انگلش کے پروفیسر کی انوکھی پیشکش


 

اللہ اللہ کر کے کالج میں ہمارے داخلے ہو گئے۔ وہ کالج میں ہمارا پہلا دن تھا۔ اکیڈمی کو شروع ہوئے تو کئی ماہ ہو گئے تھے۔ جہاں ہم نے ہر مضمون کے کئی کئی باب پڑھ لیے تھے۔ سو کالج میں پڑھنے کی کیا سکیم ہوگی؟ اکیڈمی میں جہاں تک پڑھا تھا کیا کالج اس کے آگے سے شروع کرے گا؟ مگر طلبا تو مختلف اکیڈمیوں میں پڑھ رہے تھے۔ ہر اکیڈمی کی پڑھائی کی اپنی رفتار تھی۔ پھر ہر مضمون کے اکیڈمی اور کالج کے پروفیسر بھی مختلف تھے۔ سو ایسے میں کالج اور اکیڈمی اپنی تعلیم میں باہمی ہم آہنگی کیسے برقرار رکھ پائیں گے؟ اور سب سے بنیادی سوال تو یہ کہ کالج کی موجودگی میں اکیڈمی آخر کیوں؟

ان سوالوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اور نہ ہی یہ سوال کسی کے لیے پریشانی کا باعث تھے۔ بس ایک سسٹم کے تحت سب کچھ چل رہا تھا۔

سب سے پہلے فزکس کا لیکچر تھا۔ ہم کچھ طالب علم ایک بڑے سے کلاس روم میں داخل ہوئے۔ کچھ چہروں کو میں اکیڈمی میں دیکھ چکا تھا۔ کمرہ بڑا تھا اور ہماری تعداد کم۔ سو ہم کلاس روم میں ادھر ادھر بکھر گئے۔ اکیڈمی میں صورت حال اس کے برعکس تھی۔ ہم نے دیکھا کہ بنچوں پر مٹی کے ذرات پڑے تھے۔ فضا بھی دھول سے اٹی ہوئی تھی۔ کیا ہم غلط جگہ پر آ گئے تھے؟

ہم اسی تذبذب میں تھے کہ کمرے میں ایک شخص داخل ہوا۔ اور استاد کی کرسی پر آ کر براجمان ہو گیا۔ اتنا نوجوان استاد! ابھی سب یہ سوچ ہی رہے تھے کہ ایک اور شخص داخل ہوا اور پھر ایک اور۔ ان میں سے ایک سب سے آخر والے بینچ پر جا کر بیٹھ گیا۔ اور دوسرے نے بورڈ پر کچھ لکھنا شروع کیا۔ واہ تین تین استاد! ہم نے سوچا۔ ”بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔“ مگر یہ اسلامیات کا لیکچر تو نہیں تھا! پھر انہوں نے سب کو اپنا اپنا تعارف کرانے کا بولا۔ اتنے میں ایک معمر شخص کمرے میں داخل ہوا اور وہ تینوں رفو چکر ہو گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ جماعتیے تھے۔

اس کے بعد ریاضی کا لیکچر تھا۔ استاد بھی پہلے سے موجود تھے۔ وہ بورڈ پر مسلسل لکھے جا رہے تھے۔ ساتھ ساتھ کچھ بول رہے تھے۔ کمرہ چھوٹا ہونے کے باوجود کسی کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ جو کچھ بھی سمجھا رہے تھے وہ ویسے بھی اکیڈمی میں پڑھ لینا تھا۔ سو کسی نے کوئی شکایت نہیں کی۔

اگلا پیریڈ فری تھا۔ وقت گزارنے کے لیے میں ایڈمن بلاک کی دوسری منزل پر واقع ایک چھوٹی سی لائبریری میں چلا گیا۔ لائبریرین کسی بھی طرح کے جذبات سے عاری۔ میں شیشے کی شیلفوں سے گزرتا ہوا کتابیں دیکھنے لگا۔ ان دنوں مجھے غیر ملکی ادب کے تراجم پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ میں نے یہ دو کتابیں ایشو کروا لیں: گورکی کے افسانے اور نوجوان ورتھر کی داستان غم از گوئٹے۔ مجھے کتابیں بہت پسند آئیں۔

اس کے بعد کیمسٹری کی لیب تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پروفیسر کو بہت جلدی ہے۔ انہوں نے عجلت میں کچھ فارمولے لکھے۔ شیشیوں میں موجود کچھ محلولوں کا بتایا۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔ پروفیسر نے ہمیں تسلی دی کی گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ وہ شام کو اکیڈمی میں سارا سبق تفصیل سے پھر پڑھائیں گے۔ انہوں نے اپنی اکیڈمی کا نام اور پتہ ہمیں اچھی طرح سے سمجھا دیا۔

میرے ساتھ ایک دوست بھی تھا۔ اس کے والد بھی کالج کے پروفیسر تھے۔ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے اس سے پوچھا:

”یار! یہ پروفیسر صاحبان اکیڈمیوں میں تو بہت اچھا پڑھاتے ہیں۔ ایسے اگر کالج میں توجہ دیں تو شاید اکیڈمیوں کی ضرورت نہ رہے! اس نے میری طرف ایسی نظروں سے دیکھا جیسے میں نے اسے کسی پیدائشی حق سے محروم کر دیا ہو۔

”بھائی! کیسی بات کر رہے ہو؟ حکومت استادوں کو اتنی تنخواہ ہی نہیں دیتی۔ ان کا اکیڈمیوں کے بغیر گزارا ممکن نہیں۔“ سو مجھے تب سمجھ آیا کہ اکیڈمیوں کا چکر طلبا سے زیادہ استادوں کی ضرورت ہے۔ میں نے دوست سے مزید کوئی بحث نہیں کی۔

آخری لیکچر انگریزی کا تھا۔ پروفیسر عجب وضع کے شخص تھے۔ پستہ قد، بھاری جسامت، گول چہرے پر موٹا چشمہ، گنجا سر۔ انہوں نے آتے ہی اعلان کیا کہ لیکچر باہر کھلی ہوا میں ہو گا۔ ہم چند سٹوڈنٹس ان کے پیچھے ہاتھ باندھے چل دیے۔ جہاں انہوں نے اشارہ کیا وہاں گھاس پر بیٹھ گئے۔ انہوں نے ایک شعر پڑھا جو مجھے اب یاد نہیں۔ اس کا مفہوم کچھ یوں تھا۔

”جب ہم کانٹوں کی کھیتی بوئیں گے تو فصل بھی ظلمت اور مایوسی کی پیدا ہوگی۔“

انہوں نے بتایا یہ ان کی تازہ غزل کا شعر ہے۔ ان کا شعری مجموعہ جلد چھپ کر مارکیٹ میں آنے والا ہے۔ ہم منتظر تھے کہ کب وہ موضوع پر آئیں۔ پھر انہوں نے سماجی مسائل پر تبصرہ شروع کر دیا۔ خاص طور تعلیمی نظام میں در آنے والی خرابیوں پر بات کی۔ یہی کہ کالج میں کوئی سنجیدگی سے نہیں پڑھاتا۔ گلی گلی میں اکیڈمی کھل گئی ہے۔ بات تو ان کی ٹھیک ہے، ہم نے سوچا۔

لیکن آپ لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، وہ بولے۔ پھر انہوں نے اپنے چمڑے کے بیگ سے ایک کتابچہ نکال کر ہوا میں لہرایا۔ انگلش خصوصاً گرائمر کی حد تک یہ کتاب آپ کے کانسیپٹ درست کر دے گی۔ آپ کو کسی مہنگی اکیڈمی جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

وہ ایک لے میں بولے جا رہے تھے۔ آپ لوگوں کے لیے ایک خصوصی آفر ہے۔ آپ جب فلاں دکان دار کو بتائیں گے کہ آپ میرے شاگرد ہیں تو آپ کو دس فیصد ڈسکاؤنٹ ملے گا۔ یہ کہہ کر وہ کرسی سے کھڑے ہو گئے۔ بس آپ لوگ کل یہ کتاب خرید کر لے آئیں تو ہم پڑھائی شروع کرتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ گویا ابھی جو سنا تھا اس پر یقین کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ اتنے میں پروفیسر صاحب وہاں سے جا چکے تھے۔

 

Facebook Comments HS

فرحان خالد

فرحان خالد تعلیمی اعتبار سے انجنیئر ہیں. ایک دہائی سے سافٹ ویئر انڈسٹری سے منسلک ہیں. بچپن سے انہیں مصوری، رائٹنگ اور کتابیں پڑھنے کا شوق ہے. ادب اور آرٹ کے شیدائی ہیں.

farhan-khalid has 66 posts and counting.See all posts by farhan-khalid