اگر پنجاب کر سکتا ہے تو سندھ کیوں نہیں؟
اگر آپ مریم نواز کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد کے اقدامات کو دیکھیں او ر اُن کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کریں تو آپ یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ پنجاب ٹھیک سمت جا رہا ہے۔ مریم نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد کئی ایسے انقلابی اقدامات کیے ہیں کہ اگر پالیسیوں میں تسلسل رہا تو اگلے دو سالوں میں پنجاب میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئے گی۔
میں نے اپنے کالموں میں ہمیشہ زور دیا ہے کہ کسی علاقے یا مُلک کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہاں امن ہو اور حکومتی عمل داری ہو۔ اگر امن نہیں ہو گا اور حکومت کا اپنے علاقے پر بہتر کنٹرول یا عمل داری نہیں ہوگی تو اُس علاقے یا مُلک کی ترقی ناممکن ہوگی۔ مریم نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد حکومتی عمل داری بہتر کی ہے۔ حالیہ رمضان میں سول بیوروکریسی اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی مدد سے مانیٹرنگ سخت کرتے ہوئے مصنوعی مہنگائی کو روکا گیا ہے۔ اگر آپ دیکھیں تو حالیہ رمضان میں آپ کو لوگ قیمتوں کے بڑھنے کا رونا روتے اور احتجاج کرتے نظر نہیں آئے ہوں گے جب کہ عثمان بزدار کے دور میں پنجاب میں گورنس نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی تھی، جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس والا معاملہ تھا، تاجروں نے عثمان بزدار کے دور میں خوب فائدہ اُٹھایا اور پنجاب کے لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لُوٹا۔
مریم نواز کا دوسرا اچھا قدم امن و عامہ کے حوالے سے سخت اقدامات کرنا ہے۔ اُنہوں نے معمولی واقعات پر بھی سخت نوٹس لیا اور متعلقہ اداروں سے باز پُرس کی یہ ہی وجہ ہے کہ پنجاب میں رہزنی کی وارداتوں میں تیزی سے کمی آئی ہے، رمضان اور عید کی خریداری کے دو ان آپ کو لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں رہزنی اور لُوٹ مار کی وارداتوں کا شور اُس قدر سنائی نہیں دیا جس قدر یہ سابقہ دور میں سنائی دیتا تھا۔ فیصل آباد میں پتنگ کی ڈور سے ایک نوجوان کی ہلاکت کے بعد جس تیز رفتاری سے مریم نے اقدامات کیے وہ بھی قابل تحسین ہیں۔ نواز شریف کے ہمراہ مقتول کے گھر تعزیت کے لیے جانا اور اُس کے بعد پتنگ بازوں کے خلاف اقدامات کر ناقابل تحسین ہیں۔ کیمیکل والی ڈور کے سپلائر کی گرفتاری کے لیے خیبر پختونخوا تک پنجاب پولیس کا جانا اپنے عوام کے تحفظ کے لیے ایک اچھے کام کی ابتدا ہے۔
ایک اور آئی ٹی سٹی کے قیام کی منظوری، آئی ٹی کے شعبے میں فری لانس کام کرنے والے نوجوانوں کو سہولیات کی فراہمی اور پنجاب کے تمام سرکاری دفاتر کو سولر پر منتقل کرنے جیسے اقدامات قابل تحسین ہیں اور امید ہے کہ آگے چل کر یہ پنجاب میں بہتری کا باعث بنیں گے، اب اگر پنجاب حکومت سندھ کے ساتھ مل کر کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف کوئی اقدامات کر لیتی ہے تو یہ مریم نواز شریف کے اچھے کاموں میں سے ایک اور بہترین کام ہو گا۔
یہ تو تھی پنجاب کی کہانی جو امید لاتی ہے اور اچھا مستقبل دکھاتی ہے، اب آتے ہیں سندھ کی طرف۔ سندھ میں گزشتہ کئی دہائیوں سے پی پی پی کی حکومت ہے لیکن سندھ میں صورت حال پنجاب کے بالکل برعکس ہے۔ اگر آپ امن و عامہ کی صورت حال دیکھیں تو افسوس ناک حد تک خراب ہے۔ اندرون سندھ میں ڈاکو راج ہے، آپ کشمور، مٹھی، عمر کوٹ، گھوٹکی، شکارپور، دادو، لاڑکانہ کہیں بھی محفوظ نہیں بلکہ اب تو آپ سندھ کے دوسرے بڑے شہر سکھر میں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔ ان تمام علاقوں سے کچے کے ڈاکو آپ کو کسی بھی وقت اُٹھا سکتے ہیں، تاوان طلب کر سکتے ہیں اور تاوان نہ دینے کی وجہ سے قتل کر سکتے ہیں بلکہ کئی کیسز میں تو تاوان دینے کے بعد بھی قتل کرنے کے واقعات دیکھنے میں آئے ہیں۔
بد امنی کی یہ انتہائی بُری صورت حال سندھ حکومت کے ماتھے کا وہ داغ ہے جسے جتنی جلدی دھو لیا جائے حکومت کی بدنامی کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اب عوام یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ سندھ حکومت خود ڈاکوؤں کے ساتھ ملی ہوئی ہے اسی لیے کسی قسم کی کارروائی سے گریزاں ہے۔ سندھ حکومت کی بدنامی کا آغاز اُسی وقت ہوجاتا ہے جب کوئی مسافر موٹر وے سے سندھ کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ سندھ کی حدود میں داخل ہوتے ہی تمام ریسٹ ایریا اُسے بند ملتے ہیں، پوچھنے پر موٹر وے پولیس کے اہلکار بتاتے ہیں کہ کچے کے ڈاکوؤں کی وجہ سے یہ ریسٹ ایریا بند کر دیے گئے ہیں کیوں کہ وہ لوگوں کو اغوا کر لیتے ہیں۔
اندرون سندھ کے بعد اگر ہم پاکستان کے سب سے بڑے اور دُنیا کے ساتویں بڑے شہر کراچی کی بات کریں تو یہاں بھی سندھ حکومت کے لیے بے امنی ہی بدنامی کا باعث ہے۔ صرف رمضان کے مہینے میں پچاس سے زائد شہری رہزنی کی وارداتوں کے دوران اپنی جان گنوا چُکے ہیں۔ جن کی جانیں بچ گئیں وہ بھی کروڑوں روپے کے موبائل فون اور نقدی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لاکھوں موبائل فون چھن چکے ہیں، سینکڑوں موٹر سائیکل اور درجنوں گاڑیاں بھی چھینی جا چکی ہیں۔ گاڑیوں کے شیشے توڑ کر قیمتی سامان نکالنے کے واقعات بھی عام ہیں۔
عام طور پر بندہ فیملی کے ساتھ گھر سے باہر جائے تو وہ خوشی محسوس کرتا ہے اور اُس کا وقت اچھا گزرتا ہے۔ کراچی واحد شہر ہے کہ جہاں آپ فیملی کے ساتھ گھر سے باہر جاتے ہیں تو اُس وقت تک پریشان رہتے ہیں جب تک آپ گھر واپس نہ آجائیں۔ ہر وقت دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کُچھ ہو ہی نہ جائے، جہاں آپ دو موٹر سائیکل سواروں کو دیکھتے ہیں، آپ کی سانس رُک جاتی ہے کہ اب کُچھ ہونے والا ہے اور جب تک وہ موٹر سائیکل سوار آپ کو کراس کر کے آگے نہ نکل جائیں آپ پریشان ہی رہتے ہیں مگر بدقسمتی سے اُن کے آگے جاتے ہی دوسرے دو موٹر سائیکل سوار آپ کا امتحان لینے اور آپ کو پریشان کرنے پہنچ آتے ہیں۔ کسی ریسٹورنٹ پر کھانا کھانے بیٹھیں یا چائے پینے آپ خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہوتے ہیں۔
رہزنی کی وارداتوں پر قابو پانے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی بھی ضرورت نہیں، صرف گورنس بہتر کرنے کی ضرورت ہے، اگر گورنس بہتر کی جائے، پولیس اور ڈکیتوں کے گٹھ جوڑ کو ختم کیا جائے تو چند دنوں میں شہر میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ اگر سندھ حکومت یہ کام نہیں کر سکتی تو اپنی ناکامی کو تسلیم کر کے وفاقی حکومت سے درخواست کرے جو وفاقی اداروں کی مدد سے اس لاقانونیت پر قابو پائے تو شہر میں فوری امن ہو جائے گا۔
قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے بھی سندھ حکومت کی ناکامی سندھ کے رہنے والوں کا منہ چڑھا رہی ہے۔ رمضان کے مقدس مہینے میں حکومت قیمتوں پر بالکل قابو نہیں رکھ سکی جس کی وجہ سے مصنوعی مہنگائی عام دیکھنے میں آئی۔
اب آتے ہیں مواصلات کے نظام کی طرف تو سندھ میں سڑکوں کی صورت حال بھی انتہائی ناگفتہ ہے۔ آپ کسی مرکزی شاہراہ پر جا رہے ہوں یا کسی ذیلی سڑک پر آپ کو جا بجا گھڑے نظر آتے ہیں۔ نئی گاڑی بھی چند مہینوں کے بعد کھٹارا نظر آتی ہے۔ کراچی میں سوائے ڈیفنس کی چند سڑکیں اور شاہراہ فیصل (وہ بھی کچھ مقامات پر ) کسی حد تک قابل استعمال ہیں اُس کے علاوہ ہر جگہ سڑکوں کا بُرا حال ہے۔ سکھر میں قائداعظم روڈ کے علاوہ (وہ بھی حال ہی میں بہتر ہُوا) کہیں آپ کو کوئی سڑک قابل استعمال دکھائی نہیں دیتی جب کہ خورشید شاہ نے دعوٰی کیا تھا کہ اگر کسی نے ترقی دیکھنی ہے تو وہ سکھر آ کر دیکھے۔
سندھ میں سب سے بڑا مسئلہ گورنس کا ہے۔ پرانے اور سینئر سیاست دانوں کا خیال ہے کہ وہ بھٹو کے نام پر ووٹ لیتے رہیں گے اس لیے اُنہیں ترقیاتی کام کروانے یا گورنس کو بہتر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پی پی پی میں آپ کو سوائے بلاول بھٹو اور مرتضیٰ وہاب نوجوان سیاست دان کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ بلاول حالات کو سمجھنے کے باوجود کُچھ کر نہیں سکتا کیوں کہ محترم آصف علی زرداری سمیت سندھ کے تمام سینئر سیاست دان اُسے یہ باور کرانے میں مصروف ہیں کہ روایتی طرز سیاست ہی پی پی پی کی کامیابی کی ضامن ہے۔
یہاں یہ سینئر سیاست دان ایک بڑی غلطی کرتے ہیں کیوں کہ آج کا نوجوان ووٹر، بزرگ ووٹر سے زیادہ ہے اور نوجوان ووٹر ترقیاتی کام کو بھی اہمیت دیتا ہے اور گورنس کو بھی۔ وہ اپنے صوبے اور علاقے کا دوسرے صوبوں اور علاقوں سے موازنہ بھی کرتا ہے، وہ پنجاب کا سفر بھی کرتا ہے، وہاں ترقیاتی کام کی رفتار اور امن و عامہ کی صورت حال کا بھی جائزہ لیتا ہے تو اپنی حکومت سے مایوس ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا نے دُنیا کو واقعی گلوبل ویلیج بنا دیا ہے اور نوجوان دُنیا بھر کی ترقی سے باخبر رہتے ہیں۔ جب پی پی پی کی حکومت سے مایوس ایسے نوجوانوں کو کوئی نئی پارٹی نظر آتی ہے تو یہ اُس کی طرف بھاگتے ہیں اور پی پی پی سے دوری اختیار کرتے ہیں اور سندھ کا ماضی اس بات کا گواہ ہے۔ اب بھی وقت ہے اگر پی پی پی ہوش کے ناخن لے اور سندھ میں گورنس کو بہتر بنائے تو سندھ کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔


