سہیل احمد اور آفتاب اقبال کی لفظی جنگ: حقیقت کیا ہے؟
لیجنڈ کامیڈین و اداکار سہیل اور معروف ہوسٹ آفتاب اقبال کے درمیان سوشل میڈیا پر لفظی جنگ شدت سے جاری ہے، سہیل احمد نے احمد علی بٹ کی پوڈ کاسٹ پر آفتاب اقبال کے بارے میں اپنی رائے دی جس کے جواب میں آفتاب اقبال نے تقریباً ایک گھنٹے کا وی لاگ کر کے ترکی بہ ترکی سہیل احمد کو جواب دیا جس پر دونوں شخصیات کے چاہنے والوں کو دکھ ہوا، دونوں بڑی شخصیات ہیں، سہیل احمد سٹیج اور ٹی وی کے بہت بڑے اداکار ہیں بلکہ وہ نئے فنکاروں کے لئے یونیورسٹی کا درجہ رکھتے ہیں دوسری طرف آفتاب اقبال نے نجی ٹی وی چینلز پر نئی طرز کا پروگرام متعارف کرایا جو عوام میں بہت مقبول ہوا اب ہر چینل پر اسی پیٹرن پر پروگرام ہو رہے ہیں جس کا سارا کریڈٹ آفتاب اقبال کو جاتا ہے
سہیل احمد کی وجہ شہرت حسب حال نہیں بنا تھا وہ اس سے قبل ہی اپنی اداکاری کو لوہا منوا چکے تھے، سٹیج کی دنیا پر ان کا نام ڈرامے کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، انہوں نے بہت یادگار کردار ادا کیے، ٹی وی پر بھی قمر قمر۔ والا کردار قارئین کو یاد ہو گا، 80 کی دہائی میں مجھے ان کا ڈرامہ عاشقوں غم نہ کرو اب تک بہت پسند ہے جس میں ایک پاگل خانہ تھا جس میں سہیل احمد سمیت دیگر نامور فنکار بھی شامل تھے، سہیل احمد کی طنز اور جگت تعمیری اصلاحی ہوتی ہے، اسی ڈرامے میں ان کا یادگار ڈائیلاگ تھا بلکہ continuity تھی، ”جدوں وڈا سپیکر آواز دیندا سی تے نکے کڈن کی لوڑ سی“ (جب بڑا سپیکر آواز دیتا تھا تو چھوٹے سپیکر بنانے کی کیا ضرورت تھی) ، یہ بہت گہرا جملہ ہے، اس ڈائیلاگ کو میں نے اپنی زندگی کا اصول بنا لیا، اسی ڈرامہ میں ان کا ایک ڈائیلاگ بہت یادگار تھا، اس وقت موٹروے وغیرہ نہیں بنے تھے، جی ٹی روڈ تھی، سہیل احمد کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا اور لاہور گوجرانوالہ سڑک ہمیشہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار رہتی تھی، اس وقت پاکستان نے ایٹمی دھماکے بھی نہیں کیے تھے، انہوں نے سیاستدانوں پر بہت خوبصورت طنز کیا یہ ڈائیلاگ ایک پاگل کا تھا، لعنتی ایٹم بم مگر پے نے، 14 سالاں توں لاہور گوجرانوالہ سڑک نئی بنا سکے (لعنتی ایٹم بم کے پیچھے پڑے ہیں مگر 14 سالوں میں لاہور گوجرانوالہ سڑک نہیں بنا سکے )
دونوں شخصیات نے دنیا ٹی وی چینل پر ایک نئی طرز کا حسب حال کے نام سے پروگرام شروع کیا جو بہت مقبول ہوا، سہیل احمد کی جگت بازی اور اداکاری جبکہ آفتاب اقبال کی علمی گفتگو نے ناظرین کو اپنا گرویدہ کر لیا، اسی پروگرام سے دونوں میں اختلافات شروع ہوئے کیونکہ بہت سے ناظرین کو اس وقت بھی آفتاب اقبال کے متکبرانہ انداز گفتگو پر اعتراض تھا، ذمہ دار ذرائع کا کہنا تھا کہ ایک پروگرام میں آفتاب اقبال بار بار سہیل احمد کو میراثی کہہ رہے تھے جس پر آف دی کیمرہ سہیل احمد نے اعتراض کیا اور منع کرنے کے باوجود آفتاب اقبال باز نہ آئے، پھر آفتاب اقبال نے دنیا ٹی وی چھوڑ دیا اس میں دنیا ٹی وی کی فرعون صفت انتظامیہ کا بھی عمل دخل تھا اس کے بعد دونوں کسی پروگرام میں اکٹھے نہیں دیکھے گئے
