اسلامی معاشرے زوال پذیر کیوں ہیں؟


اسلامی معاشرے سے وابستہ بہت سے سوال جواب طلب ہیں۔

ایسا کیوں ہے کہ پچھلے سات آٹھ سو سالوں میں مسلمانوں کا سائنس اور دوسرے علوم کی ترقی میں کوئی حصہ نہیں ہے؟
ایسا کیوں ہے کہ کسی اسلامی ملک میں پائیدار جمہوری نظام موجود نہیں؟
ایسا کیوں ہے کہ کسی اسلامی ملک میں ایسے انصاف کا نظام موجود نہیں جس کی شفافیت پر کوئی سوال نہ ہو؟

ایسا کیوں ہے کہ اسلامی دنیا میں وہ تخلیقی سوچ نظر نہیں آتی جو ہم اس دنیا کی دوسری تہذیبوں سے وابستہ کرتے ہیں؟

ایسا کیوں ہے کہ تیل تو اسلامی ممالک کی سرزمین میں موجود ہو لیکن اس کو نکالنے کے لیے مغربی ممالک سے ایکسپرٹ اور ٹیکنالوجی حاصل کی جائے؟

ایسا کیوں ہے کہ اسلامی ممالک کے تقریباً ہر فرد کے ہاتھوں میں سیل فون تو موجود ہے لیکن ان ممالک میں سیل فون بنانے کی ایک بھی فیکٹری موجود نہ ہو؟

ایسا کیوں ہے کہ پوری اسلامی دنیا میں ایک بھی ایسی یونیورسٹی نہیں ہے جس کا شمار دنیا کی سو بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہو؟

یہ اور ان جیسے دوسرے سوالات کا عام طور پر جواب یوں دیا جاتا ہے کہ
ایسا اس لیے ہے کہ ہم کو ایسے لیڈر نہیں ملے جو دیانتدار اور ایماندار ہوں۔
ایسا اس لیے ہے کہ ہم نے قرآنی تعلیمات کو بھلا دیا اور مغرب کی تقلید میں چل پڑے۔
ایسا اس لیے ہے کہ مغرب اور یہودی سازش یہی رہی ہے کہ مسلمانوں کو آگے بڑھنے سے روکا جائے۔

ذرا ایمانداری سے غور کریں تو یہ دلائل انتہائی کھوکھلے نظر آتے ہیں کیونکہ یہاں بات باون ممالک اور سات سو سال کی تاریخ کی ہو رہی ہے۔

اب یہ بات ہم میں سے بیشتر کو گراں لگ سکتی ہے مگر مسائل کی جڑ ان روایات میں ہے جن پر تمام مسلم معاشرے قائم ہیں۔ اگر ہم اس دنیا میں کوئی مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اپنی آئندہ نسلوں کے لیے ایک قابل فخر میراث چھوڑنا چاہتے ہیں تو کھل کر باہمی احترام کے ماحول میں ایمانداری سے اس موضوع کو زیر بحث لانا ضروری ہے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیا وجہ ہے کہ مسلمان جہاں بھی ہیں، رجعت پسندی اور بے توقیری کی علامت ہیں۔ اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہر جگہ جہاں مسلمان موجود ہیں، لیڈر کرپٹ اور نا اہل ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مسائل کی جڑ وہاں موجود ہے جس جگہ کو مقدس سمجھتے ہوئے ہم جائزہ لینے کو گناہ تصور کرتے ہیں اور جہاں جاتے ہوئے ہمارے پر جلنے لگتے ہیں۔

میں یہاں اپنا نقطہ نظر پیش کر تا ہوں۔

میرے نزدیک اسلامی دنیا کی کسمپرسی کا بڑا سبب یہ ہے کہ یہ معاشرے انہی بنیادوں پر قائم ہیں جو ہزار سال پہلے رکھی گئی تھیں۔ اس میں ذرا سا رد و بدل بھی گوارا نہیں۔ اب یہ کتابیں، روایات اور عقائد ہزار سال پہلے تو روشن خیالی کی علامت ہوں گے مگر آج کے تقاضوں سے بالکل ہم آہنگ نہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ایک طرف تو دنیا نے بدلتے ہوئے حالات میں جمہوریت، سیکولر ازم اور مذہبی آزادی جیسے نظریات کی بنیادوں پر اپنے معاشروں کی بنیاد رکھی ہے اور بہت تیزی سے ترقی کی شاہراہوں پر گامزن ہیں لیکن دوسری طرف مسلم معاشرے اپنی روایات میں رد و بدل کیے بغیر اور کسی قسم کی قربانی دیے بغیر انہی راہوں پر سفر کرنا چاہتے ہیں۔

میں اپنی اس بات کی وضاحت چند مثالوں سے کرنا چاہوں گا۔

ذرا اس بات پر غور کرتے ہیں کہ کوشش کے باوجود باون اسلامی ملکوں میں سے ایک ملک بھی ایسا نہیں ہے جہاں صحیح معنوں میں جمہوریت کا دور دورہ ہو۔ یہ اس کے باوجود ہے کہ بیشتر اسلامی ملکوں کا آئین مغربی روایات کی پیروی کرتے ہوئے جمہوری نظام قائم کرنے پر زور دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً تمام اسلامی ممالک میں پارلیمنٹ موجود ہے اور الیکشن بھی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ مغربی جمہوریت کی انتہائی بھونڈی شکل محسوس ہوتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ سوال آج کی دنیا میں مسلم ممالک کی حالت زار کی روشنی میں بہت اہم ہے۔

صورت حال یہ ہے کہ حکومت کا نظام چلانے کے لیے تو مغربی نظام اور طریقوں کو من و عن قبول کر لیا ہے مگر سماجی اقدار کی بنیاد انہی مذہبی روایات پر موجود ہے جو ہزاروں سال پرانے ہیں۔ اس طور مسلم معاشرے ایک عجیب کشمکش کا شکار ہیں۔ اب پاکستان جیسے ملک میں آئین تو برطانیہ کے ان لکھے آئین کی تقریباً ہو بہو نقل ہے، بس بادشاہ کی جگہ صدر ہے۔ لیکن دوسری طرف پرچار ایسے اسلامی نظام کا ہے جس کا کوئی واضح تصور کسی کے ذہن میں نہیں ہے۔ جب تک ایک واضح اور متفقہ تصور پیش نہ کیا جائے، ریاست مدینہ اور خلافت راشدہ محض سستے اور کھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں۔

ایک جمہوری نظام کے کچھ لوازمات ہیں جن میں سب سے اہم اختلاف رائے کی موجودگی میں باہمی احترام ہے۔ جمہوری اقدار اس بات پر قائم ہیں کہ نظام حکومت ایک مخصوص مدت کے لیے ایسی پارٹی کے حوالے کیا جائے جس کے پاس عوام میں اکثریت ہو۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ نظام اس سوچ پر قائم ہیں کہ عوام کی حاکمیت ہے اور ان کا کیا گیا فیصلہ سب کو قبول ہو گا۔

میرے نزدیک گہری نظر سے دیکھا جائے تو محسوس ہو گا کہ مذہبی سوچ نے خود راست بازی کا زہر سوسائٹی میں گھول دیا ہے جس کے نتیجے میں جمہوریت سے وابستہ باہمی احترام کا تصور مفقود ہو گیا ہے۔ ایک مذہبی ذہن اس خوش فہمی کا شکار رہتا ہے کہ وہ ہی صحیح ہے اور باقی سب گمراہ ہیں۔ پھر اس بارے میں کوئی واضح سوچ نہیں کہ حاکمیت عوام کے پاس ہے یا خدا کے پاس ہے۔ اور اگر خدا کے پاس ہے تو اس کا کیا مطلب ہے۔ اگر قرآن مکمل ضابطہ حیات ہے تو آئین کی ضرورت کیا ہے۔ غرض اسلامی ممالک اپنی ہزار سالہ روایات اور جدید نظریات کے درمیان ایک کنفیوژن کا بری طرح شکار ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ آئین میں تو جمہوری نظام اور جمہوری اقدار کا پرچار کیا گیا ہے لیکن عملی طور پر نظام میں پائیداری مفقود ہے۔ کوئی اسلامی ملک ایسا نہیں جہاں پچھلے پچاس سال کے دوران مقررہ مدت کے بعد وقت پر انتخاب ہوتے رہے ہوں اور حکومتیں ان انتخابات کے نتیجے میں پر امن طور پر آتی جاتی رہی ہوں۔

میری دوسری مثال تعلیمی نظام سے وابستہ ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ تقریباً تمام مسلم ممالک میں اسکول، کالج اور یونیورسٹی کا نظام وہی ہے جو مغرب میں نافذ ہے۔ بالکل اسی طرح پرائمری، مڈل، اور ہائی اسکول ہیں، پھر اسی طرح کالج اور یونیورسٹیاں ہیں۔ ان اسکولوں اور کالجوں میں نصاب بھی تقریباً وہی ہے جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں رائج ہے۔ یہ وہی تعلیمی نظام ہے جو یورپ اور امریکہ میں موجودہ شکل میں انیسویں صدی میں نافذ ہوا اور ہم نے آنکھیں بند کر کے اختیار کر لیا۔ لیکن یہ نظام وہ نتائج دینے میں بری طرح ناکام رہا ہے جو غیر مسلم ممالک میں حاصل کیے گئے ہیں۔

مغرب میں اسی نظام تعلیم کی بنیاد پر عظیم سائنسدان، اکنامسٹ، انجینئر، ڈاکٹر اور اسی طرح ہر شعبے میں بہت قابل اور تخلیقی صلاحیتوں سے مزین لوگ پیدا کیے ہیں۔ یہاں تک کہ مشرق میں غیر مسلم ممالک مثلاً انڈیا، چین، جاپان، اور کوریا بھی ایسے ہی تعلیمی نظام کے ذریعے کامیاب راستوں پر رواں دواں ہیں۔ لیکن اسلامی دنیا میں علمی شعبے میں پسماندگی اور تاریکی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ صورت حال ان اسلامی ملکوں میں ملتی ہے جو غریب ہیں اور ان اسلامی ممالک میں بھی جو قدرتی وسائل سے مالامال ہیں۔ یہ یقیناً ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ایسا کیوں ہے۔

تمام مسلم ممالک علم کے ہر شعبے میں کیوں اتنے پسماندہ ہیں؟ اس کا کوئی سادہ جواب نہیں ہے۔ ہمیں انتہائی ایمانداری سے ٹھنڈے دماغ کے ساتھ اپنے تعلیمی نظام کی بنیادوں کو ٹٹولنا ہو گا کہ وہ کیا عوامل ہیں جن کی بدولت تمام مسلم معاشرے علمی انحطاط کا شکار ہیں۔ اس انتہائی اہم موضوع پر اپنی رائے ایک علیحدہ مضمون میں دینے کی کوشش کروں گا۔

میری آخری مثال معاشی نظام سے وابستہ ہے۔ سائنسی انقلاب کے نتیجے میں مغرب میں ایک صنعتی انقلاب رونما ہوا۔ سائنسی سوچ نے ہر شعبے میں ٹیکنالوجی کو فروغ دیا۔ ایک زمیندارانہ نظام کی جگہ ایک صنعتی معاشرے نے لی۔ اور پھر ایک طرف چند ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام کے بنیادی اصول طے کیے گئے اور دوسری طرف کئی ملکوں میں اشتراکی نظام کی تفصیلات طے کی گئیں۔ ان تمام تصورات کی بنیاد وہ بدلتے ہوئے حالات تھے جو سائنسی اور صنعتی انقلابات کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔ اہم بات یہ ہے کہ ان معاشروں نے بدلتے ہوئے حالات میں اقتصادی معاملات میں ایسے نئے تصورات کو جنم دیا جو تحقیق کی بنیاد پر ارتقا پذیر ہیں۔

اس کے برعکس، اسلامی معاشرے دوسرے شعبوں کی طرح یہاں بھی بری طرح کنفیوژن کا شکار رہے ہیں۔ ایک طرف تو انہوں نے آنکھیں بند کر کے ان اقتصادی نظام کو رائج کرنے کی کوشش کی ہے جو مغرب اور مشرق کی اقوام نے جدید تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے لیے وضع کیے، تو دوسری طرف ایک ایسے اسلامی اقتصادی نظام کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں جس کا واضح تصور کسی کے پاس نہیں۔ وہ آج بھی تصور کرتے ہیں کہ جو نظام چودہ سو سال پہلے ایک قبائلی معاشرے کے لیے مناسب تھا، وہ اگر آج بھی اس صنعتی دور میں من و عن اسلامی ممالک میں نافذ کر دیا جائے تو ہم دنیا کی سپر پاور کا درجہ حاصل کر سکتے ہیں۔

اس ساری بحث کا لب لباب یہ ہے کہ مسلم معاشروں کی بدحالی اور ناکامی کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں نے ہر شعبے میں ان مغربی اقدار کو تو اپنا لیا جن کی دریافت میں ان کا کوئی کردار نہیں، لیکن یہ سب مجبوری کی حالت میں کیا ہے۔ یہ حقیقت بذات خود مسلمانوں کے لیے شرمناک ہے کہ ہر شعبے میں انہوں نے اپنا حصہ ڈالے بغیر تقلید کو اپنا شعار بنایا ہے۔ لیکن دلی طور پر وہ ان مسحور کن خوابوں میں مبتلا ہیں جن کے مطابق اگر چودہ سو سال پرانے سیاسی اور اقتصادی نظام اور اقدار کو نافذ کر دیا جائے تو وہ زمین پر جنت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ وہ اس حقیقت سے نا آشنا نظر آتے ہیں کہ مسلمان اقوام کسی دور میں بھی ان خوابوں کی دنیا جیسا نظام قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں مسلمان معاشروں کو کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ان کو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مذہبی تعلیمات کا مقصد اپنی ذاتی زندگی میں ان اقدار کا فروغ ہے جن سے وہ اپنی زندگی میں مقصدیت حاصل کر سکتے ہیں اور باہمی تعلقات میں انسانیت پرور رویوں پر عمل کر سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان سوچوں کے چنگل سے نکلنا ہو گا جس کے مطابق آج کے اقتصادی، سیاسی اور علمی مسائل کا حل ان روایات اور عقائد میں موجود ہے جو ہزاروں سال پہلے تشکیل دی گئی تھیں۔ کسی بھی اجتماعی مسئلے کا حل آج کے حالات کے مطابق تلاش کرنا ضروری ہے نہ کہ ان روایات میں جن کی بنیادیں اس وقت رکھی گئی تھیں جب آج کے مسائل اور حالات کا تصور کرنا بھی ناممکن تھا۔ میں اس کی وضاحت ایک اہم مثال سے کرنا چاہوں گا۔

کسی ایسے ملک یا معاشرے میں جمہوری نظام پنپ نہیں سکتا جہاں اجتماعی سوچ پر مذہب کا غلبہ ہو۔ مذہب میں موجود خود راست بازی کا عنصر جمہوری اقدار سے متصادم ہے۔ میری نظر میں جمہوریت قائم کرنے کے لیے سیکولر نظام حکومت لازم ہے، ایک ایسا نظام جہاں ہر فرد کو اپنے عقائد کی روشنی میں مکمل مذہبی آزادی ہو، لیکن اجتماعی اور ملکی سطح پر مذہب کا کوئی واضح رول موجود نہ ہو۔ ایسے سیکولر نظام میں یہ لچک ہوتی ہے کہ وقت اور حالات کے مطابق ایسی تبدیلی لائی جا سکے جو معاشرے کے تمام افراد کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکے۔ آخر یہ کوئی اتفاق نہیں کہ آج ہر ترقی یافتہ ملک اور معاشرہ سیکولر بنیادوں پر قائم ہے۔

یہاں یہ بات کرنا ضروری ہے کہ جیسے ہی سیکولر ازم کی بات کی جائے، کان کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ تصور کیا جاتا ہے کہ دہریت کا پرچار کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ سیکولر ازم کا مطلب صرف اتنا ہے کہ ہر شخص کو مکمل مذہبی آزادی ہو اور سٹیٹ کسی کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی ہو۔ ملک کے قوانین اکثریت کی بنیاد پر اس طور تشکیل دیے جائیں کہ کسی خاص مذہب کو برتری حاصل نہیں ہو۔

ایک جمہوری نظام میں مذہب کا رول صرف ذاتی زندگی تک محدود ہونا چاہیے۔ کوئی شخص کس قسم کے خدا پر یقین رکھتا ہے، اس کے موت اور اس کے بعد کی زندگی کے بارے میں کیا خیالات ہیں، اس کے ذہن میں جنت اور دوزخ کا کیا تصور ہے، یہ اور ان جیسے عقائد ہر شخص کا حق ہونا چاہیے۔ لیکن معاشرے اور حکومت سے وابستہ نظریات کا غیر مذہبی ہونا ضروری ہے۔ اس طور ملک کے سیاسی، اقتصادی اور تعلیمی نظام کا مقصد صرف ان اقدار کو فروغ دینا ہونا چاہیے جو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔

اس بات کی وضاحت ایک اور طرح سے بھی کی جا سکتی ہے۔

جیسا کہ میں نے پچھلے مضامین میں یہ حقیقت بیان کی ہے کہ اس دنیا میں لا تعداد مذاہب اور ان میں موجود فرقے اس بات کی علامت ہیں کہ کسی کے پاس اپنے عقائد کی سچائی ثابت کرنے کے لیے کوئی ایسے معروضی دلائل موجود نہیں ہیں جن کی بنیاد پر خود کو صحیح اور دوسروں کو گمراہ ثابت کیا جا سکے۔ اگر مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن میں موجود پیغام نے ان کے عقائد کی حقانیت پہ مہر ثبت کر دی ہے تو ان کو ایک لمحے رک کر اس ناپسندیدہ حقیت کا سامنا کرنا چاہیے کہ دنیا میں مسلمانوں کی تعداد صرف پچیس فیصد ہے۔ اس کے مقابلے میں مسیحیوں کی تعداد تقریباً تیس فیصد ہے۔ اور پھر مسلمانوں میں شیعہ، سنی اور پھر سنیوں میں وہابی، دیو بندی، بریلوی اور نا جانے مزید کتنے فرقے ہیں اور یہ سب ایک دوسرے کو گمراہ تصور کرتے ہیں۔ اور اب ایسے افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جو خدا اور مذہب پر یقین ہی نہیں رکھتے۔

اب اس صورت حال میں ایک راستہ یہ ہے کہ ایک فرقہ جس کی اکثریت ہو، وہ فیصلہ کرے کہ سوسائٹی کے عقائد کیا ہونے چاہئیں، وہ اپنے آپ کو راہ راست پر تصور کرے اور دوسرے گمراہ مذاہب اور فرقوں کے لوگوں کو راہ راست پر لانا اپنا فرض سمجھے۔ یہ وہ راستہ ہے جو کم و بیش مسلمانوں نے اختیار کیا ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مسلم سوسائٹیز فرقہ ورانہ کشیدگی کا شکار ہیں۔ ہر طرف لا معنی بحث کا دور دورہ ہے۔ جو صلاحیتیں سائنسی اور دوسرے علوم کے حصول اور ان میں کار ہائے نمایاں انجام دینے میں صرف ہوتیں، وہ ہزاروں سال پرانی ان روایات اور واقعات پر بحث کر نے پر صرف ہو رہی ہیں جن کی تاریخی درستگی ہی مشکوک ہے۔ ذرا رک کر سوچیں کہ کیا اس رویے نے ان اصولوں کا بول بالا کیا ہے جو مذہب کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ کیا کوئی مسلم ملک ایسا معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے جس کی بنیاد امن، انصاف، ایمانداری اور مساوات پر ہو؟

دوسرا راستہ مذہبی آزادی اور رواداری کا ہے۔ ایسا معاشرہ قائم کیا جائے جس میں ہر شخص دوسروں کے عقائد کا احترام کر تا ہو اور ہر فرد کو اپنے عقائد کی بنیاد پر زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔ ذرا رک کر سوچیں کہ کیا آپ یہ قبول کریں گے کہ کوئی دوسرا شخص اپنے عقائد آپ پر مسلط کر نے کی کوشش کرے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو کیا انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ آپ بھی دوسروں کے عقائد، چاہے وہ آپ سے کتنے مختلف ہوں، ان کا اسی طرح احترام کریں جیسا کہ آپ توقع کرتے ہیں کہ وہ آپ کے عقائد کا احترام کریں۔ ذرا غور تو کریں کہ آپ نے اپنی زندگی میں کتنے لوگوں کو اپنے عقائد تبدیل کرتے دیکھا ہے۔ جو شخص ایک بریلوی کے گھر میں پیدا ہو گیا وہ ساری زندگی بریلوی عقائد پر ہی یقین رکھے گا اور دیو بندی گھرانے میں پیدا ہونے والے شخص کو گمراہ تصور کرے گا۔ یہی حال دیو بندی گھرانے یا کسی اور مذہبی عقائد سے وابستہ گھرانے میں پیدا ہونے والے شخص کا ہے۔

یہ ایک اہم، مگر وسیع موضوع ہے۔ مثال کے طور پر یہ سمجھنا اشد ضروری ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں ایسی کیا بنیادی کمزوری ہے کہ ہم تخلیقی ذہن پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس پر ایک اگلے مضمون میں بات ہو گی۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy