مبارک ہو حکومت بھی سمگلنگ کا خاتمہ چاہتی ہے
وفاقی کابینہ اور وزیر اعظم نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ ملک سے سمگلنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ خبر کی تفصیل میں یہ بھی تھا کہ تمام سمگلروں اور حکومت میں موجود ان سمگلروں کے سہولت کاروں کے نام اور تفصیلات بھی متعلقہ اداروں کو فراہم کردی گئیں ہیں۔ یعنی اب تک جو کچھ ہو رہا تھا۔ حکومت اس سے باخبر تھی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اجلاس سے پہلے کیا آئین معطل تھا۔ کیا قوانین اور اختیارات کو فریز کر دیا گیا تھا۔ کیا اس کام پر مامور سب لوگ سمگلروں کی مدد و معاونت کے لیے تنخواہ لے رہے تھے۔ کیا ان سب لوگوں کو ملکی معیشت تباہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ کیا ہمارا قانون اس وقت حرکت میں آتا ہے جب کابینہ اور وزیر اعظم اعلان کریں۔
یہ وہ بھیانک سچ ہے جو اگر کسی اور ملک میں سامنے آتا تو وہاں کی ساری حکومت گر جاتی اور وہاں ان کاموں پر مامور لوگوں کو پکڑ کر جیل میں ڈالا جاتا اور ملک میں اس اعتراف سے طوفان آ جاتا مگر ہمارے ملک میں اس اعتراف جرم کے بعد بھی کچھ نہیں ہوا۔
سمگلنگ کیا ہے؟ انسانوں سے لے کر اشیا اور پیسوں اور منشیات تک کو مروجہ قانون کے دائرے میں لائے بغیر ملک میں لانا اور ملک سے لے جانے کو سمگلنگ کہتے ہیں۔
پاکستان جغرافیائی لحاظ سے انڈیا، ایران، افغانستان اور چین سے بذریعہ زمین سرحدیں شیئر کرتا ہے اور کچھ خلیجی ممالک سے بذریعہ سمندر بھی رسائی رکھتا ہے۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان بھی سمگلنگ کے مختلف نیٹ ورک موجود ہیں جو پیاز، پان کے پتوں سے لے کر ہیروئن تک کی سمگلنگ کرتے ہیں۔ یہ نیٹ ورک سندھ کے مختلف اضلاع اور پنجاب کے سرحدی اضلاع میں موجود ہیں۔ ان کے بارے میں زیادہ خبریں اخباروں کی زینت نہیں بنتیں اس لیے کہ اس میں دونوں طرف بہت ہی با اثر اور اختیار والے لوگ ملوث ہیں۔
افغانستان سے منشیات پاکستان سمگل کی جاتی ہیں اور پھر یہ منشیات انڈیا سمگل کی جاتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے اب جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا بھی سہارا لیا جاتا ہے۔ ایران اور پاکستان بلوچستان میں سرحدیں پر سمگلنگ کے لیے جنت مانی جاتی ہیں۔ تیل، سولر پلیٹس، کھانے پینے کی اشیا، پھل اور ہزاروں دیگر اشیا ان سرحدوں سے سمگل کی جاتی ہیں۔ جبکہ یہ سرحدیں انسانی اور منشیات کی سمگلنگ کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔
بلوچستان کے راستے سمگلنگ کا نیٹ ورک اتنا مضبوط ہے کہ وہ پاکستان میں کچھ بھی کر سکتا ہے۔ حکومتیں بنانے اور اپنے لوگوں کو سیاسی اور حکومتی سرکل میں رکھنے کی ان کی طاقت ناقابل بیان ہے۔ اسلام آباد، لاہور اور کراچی کی رئیل سٹیٹ میں یہ سمگلر اپنی بلیک منی وائٹ کرنے میں مصروف ہیں۔ دبئی اور دیگر خلیجی ممالک میں ان سمگلروں نے کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ان سمگلروں کی مدد سے کسٹم، ایکسائز، بارڈر پولیس، پولیس اور بلوچستان میں تعینات دیگر مقتدر حلقوں نے بھی کھربوں روپے کمائے ہیں۔ بلوچستان میں سمگلنگ کی وجہ سے بدامنی اور طوائف الملوکی اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔
پاکستان جو ٹیکس جمع کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا اس میں ایک بڑا ہاتھ اس سمگلنگ کا بھی ہے۔ صرف ڈیزل کی سمگلنگ کی وجہ سے پاکستان کو کئی سو ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ یہ جرم بلوچستان میں اس حد تک سرایت کر گیا ہے کہ اب بلوچستان کے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر سمگلنگ روک دی گئی تو وہاں کے باشندے بھوکے مر جائیں گے۔ اس لیے کہ وہاں کے تیس فیصد لوگوں کا اسمگلنگ کے ساتھ براہ راست کاروبار وابستہ ہے اور یہ تیس فیصد افراد مزید پچاس فیصد آبادی کی کفالت کرتے ہیں۔
بلوچستان سے سمگلنگ ختم کرنا ایک آرڈر کی مار ہے۔ ایران کے ساتھ تجارت کو قانونی شکل دی جائے تو یہ سمگلنگ خود بخود ختم ہو جائے گی۔ مگر ایسا کرنے سے کچھ مقتدر لوگوں کی آمدنی بند ہو جائے گی۔ سمگلنگ کا ایک بہت بڑا ذریعہ سمندر کے راستے سمگلنگ بھی ہے جو کراچی، گوادر، ٹھٹہ اور دیگر شہروں میں 990 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ اس سمندری راستے سے بھی انسانی سمگلنگ، منشیات اور دیگر ممنوع اشیا کی سمگلنگ کی جاتی ہے۔ یہ کام بھی سرپرستی میں ہوتا ہے۔
اس سمگلنگ سے بھی پاکستان کی معیشت پر بہت برے اثرات پڑتے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی سرحدیں ملتی ہیں۔ یہاں کچھ باقاعدہ کراسنگ پوائنٹ بھی موجود ہیں مگر ہزاروں ایسے راستے بھی ہیں جن پر سمگلروں کا راج ہے۔ افغانستان سے منشیات اور قیمتی پتھر سمگل ہو کر پاکستان آتے ہیں جبکہ پاکستان سے ہر ایک چیز سمگل ہو کر افغانستان جاتی ہے۔ گندم، چینی، سیمنٹ، چوزے اور ڈالروں سمیت ہزاروں اشیا ایسی ہیں جو افغانستان سمگل ہوتی ہیں۔
اگر یہ سمگلنگ روک دی جائے تو پاکستان میں ان اشیا کی قیمتیں نصف سے بھی کم ہو سکتی ہیں۔ پاکستان میں چینی اور گندم کے سمگلنگ کرنے والے اتنے مضبوط ہیں کہ یہ پاکستان سے سستی چینی اور گندم خرید کر افغانستان سمگل کرتے ہیں اور پھر حکومت پاکستان کے با اثر افراد سے مل کر تین گنا قیمت پر یہی چیزیں حکومتی سرپرستی میں درآمد کرتے ہیں جس سے کئی ہزار ارب روپوں کا حکومت کو سالانہ نقصان ہوتا ہے۔ عوام پر کھربوں کا اضافی بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ اس کام میں اس ملک کے نامی گرامی شرفا اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔
پاکستان میں موجود نوے شوگر ملز سب کے سب ملک کے حکمرانوں اور ان کے رشتہ داروں یا فرنٹ مینوں کے ہیں۔ اور اس سمگلنگ اور کئی گنا زیادہ قیمت پر درآمد کرنے میں ان کا ہی فائدہ ہے۔ یوں پاکستان میں عوام کو اور سرکاری خزانے کو ہزاروں ارب کا نقصان سالانہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت مرغی کا گوشت پانچ سو سے زیادہ میں فی کلو مل رہا ہے۔ جس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس کاروبار کے مالک بھی ملک کا حکمران طبقہ ہے اور وہ اپنا منافع بڑھنے کے لیے ملک میں مصنوعی قلت پیدا کرتا ہے اور پہلے مرغیاں سمگل کی جاتی تھیں آج کل چوزے لاکھوں کی تعداد میں سمگل کیے جا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے مرغی کا گوشت سات گنا زیادہ قیمت پر لوگوں کو خریدنا پڑ رہا ہے۔
افغانستان کے لیے سمگلنگ کا ایک ذریعہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ بھی ہے۔ جو مشرف دور میں نیٹو اور امریکہ کو افغانستان میں اشیا کی رسائی دینے کے لیے قانون بنا کر اجازت دی گئی تھی مگر اس کے بعد اس کی آڑ میں دنیا بھر سے چیزیں سمگل ہو کر اس نیٹ ورک کے ذریعہ افغانستان کے نام پر پاکستان سمگل کی جاتی ہیں۔ جس سے پاکستان کی پیداواری معیشت تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ اس لیے بازاروں میں سمگل شدہ اشیا اچھی کوالٹی کی اور سستے داموں دستیاب ہیں تو پاکستان میں بنی ہوئی اشیا کون خریدے گا۔ اس پر اب ایران سے اچار سے لے کر خوردنی تیل، صابن غرض کھانے پینے کی تمام اشیا سمگل ہو کر آ رہی ہیں۔ پہلے باڑہ مارکیٹ تھیں اب ایرانی اشیا کے مارکیٹس ہیں۔
پاکستان جو کپڑا بنانے والا دنیا کا ایک بڑا ملک تھا اس میں روزانہ کے حساب سے اتنا کپڑا سمگل ہو کر آ رہا ہے کہ کپڑے بنانے والے اکثر صنعتیں بند ہو گئیں ہیں۔ کارخانو مارکیٹ اور نوشہرہ میں موجود صرف ان دو مارکیٹس کو دیکھا جائے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اتنا کپڑا آخر کیسے سمگل کر کے لایا جاسکتا، ان دونوں جگہوں پر ہزاروں دکانیں اور ان کے دس گنا سے زیادہ سمگل شدہ کپڑوں کے گودام ہیں۔ اس کے علاوہ کپڑے کی اس طرح کی مارکیٹس پاکستان کے ہر شہر میں موجود ہیں۔
پاکستان بھر میں جاپانی پرزوں کی مارکیٹس بھی ہیں۔ جس میں بیشتر پرزے سمگل ہو کر آتے ہیں اور باقی چوری کی گئی گاڑیوں کو توڑ کر ان کے پرزے ہیں۔ یہ کاروبار کئی ہزار ارب روپے کا کاروبار ہے مگر مجال ہے کہ حکومتی ادارے اس طرف توجہ دیں۔ وہ اپنا حصہ وصول کر کے پاکستان کی معیشت کو قرضوں پر چڑھا کر مزے کر رہے ہیں۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں سونا کہاں سے آیا، کون لایا، کیسے لایا، کس کو فروخت کیا اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ پاکستان میں سونا بڑی مقدار میں سمگل ہو کر آتا ہے۔ اور اس سونے کی قیمت کا اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ اگر کم اندازہ بھی لگایا جائے تو کئی سو ارب روپے کا سونا سالانہ پاکستان میں سمگل ہو کر آتا ہے۔ یہ کاروبار ڈاکیومنٹ نہ ہونے کی وجہ سے حکومتی ٹیکس آمدنی میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔
ایک بڑی سمگلنگ ہتھیاروں کی بھی ہے۔ یہ سمگلنگ افغانستان سے ہو رہی ہے۔ اس سمگلنگ کے کئی خوفناک پہلو ہیں۔ اس سمگلنگ کی وجہ سے پاکستان سے کثیر سرمایہ ملک سے باہر چلا جاتا ہے جو ڈالروں کی شکل میں ہوتا۔ اور اس اسلحہ کی وجہ سے پاکستان ایک ایسی ریاست کی شکل اختیار کر رہا ہے جہاں لوگوں کے پاس اسلحہ کا انبار جمع ہو رہا ہے۔ جس کا استعمال کر کے ملکی امن و امان کی صورتحال کو خراب کیا جا رہا ہے اور کچے کے ڈاکوؤں کی ایک مثال کافی ہوگی یا پھر کراچی کی بدامنی کی مثل دی جا سکتی ہے۔
اس اسلحہ کی بنیاد پر سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں جرائم پیشہ افراد مسلح گینگ بنا رہے ہیں خصوصاً رئیل سٹیٹ سے وابستہ افراد اس اسلحہ اور افغان شہریوں کی مدد سے لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کر رہے ہیں اور ریاست کے اندر اپنی ایک اور ریاست بنا رہے ہیں۔
سمگلنگ کی ایک شکل نن کسٹم پیڈ گاڑیوں کی شکل میں ہے جس سے مالاکنڈ، سابقہ قبائلی اضلاع، گلگت بلتستان، آزاد جموں کشمیر، بلوچستان کے کچھ اضلاع میں دس لاکھ سے زیادہ کی تعداد میں گاڑیاں چل رہی ہیں یہ وہ تعداد ہے جو ان علاقوں کے تھانوں میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی ہے اس سے زیادہ تعداد ان گاڑیوں کی ہے جو ابھی تھانوں میں رجسٹرڈ ہی نہیں۔
اگر یہ سمگلنگ روک دی جائے اور ان تمام نن کسٹم پیڈ گاڑیوں کو قانون کے دائرے میں لاکر ان سے ٹیکس وصول کیا جائے تو اس سے کئی سو ارب روپے جمع ہوسکتے ہیں۔ اور دیگر گاڑیوں کی طرح سالانہ ٹوکن اور دیگر ٹیکس لاگو کیے جائیں تو سالانہ پچاس ارب سے زیادہ کی حکومت کو آمدن ہو سکتی ہے۔ اور ان گاڑیوں کا استعمال جو دہشت گرد کر رہے ہیں اس سے بھی بچا جاسکتا ہے۔
پیسوں کی سمگلنگ نے بھی اس ملک کو اس حالت تک پہنچایا ہے۔ جب تک ہم جہادی پیدا کر کے امریکہ کی مدد کر کے روس سے لڑ رہے تھے اس وقت تک سب کچھ اچھا تھا۔ اور قانون کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ کس کے پاس کتنا پیسہ آ رہا ہے، کہاں سے آ رہا ہے اس کا حکومت نے حساب لگانا چھوڑ دیا تھا۔ اور ان لوگوں کی مدد کے لیے بنکوں کے ذریعہ پیسہ پاکستان لانا اتنا مشکل بنا دیا تھا کہ لوگوں نے اس کے متبادل ایک ذریعہ ڈھونڈ نکالا تھا۔ یعنی ہنڈی اور حوالہ۔ اب افغان جنگ کو ختم ہوئے بھی تین دہائیوں سے زیادہ ہو گیا ہے۔ مگر ہم نے اس سلسلے کو اس طرح برقرار رکھا ہوا ہے۔ بیرون ملک سے بڑی مقدار میں پیسے ہنڈی اور حوالے کے ذریعہ آتے ہیں اور یہاں سے باہر بھی منتقل ہوتے ہیں۔ اس کاروبار سے وابستہ لوگ حکومت کو معلوم ہیں۔ صرف بٹ خیلہ کے بازار میں سینکڑوں افراد روزانہ اربوں کا لین دین کرتے ہیں۔ مگر حکومت کو ملک کی معیشت درست نہیں کرنی اور اپنے اہلکاروں کا اوپر کی آمدنی کا ذریعہ بند نہیں کرنا ورنہ یہ سمگلنگ ایک ہی دن میں ختم کی جا سکتی ہے۔ جیسے بنگلہ دیش نے ختم کی ہے۔
بنگلہ دیشی بنک بیرون ملک سے بنگلہ دیش پیسہ لانے والوں کو سہولیات مہیا کر رہے ہیں اور ان کو تنگ نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے کچھ پیسے لیتے ہیں اس لیے وہاں پیسے بنکوں کے ذریعہ ہی آتے ہیں اور بنگلہ دیش خوش حال ہوتا جا رہا ہے۔
یہاں پاکستان میں ہر کاروبار تباہ ہے ملکی معیشت تباہ ہے مگر یہاں کے بنک سالانہ کئی سو ارب روپے کما رہے ہیں۔ جس کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہے اس لیے کہ شرح سود بائیس فیصد پر رکھ کر حکومت اپنے اللے تللے پوری کرتی ہے اور یہ بنک مقروض ترین ملک سے سالانہ کھربوں روپے کا سود وصول کر رہے ہیں۔
منشیات کی سمگلنگ ایک ایسا گھناؤنا کاروبار ہے جس نے اس ملک کو ہر طرح سے نقصان پہنچایا ہے۔ اس کاروبار کی وجہ سے لاکھوں لوگ منشیات کے عادی ہوچکے ہیں اور اس کی وجہ سے پاکستان کی بیرون ملک بدنامی الگ ہو رہی ہے۔
اس کے کاروبار سے وابستہ زیادہ تر سمگلروں کا تعلق افغانستان سے جو پاکستان میں رہائش پذیر ہیں۔ مگر ریاست پاکستان ان کو کچھ نہیں کہتی۔ اگر افغان شہریوں کو اس ملک سے نکالا جائے تو اس سے سمگلنگ میں ستر فیصد کمی آ جائے گی اور ملک منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ سے پاک ہو جائے گا۔
یہ جو چند باتیں اس تحریر میں آئی ہیں یہ سمگلنگ کے حوالے سے مشتے نمونے از خروارے ہیں۔ اگر اس پر مکمل ریسرچ کی جائے تو شاید ہمیں سمجھ آئے کہ اس سمگلنگ کے خاتمہ سے ہمارے کتنے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کو اگر دنیا کے ساتھ آگے بڑھنا ہے اور دنیا میں زندہ رہنا ہے تو اسے بھی دنیا کی طرح ان مسائل کا ادراک کر کے ان کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کرنا ہوگی۔ سمگلنگ کے حوالے سے قوانین اور پاکستان کا عدالتی اور تفتیشی نظام اتنا ناقص ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے اس جرم میں کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ اس جرم کی سرپرستی کسٹم، پولیس، انتظامیہ کے ایک ادنیٰ ملازم سے لے کر ملک کا انتظام چلانے والے صاحباں اقتدار و اختیار کر رہے ہیں۔
بلکہ حد تو یہ ہے بہت سارے سمگلر اب قانون سازی میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ پیسوں کے زور سے اسمبلیوں اور سینٹ تک میں پہنچ جاتے ہیں۔ اور کچھ ایسے ہیں جو اپنے کارندوں کو ان اداروں تک پہنچاتے ہیں۔ اب بہت ہو گیا۔ اس ملک کے باشندے فاقہ کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ مزید لاپرواہی اور بدانتظامی ان کی ہلاکت کا سبب بھی ہو سکتی ہے۔ دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان کے نوجوانوں کو بھی انسان سمجھ کر انہیں سمگلنگ اور منشیات سے نکال کر روزگار کرنا کا موقع فراہم کریں اور جو ایسا کرنے میں مانع ہیں ان کو تختہ دار پر چڑھا دیں۔
یہ ملک چل پڑے گا ورنہ کوئی آئی ایم ایف اور کوئی دوسرا راستہ ہمیں بچا نہیں پائے گا۔ اس ملک میں جب کپڑا ہم خود بنائیں گے، اپنا اُگایا ہوا اناج کھائیں گے، اپنے گنے کا رس نکل کر اس کی چینی استعمال کریں گے۔ ہر گلی اور شہر میں اس کی ضروریات کے مطابق پیداواری یونٹ نہیں لگائیں گے توہم مزید جی نہیں پائیں گے۔ اور یہ سب سمگلنگ کے خاتمے سے منسلک ہیں۔


