علامہ اقبال اور حرم کی پاسبانی پر تبصرہ

نوائے وقت مورخہ 21 اپریل 2024 میں شائع ہونے والے مضمون بعنوان ”علامہ اقبال اور حرم کی پاسبانی“ محررّہ محترم ڈاکٹر سید محمد اکرم اکرام صاحب کے آغاز میں حرم کی تعریف میں لکھا گیا ہے :
”علامہ اقبال نے اپنے کلام میں لفظ حرم نہایت وسیع معنوں میں استعمال کیا ہے۔ وہ کعبہ شریف کے علاوہ حرم سے قرآن مجید، توحید و رسالت، ملت اسلام، دین اسلام اور عالم اسلام بھی مراد لیتے ہیں۔ دراصل یہ سب اصطلاحات ایک ہی حقیقت یعنی اسلام کی آئینہ دار ہیں“
علامہ تو اس تعریف کی تصدیق یا تکذیب کے لئے موجود نہیں ہیں اور جو مبالغہ بھی ان کے نام پر کر دیا جائے کسی کو جرات نہیں کہ اس پر تنقید کرے۔ قرآن مجید کی حفاظت تو اللہ تعالیٰ کا ذمہ ہے اس پر سبھی کا اتفاق ہے اور یہ روز اوّل سے مِن و عَن محفوظ چلا آ رہا ہے۔ عالم اسلام کو حرم قرار دینا ایک نئی اختراع ہے۔
موصوف لکھتے ہیں کہ:
”انیسویں اور بیسویں صدی میں تقریباً تمام عالم اسلام زوال کی حدود تک پہنچا ہوا تھا۔ اس زوال و انحطاط کا ایک اہم باعث مسلمانوں کا انتشار و افتراق تھا۔ اس انتشار نے مسلمانوں کی وحدت ملی کو نقصان پہنچایا۔ اس کے نتیجہ میں بعض مسلمان اقوام آپس میں ہی دست و گریبان ہونے لگیں“ ۔ ”یورپ کی ملوکانہ اغراض اس امر کی متقاضی ہیں کہ اسلام کی وحدت دینی کو پارہ پارہ کرنے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی حربہ نہیں کہ اسلامی ممالک میں فرنگی نظریہ وطنیت کی اشاعت کی جائے۔“
مضمون نگار نے صرف پچھلی دو صدیوں سے انتشار و افتراق بیان کیا ہے حالانکہ باہمی انتشار تو پہلی صدی سے جاری ہے اور بھول گئے کہ ایک مسلمان سالار حجاج بن یوسف نے اصلی حرم خانہ کعبہ کی عمارت ہی ڈھا دی تھی۔ کمال یہ ہے ایک طرف ”فرنگی نظریہ وطنیت“ کی تنقیص اور دوسری جانب ایک ”الگ وطن کا تصور“ دونوں متضاد نظریات مطالعہ پاکستان میں پڑھائے جاتے ہیں۔ ذہنی پسماندگی کا یہ المیہ ہے کہ اصل وجوہات سے بوجہ خوف لامۃ الائم کَنی کتراتے ہوئے اپنے زوال اور ابتری کی کسی خارجی عامل پر ذمہ داری ڈال کر انسان مطمئن ہو جاتا ہے۔
مضمون نگار مزید فرماتے ہیں :۔
”مغرب زدہ دانشوروں کی آزاد خیالی بھی عالم اسلام کے انتشار کا باعث بنی۔ اسے سیکولر ازم کہا جاتا ہے۔ یعنی مذہب محض ایک ذاتی کیفیت ہے۔ ان دانشوروں نے دین اسلام کو دین مسیحیت کے مترادف ایک دین قرار دے دیا اور جس طرح اہل مغرب نے دین کو ایک ذاتی معاملہ قرار دیا اسی طرح انہوں نے بھی دین اسلام کو انسان کا ذاتی معاملہ تصور کر لیا۔ قطع نظر اس سے کہ اسلام مکمل طور پر ایک اجتماعی ضابطہ حیات ہے جو فرد اور معاشرے کو ایک دوسرے سے مربوط کرتا ہے۔ اسلام ایک ایسی عظیم قوت ہے جس نے دین اور دنیا کی تفریق کو یکسر کالعدم قرار دیا“
حقیقت ہے کہ یہ نظریہ کمیونسٹ انقلاب سے پہلے مسلمانوں میں اس طرح موجود تھا ہی نہیں۔ بالشویکوں کے نظریہ مساوات کو ہندی مسلمانوں میں مرغوب کر نے کے لئے :
