جمہوریت زندہ ہے، روح موجود نہیں


پنجاب اور دیگر صوبوں میں منعقد ہونے والے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی واضح برتری کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ تحریک انصاف بظاہر حکمران جماعت کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ البتہ 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد دھاندلی اور فارم 47 کے ذریعے جیت کا بیانیہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ عام انتخابات کے بعد سیاسی ماحول میں سہولت و سکون پیدا ہونے کی امید پوری نہیں ہوئی۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے صرف تحریک انصاف ہی برافروختہ نہیں ہے بلکہ اقتدار میں حصہ نہ پانے والی کم و بیش سب جماعتوں کو انتخابات میں نقص دکھائی دے رہا ہے۔ یوں تو سب ہی اعتراف کرتے ہیں کہ ملک میں کبھی بھی شفاف انتخابات منعقد نہیں ہوئے اور تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے طور پر ’دھاندلی اور زور زبردستی‘ کے مختلف ہتھکنڈے آزماتی رہی ہیں لیکن اس کے باوجود ملک کا نظام کسی نہ کسی طور آگے بڑھتا رہا اور اسے الٹ پلٹ دینے کی ویسی صدائیں سننے میں نہیں آئی تھیں جو اس وقت ہر طرف سے سنائی دیتی ہیں۔ خاص طور سے پرویز مشرف کے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد 2008 اور 2013 کے انتخابات میں بالترتیب کامیاب ہونے والی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی جیت کو تسلیم کر لیا گیا تھا۔

اگرچہ 2013 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائم ہونے کے بعد تحریک انصاف نے شدید احتجاج کیا تھا اور اسلام آباد میں ملکی تاریخ کا سب سے طویل دھرنا دینے کا اہتمام بھی کیا تھا۔ البتہ عمران خان کینیڈا سے تشریف لانے والے پاکستان عوامی تحریک کے لیڈر علامہ طاہر القادری کی اعانت اور درپردہ اسٹبلشمنٹ کی حمایت کے باوجود نواز شریف کی حکومت گرانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ یہ کام بعد میں پاناما پیپرز کے نام پر سپریم کورٹ کے ذریعے پورا کیا گیا جس نے نواز شریف کو تاحیات نا اہل قرار دیا تھا۔ اس وقت ملک میں پریشانی اور سیاسی بدحواسی کا جو ماحول موجود ہے، اس کی بنیاد درحقیقت 2013 کے انتخابات کے دوران ہی رکھی گئی تھی۔ اسٹبلشمنٹ نواز شریف اور آصف زرداری یا مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی سیاسی بالادستی ختم کرنے کا عزم کیے ہوئے تھی۔ اسی لیے عمران خان کو بڑھاوا دینے اور سیاسی منظر نامہ پر نمایاں کرنے کے لیے میدان ہموار کیا گیا۔ عمران خان کو وزیر اعظم بنوانے کا جو مقصد 2013 میں حاصل نہیں کیا جا سکا، اسے بہر طور 2018 کے انتخابات میں حاصل کر لیا گیا۔ اب یہ کوئی قومی راز نہیں رہا کہ عمران خان اسٹبلشمنٹ کا ہاتھ تھام کر سیاسی میدان میں پاؤں جمانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

سیاسی جوڑ توڑ کا یہ دورانیہ چونکہ ایک دہائی سے زیادہ مدت پر محیط تھا جس کے دوران میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے قائدین کو چور لٹیرے اور ملک دشمن قرار دینے کا ہر ہتھکنڈا اختیار کیا گیا۔ فطری طور سے ایک پوری نسل اس مہم جوئی سے متاثر ہوئی۔ حتی کہ ملکی اسٹبلشمنٹ کے ہر شعبے میں تحریک انصاف کے ہمدردوں اور حامیوں کی بڑی تعداد دکھائی دینے لگی۔ ان میں عسکری حلقوں کے علاوہ سول بیورو کریسی بھی شامل ہے۔ اس وقت بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ لوگ یا تو عمران خان کے حامی ہیں یا اگر کسی بنیاد پر ان سے اختلاف بھی رکھتے ہیں تو بھی وہ دوسری دو بڑی پارٹیوں سے جو کسی نہ کسی طریقے سے اس وقت اقتدار میں ہیں، کوئی ہمدردی نہیں رکھتے۔ چونکہ یہ تاثر اور اس بنیاد پر رائے کا اظہار بہت عام ہے اور تواتر سے کیا جا رہا ہے، اس لیے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں صرف ایک سیاسی قوت موجود ہے جس کی قیادت عمران خان کر رہے ہیں۔ باقی سب ناقابل اعتبار سیاسی عناصر ہیں جو ماضی میں بھی ملکی تباہی کا سبب بنے تھے اور اب پھر قومی خزانہ لوٹنے کے لیے اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں۔

