ما بعد جدیدیت میں پر امن بقائے باہم کا بیانیہ


کہا جاتا ہے کہ جدیدیت نے سماجی بیانیہ میں مداخلت کیے بغیر مادی ساختیات کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی۔ سیکیولرازم کے نام پر کاروبار ریاست کا بیانیہ کبیر سے علیحدگی اس کا بین ثبوت ہے۔ ہر سماج کا اجتماعی بیانیہ اس کی تاریخ، اعتقاد اور روابط کا احاطہ کرتا ہے اور یہ اس کی اپنی کہانی ہوتی ہے۔ چلن یہ ہے کہ اس کہانی کی صداقت کے شواہد نہیں مانگے جاتے مگر ایقان غیر متزلزل ہوتا ہے۔

دور جدید میں چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقاء نے ہزاروں سال پرانی کہانی کو مشکل میں ڈال دیا تھا۔ سائنسی رصد گاہوں میں کام کرنے والے سائنسدان بھی یہ کہتے پائے گئے کہ وہ مذہب کو صبح گھر اور شام کو سائنس دفتر میں چھوڑ آتے ہیں۔ ڈارون کے نظریہ ارتقا کی سائنسی حقیقتوں پر تو کسی کو اعتراض نہیں تھا مگر ہزاروں سال کی کہانی کے لئے ایک متوازی نظریہ ’انٹلیجنٹ ڈیزائن‘ کے طور پر قبولیت کی کوشش بھی اکیسویں صدی کے آغاز میں امریکی عدالت نے مسترد کر دی۔

عہد عتیق میں سقراط نے زہر کا پیالہ اس دور کے بیانیہ کبیر کو مسترد کرنے کی پاداش میں ہی پیا تھا۔ یونان کے دور عتیق کا شمس دیوتا یا ہیلینیس دور جدید میں صرف ہیلیم گیس کی توانائی کا نام ہے جو سورج کی شعاؤں سے خارج ہوتی ہے۔ دور جدید میں بھی گلیلیو گلیلی سے معافی کا تقاضا اس لئے کیا کہ اس کا نظریہ بھی اپنے دور کے بیانیہ کبیر کا رد تھا۔ مگر اب چرچ نے گیلیلو سے معافی مانگ کر خود اپنے بیانیہ کی نفی کردی ہے جو اس بات کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ کوئی سچ آفاقی نہیں۔

ہر دور کے بیانیہ کو ہمیشہ ایک نئے بیانہ نے چیلنج کیا اور مشکل میں ڈال دیا۔ مغرب میں دور جدید کے آغاز میں ہی جمہوریت نے کلیسا کو مجبور کیا کہ وہ لوگوں کی بات مان لے۔ سرمایہ دارانہ سماج کے لئے اشرافیہ کے بیانیہ کو اشتراکیت کا سامنا ہوا۔ بیانیہ کی لڑائی بحث و تمحیص سے آگے بڑھ کر جنگ و جدل میں بدل گئی اور دنیا ایٹمی دور میں داخل ہوئی۔ ویتنام، افغانستان، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں بیانیہ کی جنگ نے دنیا کے نقشے کو تبدیل کر دیا۔

پچھلی صدی کے آخری عشرے میں اشتراکیت کی پسپائی کے ساتھ دنیا جدیدیت کے بعد کے دور میں باقاعدہ داخل ہوئی جس کا آغاز ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ہو چکا تھا۔ مابعد جدیدیت میں علمائے بشری علوم اور فلسفی تین بڑے خواص دیکھتے ہیں۔ سب سے پہلے مابعد جدیدیت کسی بھی بیانیہ کبیر سے آزاد ہو گا، دوم کلامی علوم کی حقانیت پر سوال اٹھے گا اور سوم کسی بھی بیانیہ کو حتمی نہیں مانا جائے گا۔

بیانیہ کبیر جو ایک بڑے پیمانے پر اجتماعی تصورات کی نمائندگی کرتا ہے اپنے ماننے والوں کے لئے ایک حتمی سچ کا درجہ رکھتا ہے جس کی حقانیت شواہد کے بغیر زبان و بیان کی بنیاد پر ہوتی ہے ما بعد جدیدیت میں ٹھہر نہ پائے گا۔ بیانیہ کی کہانی نے عقیدہ کے درجے پر اپنے دائرہ اثر میں لوگوں کو قائل کیا جس سے انکار سماج سے بغاوت ٹھہری مگر اب سماج جغرافیائی سرحدوں کے اندر قید نہیں اور نہ ہی افراد نظریاتی حصار کے قیدی ہیں۔

برہمنوں کے بنائے بیانیہ کبیر کے خلاف سدھارتھ بدھا، مہا ویر کی بغاوت اور بھگتی تحریک نے اس کو کمزور کر دیا تھا مگر ختم نہیں کیا جا سکا جس کی ایک بڑی وجہ ہندوستان کے سماج میں انفرادی آزادی کے تصور کا فقدان تھا۔ افراد گروہ کا حصہ ہوتے ہیں اس لئے یہاں آزادی اور غلامی کا تصور بھی گروہی رہی ہے۔ گرو نانک کی تحریک گروہی بن گئی تو سکھ بیانیہ نے جنم لیا اس سے پہلے کبیر داس تنہا رہ گیا تھا کیونکہ اس کا کوئی نسلی گروہ نہیں تھا۔

مابعد جدیدیت میں انفرادی بیانیہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔ ایک طرف اظہار رائے کی آزادی کو مسلمہ حقیقت قرار دینے کے بعد اب انفرادی رائے کو صرف نظر کرنا ممکن نہیں دوسری طرف اس سے پیدا ہونے والی افراتفری کی صورت حال بادی النظر میں باعث تشویش بھی ہے۔ ایک آفاقی سچ کے تحت زندگی گزارنے کے عادی معاشرے میں ایک سے زیادہ سچ کے تکرار سے پیدا ہوئی گونا گونی کی کیفیت اس سماج کے شکست و ریخت کا باعث بن رہی ہے۔ یہی ما بعد جدیدیت میں بیانیہ کبیر کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے۔

کسی بھی مسلمہ بیانیہ کبیر و صغیر سے آزاد ما بعد جدیدیت کیا سائنسی حقائق کا تابع ہو گا؟ کیا انسان کو بھی جانوروں کی دیگر انواع کی طرح ایک جنیاتی کیفیت قرار دیا جائے گا؟ کسی اور کے نطفے اور انڈے کو اپنی رحم میں پالنے اور جنم دینے والی عورت صرف کرائے کی دکان ہی رہے گی؟ کیا بوتلوں میں خلیوں سے مصنوعی طریقے پیدا کیے لوگ انسانی سماج کے تابع بنیادی حقوق کے اہل قرار پائیں گے؟ کیا اس بات کا احتمال نہیں کہ کوئی ایسے لوگوں کی فوج بنا دے جو کسی کی اولاد نہیں ہوگی اور انسانی سماج سے اس کا کوئی رشتہ نہیں ہو گا؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ سائنس کی بدولت ٹیکنالوجی نے بہت ترقی کرلی ہے۔ ہوئی جہاز سے ایٹم بم اور خلاء کو مسخر کرنے تک انسان کو سائنسی تحقیق سے حاصل شدہ حقائق نے مدد فراہم کی۔ مگر یہ حقائق بے مہر ہیں جو یہ نہ دیکھ پائے کہ اس ترقی سے دنیا کن خطرات سے دوچار ہو چکی ہے۔

جنیاتی سائنس نے نہ صرف جنس کے انتخاب میں مدد دی بلکہ اپنے بچے کے لئے رنگ نسل اور ذہانت کے انتخاب کو ممکن بنا کر دنیا سے نسل انسانی میں موجود تنوع کو منہا کرنے کا بندوبست بھی کر لیا ہے۔ اپنے نطفے اور انڈے کو کسی تیسری رحم میں رکھ کر بچے پیدا کرنے کی تکنیک نے غریب عورتوں کو لیبارٹری میں رکھے ٹسٹ ٹیوب کے درجے پر گرا دیا ہے۔ انسانی اعضاء کی پیوند کاری کو ممکن بنانے سے غریب لوگ اپنی آنکھیں اور گردے اور دیگر اعضاء بیچنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ لیبارٹری میں جسیم اور صحت مند کارکن پیدا کیے جانے لگیں یا موت سے بے نیاز لڑاکا فوج تیار ہو تو فطری طور پیدا ہونے والی نوع انسانی کی بقاء پر اس عمل کے جو اثرات ہوں گے وہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے۔

بیسویں صدی کو طبعیات اور موجودہ صدی کو حیاتیات کی صدی بھی کہا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اگلی دو دہائیوں میں اوسط عمر ڈیڑھ سو سال اور اختتام صدی انسان پانچ سو سال تک جینے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ مگر ایسی سہولت ہر انسان کے لئے ہو یہ ممکن نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ زندگی پر حق صرف اس کو ہو گا جو خرید سکے۔ سائنس کی یہ ترقی بھی امیر اور غریب میں پہلے سے موجود تفاوت کو مزید بڑھا دے گی جو برابری کے اصول کے منافی ہو گا۔

ماقبل جدیدیت کا دور اندھیروں میں روشنی کی تلاش کا سفر تھا جو دور جدید میں ایک بے ہنگم، عدم مساوات اور استحصال پر مبنی ترقی پر منتج ہوا۔ دو خوفناک بے مقصد عالمی جنگیں لڑ کر دنیا نے یہ اقرار کیا کہ ہر مسئلے کا حل بالآخر بات چیت اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے سے ہی ممکن ہے۔ ما بعد جدیدیت کا سفر جس کا آغاز انتشار اور افراتفری سے ہوا ہے وہ امید ہے کہ ایک آفاقی بیانیہ پر منتج ہو گا۔ اس بیانیہ میں نہ صرف نوع انسانی کی بقاء کو مد نظر رکھا جائے گا بلکہ کرہ ارض اور اس کے وجود کو قائم رکھنے کے لئے لازم دیگر مبادیات کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔ جہاں نسل انسانی کا تقاضا تکثیریت ہے وہاں کائنات خود تکثیریت کا مظہر ہے۔ مافوق الفطرت اساطیر اور کہانیوں کے بیانئے اور بے رحم سائنسی کی ترقی کے بعد کیا مابعد جدیدیت تکثیریت اور تنوع کے نئے بیانئے سے پرامن بقائے باہم کو ممکن بنا سکتا ہے؟

Facebook Comments HS

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 289 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan