بھارتی انتخابات، ایک پاکستانی نقطۂ نظر
انتخابات کے تسلسل میں ہی جمہوریت کا وجود مضمر ہے۔ بھارت نے ہمیشہ اس اصول کی پابندی کی ہے البتہ ہم پاکستانی ہمیشہ انتخابات سے خائف ہی رہے ہیں کیونکہ ہمارے آقا انتخابات کے لفظ سے متنفر ہیں۔ انتخابات گویا ان کے الوہی حقِ حکمرانی میں شرک کا احتمال پیدا کرتے ہیں۔ اور وہ کیسے کبھی اپنے حقوق میں عوام کو جنہیں شاعر انقلاب حبیب جالب نے ”دس کروڑ گدھوں“ سے تعبیر کیا تھا، دراندازی کرنے کا اختیار دے سکتے ہیں؟ بالکل نہیں بلکہ یہی صحیح ہے کہ دس کروڑ گدھوں (البتہ، اب ان کی تعداد پچیس کروڑ تک پہنچ چکی ہے ) پر چند گدھے ہی حکمرانی کریں، یہی ہمارے لیے بہتر اور مفید ہے۔ بہرحال، اس دشت میں امکاں کے گھوڑے دوڑانے سے لاکھ بہتر ہے کہ موضوع کی جانب رخ کیا جائے، جو بر عظیم پاک و ہند کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
بھارت میں عام انتخابات کا انعقاد 19 اپریل سے 1 جون تک ہو گا۔ مذکورہ انتخابات کو دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت کے انتخابات گردانا جا رہا ہے اور پوری دنیا کی نظریں بھارت پر جمی ہیں۔ بھارتی جنتا پارٹی کے سربراہ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی تیسری بار بھی وزیر اعظم بننے کے لیے پر امید ہیں جبکہ، میدان ِ انتخاب میں اپوزیشن اتحاد بھی پہلے کی بہ نسبت مضبوط اور متحرک دکھائی دیتی ہے۔ اپوزیشن ”انڈین نیشنل ڈویلیپمنٹل انکلوسیو الائنس“ یا مخفف ”انڈیا“ کے نام سے متحد ہے۔ اس اتحاد کی سربراہی انڈین نیشنل کانگریس کر رہی ہے۔ اس اتحاد میں اہم سیاسی شخصیات مثلاً کانگریس کے صدر ملیکار جن کھارگے، راہل گاندھی، پریانکا گاندھی، سونیا گاندھی، اروند کیجریوال، سیتارام یچوری، لالو پرساد یادو اور فاروق عبداللہ وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ بھارت کی کئی اہم سیاسی جماعتیں اس اتحاد کا حصہ ہیں جیسے عام آدمی پارٹی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) ، جموں اینڈ کشمیر نیشنل کانفرنس، راشٹریہ جنتا دل، شیو سینا اور آل انڈیا فارورڈ بلاک وغیرہ۔
اپوزیشن اتحاد کی جانب سے عام انتخابات کو جمہوریت بالمقابلہ آمریت کی جنگ قرار دیا گیا ہے جبکہ بی جے پی کی جانب سے ایسے کسی بھی بیانیہ کی تردید کی جا رہی ہے۔ گزشتہ دنوں میں عام آدمی پارٹی کے تین رہنماؤں کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا کیا تھا جبکہ عام آدمی پارٹی کی جانب سے ان اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دے دیا گیا ہے۔ بھارت میں اقلیتی گروہوں کی جانب سے یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ انھیں امتیازی سلوک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ مودی دور حکومت میں انھیں دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت میں رہنا پڑ رہا ہے۔ صحافی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار سے سوال کرنے یا تنقید کرنے والے صحافیوں کو ناصرف سوشل میڈیا پر بلکہ کام کاج کی جگہوں پر بھی ہراساں کیا جاتا ہے اور یوں ان کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ ایسے میں مذکورہ انتخابات کو آمریت کے خلاف جنگ سے تعبیر کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں؟ کم از کم میرے نزدیک تو بالکل نہیں ہے۔
بھارتی انتخابات کے متعلق مزید تفصیلات اور چند اعداد و شمار جاننے کے لیے بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ کے مصنف رقم طراز ہیں،
”تقریباً ایک ارب 40 کروڑ آبادی کے ساتھ انڈیا بڑا ملک ہے جن میں سے 90 کروڑ 69 لاکھ شہری ووٹ ڈالنے کا حق رکھتے ہیں یعنی دنیا کی آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو ہر آٹھ میں سے ایک شہری انڈیا میں ووٹ ڈالے گا۔ الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لیے ملک کی شہریت، 18 سال کی عمر اور انتخابی رجسٹر میں نام شامل ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ووٹر شناختی کارڈ بھی درکار ہوتا ہے۔ بیرون ملک مقیم ایک کروڑ 34 لاکھ انڈین شہری بھی ووٹ ڈال سکتے ہیں لیکن اس کے لیے انھیں خود کو رجسٹر کروانا ہوتا ہے اور وہ انڈیا میں ہی ووٹ دینے کے حق کو استعمال کر سکتے ہیں۔ انڈیا کی لوک سبھا میں مجموعی طور پر 543 نشستیں ہیں اور کسی ایک جماعت یا اتحاد کو اکثریتی حکومت قائم کرنے کے لیے کم از کم 272 نشستیں جیتنا ہوتی ہیں۔ لوک سبھا کے اراکین کا انتخاب پانچ سال کی مدت کے لیے ہوتا ہے جس کے دوران وہ اپنے حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں سے وہ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے امیدوار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ 131 نشستیں ایسی ہیں جو شیڈول کاسٹ یا قبائل کے لیے مختص ہیں۔ یہ انڈیا کی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ ہیں جن کو حکومت نے نمائندگی کے لیے سیٹیں مختص کر رکھی ہیں۔ انڈیا نے ایک ایسا قانون بھی منظور کر رکھا ہے جس کے مطابق ایک تہائی نشستیں خواتین کو دی جائیں گی تاہم اس قانون کا اطلاق کئی سال تک نہیں ہو گا۔“
بھارت میں انتخابات کا تسلسل سیاسی استحکام کی ضمانت ہے، جس سے خطے میں بھی استحکام قائم رکھا جاسکتا ہے۔ البتہ، نریندر مودی کے دوبارہ مقتدر ہو جانے سے ناصرف بھارتی جمہوریت پر بلکہ خطے میں بھی دو ر رس نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ جن میں سر فہرست ہندو انتہا پسندی کا فروغ، اقلیت دشمنی، جمہوری رویوں سے بے اعتنائی، اخلاقی اقدار کی پامالی اور بربریت میں اضافہ ہے۔ جبکہ اپوزیشن اتحاد ”انڈیا“ کے فتح یاب ہونے کی صورت میں خطے میں امن و شانتی کی آشا کی جا سکتی ہے اور بھارت میں جمہوریت کو بچایا جاسکتا ہے، جو بی جے پی اور ہندوتوا سیاسی جماعتوں کے نظریات کے بوجھ تلے دب کر گھٹ رہی ہے۔
نریند ر مودی کی سیاست پاپولزم (عمومیت پسندی) کی سیاست ہے جو جمہوریت کے لیے انتہائی پر خطر ہے۔ پاپولزم سے ناصرف دنیا کا امن غارت جائے گا بلکہ خطے میں بھی سیاسی استحکام اور معاشی و تجارتی تعلقات کو زک پہنچ سکتی ہے۔ بھارت میں انتخابی حکمت عملی کے ماہر پرشانت کشور کا کہنا ہے کہ بی جے پی ووٹ لینے کے بعد مطالبہ کرتی ہے کہ اس کی پوجا کرو، کھانے، پہننے اور حتیٰ کہ کس کے ساتھ دوستی کرنی ہے اور کس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے، اس میں بھی اس کی ہدایت کی پیروی کرو۔ یہ بات فاشسٹ نظریات کی غمازی کرتی ہے۔
ایک بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مودی کی حکومت انتخابات کے آغاز کے اعلان سے پہلے ہی سرکاری اخراجات پر انتخابی مہم چلاتی رہی ہے۔ یہ اقدام لیول پلیئنگ فیلڈ پر حملہ کرنے کے مترادف ہے جو بی جے پی کے جمہوریت دشمن کردار کا بالکل درست عکاس ہے۔ اگر کسی کو یہ خدشہ لاحق ہو کہ یہ بیان سراسر مودی یا بی جے پی مخالفت پر مبنی ہے تو میں صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ یہ پاکستان کا نقطہ نظر ہے، جو ہر پاکستانی ذہن کو لاحق ہے۔
بہر کیف، بھارتی جمہور سے میری گزارش ہے کہ اپنے حکمرانوں کا انتخاب صرف مستقبل قریب کے فوائد کی بنا پر ہی نہیں بلکہ دو رس نتائج کی روشنی میں کریں۔ بھارتی عوام با شعور ہیں اور اپنے فیصلوں سے مستقبل بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ میں پر امید ہوں کہ ان انتخابات سے ترقی کے پہیے متحرک ہوں گے اور خطے میں امن و امان کی صورتحال بحال ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ میں پاکستان کے ایونِ اقتدار میں براجمان لوگوں سے بھی گزارش کروں گا کہ درست فیصلے لینے کا وقت آ گیا ہے۔ بھارت سے بہتر روابط قائم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہم دنیا سے کٹ کر ترقی نہیں کر سکتے، ہمیں بہرحال دنیا کو ساتھ کے کر چلنا ہو گا۔ اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار موجود نہیں ہے۔