دنیا ٹی وی کے بعد آفتاب اقبال نے جیو ٹی وی چینل پر خبرناک کے نام سے شو شروع کر دیا، جس میں کامیڈین کنگ امان اللہ، سخاوت ناز اور افتخار ٹھاکر نمایاں اداکار تھے، جیو پر آفتاب اقبال کا انداز گفتگو مزید بدتمیزانہ اور متکبرانہ ہو گیا، سینئر فنکاروں کو او جاہل، بیوقوف کہنا انہوں نے معمول بنا لیا، میں اس وقت اپنے دوست ندیم سعید کی ویب سائٹ ٹاپ سٹوری آن لائن پر خبریں دیا کرتا تھا، میں نے ٹاپ سٹوری آن لائن پر خبر بریک کی، ”امان اللہ، افتخار ٹھاکر اور سخاوت ناز جیو چھوڑ گئے“ ، اس خبر نے تہلکہ مچا دیا اور ہماری ویب سائٹ کے فالورز بہت بڑھ گئے، یہ خبر مجھے افتخار ٹھاکر نے دی تھی
کئی پروگراموں میں یہ تینوں فنکار نظر نہیں آرہے تھے، ایک تقریب میں افتخار ٹھاکر سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فوراً سگریٹ مانگ لیا، میں نے سگریٹ پیش کیا اور پوچھا جناب خبرناک میں نظر نہیں آرہے تو ٹھاکر نے بتایا کہ ہم نے خبرناک چھوڑ دیا ہے میں نے کہا ہم کا مطلب؟ تو انہوں نے کہا استاد جی (امان اللہ)، سخاوت اور میں، وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آفتاب اقبال استاد جی سے بہت بدتمیزی کرتا تھا جس پر ساتھ کھڑے پانچ، چھ لوگ فوراً بول اٹھے، وہ بندہ ہی بدتمیز ہے، مزید پوچھنے پر انہوں نے پورا واقعہ سنایا
افتخار ٹھاکر نے بتایا کہ استاد جی بیمار ہیں (تھے)، ریکارڈنگ کے دوران ان کو پیشاب کی حاجت ہوجاتی تھی جس کی وجہ سے ریکارڈنگ روکنا پڑتی تھی، ایک بار استاد جی کو پیشاب کی حاجت ہوئی تو انہوں نے ریکارڈنگ روکنے کا کہا جس پر آفتاب اقبال انتہائی بدتمیزی سے استاد جی پر چلایا تو استاد جی نے کہا کہ آپ سب کو میری وجہ سے پریشانی ہوتی ہے تو میں چلا جاتا ہوں جس پر آفتاب اقبال نے پھر بدتمیزی سے کہا جاؤ، چلے جاؤ، جس پر استاد جی اٹھ کر جانے لگے تو میں اور سخاوت بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور استاد جی کی گھٹنے پکڑ لئے اور کہا کہ ہم سب آپ کے بچے ہیں، سٹیج کا ہر فنکار آپ کی محنت کے صدقے میں کھا رہا ہے، اب اگر آپ جائیں گے تو ہم بھی ساتھ ہی جائیں گے اور ہم بھی استاد جی کے ساتھ خبر ناک چھوڑ آئے ہیں
میں نے پوچھا کہ مستقبل کا کیا پروگرام ہے تو انہوں نے بتایا کہ اگلی رات ہی دنیا چینل سے آفر آ گئی ہے، مذاق رات نام سے پروگرام شروع کر رہے ہیں اس کا پیٹرن خبرناک سے بالکل مختلف ہو گا، مذاق رات اب بھی ہٹ پروگرام ہے، یہ قصہ سنانے کا مقصد یہ تھا کہ یہ تینوں فنکار آفتاب اقبال کے غیرمناسب رویہ کی وجہ سے جیو چھوڑ گئے تھے