اس قیاس یا رائے یا بیانیہ کو خواہ کیسا ہی سطحی، بے بنیاد اور مضحکہ خیز قرار دیا جائے لیکن ملکی سیاسی منظر نامہ کی جو تصویر رائے سازی اور اس کی ترسیل کے ذریعے سامنے آتی ہے، وہ اس سے مختلف نہیں۔ اس کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہوئے ان عوامل تک ضرور پہنچا جاسکتا ہے جو اس ناقابل فہم سیاسی تفہیم اور ماحول کا سبب بنے ہیں۔ لیکن جن سیاسی لیڈروں کو یہ کام کرنا چاہیے تھا، وہ اقتدار ہی کو منزل مقصود سمجھ کر یہ باور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ملک میں سب کچھ معمول کے مطابق ہے۔ یہی غلطی ملک میں کسی بڑے اور نادیدہ سیاسی طوفان کا اندیشہ پیدا کرتی ہے۔ البتہ یہ کہنے میں بھی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کے سماجی و معاشی حالات، سیاسی و سفارتی صورت حال اور عسکری و سیاسی اشرافیہ کے باہم اشتراک سے بننے والی تصویر میں ایسے کسی طوفان کا امکان دکھائی نہیں دیتا جو یک بیک ملک کا نظام تلپٹ کر دے اور عوامی احتجاج کی کوئی لہر حقیقی عوامی رائے کی نمائندہ بن کر اس پریشانی کا تدارک کرے جس کا ذکر ہر رائے، تبصرے یا سیاسی اظہار میں موجود ہے۔

اگر انقلاب برپا کرنے کے امکانات موجود نہیں ہیں اور عوامی رائے پر اجارہ داری کے دعوے دار مل کر آگے بڑھنے یا نظام کو چلانے پر بھی آمادہ نہیں ہیں تو پھر اس پریشانی سے کیسے باہر نکلا جاسکتا ہے؟ اس کی تفہیم کے لیے ہمیں 2013 میں واپس جانا پڑے گا جب اسٹبلشمنٹ نے ملک کے جمہوری نظام کو اپنی خواہش اور پسندیدہ قیادت کے ذریعے ’یرغمال‘ بنانے کے منصوبہ کا آغاز کیا تھا۔ عمران خان کی تحریک انصاف 2013 سے پہلے ایک رکنی پارٹی تھی۔ یعنی صرف عمران خان میانوالی سے جیت کر قومی اسمبلی کے رکن بنتے تھے، ان کی جماعت کا کوئی دوسرا امیدوار کبھی کامیاب نہیں ہوا۔ لیکن 2013 میں یک بیک اس پارٹی کو قومی اسمبلی کی 35 نشستیں حاصل ہو گئیں اور وہ ایک اہم قومی پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔ لیکن عمران خان نے اس کامیابی کو پارلیمانی جمہوری سفر میں ملک کے علاوہ اپنی پارٹی کے لیے اہم سنگ میل سمجھنے کی بجائے اس انتخاب کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کیا اور دھرنے سے شروع ہونے والا احتجاج پاناما پیپرز اسکینڈل اور سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلوں سے ہوتا ہوا 2018 میں تحریک انصاف کو جتوانے کے لیے پوری سرکاری مشینری بروئے کار لانے کے اقدام پر منتج ہوا۔

اس سے 2018 کے انتخابات کے بارے میں تو شکوک و شبہات پیدا ہوئے لیکن 2013 سے 2018 کے درمیان حکومت کو کمزور اور بے وقعت کرنے سے جو سیاسی و سماجی مزاج پیدا ہوا، وہی آنے والے وقت میں سنگین سیاسی مشکلات کا سبب بنا۔ اگر عمران خان یا اسٹبلشمنٹ 2013 میں تحریک انصاف کی کامیابی کو ایک ’اچھا آغاز‘ تصور کرتے ہوئے سیاسی جمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالنے سے گریز کرتے۔ بلکہ تحریک انصاف قومی اسمبلی میں مثبت پارلیمانی کردار کے ذریعے عوامی مسائل اجاگر کرنے اور رائے عامہ ہموار کرنے میں کردار ادا کرتی تو اس وقت ملکی سیاسی ثقافت کی شکل بالکل مختلف ہوتی۔ 2018 کے انتخابات سے قبل چند برس میں پیدا کی جانے والی بے یقینی اور اسٹبلشمنٹ کی زور زبردستی نے ملکی سیاسی ماحول کو دو کروں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا تھا۔ اسی تقسیم کی بنیاد پر ’مجھے کیوں نکالا، ووٹ کو عزت دو‘ جیسے نعرے سنائی دیے اور منتخب وزیر اعظم کو ’نامزد‘ قرار دیا گیا۔

