دیہات میں قید تعلیم یافتہ خواتین کی حالت ِ زار


پنچایت دونوں طرف سے چیخ چاخ کر تھک گئی، وہ بولتی رہی اور کسی نے اُس کی بات پر توجہ نہ دی، حسبِ معمول آج بھی عورت کو بھری پنچایت میں ہرا دیا گیا۔ اسے یہ کہا گیا کہ عورت کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی، تم گھر سے نکل کر بے عزت ہو جاؤ گی، ہماری غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ ہمارے خاندان کی بہو گھر سے نکل کر شہر جائے اور ملازمت کرے، ہم یہ نہیں برداشت کر سکتے۔ جو روکھی سوکھی مل رہی ہے، اسی پر گزارہ کرو اور اچھے دنوں کے خواب کو بھول جاؤ، یہاں ایسے ہی وقت گزارنا پڑتا۔ اپنے اِرد گرد نظر دوڑاؤ، تم سے بہتر کسی کی حالت نہیں ہے، تمہیں تو پھر بھی گھر ملا ہے، بچے ہیں اور دیکھنے، خیال رکھنے والے عزیز، رشتہ دار موجود ہیں، اس کے باوجود تم ناشکری، باغی اور بے غیرت ہو چکی ہو۔

وہ عورت پنچایت کے بزرگ افراد کے دلائل سے مسلسل انکار کرتی رہی اور ببانگِ دُہل بولتی رہی کہ میں تھک گئی ہوں، مجھ سے مزید برداشت نہیں ہوتا، میں بھوک برداشت نہیں کر سکتی، کسی کا جُھوٹا نہیں کھا سکتی، میرا شوہر کماتا نہیں ہے، یہ دوسروں کے ٹکڑوں پر نظر رکھتا ہے، یہ صرف اپنا پیٹ بھرتا ہے، میں اپنے چار بچوں کو لے کر کہاں جاؤں، ہر شخص سے میں نے اُدھار پکڑ رکھا ہے، گھر میں نے بنایا ہے، اولاد میں پیدا کی ہے اور اس کا آگا پیچھا میں ہی دھوتی ہوں، دربدر انھیں لیے لیے پھرتی ہوں۔ میں ایک پڑھی لکھی ایم اے پاس لڑکی ہوں، میرے والدین نے پیٹ کاٹ کر مجھے اس لیے نہیں پڑھایا تھا کہ میں ایک جاہل، بے شعور، اور ہاتھ پاؤں توڑ کر گھر میں بیٹھے رہنے والے شخص کی کبھی نہ ختم ہونے والی جنسی اور جسمانی ضرورت کو پورا کرتی رہوں۔ مجھے رب تعالیٰ نے عقل، شعور اور علم کی دولت سے نوازا ہے، میرا شوہر کام نہیں کرتا، ساری دُنیا مجھے طعنے دیتی ہے اور کہتی ہے میں نے خاوند کو کُتا بنایا ہوا ہے جو دُم ہلاتا میرا پیچھا سونگھتا رہتا ہے اور تمہاری وجہ سے یہ کام نہیں کرتا۔ اگر میں کہیں ملازمت کروں گی تو میری اُولاد کو اچھا کھانا، کپڑا، تعلیم اور صحت ملے گی، اس میں آپ کا کیا جاتا ہے، آپ کی شان میں کیا کمی آئے گی۔

بس، بس، ہم کچھ نہیں جانتے، ہمارا بیٹا کام نہیں کرتا، نہ کرے، لیکن ہم تمہیں ملازمت نہیں کرنے دیں گے، تمہیں طلاق دیں گے اور نہ ہی خلع لینے دیں گے، تم نے اسی طرح رہنا ہے اور مینج کرنا ہے۔ اگر تم بغاوت کرو گی تو ہم تمہاری ٹانگیں توڑ دیں گے اور تمہیں ذلیل و رُسوا کریں گے۔

اس کے بعد پنچایت کے فریقین میں گالم گلوچ کا وہ تبادلہ ہوا کہ ہاتھ، مُکے تو چلے البتہ لاٹھیاں چلتی چلتی رہ گئیں۔ بیٹی والے بیٹی کو لے گئے اور بیٹے والے دندناتے ہوئے بیٹے کو لے رخصت ہو گئے اور میں تماشا دیکھنے والوں میں چودھری کے ڈیرے پر بیٹھا رہ گیا۔

یہ قصہ پندرہ برس پرانا ہے، اس قصے سے ملتے جلتے واقعات سیکڑوں بار دیہات میں براہ راست دیکھنے کا موقع ملا ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ دیہات میں آج بھی عورت کی تذلیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی، اس کی تعلیم، سوچ، فکر، شعور اور تعقل پر ہر طرح کی پابندی برقرار ہے۔

ہزاروں میں کوئی ایک خوش نصیب ہے جو ملازمت کرنے اور اپنی مرضی سے گھر کو چلانے کے لیے قدم اُٹھائے تو سسرال والے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاہم یہ تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے۔ دیہات میں عورتوں کو پڑھانے کا رواج نسبتاً بڑھ گیا ہے، جب سے برادری سسٹم کی توڑ پھوڑ ہوئی ہے تب سے رشتوں کے معاملے میں سخت پابندیوں کو نرم کیا گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب جاٹ، گجر، ارائیں، کمبوہ وغیرہ ذات کی بیٹی کسی دوسری ذات میں بیاہنا گناہ ِکبیرہ اور ذات سے بغاوت سمجھا جاتا تھا، جو شخص یہ بغاوت کرتا تھا، اُس کے لیے برادری سے تعلق برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا تھا اور اس سے لاتعلقی کا اجتماعی اعلان کیا جاتا تھا۔

یہ روایت مر نے کے قریب ہونے کے باوجود معمر بزرگوں کے ہاں انتہا پسندی کی حد تک پائی جاتی ہے۔ پاکستانی معیشت کی تنزلی کی وجہ سے مجموعی حالات کی سنگینی یعنی مہنگائی، بے روزگاری، غربت، لا قانونیت، عدم تحفظ، جنسی جرائم، لوٹ مار اور بے یقینی کی وجہ سے برادری ازم کا زور ٹوٹ گیا ہے۔ اب لوگ گھر، ملازمت، عمر اور صحت دیکھتے ہیں یعنی پیسہ دیکھتے ہیں، ذات، پات، رنگ، نسل، حلیہ، قد، وضع، سوچ، رجحان، تربیت، ماحول کو نہیں دیکھتے۔

اگر لڑکے کے پاس پیسہ ہے اور وافر مقدار میں ہے تو بیٹی ایم ایم بی ایس، سی ایس پی، ٹیچر، ایم فل، حور پری ہے تو فوراً بیاہ دی جاتی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب برس ہا برس منگنی چلتی تھی، پھر کہیں جا کر شادی ہوتی تھی۔ اب لوگوں کا بھروسا لوگوں سے اُٹھ گیا ہے، پسند آنے کے بعد سیدھا نکاح ہوتا ہے تاکہ رشتہ ٹوٹنے کے جملہ اسباب کا قلع قمع ہو جائے اور بات شادی کے بعد طلاق و خلع تک پہنچے تو پہنچے۔ ایک زمانہ تھا جب لوگ رشتہ کرتے وقت اپنے حالات، جائیداد، عمر، تعلیم، نقص، خواہش اور ضرورت کو لے کر جھوٹ نہیں بولتے تھے، سچائی، ایمان داری اور میرٹ کی بنیاد پر اُستوار ہونے والے رشتے برسوں چلتے تھے اور ہلکے پھلکے نزاعات کے باوجود گھر ٹوٹنے سے بچے رہتے تھے، اب وہ زمانہ ہے کہ سہاگ رات کو دُلہا طلاق سوچ کر سوتا ہے اور دُلہن خلع لینے کا فیصلہ کر کے کروٹ بدل لیتی ہے۔

دیہات میں شہر کی دیکھا دیکھی صورتِ حال یکسر بدل گئی ہے۔ گزشتہ بیس برس سے دیہات کے لوگوں نے اپنی برادری میں اچھے رشتے نہ ملنے کی وجہ سے اور اپنے خاندان کے اعزا سے ذہن و سوچ میں اختلاف در آنے کی وجہ سے اور معاشی حالات اور لائف اسٹائل تبدیل ہو جانے کی وجہ سے اپنی اُولاد کے رشتے دوسری برادریوں میں کرنے پر زور دیا ہے۔ برادری ازم کوئی مجبوری اور جبری نافذ العمل دستور نہیں ہے، اس کے جہاں بے شمار فوائد ہیں وہاں ان گنت نقصانات بھی ہیں تاہم دیہات کی حد تک اس نظام نے صدیوں کامیابی سے اپنا سفر طے کیا ہے جبکہ اب یہ سسٹم پوری طرح ناکام ہو چکا ہے۔

پہلے رشتے کے انتخاب سے لے کر شادی تک کے معاملات والدین دیکھتے تھے، اب یہ فیصلہ لڑکا اور لڑکی باہم مل کر کرتے ہیں اور دونوں طرف کے والدین صرف سپورٹ اور مشاورت کی رسم ادا کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں دیہات میں یہ روش بہت عام ہو چکی ہے کہ پڑھی لکھی اور کمانے والی لڑکی تلاش کی جاتی ہے، شادی کے بعد لڑکے کو ایک ہی کام ہوتا ہے اور وہ بچے پیدا کرنے کا ۔ اسے اللہ جانے کس نے یہ بتا اور سمجھا دیا ہے کہ اگر تم نے پانچ چھے بچے مسلسل پیدا نہ کیے تو تمہارے حصے والے بچے کسی اور مل جائیں گے۔

گویا یہ لڑکا پانچ چھے برس میں فیملی پوری کرنے کی اُصولی ذمہ داری ادا کرتا ہے۔ اس کے ذہن میں اپنی بیگم کو لے کر ہزاروں خدشات، واہمے، اندیشے اور بدگمانیاں موجود ہوتی ہیں کہ اگر بیگم خالی پیٹ رہے گی تو کیا ہو جائے، یہ نہ ہوا تو یوں ہو جائے گا، ایسا نہ کروں گا تو ویسا ہو جائے گا۔ پاکستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی میں کم عمر کی شادی نے اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے، دیہات میں یہ سوچ پوری شدت سے موجود ہے کہ پانچ چھے سے کم بچے سے فیملی مکمل نہیں ہوتی، اگر آپ ایک یا دو بچے پیدا کر کے وقفہ کیے ہوئے ہیں تو گلی، محلے کی عورتوں مردوں سمیت رشتہ دار لڑکے اور لڑکی کی جان کو آئے ہوتے ہیں کہ کیا ہو گیا ہے، بچے کیوں نہیں لے رہے، کوئی مسئلہ ہے تو ہم حاضر ہیں، ہمارے پاس ہر طرح کے ٹوٹکے، نسخے اور مشورے موجود ہیں۔

پاکستان کی آبادی میں جس تیزی سے دیہات میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ سوچنے سے آگے سر پیٹنے کا مقام ہے۔ ایک دیہات میں پانچ سو افراد مقیم ہیں تو ان میں اوسطاً ایک سال میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد تیس فیصد سے زائد ہے یعنی پانچ ہزار افراد کی آبادی پر مشتمل دیہات میں ہر سال چار سو سے سوا پانچ سو کے قریب بچے پیدا ہو رہے ہیں۔ شرح آبادی میں یہ اضافہ ملک کی تباہی کے لیے اکیلا ہی کافی ہے جس پر ہنوز کسی کی نظر ہے اور نہ کوئی اس سنگین مسئلے کی طرف توجہ دے رہا ہے۔

دیہات کے ان پڑھ، جاہل، نکمے، نکھٹو بے روزگار نوجوان دن رات بچے پیدا کرنے ذمہ داری پوری ایمانداری سے ادا کر رہے ہیں۔ اللہ بھلا کرے ڈاکٹروں کا جنھوں نے دیہات کے مردوں کو ڈرا رکھا ہے کہ چار سے زیادہ بڑے آپریشن نہیں ہوسکتے، اس کے باوجود پانچواں بچہ لینے کی ضد میں ہزاروں عورتیں ہر سال جان سے گزر جاتی ہیں اور کسی کے کان پر جُوں نہیں رینگتی۔ حکومتِ وقت کو چاہیے کہ عورتوں کو بچوں کی مشینیں بننے سے روکے اور ان کی تعلیم سے فائدہ اُٹھانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

حکومت کے ایوان میں بیٹھے صاحب اختیار لوگ شہر کی آب و ہوا سے باہر نکل کر دیہات کی زندگی کا مشاہدہ کریں۔ میں نے گزشتہ بیس برس کی شعوری عمر میں کسی وزیر، مشیر، درد دل رکھنے والے وسائل یافتہ کے بارے میں نہیں دیکھا، سُنا کہ وہ دیہات کے مسائل کے بارے میں بات کر رہا ہو اور دیہات میں وزٹ کر کے وہاں کی زندگی کے معیار اور مسائل و وسائل کے بارے میں حکومتِ وقت کو آگاہ کر رہا ہو۔ پاکستان کی ستر فیصد آبادی دیہات میں مقیم ہے، گویا ستر فیصد پاکستان تباہی، بربادی اور تنزل کے دہانے پر کھڑا ہے اور کسی کو ان کی حالتِ زار پر رحم نہیں آتا۔

ان نکھٹو لڑکوں اور تعلیم یافتہ لڑکیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کریں ورنہ یہ ٹولا پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے اکیلا ہی کافی ہے۔ حکومتِ وقت کو چاہیے کہ دیہات میں مقیم تعلیم یافتہ عورتوں کے بارے میں عملی اقدامات کرے اور انھیں اس ظلم اور جبر کے ماحول سے نکلنے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرے کیوں کہ یہ ریاست کا فرض اور ذمہ داری ہے جس کے لیے اسے یہ اختیار اور اقتدار بطور امانت تفویض کیا گیا ہے۔

 

Facebook Comments HS