بالشوزم +خدا= اسلام۔ کا فارمولہ علامہ اقبال کی صنعت ہے۔ (ہماری قومی جد و جہد۔ عاشق بٹالوی)
اس وقت کروڑہا مسلمان ”قومی وطنی ریاستوں“ میں مسلمان ملکوں سے باہر مقیم ہیں اور اسلام کی تعلیم پر عمل بھی کر رہے ہیں۔ ان اجتماعی ضابطہ حیات کے داعیان سے سوال بنتا ہے کہ وہ دین جو بغیر حکومت کے چل نہیں سکتا اور کوئی مسلمان حکومت دنیا میں ایسی موجود نہیں جو شخصی آزادیوں کو تہس نہس کیے بغیر قائم ہو یا قائم تھی اور اس دعویٰ سے کوئی فائدہ پہنچ نہیں رہا تو اس کا بار بار اعادہ ترک نہ کرنے کی انہیں مجبوری کیا ہے؟
صد احترام سے عرض ہے کہ علامہ اقبال سے بڑھ کر بھی پاکستان میں آج ہزاروں دانشمند اور مفکر موجود ہیں اگر علامہ کی باتوں کو تو قرآن و حدیث کا رتبہ دیں اور ملک میں موجود لوگوں کا ناطقہ بند کر دیں تو جس زوال کی رونا ہر طرف رویا جا رہا ہے اس کو دوام تو بخشا جا سکتا ہے اس سے جان نہیں چھڑائی جا سکتی۔ اسلام کو صرف علامہ کی تشریح میں ہی سمجھنا جہالت ہے۔ اور اس جہالت پر فریفتگی پاکستان میں ”ریاستی بیانیہ“ بنا دیا گیا ہے۔ لہذا :
؎ ستم گر تجھ سے امید کرم ہوگی جنہیں ہوگی
ہمیں تو دیکھنا یہ تھا کہ تو ظالم کہاں تک ہے
بقول مضمون نگار علامہ اقبال کے مطابق اقبال نے فرمایا::۔
”اسلام کا مذہبی نصب العین اس کے معاشرتی نظام سے جو خود اسی کا پیدا کردہ ہے، الگ نہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں ’اگر آپ نے ایک کو ترک کیا تو بالآخر دوسرے کا ترک کرنا بھی لازم آئے گا۔ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی مسلمان ایک لمحے کے لئے بھی کسی ایسے نظام سیاست پر غور کرنے کے لئے آمادہ ہو گا جو کسی ایسے وطنی یا قومی اصول پر مبنی ہو جو اسلام کے اصول اتحاد کے منافی ہو۔“
اگر یہ واقعی علامہ کا ہی کہنا بھی ہو تو اسے قرآن کی آیت نہیں قرار پا سکتا۔ خاص طور پر فعلی دلیل کی موجودگی میں یعنی جب علامہ کے ممدوح خاص اتاترک کا عمل علامہ کے اس نظریہ کی قطعاً نفی کرتا ہو اور جس نے ترکی کو سیکولر اور وطنی ریاست میں ڈھال دیا تھا۔ وہ آج باقی تمام مسلمانوں کے لئے مثالی ریاست بن چکا ہے۔
آخر پر لکھتے ہیں کہ:
”علامہ اقبال کے نزدیک اسلام ہر دور میں ایک فعال، متحرک اور زندہ قوت کے طور پر نمایاں ہوا ہے۔ اس نے ایک ہزار سال میں عالم انسانی کے اتحاد میں وہ کچھ کر دکھایا ہے جو مسیحیت اور بدھ مت سے دو ہزار سال میں بھی نہ ہو سکا“
یہ بات صرف اس حد تک بہر حال درست ہے کہ عوام میں اشتعال پھیلانے کے لئے حکمرانوں اور ان کے مخالفین نے اسلام کو ہمیشہ کامیابی سے زندہ قوت ثابت کیا ہے۔ آج بھی اس زندہ قوت کی مردہ ذہنوں پر تاثیر بخوبی ملاحظہ کی جا سکتی ہے اور اس کا ثبوت ہے کہ بالارادہ ”مذہبی ٹچ“ کو اپنے سفلی مفادات کے لئے استعمال کرنا روا سمجھا جاتا ہے۔

