تھر پاکستان کا حصہ کیسے بنا اور بنانے والوں کی آبادی کم کیوں ہو گئی؟


پاکستان پوپلیس پارٹی کے ایم پی اے رانا ہمیر سنگھ کے دادا اور رانا چندر سنگھ کے والد رانا ارجن سنگھ نے 1946 کے فیصلہ کن انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ کے ٹکٹ پر حصہ لیا، ہندو ہونے کی بنیاد پر اس میں شامل ہونے کے لیے کانگریس کے تمام دباؤ کا مقابلہ کیا۔

نہرو خاص طور پر امر کوٹ آئے جہاں انہوں نے اپنی پہلی عوامی میٹنگ کی، لیکن مذہبی خطوط پر کانگریس کی حمایت حاصل کرنے کی یہ کوشش، علاقے کی ہندو آبادی کو اپیل کرتے ہوئے، رانا کے اثر و رسوخ کے خلاف بے سود رہی لیکن رانا ارجن سنگھ نے قائد اعظم کی بات کو عزت دے کر پاکستان کا حصہ بنانے کا علان کیا۔

تھر بعد میں چار اضلاع میں تقسیم ہو گیا جس میں تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص اور نگرپارکر بن گئے۔ موجودہ دباؤ اور نقل مکانی کے باوجود تقریباً آج بھی ہندوؤں کی آبادی 50 فیصد ہے جو 75 سال پہلے 80 فیصد ہوا کرتی تھی۔ اتنی آبادی کیوں کم ہوئی ہے اس کے پیچھے بہت سی وجوہات ہیں۔

ایک وجہ یہ بھی ہے یہاں کے ہندوؤں کو اپنا مستقبل محفوظ نظر نہیں آ رہا ہے کیوں کہ بہت سے ہندوؤں کے رشتے دار انڈیا میں ہیں اور ان کے لئے یہاں رہنا مشکل ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سی ہندو لڑکیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کروا کے دوسرے مذہب میں داخل کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں میں خوف ہے کہیں ان کے ساتھ یہ سب کچھ نہ ہو جائے۔

تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی حکومت نے انڈیا جانے کے لئے طریقہ بہت مشکل کر دیا ہے۔ کیوں کہ تھر سے ایک ٹرین تھر ایکسپریس جو کھوکھرا پار سے جودھ پور تک سفر کیا کرتی تھی۔ لیکن 2019 میں عمران خان کی حکومت نے وہ ٹرین بند کر دی اور یہ ٹرین بند کر کے تھر کے لوگوں کے ساتھ بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ جس تھر کو پاکستان میں شامل کرنے والے رانا ارجن سنگھ کے لوگوں کے ساتھ اس طرح کی نا انصافی جائے گئی ایسا کبھی نہیں سوچا تھا۔ کیوں کہ سوڈا خاندان 1980 کی دہائی سے تھر پر حکومت کرتا آ رہا ہے آج بھی ان کا تھر کے اندر ایک بہت بڑا رتبہ و مقام ہے۔ اسی رتبہ کی وجہ سے ان کو ڈاٹ کا رانا بھی کہا جاتا ہے لیکن کیا موجودہ ڈاٹ کا رانا اپنے لوگوں کے مسائل حال کرے گا؟

کیوں کہ رانا ہمیر سنگھ کے والد اور ان کے دادا ہمیشہ اپنے لوگوں کا بھرپور ساتھ دیتے تھے اور ان کے مسائل حال کرتے تھے لیکن ان کے جانے کے بعد ان لوگوں نے امید ہی چھوڑ دی ہے وہ امید نظر نہیں آ رہی ہے جو ان کے والد اور دادا سے ہوا کرتی تھی۔ آج کا راجپوت نوجوان بھی ان سے بہت مایوس ہے اور جو سارے مسائل ہیں اب وہ کون حل کرے گا؟ کیا رانا ہمیر سنگھ اپنے دادا اور والد کا کردار ادا کر کے اپنی تہذیب کو زندہ رکھے پائیں گے یا پھر اسی طرح اس دھرتی کے اصل وارث یہ دھرتی چھوڑ کر کسی دوسرے ملک چلے جائیں گے؟

 

Facebook Comments HS