انسانوں کے رزق کی تقسیم
ماں جی کہا کرتی تھیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام انسانوں کا رزق اپنی مٹھی میں بھر کر زمین پر پھینک دیا ہے۔ جس جس کے حصے کا دانا جس جگہ پر جا کے گرا ہے اس نے وہیں جا کر چگنا ہے۔ عجیب سی بات لگتی ہے لیکن اتنی چھوٹی عمر میں بلال کے کیوبا جانے سے اس بات کی سچائی کا یقین ہو گیا۔ کیونکہ اتنی کچی عمر میں اسے سات سمندر پار غیر ممالک میں بھیجنا ہمارے کسی بھی پروگرام میں شامل نہیں تھا۔ لیکن خدا کے اپنے پروگرام ہوتے ہیں جو فائنل ہوتے ہیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ بلال کے کیوبا جانے کو تم نے بہت محسوس کیا لیکن کچھ دنوں کے بعد جب کمپیوٹر کے ذریعے اس سے ڈائریکٹ رابطہ ہونا شروع ہوا تو تمہاری پریشانی کسی حد تک کم ہو گئی۔
سنہ 2008 میں اصفیٰ نے ایف ایس سی کی۔ میڈیکل کالج میں اس کا داخلہ نہ ہو سکا۔ تو اس نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں حکومت کے تعاون سے شروع کیے گئے پروگرام ایم ایس سی ویژن سائنسز میں داخلہ لے لیا۔ اس کے دو سال بعد آمنہ نے ایف ایس سی کی تو اس نے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز میں ڈی فارمیسی میں داخلہ لے لیا۔ اس کے بعد مائرہ نے 2013 میں ایف ایس سی کے بعد علامہ اقبال میڈیکل کالج لاہور میں داخلہ لے لیا۔ جب مائرہ کا داخلہ ہوا تو اصفیٰ اپنی ڈگری مکمل کر کے واپس آ چکی تھی۔ اس نے ٹی ایچ کیو عارف والا میں جاب شروع کر دی اور اب ہم نے اس کی شادی کی فکر کرنا شروع کی۔ جلد ہی تیمور اعجاز کے ساتھ رشتہ طے ہونے پر اس کی شادی مارچ 2014 میں ہو گئی۔ تیمور آسٹریلیا میں سیٹ تھا۔ شادی کے کچھ ہی عرصہ بعد اصفیٰ بھی آسٹریلیا چلی گئی۔ اب وہ ایک پیارے سے بیٹے اور ایک ہنس مکھ گڑیا سی بیٹی کے والدین ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان سب اہلِ خانہ کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اُن کے نیک نصیب کرے۔ اس کے تین سال بعد آمنہ ڈی فارمیسی کی ڈگری مکمل کر کے واپس آئی اور اس کے فوراً بعد ہی اس کی شادی عارف والا میں عمیر کے ساتھ کر دی گئی۔ عمیر آج کل یورپ کے ایک چھوٹے سے ملک لکسمبرگ میں اچھی جاب کر رہا ہے اور آمنہ وہاں جانے کی تیاریوں میں ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ایک پیاری سی بیٹی سے نوازا ہوا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اُن کی نیک خواہشات کو پورا کرے۔
سب سے چھوٹی بیٹی مائرہ ابھی ہاؤس جاب کر ہی رہی تھی کہ اس کی شادی بھی عارف والا کے معروف خاندان صوفی گروپ آف انڈسٹریز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر میاں محمد قاسم کے ساتھ کر دی گئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ایک بیٹی اور ایک بیٹے کی نعمت سے نوازا ہوا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور نیک نصیب کرے۔ سب سے چھوٹا بیٹا بدر خالد آج کل جی سی یونیورسٹی لاہور سے فنانس میں گریجویشن کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ہیومین ریسورسز میں ایم ایس کر رہا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے مستقبل کے لیے بھی اچھے راستے کھول دے اور نیک نصیب کرے۔
اصفیٰ کی شادی پر بلال ابھی کیوبا میں ہی تھا اور اس کا پروگرام اپریل میں آنے کا تھا۔ شادی کے بعد ایک دن ہم لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ تیمور کہنے لگا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے آسٹریلیا جانے سے پہلے ہی بلال آ جائے گا اور اس سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔ میں نے کہا کہ اس کی فلائٹ تو آپ کی فلائٹ سے ایک ہفتہ بعد کی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے لیکن تیمور بضد تھا کہ اس کا دل کہہ رہا ہے کہ میں اس دفعہ بلال سے مل کر جاؤں گا۔ میں خاموش ہو گیا۔ تیمور کی بات واقعی درست نکلی اور بلال تیمور لوگوں کے جانے سے تقریباً ایک ہفتہ پہلے پاکستان میں تھا اور اس وقت سے میں نے تیمور کو پیر مان لیا ہے۔ کوئی بھی مسئلہ ہو تو اس سے دعا ضرور کرواتا ہوں۔
اصفیٰ کی شادی کے کچھ دنوں کے بعد بلال بھی اپنی تعلیم مکمل کر کے پاکستان پہنچ گیا۔ اس نے ابھی پی ایم ڈی سی کے پہاڑ جیسے امتحان کو عبور کرنا تھا۔ اسی سال اگست میں اس کی شادی اس کی ایک کلاس فیلو ڈاکٹر خضریٰ کے ساتھ کر دی۔ دونوں مل جل کر پی ایم ڈی سی کے امتحانات پاس کرتے گئے۔ آج کل بلال میڈیکل سپیشلسٹ ہے اور ڈاکٹر خضریٰ سکِن سپیشلسٹ ہے۔ دونوں نے بوریوالہ میں ہی اپنا ایک چھوٹا سا ذاتی سیٹ اپ بنایا ہوا ہے۔ تین پیارے پیارے بچوں کے والدین ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان سب کو بھی اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اُن کے نیک نصیب کرے۔
26 جون 1985 ء کو شروع کیا گیا سنگت کا سفر 21 نومبر 2022 ء کو تمام ہوا۔ ایسا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تم مجھے یوں اکیلا چھوڑ کر چل دو گی۔ حالاں کہ تمہیں معلوم تھا کہ میں تمہارے بغیر کس قدر ادھورا ہوں۔ میں تو تمہارے بغیر اپنی شیو تک خود نہیں بنا سکتا۔ میں چہرے پر کریم مل کر تمہیں آواز دیتا تو تم آ کر میری دونوں قلموں کو برابر کرتے ہوئے ریز ر کے ساتھ پہلا کٹ لگاتیں۔ اور ساتھ ہی اپنا تواتر کے ساتھ دہرایا جانے والا یہ فقرہ بھی دہراتیں انجم تم اپنا کوئی کام تو خود کر لیا کرو۔ مونچھوں کو ایک دو بار درست کر نے کی کوشش کی۔ تو ایک مونچھ بڑی ہو گئی۔ اس کو چھوٹا کیا تو دوسری بڑی ہو گئی اور یہ سفر دونوں مونچھوں کے صفا چٹ ہونے پر ختم ہوا۔
میرا یہ گٹ اپ تمہارے لیے ہر گز ہرگز قابلِ قبول نہیں تھا۔ اس لیے میری مونچھوں کو درست کرنے کی ذمہ داری بھی تمہاری ہی ٹھہری جب سے مجھے شوگر ہوئی تھی۔ میرے پاؤں کا خاص خیال رکھتیں ہفتے میں کم ازکم ایک بار سرف ملے ہوئے نیم گرم پانی میں پاؤں ڈلوا کر جھانویں کی مدد سے نہایت احتیاط اور نرمی سے صاف کرتیں۔ تولیے کی مدد سے خشک کرتیں اور آخر میں ان پر لوشن لگایا کرتیں۔ میرے پاؤں کی ایڑیاں عموماً پھٹی ہوئی ہوتیں۔ اس جگہ پر دیر تک لوشن سے مالش کرتی جاتیں اور ساتھ ہی ساتھ مجھے بھی اپنی روایتی وعظ و تلقین جاری رکھتیں۔ انجم یہ بھی کوئی کام ہے نہاتے ہوئے ہر روز پاؤں کو جھانویں کی مدد سے صاف کر لیا کرو اور پھر انہیں اچھی طرح خشک کر کے یہ ویزلین یا لوش لگا کر نرم کر لیا کرو کم از کم ایڑیوں کا اس قدر برا حال تو نہ ہو۔ شوگر کی وجہ سے تمہیں اپنے پیروں پر خاص توجہ دینی چاہیے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ مجھے تمہاری یہ وعظ و نصیحت لطف دیا کرتی اور میں یہ باتیں سننے کے لیے بھی اپنی ذات سے زیادہ لاپروا ہو جاتا۔ میں زندگی میں زیادہ تر سفید کاٹن کی شلوار قمیض ہلکی سی کلف لگوا کر پہنا کرتا۔ کیونکہ واش این ویئر سے مجھے الرجی ہے اس سستی سی اور عام سی کاٹن کو تم مختلف کیمیکلز کی مدد سے اس طرح دھوتیں کہ میرے سوٹ چاند ستاروں کی طرح چمکتے اور میرے ملنے جلنے والے لوگ اکثر مجھ سے دریافت کرتے کہ تم نے یہ کپڑا کہاں سے خریدا ہے۔ اب میں انہیں کیا بتاتا کہ خوبی کپڑے میں نہیں ہے بلکہ ان ہاتھوں میں ہے جو اس کو دھوتے ہیں۔ ایک دو بار ملنے جلنے والوں کے استفسار پر تم سے پوچھنا چاہا کہ تم انہیں کس چیز سے دھوتی ہو تو تمہارا جواب تھا انجم تمہیں کیا پتہ میں انہیں ہاتھ سے نہیں دل سے دھوتی ہوں۔ جو کوئی اور نہیں دھو سکتا
اپنے انجم پکارے جانے کی تسمیہ بھی بیان کرتا چلوں۔ اوائل نوجوانی میں باقی لوگوں کی طرح مجھے بھی تخلص رکھنے کا شوق چرایا۔ تو میں نے اپنا تخلص انجم رکھ لیا۔ مجھے تو دوچار سالوں بعد تخلص بھول بھال گیا اور میں نے اسے ترک کر دیا۔ لیکن میرے اس دور کے دوست شیخ ایوب اور ڈاکٹر حفیظ مجھے اب بھی انجم کے نام سے ہی پکارا کرتے تھے۔ ہمارے دیہی ماحول میں بیوی کے لیے خاوند کو اس کے نام سے پکارنا عموماً معیوب سمجھا جاتا تھا۔ اس کا آسان حل تم نے یہ نکالا کہ مجھے میرے اصل نام کی بجائے انجم کہہ کر پکارا کرتیں۔ اور میں تمہیں تمہارے نام سے پکارنے کی بجائے مسز کہہ کر کی بلایا کرتا اور اس کی بھی ایک وجہ تسمیہ موجود تھی۔
ان دنوں پی ٹی وی پر ایک ڈرامہ سیریل چلا کرتا تھا نام تو اس کا مجھے یاد نہیں رہا لیکن اس میں خاتون خانہ کو گھریلو کاموں کی کوئی خاص تربیت حاصل نہیں تھی۔ ایک دن اس کے میاں نے دوپہر کا کھانا تیار کرنے کے لیے ایک مرغی گھر میں بھجوائی۔ اس کی بیگم نے پریشر ککر میں پکانے کے لیے ڈال دی۔ تھوڑی دیر کے بعد جب اس نے پریشر ککر کا ڈھکنا ہٹایا تو ککر کا پریشر پوری طرح سے ابھی ریلیز نہیں ہوا تھا۔ ڈھکنا ہٹتے ہی تمام گوشت پریشر ککر میں موجود بھاپ کی وجہ سے اوپر اڑ کر باہر جا گرا۔ دوپہر کے کھانے میں مرغی کے گوشت کی جگہ دال کو دیکھ کر میاں صاحب حیران ہوئے اور بیگم سے دریافت کیا کہ میں نے تو دوپہر کو کھانے میں پکانے کے لیے مرغی بھیجی تھی۔ وہ کہاں گئی۔ تو بیگم نے برجستہ جواب دیا کہ وہ تو اڑ گئی۔ اب میاں حیران تھا کہ گوشت کی شکل میں مرغی کیسے اڑ سکتی ہے
وہ میاں اپنی اس بیوی کو مسز کہہ کر پکارتا تھا۔ مجھے یہ نام بہت اچھا لگا اور میں نے بھی تمہیں اسی نام سے پکارنا شروع کر دیا۔ تمہیں شاید اس کے پس منظر کا پورے طور پر علم نہیں تھا۔ ورنہ لڑائی تو بنتی تھی۔ تم سب بچوں کے کپڑے خود ہی سی لیا کرتیں اور بچیوں کے فراک مختلف رنگوں کے کپڑوں کو استعمال میں لاتے ہوئے اس خوبصورتی سے تیا ر کرتیں کہ وہ ہر جگہ مرکز ِ نگاہ رہتیں۔ سردیوں میں میرے لیے ایک سویٹر یا جرسی ہاتھ سے بن کر تیار کرنا اور گرمیوں میں لان کے کرتے پر سوئی کی مدد سے پھول کاڑھ کر میرے لیے ایک شلوار قمیض کا تحفہ تیار کرنا تمہارا مستقل وتیرہ تھا۔ شلوار قمیض تو عموماً گرمیوں میں ہی بار بار پہن کر ناقابلِ استعمال ہو جاتی۔ لیکن تمہارے ہاتھ سے بنائے گئے سویٹر اور جرسیوں سے آج بھی ایک بھرا ہوا سوٹ کیس تمہارے ساتھ گزرے ہوئے خوبصورت لمحات کی یادوں کو تازہ رکھنے کے لیے کافی ہے۔


