ایک اور گریٹ گیم اور چائنہ


اس دنیا کی ریکارڈڈ ہسٹری اس بات کی شاہد ہے کہ ہر دور میں بین الاقوامی طاقتوں نے اپنی اپنی انا کی تسکین کے لیے کوئی نہ کوئی گیم ضرور کی ہے۔ اگر اس گیم کے نتیجے میں کوئی بین الاقوامی سطح کی تبدیلی وقوع پذیر ہو تو اسے گریٹ گیم کا نام دیا جاتا ہے۔ گریٹ گیم کبھی بھی کوئی اکیلا ملک تن تنہا سرانجام نہیں دے سکتا، اس کی انجام دہی کے لیے بین الاقوامی سطح پر اتحاد بنائے جاتے ہیں۔ آخر کار گریٹ گیم کھیلی کیوں جاتی ہے؟ اس سوال کا جواب تھیوسی ڈائیڈ ٹریپ میں موجود ہے۔ جب بھی کوئی ابھرتی ہوئی طاقت پہلے سے موجود طاقت کی جگہ لینے کی کوشش کرتی ہے تو اس صورتحال میں ان کا ٹکراؤ ناگزیر ہو جاتا ہے اور پھر پہلے سے موجود طاقت ابھرتی ہوئی طاقت کا راستہ روکنے کے لیے گریٹ گیم کا سہارا لیتی ہے جس کے ذریعے وہ سارے کام کیے جاتے ہیں جن سے ابھرتی ہوئی طاقت کا راستہ روکنے میں مدد ملتی ہو۔

موجودہ دور میں امریکا کی چین مخالف پالیسیاں اسی گریٹ گیم کا حصہ ہیں۔ امریکا بہادر نے اوبامہ پریزیڈینسی میں ہی چین کو اپنا دشمن نمبر ون ڈکلیر کر دیا تھا۔ اوبامہ کی انڈو پیسیفک ڈاکٹرائن نے چین کو کنٹین کرنے کے لاتعداد منصوبہ جات تیار کیے تھے۔ ان منصوبہ جات میں سے ایک منصوبہ انڈیا کو مضبوط کر کے چین کے مدمقابل لانا تھا۔ ساوتھ چائنا سی میں نئے دعویدار پیدا کرنا بھی اس منصوبے کا حصہ تھا۔ امریکا بہادر نے کھلم کھلا چین کی ترقی کو روکنے کا اعلان کیا ہوا ہے جو کہ بنیادی طور پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، مگر امریکن ورلڈ آرڈر کی مقبولیت کی وجہ سے امریکا کو اس معاملے میں چھوٹ حاصل ہے۔

تمام تر منصوبہ سازی، دباؤ، پابندیاں، الائنسز اور گریٹ گیم کے باوجود دنیا کے زیادہ تر ممالک چین کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ افریقہ سے لے کر یورپ تک اور ایشیا سے لے کر لاطینی امریکہ تک، تمام ممالک چین کی انگشت بدنداں کر دینے والی ترقی سے بے حد متاثر ہیں۔ نہایت ہی قلیل مدت میں چین نے تقریباً پچاس کروڑ افراد کو غربت سے نجات دلائی ہے جو کہ کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ پچھلی چند دہائیوں سے جس رفتار سے چین نے ترقی کی ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ دنیا کے زیادہ تر ممالک چین سے اس کی ترقی کا راز جاننا چاہتے ہیں اور اس کی ترقی سے فائدہ بھی اٹھانا چاہتے ہیں لیکن امریکا بہادر کو چین کی اس ترقی میں اپنی عالمی بادشاہت کا زوال نظر آتا ہے اور آنا بھی چاہیے۔

امریکا بہادر نے اس دنیا پر حکمرانی اپنے خوف اور جنگوں کی وجہ سے قائم رکھی ہوئی ہے۔ سوویت یونین کے خاتمے سے لے کر آج تک امریکا نے اس دنیا کو سوائے تباہی کے اور دیا ہی کیا ہے؟ شام، عراق، افغانستان، پاکستان، لبنان، فلسطین اور ساوتھ امریکا میں عدم استحکام امریکا بہادر کی ہی بدولت ممکن ہوا ہے۔ امریکا بہادر نے پراکسی وارز کے ذریعے متعدد ممالک میں عدم استحکام کو فروغ دیا ہے۔ اسرائیل جیسے قاتل کی سربراہی بھی امریکا بہادر کی پالیسیوں کا اہم جز ہے۔

اسکے مقابلے میں چین نے دنیا کو ترقی کا ایک نیا ماڈل پیش کیا ہے کہ جس میں چین سرمایہ کاری کے ذریعے سے بیشتر ممالک میں انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ کے ساتھ ساتھ ہیومن ڈیویلپمنٹ پر بھی برابر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ سٹرنگ آف پرل اور ون بیلٹ ون روڈ جیسے عالمی سطح کے منصوبوں کے ذریعے سے چین نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ مشترکہ ترقی ہی میں تمام ممالک کی ترقی کا راز پنہاں ہے۔ چین ہر عالمی فورم پر جنگ کی مخالفت کرتا آیا ہے اور معاشی ترقی کے ذریعے عالمی امن کا خواہاں ہے۔ افریقہ، ایشیا، یورپ اور ساوتھ امریکا میں عملی طور پر انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ کر کے چین نے حقیقت میں امریکی عالمی بادشاہت کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

اب دنیا کے زیادہ تر ممالک جن میں اکثریت امریکی کیمپ کی ہے، چین کے ساتھ شراکت داری کو ہی اپنے لیے موزوں قرار دے رہے ہیں۔ اس صورتحال میں امریکا پر گریٹ گیم واجب ہو چکی ہے، لیکن اس بار اپنے مخالف کو ہرانے کے لئے امریکا بہادر کو بھی وہ راستہ اختیار کرنا پڑے گا جو اس کے مخالف نے اختیار کیا ہوا ہے اور اس گریٹ گیم میں شاید پاکستان جیسے تھرڈ ورلڈ ممالک کی بہتری کا کوئی پہلو نکل آئے۔ لیکن اس کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک پراکسی بننے کی بجائے ڈیویلپمنٹ کی ڈیمانڈ کریں اور جو طاقت ڈیویلپمنٹ پر زیادہ توجہ دے اسی کی ہاں میں ہاں ملائیں۔ تھیوسی ڈائیڈ ٹریپ کے انوسار موجودہ اور ابھرتی طاقت میں جنگ یقینی ہے، لیکن چین کے ماڈل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بھی تو امید کی جا سکتی ہے کہ یہ جنگ معاشی جنگ ہوگی جس سے تیسری دنیا کے ممالک فیض یاب ہو سکتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS