کیا آپ کو اپنا کام پسند ہے؟


ہر شخص اپنی معاشی ضروریات پورا کرنے کے لیے اور اگر مُنہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوا ہے تو بھی مصروف رہنے کے لیے کوئی نہ کوئی کام سرانجام دیتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اپنا کام شوق سے کرتے ہیں یا پھر مجبوری کے عالم میں کرتے ہیں۔ جو تنخواہ ہمیں کام کرنے کے بعد ملتی ہے، وہ تنخواہ اگر ہمیں کام کے بغیر بھی مل جائے تو کیا پھر بھی ہم اپنا کام دلجمعی سے کرتے رہیں گے؟

اپنا کام پسند نہ ہونے کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سرفہرست باس کا ناپسندیدہ ہونا ہے۔ جب آپ کا باس آپ کو اپنی ملازمت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے تو پھر وہ آپ کا جینا محال کر دیتا ہے۔ قبر جب ایک ہو تو پھر اُس میں دو مردے دفن نہیں ہو سکتے اس لیے آپ کے عدم تحفظ کا کا شکارباس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ آپ ہی قبر کی زینت بن جائیں اور وہ آپ کے انتقال کی خبر پر ریسٹ اِن پیس لکھ کر اظہارِ تعزیت کردے۔

اپنے کام سے نفرت کرنے کی دوسری سب سے بڑی وجہ دفتر کا ماحول ہوتا ہے جہاں پر بغل میں چھری اور منہ پر رام رام کرنے والے بھیڑ کی کھال میں بھیڑیے اقتدار کی غلام گردشوں میں گھوم پھر رہے ہوتے ہیں۔

ان کی کارکردگی دیکھ کر تو ہمیشہ تعجب ہوتا ہے البتہ ان کا اوپر والوں کو جھک کر سلام اور نیچے والوں کو جھڑکنے کا رویہ دیکھ کر ہمیشہ حیرانی ہوتی ہے۔ جنھیں بوسہ کیا جاتا ہے وہ پھولے نہیں سماتے اور جنہیں دھتکارا جاتا ہے اُن کا دل پاش پاش ہوجاتا ہے اور وہ یہ گیت گنگنانا شروع کر دیتے ہیں کہ ”شیشہ ہو یا دل ہو آخر ٹوٹ جاتا ہے“ ۔

اپنے کام سے نفرت کرنے کی تیسری بڑی وجہ میرا جسم لیکن میری مرضی کا نہ ہونا ہے۔ ہم جب بھی کسی ادارے میں کام کرتے ہیں تو ہمارا کوئی نہ کوئی باس ضرور ہوتا ہے اور اُس کے حکم کی تعمیل ہماری نوکری کے تحفظ کی ضمانت ہوتی ہے۔ نوکری کسی بھی درجے کی ہو وہ مادر پدرآزادی کو برداشت نہیں کرتی۔ آپ اگر کاروبار بھی کر رہے ہیں تو آپ کی صنعت یا خدمات کے گاہک آپ کے باس ہوتے ہیں اور آپ کا کاروبار اُس مارکیٹ کے حالات کے مطابق چلتا ہے جس میں آپ کاروبار کر رہے ہوتے ہیں۔ نوکری ہو یا کاروبار اس دنیاوی زندگی میں سو فیصد آزادی کسی کو بھی میسر نہیں ہے۔

تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی وہاں جینے کی پابندی
(اقبال)

جب ہمیں اپنا کام کرنا نہیں آتا یا پھر ہمیں اپنا کام کرتے ہوئے مشکل پیش آتی ہے تو ایسی صورت میں بھی ہمیں اپنے کام سے اُلجھن ہونے لگتی ہے۔ ہمیں اپنا کام کرتے ہوئے اُس وقت خوشی محسوس ہوتی ہے جب ہمیں اپنے کام پر مکمل عبور ہو۔

اس میں کیا شک ہے کہ جب ہمیں یہ محسوس ہو کہ ہمیں ہمارے کام کا معاوضہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق نہیں مل رہا اور ہمارے پروفیشنل ہم عصر ہم سے زیادہ کما رہے ہیں تو پھر ہم اپنی موجودہ نوکری سے غیرمطمئن ہو جاتے ہیں اورمارکیٹ میں اپنی بولی لگوانے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ ہر شخص کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق معاوضے کے حصول کے لیے کوشش کرے لیکن ایسا کرتے وقت صرف تنخواہ کی بڑھوتری پر ہی فوکس نہ کرے کیونکہ جن اداروں میں حصولِ اقتدار اور اپنی طاقت میں اضافے کو کارکردگی پر فوقیت دی جاتی ہے وہاں پر من چاہی تنخواہ مل بھی جائے پھر بھی چین اک پل کے لیے نہیں آتا۔ ایسے متعفن اداروں میں ہر ورکر اور ہر افسر زیرِلب یاسمین حمید کا درج ذیل شعر سے اپنے جذبات کی ترجمانی کر رہا ہوتا ہے :

پوری بات اور پورا قصہ کون لکھے گا
کتنا مشکل تھا یہ رستہ کون لکھے گا

Facebook Comments HS