اسٹبلشمنٹ نے عمران خان سے غیر ضروری طور پر ایسی امیدیں وابستہ کرلی تھیں جن کا عقلی جواز تلاش کرنا ممکن نہیں ہو سکتا۔ مثال کے طور پر تحریک انصاف کو ایک متبادل پارٹی کے طور پر سامنے لایا گیا لیکن اس کی صفوں میں ایسے ماہرین موجود نہیں تھے جو ملک کو معاشی بحران اور سفارتی تنہائی سے باہر نکال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں معیشت دگرگوں رہی، سفارتی تعلقات بے یقینی کا شکار ہوئے اور دھیرے دھرے عمران خان اور آرمی چیف کے درمیان اختلافات اس نہج پر جا پہنچے کہ اس نے اپوزیشن کو تحریک عدم اعتماد کے لئے گرین سگنل دے دیا۔ ملکی سیاست کے اس مرحلے میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی غلط حکمت عملی نے ملک میں سیاسی تقسیم اور بحران کو شدید کیا جس کی قیمت ملکی عوام کو چکانا پڑ رہی ہے۔ عمران خان کو سیاسی امیدوں کا محور بناتے ہوئے اسٹبلشمنٹ نے ان کی شخصیت و مزاج کا جائزہ لینے اور یہ سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی کہ اگر انہیں چیلنج کیا گیا تو وہ اشتعال انگیز ہتھکنڈوں پر اتر آئیں گے۔ اس صورت حال کی تفہیم کے لیے عمران خان کے ایک جملے سے بات سمجھی جا سکتی ہے کہ اگر مجھے اقتدار سے نکالا گیا تو میں مزید ’خطرے ناک‘ ہو جاؤں گا۔

قمر جاوید باجوہ کے بعد فوج کی کمان سنبھالنے والے جنرل عاصم منیر یہ یقین دلانے میں ناکام رہے کہ فوج نے سیاست سے علیحدہ رہنے اور ملکی نظام کو فوجی اثر و رسوخ سے آزاد کرنے کا عزم کیا ہے۔ انتخابی عمل میں فوج کی براہ راست مداخلت کی نشاندہی نہ بھی ہو سکے تو بھی موجودہ آرمی چیف نے سرمایہ کاری کونسل میں شرکت، اہم سول عہدوں پر حاضر سروس جرنیلوں کی تقرری اور زرعی انقلاب میں فوجی کردار متعین کر کے حکومتی اختیارات کا بڑا حصہ خود سنبھال لیا ہے۔ اگرچہ یہ سارے کام ایک ’منتخب‘ حکومت کی مرضی و منشا سے ہو رہے ہیں لیکن ان سے یہی تاثر قوی ہوتا ہے کہ ملک میں جمہوریت برائے نام ہے اور فوج کو ہر شعبے میں فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔

گویا جس غلطی کا آغاز 2013 میں تحریک انصاف کو پارلیمانی تحریک بنانے کی بجائے احتجاجی قوت بنا کر کیا گیا تھا، اور جس کے نتیجے میں 2018 کے انتخابات میں عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کا ہدف حاصل کیا گیا تھا، وہ سلسلہ فروری 2024 کے انتخابات میں رک نہیں سکا۔ اب ضمنی انتخابات نے اس الزام پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے کہ ملک میں شفاف انتخابات اور دھونس دھاندلی کے بغیر سیاست کرنا ممکن نہیں ہے۔ حکومت کرنے والی پارٹیاں اقتدار مستحکم کرنے میں تو سرگرم ہیں لیکن جمہوری و انتخابی عمل کو قابل اعتبار بنانے اور سیاسی جماعتوں کے کردار کو موثر کرنے کی کوئی تحریک دیکھنے میں نہیں آتی۔

اس پر مستزاد ایکس پر تقریباً مستقل پابندی، انتخابات کے دوران موبائل و انٹرنیٹ سروس میں تعطل اور میڈیا پر نت نئی قدغن عائد کرنے کی پالیسی سے حبس اور گھٹن کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔ ایسے میں اہم ترین سوال یہی ہے کہ اگر پارٹیاں ہی سیاسی عمل کو قابل اعتبار بنانے میں دلچسپی نہیں لیں گی اور نظام کو چلانے کے لیے افہام و تفہیم کے کسی منصوبہ کو عملی شکل نہیں دی جائے گی تو ملک میں پائی جانے والی بے چینی اور گروہی تقسیم بالآخر کیا گل کھلائے گی؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2791 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments