چھو چکا ہے۔ اس صورتحال میں موجودہ حکومت کے معاشی بزرجمہر خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں اور کاروباری طبقے کے سرخیل موج منا رہے ہیں کیونکہ اس بہتی گنگا کے کنارے بیٹھ کر بھی ان کی جیبیں بھر رہی ہیں۔ کسی بھی ملک کے اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کی لہریں اس وقت اٹھتی ہیں جب اس ملک کی صنعت و حرفت، کاروبار و تجارت اور برآمدات میں اضافہ غیر معمولی رفتار سے بڑھنا شروع کردے اور ملک کی مجموعی معیشت کا حجم بڑھ جائے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہونے لگے۔ عجب طرفہ تماشا ہے کہ ہماری معیشت میں ترقی کے تمام اشاریے نہ صرف سر کے بل الٹے کھڑے ہیں بلکہ لڑھکتے ہوئے اور نیچے کی جانب سفر کر رہے ہیں۔ مالی سال 2024 کے 9 ماہ میں حکومت نے مقامی بینکوں سے 4.6 ٹریلین روپے کا قرضہ لیا جبکہ گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران 2 ٹریلین کا قرضہ لیا گیا تھا۔ یہ صرف حکومت کی جانب سے لیے گئے مقامی بینکوں سے قرضے کی مالیت ہے جبکہ غیر ملکی قرضے جو ڈالر کی شکل میں لیے جاتے ہیں اور جن کا سود بھی ڈالر میں ہی ادا کیا جاتا ہے اس کی المناک داستان الگ ہے صنعتیں اور کاروبار روبہ زوال ہیں۔ سالانہ ترقی کی شرح ڈیڑھ سے دو فیصد رہ گئی ہے۔

سو فیصد جاپانی ملکیت والی کمپنی سوزوکی موٹر نے اس سال اپنے کھاتوں میں دس ارب روپے کا نقصان دکھایا ہے۔ ایک اور صنعتی اور تجارتی گروپ جس کے زیادہ تر کارخانے بند ہو چکے ہیں اور جو ایک زمانے میں آٹو سیکٹر میں بھی کام کر رہا تھا اس کی آٹو سیکٹر کی کمپنی عرصہ دراز سے بند پڑی ہے لیکن اس کے حصص کی قیمت ہر روز بڑھ رہی ہے۔ جب کے اس مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں گاڑیوں کی فروخت میں 36 فیصد کمی آئی ہے بینکوں کی طرف سے گاڑیاں خریدنے کے لیے قرضہ جات فراہم کرنے میں بھی 25 فیصد کے قریب کمی ہوئی ہے۔ شنید ہے کہ زمین اور جائیدادوں کے کاروبار میں نئے ٹیکس لگنے والے ہیں، ڈالر کی خرید و فروخت میں تجارتی بینک ملوث تھے دوسری طرف افغان تاجر بھی ڈالر کی خرید و فروخت میں ہیرا پھیری کے مرتکب ہو رہے تھے لیکن ان دونوں گھپلوں کے ذمہ داروں کو تو حکومت نے کیفر کردار تک پہنچا دیا ہے۔ اب اس صورت حال میں کالے دھن کا رخ اسٹاک ایکسچینج کی طرف ہو گیا ہے اور وہاں خوب کھل کر جوا اور سٹہ جاری ہے یاد رہے کہ اس سے پہلے ایک ٹھیکے دار“ زمین اور جائیداد کے کاروبار میں خوب سٹہ اور جوا کھلا رہا تھا۔ ایسی زمین کے بھی پلاٹ خرید اور بیچ رہا تھا جس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا بس فائلیں خریدی اور بیچی جا رہی تھیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پلاٹوں کی فائلوں کے اس کاروبار کی ابتدا ایک باوردی ادارے کی تعمیراتی منصوبوں سے ہوئی تھی۔ ایف۔ بی۔ آر کے سابق چیئرمین نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جب میں نے مکانوں اور زمینی پلاٹوں پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی تو مکانوں اور زمینی پلاٹوں کی خرید و فروخت میں کمی آ گئی اور لامحالا ان کی قیمتیں بڑھنے سے بھی رک گئی اور ان پر ہونے والی سٹے بازی بھی تقریباً ختم ہو گئی، وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس براہ راست چیف آف اسٹاف کا فون آیا کہ ”آپ نے ٹیکس کی شرح بہت زیادہ بڑھا دی ہے اور ہمارے ریٹائرڈ افسران پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں کیونکہ وہ صرف ایک یہ ہی کاروبار کرنا جانتے ہیں“ لیکن اس وقت یہ واردات صرف امیر طبقے تک محدود تھی۔ اب ”ٹھیکہ دار“ نے اس کاروبار کے ذریعے مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا اور ان کی جمع پونجیاں بھی لوٹ لیں۔ آج بھی بیچارے 120 گز 150 گز والے پلاٹوں کے کاغذی فائلوں کے مالک افراد جو قرعہ اندازی کے ذریعے ان پلاٹوں کے مالک بنے تھے اور اب تک پلاٹوں کی پوری قیمت بھی ادا کر چکے ہیں اپنے ہاتھوں میں الاٹمنٹ کی فائلیں لیے اس کے دفتر کے چکر لگاتے رہتے ہیں تاکہ پلاٹ حاصل کر کے اپنے سپنوں کے گھر کی تعمیر کر سکیں تو ان کو ٹکہ سا جواب دے دیا جاتا ہے کہ ابھی آپ کے پلاٹ کی حد بندی (Demarcation ) نہیں ہوئی۔