کچھ عرصہ بعد آفتاب اقبال کے جیو چھوڑنے کی خبر بھی میں نے ہی ٹاپ سٹوری آن لائن پر بریک کی تھی اس کی وجوہات کچھ اور تھیں مگر میں نے خبر میں جیو انتظامیہ سے اختلافات قرار دیا تھا، اس کے بعد آفتاب اقبال نئے فنکاروں کے ساتھ مختلف چینلز پر پروگرام کرتے رہے مگر رفتہ رفتہ نامور فنکار ان کے توہین آمیز رویہ کی وجہ سے ان کو چھوڑتے گئے جن میں آغا ماجد، ناصر چنیوٹی، اسد کیفی، ہنی البیلا، ثمن شیخ، روبی انعم، ببو رانا و دیگر شامل ہیں، جتنے فنکاروں نے آفتاب اقبال کو چھوڑا یہ بھی ٹی وی کی تاریخ کا ریکارڈ ہی ہو گا، ان میں سے آغا ماجد کے چھوڑنے پر مجھے یقین ہو گیا کہ بندے کا رویہ واقعی گندا ہے کیونکہ آغا ماجد کو 1990 سے جانتا ہوں، وہ انتہائی عاجز اور دھیمی مزاج کا انسان ہے، آغا ماجد کا بنیادی پیشہ درزی کا ہے، ملتان میں زکریا ٹاؤن بوسن روڈ پر ان کی دکان تھی جہاں پر میں ان سے اپنے کپڑے سلواتا تھا، ایک بار میرا سوٹ نہ سیا تو میں برہم ہو گیا مگر آغا ماجد بہت سکون سے میری باتیں سنتے رہے اور صرف معافی مانگ کر سگریٹ پلائی جس پر مجھے اپنے رویے پر شرمندگی ہوئی
مجھے ذاتی طور پر آفتاب اقبال سے نفرت کی حد تک ناپسندیدگی اس وقت ہوئی جب اس نے اپنے پروگرام میں شہنشاہ غزل مہدی حسن کی ڈمی بنائی اور انتہائی بیہودہ اور توہین آمیز انداز میں اس کو پیش کیا، مہدی حسن کی آخری عمر میں میرا ان سے تعلق رہا، ان جیسا عاجز انسان آج تک زندگی میں نہیں دیکھا، ان کی اس حرکت کے بعد میں نے آج تک ان کا کوئی پروگرام نہیں دیکھا، مجھے اصل دکھ تو آغا ماجد، اظہر رنگیلا، ہنی البیلا نے پہنچایا جنہوں نے عظیم فنکار کی توہین کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھی
سہیل احمد سے بھی کسی دور میں کبھی کبھی ملاقاتیں ہوتی تھیں، فنکاروں میں بھی اٹھنا بیٹھنا رہا آج تک کسی فنکار کی زبان سے سہیل احمد کے بارے میں ایک غلط لفظ نہیں سنا، جونیئر کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، ملنسار اور خوش اخلاق انسان ہیں
فنکار بنیادی طور پر حساس ہوتا ہے، ملک کے بڑے بڑے فنکاروں نے ان کے ساتھ کام کیا ایک ایک کر کے سب چھوڑ گئے اس کا مطلب ہے کہ تمام فنکاروں میں خامیاں نہیں تھیں خامیاں اس بندے میں ہیں جس کے ساتھ کوئی کام نہیں کر سکتا، آفتاب اقبال بہت پڑھے لکھے ہیں، مگر جس کو اپنے علم پر غرور ہو وہ علم نہیں جہالت بن جاتا ہے، عامل بے عمل بھی جاہل ہی ہوتا ہے، اس کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ سہیل احمد نے پوڈ کاسٹ میں ایک ڈیڑھ منٹ آفتاب اقبال کے بارے میں گفتگو کی تو جواب میں آفتاب اقبال نے ایک گھنٹے کا وی لاگ کر دیا یعنی سہیل احمد کی ڈیڑھ منٹ کی گفتگو ان کے ایک گھنٹے کی وضاحتوں کے برابر ہے، فیصلہ قارئین کریں گے۔