ہم کتنی بدقسمت قوم ہیں کہ نواز شریف کے دور میں جب سی۔ پیک کے منصوبوں کا آغاز ہوا تو چینی کمپنیاں اور چینی کارکن گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر و ترقی میں جت گئیں اور پاکستانی عوام کو ”زمینوں کے سوداگر“، مجوزہ گوادر کی بندرگاہ سے ملحقہ علاقوں کی زمینوں کو پلاٹوں کی شکل میں فروخت کرنے لگے اور ان زمینوں کی قیمتوں پر پورے پاکستان کے عوام کو سٹہ کھلانے لگے۔ ابھی اس علاقے میں نہ پانی تھا، نہ بجلی تھی، نہ سڑکیں تعمیر ہوئی تھی اور نہ ان پلاٹوں کا مادی شکل میں کوئی وجود تھا لیکن دھڑا دھڑ ان کی فائلوں کی قیمتیں بڑھ رہی تھی اور زمینوں کے سوداگر خوب مال بنا رہے تھے۔ شو مئی قسمت، سی۔ پیک منصوبہ تعطل کا شکار ہو گیا اور نہ جانے ان پلاٹوں کو زمین کھا گئی یا آسمان نکل گیا۔ کچھ عرصے تک فائلوں کے مالکان اپنے پلاٹوں کی تلاش میں ادھر ادھر دوڑتے پھرے اور پھر تھک ہار کر اپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔ ایک یہ افسوسناک پہلو بھی سامنے آیا کہ گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر و ترقی کے پورے منصوبہ سازی میں گوادر شہر کو پینے کا پانی فراہم کرنے کا کوئی منصوبہ شامل نہیں تھا۔ جو چینی ادارے اور پاکستان کی حفاظتی ایجنسیوں کے کارکنان اس علاقے میں مصروف عمل تھے، ان کے لیے بحری راستے کے ذریعے کراچی سے منرل واٹر کی بوتلیں بھیجی جاتی رہیں اور گوادر کے غریب عوام اپنے سروں پر ٹین کے کنستر اٹھائے پانی کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکتے رہے آج کل یہی صورتحال سندھ کے علاقے تھر میں ہے۔ تھر کول توانائی کے منصوبوں سے قومی گرڈ کو بجلی کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے لیکن تھر کے بیشتر علاقے ابھی تک تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور جن علاقوں میں بجلی موجود بھی ہے، وہاں بجلی کی فراہمی طویل تعطل کا شکار رہتی ہے۔

 

Facebook Comments HS